قربانی کے جانور خریدئیے مگر ۔۔۔!
27 جولائی 2020 (18:00) 2020-07-27

قربانی کا گوشت انسانی جسم کیلئے کتنامفید

غلام فرید

عیدقربان جیسے خوشی کے موقع پر بچے بڑھے سبھی پُرجوش دکھائی دیتے ہیں، عید سے قبل مویشی منڈیوں میں خوبصورت، تندرست، فربہ اور جوان جانوروں (اُونٹ، بیل، گائے، بکرا، چھترا، دنبہ وغیرہ) تلاش کیا جاتا ہے اور ہر کسی کی کوشش ہوتی ہے کہ اپنے بجٹ کے مطابق بہترین جانور خرید کر اللہ تبارک وتعالیٰ کی راہ میں قربان کر کے سنت ابراہیمی ؑ (حضرت ابراہیمؑ، حضرت اسماعیلؑ کی سنت) کو ادا کرتے ہیں، لیکن خیال رہے کہ قربانی ہر صاحب استعداد پر فرض ہے۔ قربانی کے گوشت کو تین حصوں میں تقسیم کرنے کا حکم ہے، ایک حصہ غرباء، مساکین، یتیم، بیوائوں، مسافروں کیلئے ہے، دوسرا حصہ غریب ہمسائیوں، رشتہ داروں کیلئے جبکہ تیسرا حصہ اپنے لیے رکھ سکتے ہیں۔

قربانی کا گوشت انسانی جسم کیلئے کتنامفید؟

اللہ تعالیٰ نے انسانی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے حیوانات ( جانور، گوشت، دودھ)، نباتات (پھل، سبزیاں، دالیں، جڑی بوٹیاں) وغیرہ پیدا کی ہیں اور انہیں کھانے کیلئے حضرت انسان کو (سپاٹ، نوکیلے) دانت دیئے ہیں تاکہ وہ انہیں آسانی سے ساتھ چباکر یا کاٹ کر کھاسکے۔

گوشت کتنا کھانا چاہیے؟

گوشت کتنا کھانا چاہیے؟ یہ بہت اہم سوال ہے۔ ہمارے معاشرے میں عیدالاضحی (یاخوشی کے موقع پر) باربی کیو (ران روسٹ، کباب وغیرہ) کا ٹرینڈ چل گیا ہے اور لوگ اس چیز کا خیال کیے بغیر اتنا گوشت کھاتے ہیں کہ انہیں معلوم ہی نہیں کہ اس کا کتنا استعمال فائدہ مند ہے اور کتنانقصان دہ؟ ڈاکٹرز اور طبی ماہرین کہتے ہیں کہ ایک وقت (24گھنٹوں میں) ایک پائو گوشت سے زیادہ نہ کھایا جائے اور ہفتے میں زیادہ سے زیادہ 3 سے 4مرتبہ ہی اتنی ہی مقدار میں گوشت کھایا جائے تاکہ انسانی جسم کی ضروریات کو باآسانی پورا کیا جاسکے۔ اس سے زیادہ گوشت کا استعمال انسانی جسم کیلئے نہ صرف مضرصحت ہے بلکہ بہت ساری بیماریوں کا باعث بھی بنتا ہے جن میں ہارٹ اٹیک، بلڈپریشر وغیرہ جیسے امراض بہت عام ہوگئے ہیں۔

گوشت میں کیا کچھ ہوتا ہے؟

گوشت پروٹینز، روغنیات/چکنائی، منرلز اور وٹامنز سے بھرپور ہوتا ہے جو انسانی نشوونما کیلئے بہت ضروری ہے۔ گوشت جہاں صحت کیلئے ضروری ہے وہیں اگر زیادہ مقدار میں کھا لیا جائے تو بہت سی بیماریوں کا باعث بھی بنتا ہے۔ بیماریاں دو طرح کی ہوتی ہیں، ایک موروثی بیماریاں اور دوسری وہ جو ہماری خوراک، ہمارے کھانے پینے کے طریقے، ہماری عادات، ہمارے شغل جیسے کہ سگریٹ پینا وغیرہ یا ورزش نہ کرنے کی عادت اور ہمارے رہن سہن کے طریقۂ کار پر منحصر ہے۔ اکثر بیماریاں مثلاً خون کی خرابی(کلاٹ بن جانا)، دل وجگر کی بیماریاں وغیرہ بہت حد تک ہماری خوراک کے غلط انتخاب مثلاً ایسی خوراک جو کولیسٹرول پیدا کرے یا پھر اس کے بعد خوراک کو صحیح ہضم نہ کرپانا یعنی ورزش اور سیر نہ کرنے وغیرہ کی عادات کی وجہ سے لگتی ہیں۔ اصل خرابی یہ ہے کہ ہم لوگ ذہنی طور پر یہ چیز سوچنے کے عادی (Conscious) ہی نہیں کہ خوراک کون سے اجزاء پر مشتمل ہونے چاہئیں۔ کون سی خوراک ہمیں نقصان پہنچاتی ہے اور کون سی خوراک کی ہمیں ضرورت ہے۔ خوراک میں بنیادی طور پر تین چیزیں ہونی چاہئیں: -1 یہ ہماری صحت کی محافظ ہو اور ہماری ضرورت کے مطابق قوت وتوانائی مہیا کرے۔ -2 ہمیں وہ قوت مدافعت دے جو بیماریوں کے خلاف ہماری حفاظت کرے۔ -3 ذائقے میں اچھی ہو کہ کھانے کو دل کرے۔

پروٹینز (Proteins)

پروٹینز یا توانائی کی ضرورت ہر وقت ہمارے جسم کے ہر حصے کو ہے اور جو ہمارے جسم کو بڑھنے اس کو اپنے آپ کو قائم رکھنے اور وہ توانائی جو جسم کے اندر ٹوٹ پھوٹ کے عمل سے بحالی کیلئے درکار ہوتی ہے، فراہم کرتی ہے۔

روغنیات / چکنائی (Fats)

گوشت میں چکنائی (روغنیات) کی کیلوریز بہت زیادہ ہوتی ہیں۔ چکنائی جہاں ہمارے جسم کو پروٹینز اور کاربوہائیڈریٹس سے تقریباً دُگنی کیلوریز دیتی ہیں، ان کی زیادتی ہمارے لیے صحت اور کولیسٹرول جیسے مسائل بھی پیدا کرتی ہے۔

معدنیات (Minerals)

ہمارے جسم کو صحت مند رہنے کے لیے کافی زیادہ معدنیات ،منرلز کی ضرورت پڑتی ہے کیونکہ یہ ہڈیوں اور دانتوں کو مضبوط کرتے ہیں۔ خود حفاظتی نظام جراثیموں کے خلاف مضبوط کرتے ہیں اور وٹامنز کی مدد کرتے ہیں کہ انسان صحت مندانہ طریقے سے کام کرتا رہے۔ گوشت میں منرلز کی کافی ساری مقدار پائی جاتی ہے جو انسانی جسم کی ضروریات پوری کرنے کیلئے کافی ہے۔

وٹامنز (Vitamins)

گوشت بالخصوص بکرے کے گوشت میں وٹامنز کی مقدار بہت زیادہ ہوتی ہے۔ گوشت میں وٹامن اے ، بی اور وٹامن ای بکثرت پایا جاتا ہے جو انسانی صحت کیلئے بہت ضروری ہے۔

وٹامنز کی کمی کی علامات اور علاج

جیسے جیسے عمر اور ذمہ داریاں بڑھتی جاتی ہیں اور بھاگ دوڑ زیادہ ہو جاتی ہے، ہمیں کچھ وٹامنز اور منرلز (معدنیات) کی ضرورت پڑتی ہے کیونکہ بڑھتی عمر کے ساتھ خون بننا کم ہو جاتا ہے اور جسم بھی وٹامنز پیدا نہیں کرتا۔ ایسے میں گوشت بالخصوص قربانی کا گوشت نہ صرف آپ کے جسم میں وٹامنز، نمکیات کی کمی کو پورا کرتا ہے بلکہ آپ کو صحت وتندرست رہنے میں بھی مدد فراہم کرتا ہے۔

عمربڑھنے کے ساتھ جسمانی اور دماغی صلاحیت میں کمی اور تبدیلیاں آنی شروع ہوجاتی ہیں اور یہ تبدیلیاں سرے سے لے کر پائوں کے ناخنوں تک میں آتی ہیں۔ ضروری نہیں کہ ہر انسان میں یہ تبدیلیاں ایک برابر ہی آئیں بلکہ اس کا انحصار اس بات پر ہے کہ آپ کا طرزِزندگی کیا ہے اور آپ نیوٹریشن کیا لیتے ہیں۔ خوراک کتنی چکنائی والی لیتے ہیں۔ کیلوریز کس حساب کے ساتھ لیتے ہیں۔ جوانی میں بھاگ دوڑ کیسے کی۔ ورزش کی عادت رہی یا آرام کو زیادہ ترجیح دی۔ بلوغت کی عمر میں پہنچنے کے بعد جسمانی نظام میں بہت بڑی تبدیلی (Great Metabolism Change) آتی ہے۔ انسان اُوپر کی طرف نہیں بڑھ پاتا لیکن آگے پیچھے کی طرف بڑھ سکتا ہے۔ موٹائی کی ایک اور تہہ بننا شروع ہو جاتی ہے اور جب یہ بننے لگتی ہے تو اس موٹی تہہ اور جسم کے مسلز کا تناسب بگڑنے لگتا ہے اور مسلز کمزور ہونے لگتے ہیں اور یہ تناسب بڑھتی عمر کے ساتھ مزید خراب ہوتا رہتا ہے۔ ہڈیاں سکڑنے لگتی ہیں، کیونکہ 40سال کی عمر میں پہنچنے تک پہلے جسمانی اعضاء ، جو منرلز (Minerals) خوراک سے لیتے تھے۔ 40سال کے بعد جب جسم کی خوراک جذب کرنے کی صلاحیت بتدریج کم ہونے لگتی ہے تو ان منرلز مثلاً کیلشیم، پوٹاشیم، میگنیشیم، فاسفورس، کاپر وغیرہ کی کمی ہونے لگتی ہے اور جسمانی اعضا یہ منرلز ہڈیوں سے لینے لگتے ہیں جس سے یہ ہڈیاں آہستہ آہستہ اپنی توانائی کھونے لگتی ہیں اور ایک اندازے کے مطابق 65سال کی عمر میں پہنچنے تک یہ توانائی تقریباً آدھی رہ جاتی ہے۔ ہڈیوں کی یہ کمزوری انسانی قد پر بھی اثرانداز ہوتی ہے۔ ہڈیاں کمزور ہونے سے ریڑھ کی ہڈی کی موٹائی بھی کم ہوجاتی ہے اور 70سال کی عمر میں پہنچنے تک ایک اندازے کے مطابق یہ 25فیصد کم ہو جاتی ہے، یہی وجہ ہے کہ کچھ لوگوں کی بڑھاپے میں کمر جھک جاتی ہے۔ جب ریڑھ کی ہڈی سے یہ منرلز کم ہونے لگتے ہیں تو پھر ریڑھ کی ہڈی کے کمزور ہونے سے اس کی موٹائی اور اُونچائی کم ہونے لگتی ہے جس سے مردوں کی ریڑھ کی ہڈی کی اُونچائی 27انچ سے کم اور عورتوں کا 24انچ سے کم ہو جاتی ہے، یہی وجہ ہے کہ بوڑھے لوگوں کا قد جوانی کے مقابلے میں چھوٹا ہو جاتا ہے۔

گوشت کا ہڈیوں کی مضبوطی میں کردار

گوشت کا انسانی جسم میں بہت اہم کردار ہے، یہ جہاں ہمارے جسم کا حصہ بن کر ہماری ہڈیوں کی حفاظت کرتا ہے وہیں انہیں طاقتور بھی بناتا ہے۔ ہماری ہڈیاں ایک بینک کی طرح کی ہیں اور سٹاک میں اپنے پاس ہڈیوں کے بجائے ہڈیوں کے منرلز سٹاک رکھتا ہے جیسے کیلشیم، میگنیشیم، فاسفورس، سلیکون، فلورائیڈ اور کاپر۔ اس بینک میں سے لگاتار یہ منرلز جسم کے مختلف حصے بھی لیتے ہیں اور خوراک ان منرلز کو واپس بینک میں جمع بھی کراتی رہتی ہے۔ ان منرلز، وٹامنز، روغنیات کی کمی گوشت پوری کرتا ہے۔ اگر آپ کی عمر 20 اور 30سال کے درمیان ہے تو آپ کا یہ بینک اکائونٹ بہت مضبوط ہے اور آپ کے پاس یہ منرلز بہتات میں ہیں لیکن جیسے ہی عمر 40سال کے نزدیک پہنچنے لگتی ہے، مرد وزن دونوں کا جسم خوراک میں سے یہ منرلز کم جذب کرنے لگتا ہے اور جب عمر 65سال کے نزدیک پہنچتی ہے تو یہ جسمانی صلاحیت آدھی رہ جاتی ہے اور جب جسم کیلشیم، میگنیشیم، پوٹاشیم وغیرہ خوراک میں سے جذب کرنے کے قابل نہیں رہتا تو پھر جسم کے مختلف حصے یہ ان منرلز کو ہڈیوں میں سے لینے لگتا ہے جس سے بڑھتی عمر کے ساتھ ہڈیوں سے لگاتار ان منرلز میں کمی آنے سے ہڈیاں کمزور، بھربھری اور نازک ہو جاتی ہیں اور ہڈیوں میں یہ کمزوری صرف اور صرف منرلز کی کمی کی وجہ سے ہوتی ہیں۔اگر آپ ہڈیوں میں آنے والی منرلز کی اس کمی کو پورا کرتے رہتے ہیں تو آپ کی ہڈیاں مضبوط اور جوان رہ سکتی ہیں اور آپ کی جسمانی حرکات بھی 20سال عمر بڑھنے کے باوجود اس طرح چست اور تیز رہ سکتی ہیں جیسے کہ جوانی میں تھیں۔

نظامِ ہضم میں تبدیلیاں

نظامِ ہضم ہماری خوراک (گوشت، سبزی، پھل، دالیں وغیرہ) کو اس حالت میں تبدیل کرتا ہے، جس میں وہ خون میں جذب ہو سکے تاکہ خون کے ذریعے وہ خوراک مختلف جسمانی اعضاء کو مل سکے اور جسم طاقت وتوانائی حاصل کر سکے۔ یہ توانائی جسم کے مختلف بافتوں (Tissues) میں جو توڑپھوڑ ہوتی ہے، اس کی مرمت کیلئے بھی ضروری ہے۔ تمام ڈاکٹرز، حکیم اور جسمانی صحت کے ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ نظامِ ہضم پر جسمانی صحت کا دارومدار ہے اور اس کو ٹھیک رکھے بغیر صحت ٹھیک نہیں رہ سکتی۔ بڑھتی عمر میں ہاضمہ خراب رہتا ہے اور تھوڑی سی کھائی ہوئی خوراک بھی ہضم ہونے میں بہت دیر لیتی ہے۔ صحت مند آدمی کے خوراک ہضم کرنے میں جتنی دیر لیتا ہے، اس کی تفصیل اس طرح سے ہے: -1منہ میں(ایک منٹ) -2ہاضمے کی نالی میں(دو سے تین سیکنڈ) -3معدے میں(دو سے چار گھنٹے) -4چھوٹی آنت میں(ایک سے دو گھنٹے)

ریڑھ کی ہڈی بڑھتی عمر کے ساتھ بتدریج کمزور، بھربھری، پتلی ہو جاتی ہے اور قد میں کمی واقع ہو جاتی ہے۔ ریڑھ کی ہڈی کی لچک کم ہو جاتی ہے۔ نسیں (Nerves) بتدریج سخت، بے لچک اور تنگ ہو جاتی ہیں، جن کی وجوہات میں مختلف بیماریاں، غلط عادات اور غلط طرزِزندگی شامل ہے۔ پٹھوں میں کمزوری آ جاتی ہے۔ نسوں کی کمزوری اور ان کے ذریعے دماغ سے رابطہ مقابلتاً کمزور ہو جاتا ہے، جس سے حرکات آہستہ اور دیر سے ہونے لگتی ہیں۔ آنکھوں کے عدسے (Lens) میں لچک کم ہو جاتی ہے اور وہ دُور سے نزدیک نظر کی تبدیلی کرتے وقت فوکس میں دِقت محسوس کرتے ہیں، جس سے نزدیک کی نظر کمزور ہونے لگتی ہے۔ آنکھوں میں موتیا اُترنے لگتا ہے اور نظر آنا کم ہو جاتا ہے۔ کان 20سال کی عمر سے ہی اُونچا سننے کے عمل سے دوچار ہونا شروع ہو جاتے ہیں لیکن اس عمر میں تبدیلی کی شرح بہت کم ہوتی ہے، اس لیے 60سال کی عمر تک یہ تبدیلی بہت زیادہ محسوس نہیں ہوتی۔ کچھ نقصان کانوں کو اُونچی آوازوں جیسے اُونچے میوزک، شور شرابہ وغیرہ سے بھی پہنچتا ہے اور کانوں کے اندر موجود چھوٹے چھوٹے سینسرز (Sensors) جن کی تعداد کم وبیش 23ہزار ہوتی ہے، گذرتے وقت کے ساتھ کمزور اور مردہ ہونے لگتے ہیں اور سنائی کم ہو جاتی ہے۔

پرہیز علاج سے بہترہے…!!!

زندگی کا انحصار خون کے درست بہائو سے قائم ہے۔ خون کا بہائو رُک جائے تو زندگی کا کام تمام ہو جاتا ہے۔ خون کے بہائو میں کہیں کسی شریان میں رکاوٹ آجائے تو دل کا عارضہ لاحق یا دل پر حملہ (Heart Attack) ہو جاتا ہے۔ خون ہمارے جسم میں آکسیجن لے جاتا ہے۔ وہ کیمیکل اور پیغامات جو انسانی دماغ جسم کے مختلف حصوں کو دیتا ہے، اسی خون کے ذریعے جاتے ہیں۔ وہ گرمائش (Heat) جس کی ہمارے جسم کو ضرورت ہوتی ہے، وہ بھی خون کے ساتھ ساتھ جاری ہوتی ہے۔ جسم کے تمام اہم حصے مثلاً دل، گردے، جگر یہ سب خون ہی کی وجہ سے اپنا کام انجام دیتے ہیں۔ خون میں جسم کا وہ دفاعی نظام مختلف بیماریوں کے خلاف ہماری حفاظت کرتا ہے۔گوشت انسانی جسم میں خون پیدا کرنے کا بڑا ذریعہ ہے۔ گوشت جہاں جسم کو طاقت پہنچاتا ہے وہیں اس میں شامل فاسدمادّے، غیرضروری چکنائی وغیرہ انسانی جسم میں بہت سی بیماریوں کا باعث بھی بنتا ہے لہٰذا گوشت کی اتنی ہی مقدار لی جائے جتنی آپ کے جسم کو اس کی ضرورت ہے کیونکہ پرہیز علاج سے بہتر ہے۔

٭٭٭


ای پیپر