فرار ممکن نہیں!
27 جولائی 2020 (19:14) 2020-07-27

آٹھویں صدی عیسو ی میں ہسپانیہ عربوں کے زیرنگین آیا اور انہوں نے سات صدیوں تک جزیرہ نما آئیبیریا اور اس سے ملحقہ ممالک پر حکومت کی۔چو دھویں صدی عیسوی تک بحر متوسط کی قیادت عربوں کے ہاتھ میں رہی اس لیے اس خطے سے ملحقہ ممالک میں عربی زبان کو فروغ حاصل ہوا ، ان میں اٹلی ، جرمنی اور فرانس کے علاقے شامل تھے اور ان تینوں علاقوں کی زبانوں نے عربی کے بہت سارے الفاظ مستعار لیے اور باقاعدہ انہیں اپنی زبان اور تہذیب کا حصہ بنا لیا۔ ہسپانوی زبان تقریبا 4000 ہزار عربی الفاظ و اصطلاحات پر مشتمل ہے اور یہ الفاظ زبان وبیان کے ہر پہلو پر محیط ہیں۔ ان میں سے اکثر الفاظ و اصطلاحات جنگ، زراعت، صنعت، تعمیرات اور سائنسی علوم پر مشتمل ہیں۔ یہ الفاظ مختلف اوقات اور مختلف زبانوں کے ذریعے ہسپانوی زبان میں آئے اور مستقل اس کا حصہ بن گئے۔ ہسپانوی زبان کا حصہ بننے والے اکثر الفاظ اسماء پر مشتمل تھے، بعد میں کچھ صفاتی نام بھی اس زبان کا حصہ بن گئے۔Gibraltar عربی کے لفظ جبل الطارق سے ماخوذہے اور اس کی وجہ تسمیہ وہ مشہور واقعہ ہے جو مشہور اسلامی جرنیل طارق بن زیاد کی طرف منسوب ہے، Madrid یہ عربی زبان کے لفظ المجرٰی کی بگڑی ہوئی شکل ہے جس کا مطلب ہے پانی کا منبع، آجکل یہ اسپین کا دارالحکومت ہے، Guadalquivir یہ ایک بہت بڑا دریا ہے جو قرطبہ اور اشبیلیہ کے درمیان بہتا ہے اور یہ عربی کے لفظ ’’ وادی الکبیر ‘‘ سے مستعار ہے۔ ہسپانیہ میں عربوں کی حکومت قائم ہونے کے کچھ ہی عرصہ بعد عربی وہاں کی روز مرہ اور تعلیم و تعلم کی زبان بن چکی تھی ،صرف ایک صدی کے اندر ہسپانیہ والے اپنی مادری زبانیں بھول چکے تھے اور تقریبا چھ صدیوں تک عربی ہسپانیہ اور پرتگال کی اہم زبان کے طور پر یور پ میں موجود رہی۔عربی کا اثر ہسپانوی اور پرتگالی زبانوں پر اس سے کہیں زیادہ تھا جو قرون وسطیٰ میں فرانسیسی زبان نے انگریزی پر ڈالا تھا۔ ہسپانوی زبان یورپ کی ان زبانوں میں سے ایک ہے جن میں عربی کے اثرات اور اصلاحات سب سے زیادہ پائی جاتی ہیں اور یہ بھی حقیقت ہے کہ ہسپانوی ہی وہ زبان تھی جس نے عربی علوم وفنون کی دیگر زبانوں میں ٹرانسلیشن میں مڈل مین کا کردار ادا کیا۔پہلے پہل جب عربی علوم کو یورپی زبانوں میں ٹرانسلیٹ کیا گیا تو یہ تراجم ہسپانوی زبان میں ہی ہوئے تھے اور اس کے بعد لاطینی اور دیگر

زبانوں میں تراجم کا یہ سلسلہ آگے بڑھا۔اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ عربی کا دیگر یورپی زبانوں پرڈائریکٹ کوئی اثر نہیں ہوا بلکہ عربی کا براہ راست اثر فرانسیسی ، جرمن اور دیگر یورپی زبانوں پر بھی ہوا جس جا ئزہ ہم آئندہ کسی کالم میں لیں گے۔اس دور میں سسلی، اٹلی، قسطنطنیہ اور یورپ کے کئی دیگر علاقوں میں عربی زبان سیکھنے کے لیے باقاعدہ ادارے قائم کیے گئے تھے اور بادشاہوں کے درباروں میں باقاعدہ اتالیق مقرر کیے جاتے تھے جو عربی زبان سکھانے کا اہتمام کرتے تھے۔ یورپ کے مختلف علاقوں سے طلباء عربی زبان سیکھنے کے لیے ہسپانیہ کا رخ کرتے اوروہاں موجود مختلف اداروں میں داخلہ لیا کرتے تھے۔ 1130ء میں روم میں باقاعدہ ایک ادارہ قائم کیا گیا تھا جہاں عربی علوم وفنون کے تراجم کے لیے دانشوروں کی ایک جماعت کام کرتی تھی، تراجم کے دوران جہاں انہیں عربی اصطلاحات کا کو ئی مناسب متبادل نہیں ملتا تھا وہ انہیں جوں کے توں آگے منتقل کر دیتے تھے اور ایسا زیادہ تر سائنسی علوم کے تراجم میں ہوا۔ہسپانیہ آمدکے بعد ابتدائی دو صدیوں میں اسلامی تہذیب و ثقافت کا دریا ہسپانیہ کی سرزمین پر بڑے زور وشور کے ساتھ بہتا رہا،یورپ بھر سے طلباء حصول علم کے لیے قرطبہ اور غرناطہ کا رخ کرتے تھے۔جیرار ڈ کرمونی اور مائیکل اسکاٹ نے ان اداروں سے تعلیم حاصل کر کے عربی طب کو یورپ منتقل کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ اس ترجمہ کی صورت میں طب کی تینوں روایتوں یعنی یہودی، نصرانی اور اسلامی روایتوں کو یکجا ہونے کا موقع ملا ،مزید یہ کہ ان ترجموں کی صورت میں بہت سے عربی الفاظ و اصطلاحات یورپی زبانوںمیں رائج ہو گئے۔ جیسے Gulp یہ عربی زبان کے لفظ جلاب اور فارسی کے لفظ گلاب سے ماخوذ ہے جس کا معنیٰ ہے عرق گلاب ،یہ اصطلاح ایک خوشبو دار طبی مشروب کے لیے استعمال کی جاتی تھی۔ قرون وسطیٰ میں لاطینی میں Soda کے معنی درد سر اور Solarium کے معنی ٰ دردسر کے علاج کے تھے اور یہ دونوں لفظ عربی کے لفظ’’ صداع ‘‘سے ماخوذ تھے جس کے معنی شدید درد سر کے ہیں۔ وہ تمام الفاظ جن کے شروع میں’’الف لام ‘‘کی آواز ہے یہ ان کے عربی الاصل ہونے کی دلیل ہے ، اسی طرح جن الفاظ کے شروع میں ’’ بنی ‘‘اور ’’وادی ‘‘ کا لفظ موجود ہے یہ بھی ان کے عربی ہونے کی دلیل ہے۔آج کل برازیل اور پرتگال میں جو زبانیں بولی جاتی ہیں وہ اپنی تعبیر ، الفاظ ، مترادفات اور حسن و خوبی میں دوسری زبانون کے مقابلے میں عربی کے زیادہ قریب ہیں ،برازیلیوں کے اجداد پرتگالی تھے اور پرتگالی زبان میں عربی کے تقریباً تین ہزار الفاظ پائے جاتے ہیں۔عربی کا اثر ونفوذ محض ہسپانوی ، پرتگالی یا لاطینی زبان تک محدود نہیں رہا بلکہ جرمن اور سکسونی زبا نوں تک عربی کے اثرات پائے جاتے ہیں۔ انگریزی ،قدیم گالی ، جرمن ، اسکینڈی نیوین ممالک ،روسی اور صقلبی زبانوں تک میںعربی کے اثرات پائے جاتے ہیں۔ عرب جو ہسپانیہ سے نکلے تھے بحیرہ متوسط کے ساحل سے متصل جنوب مغربی فرانس کے صوبے سپٹینیا اور شہر ناربن تک قابض ہو گئے تھے اور اس کو اپنی بحری جو لانگاہ کا مرکز بنا لیا تھا ، یہاں بیٹھ کرانہوں نے کرکسون ،اوٹن ، بون ،سینس ، اونیون اور بورڈو کو فتح کیا ،پھر مارسیلز ، آرلس اور صوبہ پرفینسا کو فتح کیا اور پورٹیا تک پہنچ گئے جو پیرس کے جنوب مغرب میں 332 کلومیٹر کی مسافت پر ہے۔ان مختلف علاقوں میں قیام کے دوران روز مرہ کی بہت ساری عربی اصطلاحات یورپی زبانوں میں داخل ہو گئی تھیں۔قرون وسطیٰ میں یورپ میں پڑھائے جانے والے تمام علوم ،فلسفہ ، ریاضی ، ہیئت، جہاز رانی ، آتش گیر مادوں کی ترکیب، طب،کیمیا اور دیگر بہت سارے علوم وفنون کا ماخذ و منبع عربی زبان تھی۔ اہل یورپ نے بہت ساری چیزیں مثلا ارسطوکی شرحیں ، موسیقی کے آلات ، لباس ، پھلوں اور پھولوں کی اقسام وغیرہ عربوں سے حاصل کیں۔ ان میں سے بہت ساری چیزیں آ ج بھی ناموں کے تھوڑے بہت تغیر کے ساتھ ان زبانوں میں موجود ہیں۔ قرون وسطیٰ کی غالب تہذیب ہونے کی وجہ سے مشرقی زبانیں بھی عربی سے متا ثر ہوئے بغیرنہیں رہ سکیں ،مشرقی زبانوں میں سب سے ذیادہ متاثر ہونے والی زبان فارسی تھی ، حالانکہ فارسی بجائے خود ایک ترقی یافتہ تہذیب تھی لیکن اس کے باجود آج فارسی میں آدھے سے زائد الفاظ عربی الاصل ہیں۔یہی حال عثمانی او ر ترکی زبان اور اس کی اقسام کا ہے۔ اسی طرح ملائی ، افغانی ، مصری ،سوڈانی اور افریقہ کی بربر زبانوں کا ہے۔

ان سب حقائق کو بیان کرنے کا مقصد صرف یہ ہے کہ غالب تہذیب کے اثرات سے فرار ممکن نہیں ،بلکہ لازم ہے کہ اپنے عصر کے تقاضوں کو سمجھتے ہوئے غالب تہذیب، اس کی زبان اور اس کے علمی مراکز سے استفادہ کیا جائے ، اپنے بنیادی مسلمات پر غیر متزلزل ایمان اور اپنی روایت سے گہری وابستگی کے ساتھ ان علوم و فنون میں سے اچھی چیزیں اخذ کر کے اپنی تہذیب کے احیاء کا سامان پیدا کیا جائے ۔ محض تنقید اور نفرت کا رویہ کسی طور مستحسن نہیں نہ ہی اس رویے سے اسلام اور مسلمانوں کی کوئی خدمت کی جا سکتی ہے ۔


ای پیپر