تاریخ کا بیانیہ درست کرنے کی ضرورت!
27 جولائی 2020 (19:15) 2020-07-27

پاکستان میں مارچ سے جولائی تک کے مہینے شدید گرمی کے مہینے ہیںجولائی میں تو سورج سوا نیزے پر آجاتا ہے۔ ہر سال یہ مہینے سورج کی تپش برساتے ہوئے آتے ہیں جس سے لوگ بے حال ہوجاتے ہیں۔ لو چلتی ہے تو جسم جھلسنے لگتے ہیں لیکن اس ملک میں ایک بار یہی مہینے ایسے گزرے ہیں جب لوگ گرمی، تپش اور لو کی پرواہ کیے بغیر ملک بھر میں سراپا احتجاج تھے۔ سڑکیں اُن کے خون سے رنگین ہورہی تھیں لیکن جذبے سردہونے کا نام نہ لیتے تھے لوگ اپنے پیاروں کے لاشے اور زخمیوں کواٹھائے اسپتال بھاگتے اور پھر لوٹ کر اسی خونیں احتجاج میں شریک ہوجاتے تھے۔آخرکاران بے بسوں کی قربانیوں،صبر اور استقامت پر رب کائنات کو ترس آگیا چنانچہ پانچ جولائی کو یہی مظاہرین احتجاج کے بجائے شکرانے کے نوافل اور تشکر کے جلوس نکال رہے تھے۔ یہ جولائی 1977ء تھا۔ ملک کے شہری تو جنوری سے انتخابی مہم میں اپنی جانیں لڑا رہے تھے اورمارچ سے ان انتخابات میں دھاندلی کے خلاف سراپا احتجاج بنے ہوئے تھے ۔ احتجاجی جلسے جلوسوں کا یہ سلسلہ اس ملک کی سب سے بڑی عوامی تحریک کا عنوان بن گیا تھا تقریباً چار ماہ تک بے پناہ جانی قربانیوں ،پولیس کے بے پناہ تشدد اور تین شہروں میں مارشل لاء لگا ئے جانے کے باوجود احتجاج کم ہوا تھااور نہ تحریک کمزور پڑی تھی۔ 5 جولائی کو مارشل لاء لگا تو لوگوں کو قرار آگیا۔ آج بھی اس ملک کے شہروں اور قصبات میں ایسے سینکڑوں بلکہ ہزاروں گھرانے موجود ہیں جنہوں نے اس تحریک میں اپنے پیارے قربان کیے یا وہ شدید زخمی ہوئے۔ تحریک میں حصہ لینے والے ،اس دوران جیل جانے اور زخمی ہونے والے لاکھوں افراد آج بھی زندہ ہوں گے۔ سیاسی جماعتوں کے ایسے قائدین بھی موجود ہیں جو اس تحریک کے دوران دوسرے یا تیسرے درجے کے لیڈر ہوا کرتے تھے۔ لیکن شاید آج کسی کو وہ شاندار تحریک یاد نہیں رہی یا پھررواداری حقیقت پر غالب آگئی ہے۔ تحریک نظام مصطفی کے دوران انتخابی دھاندلی۔ شخصی آمریت اور فسطائیت کے خلاف تحریک چلانے والی اورقربانیاں دینے والی جماعتیںخاموش ہیں لیکن کیوں۔ اس کا کسی کو تو جواب دینا ہے۔ ان سیاسی جماعتوں نے 5 جولائی کو مارشل لاء لگنے کے بعد نہ صرف اس پر اطمینان کا اظہار کیا تھا۔ کئی دن تک خوشیاں منائی تھیں۔ ملک بھر میں اس خوشی میں حلوے کی دیگیں پکائی جارہی تھیں ۔ مارشل لاء لگنے تک پاکستان قومی اتحاد کے رہنما برملا یہ الزام لگا رہے تھے کہ پیپلز پارٹی کی حکومت اور اُس کے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو مذاکرات کے ذریعے صرف وقت حاصل کررہے ہیں۔ وہ وقت ملتے ہی دو تین لاکھ افراد کو قتل کرانے میں ذرا تامل نہیں کریں گے۔

تحریک نظام مصطفی جو اس ملک کی سب سے طویل، قربانیوں سے پُر اور شاندار تحریک تھی پیپلز پارٹی نے پروپیگنڈا اور میڈیا کے زور پر اُسے ملک میں مارشل لاء کی وجہ بنادیاہے۔ڈر ہے کہ قومی اتحاد میں شا مل جماعتوں کی سیاسی وضع داری یا مصلحت کے باعث یہ تحریک قومی تاریخ میں متنازع نہ بن جائے حالانکہ یہ سچے جذبوں، قربانیوں اور مظلوموں کے خون سے رنگین تحریک تھی۔ میڈیا نے ضیاء دشمنی میں ایسا کیا۔ اس بار سوشل میڈیا پر لگنے والی پوسٹوں سے اندازہ ہوتا ہے کہ عام آدمی اس بھاری پروپیگنڈے کا شکار ہوتا جارہا ہے، پیپلز پارٹی بات 5 جولائی سے شروع کرتی ہے جبکہ یہ بات ذوالفقار علی بھٹو کے آدھے پاکستان پر حکمرانی کے پہلے دن سے شروع ہوتی ہے۔ جس دن سے انہوں نے اقتدار سنبھالا ملک میں فسطائیت، شخصی آمریت اور ظلم و ستم کا آغاز ہوگیا۔ جس سے خود اُن کے ساتھی بھی محفوظ نہ رہے۔ اُن کے پورے دورِ اقتدار میں ایمرجنسی نافذ اور انسانی حقوق معطل رہے۔ سیاسی مخالفین جیلوں میں قیدیا قتل ہوتے رہے ملک میں مہنگائی کے باعث لوگ کبھی آٹے، کبھی چینی اور کبھی گھی کی لائنوں میں لگے ہوتے، ایک ڈیموکریٹ ہونے کے دعوے دار وزیراعظم نے اپنے پورے عرصہ اقتدار میں اپنی پارٹی میں انتخاب کرائے اور نہ ہی بلدیاتی انتخابات۔ ضمنی انتخابات میں دھاندلی اُن کی پہچان بن گئی۔ بلوچستان میں نیپ اور جے یو آئی کی مخلوط منتخب حکومت کو برطرف کرکے اور صوبہ سرحد میں مفتی محمود کی حکومت کو استعفی دینے پر مجبور کرکے انہوں نے فسطائیت کی انتہا کردی ۔اس دور میں اپوزیشن لیڈرز کو سارجنٹ ایٹ آرمز کے ذریعے قومی اسمبلی کے ایوان سے باہر پھینکوایا گیا۔ شریف سرکاری افسر اور ملازمین کان لپیٹ کر وقت گزار نے پر مجبورتھے۔ اس سارے ظلم کے خلاف لوگ بھرے بیٹھے تھے کہ ملک میں عام انتخابات کا اعلان ہوگیا۔ اور دیکھتے ہی دیکھتے اپوزیشن کی 9 سیاسی جماعتوں نے پاکستان قومی اتحاد بنا کر ملک بھرمیں مشترکہ امیدوار کھڑے کردیے۔ لوگ نو ستاروںاوراِن کے امیدواروں پر نچھاور ہورہے تھے۔ انہیں نجات دہندہ قرار دے رہے تھے کہ وزیراعظم اور چاروں وزرائے اعلیٰ انتظامی مشینری کے ذریعے بلامقابلہ منتخب کرالیے گئے۔ مگر عوام نے ہمت نہ ہاری۔ لیکن 7 مارچ کو قومی اسمبلی کے انتخابات میں سرکار نے ایسا جھرلو پھیرا کہ اگلے ہی روز پوری قوم سڑکوں پر آگئی۔ اور پھر یہ بپھرے ہوئے عوام 4 جولائی تک سڑکوں پر رہے۔ اس شاندار تاریخ کو جو جمہوریت کی بقا، آئین کی بالادستی، قانون کی حکمرانی، شخصی آمریت سے نجات اور شفاف انتخابات کے نتیجے میں ایک صحیح عوامی حکومت کے قیام کی تحریک اور تاریخ ہے یاد نہ رکھنا زیادتی ہے ۔

اس شاندار تحریک کو سبوتاژ کرنے کے لیے بعض حلقوں کی جانب سے مذموم پروپیگنڈا کیا گیا جو اب بھی جاری ہے کہ حکومت اور پی این اے کی مذاکراتی ٹیم کے درمیان مذاکرات کامیاب ہوچکے تھے صرف فل اسٹاپ اور کامے لگنا باقی تھے کہ فوج نے شب خون ماردیا۔ وہ مسودہ جس پر فل اسٹاپ اور کامے باقی رہ گئے تھے آج تک قوم کے سامنے نہیں آسکا۔ مارشل لاء لگنے سے صرف ایک دن پہلے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے یہ کہہ کر مذاکرات منسوخ کردیے کہ تھے کہ پی این اے کے لیڈر ہر بار نئے مطالبات لے کر آجاتے ہیں۔ اسی روز ایک پریس کانفرنس میں پی این اے کے رہنمائوں نے احتجاجی تحریک کی نئی تاریخ دینے کا اعلان بھی کر دیا تھا ۔ رات گئے جب فوجیں حرکت میں آچکی تھیں بھٹو صاحب نے دوبارہ مذاکرات کی دعوت دی مگر اسوقت یہ ایک بیکار مشق تھی۔دونوں جانب کے رہنمائوں نے فوج کی حفاظتی تحویل میں یا رہائی کے بعد بھی کبھی نہیں کہا کہ مذاکرات کامیاب ہوگئے تھے نئے انتخابات کے لیے انتخابی مہم شروع ہوئی تو بھٹو صاحب یا پی این اے دونوں نے ایسی کوئی بات نہیں کی ۔ جب بھٹو صاحب نواب محمد احمد خان قتل کیس میں گرفتار ہوئے تب بھی انہوں نے یااُن کی پارٹی نے یہ بات نہیں کی۔ پی این اے کی پارٹیوں نے جب ضیا کابینہ میں اپنے وزیر دیے تب بھی کسی نے احتجاج نہیں کیا کہ ضیا نے تو کامیاب مذاکرات کے باوجود شب خون مارا ہے اس لیے ہم اس حکومت میں شامل نہیں ہوں گے۔ جیل میںجناب ذوالفقار علی بھٹو نے جو کتاب لکھی اس میں بھی ایسی کوئی بات نہیں۔ نصرت بھٹو نے حکومت کی بحالی کے لیے سپریم کورٹ میں جو پٹیشن دائر کی اُس میں بھی یہ دعویٰ نہیں کیا گیا۔ بدقسمتی سے اب پروپیگنڈے کے ذریعے اس ساری تاریخ کو مسخ کیا جارہا ہے۔ یہاں یہ وضاحت بھی ضروری ہے کہ حکومت اور پی این اے کے مذاکرات شروع ہی اس بنا پر ہوئے تھے کہ حکومت نے مارچ 77ء کے انتخابات میں دھاندلی کے الزام کو تسلیم کیا تھا۔ اس لیے پیپلز پارٹی کے لیے تو آسان راستہ ہے کہ وہ دسمبر 1971ء سے جولائی 1977ء تک اپنی حکومت کی بدترین کارکردگی، فسطائیت، لاقانونیت، قتل و غارت گری، مہنگائی اور امن وامان کی خراب ترین صورت حال اور انتخابات میں دھاندلی پر بات کرنے کے بجائے 5 جولائی کے شب خون سے بات شروع کرے۔ لیکن باقی جماعتیں جنہوں نے اس تحریک میں جانیں اور قربانیاں دی تھیں انھیں تو تاریخ کا بیانیہ درست کرنا چاہیے۔ پی این اے کی تحریک خالصتاً ایک عوامی تحریک تھی جو حکومتی مظالم، انتخابی دھاندلی کے خلاف شروع ہوئی تھی اور نظام مصطفی کے نعرے کے تحت آگے بڑھ رہی تھی۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ دانشور اور سیاسیات کے ماہرین کے علاوہ سیاسی قائدین عوام کے سامنے پورا سچ رکھیں اورماضی کی اس شاندار تحریک کو داغدار ہونے سے بچائیں۔


ای پیپر