سمارٹ لاک ڈائون ،سمارٹ فیصلے !
27 جولائی 2020 (17:56) 2020-07-27

محمد اویس

سمارٹ لاک ڈاون پر اسلام آباد انتظامیہ نے سمارٹ کام کیا اور شہر اقتدار میں جون کے مہینے میں کورونا کیسز کی بڑھتی اڑان کو قابو کیا۔ اس کے لیئے ضلعی انتظامیہ کی جانب سے دو قسم کی حکمت عملی پر عملدرآمد کروایا گیا انتظامیہ نے پہلے تو این سی او سی کی ہدایات کو فالو کرتے کوئے اسلام آباد میں ماسک اور سماجی فاصلے کے لیئے ایس او پیز طے کیئیاس بات کا بھی خیال رکھا گیا کہ ان پر ہر صورت عملدرآمد کروایا جائے۔۔اسلام آباد کی تمام دکانوں میں نو ماسک نو سروس کی پالیسی اپنانے کو کہا گیا ہینڈ سینیٹائزر اور ہر دکان اور کاونٹر کے باہر سماجی فاصلے کے نشان بنانا بھی ہر دکان دار کیلئے لازم تھا،ریڑھی بانوں کو اپنے اردگرد رش جمع کرنے سے روکا گیا تو جمز اور سیلونز کے لیئے بھی علیحدہ علیحدہ ایس او پیز طے کیئے گئے۔دکانوں اور مارکیٹوں کو جلدی بند کرنے کا بھی شیڈول بنایا گیا ہفتے میں 5 دن کاروباری مراکز دکانوں اور مالز کو کھلا رکھا گیا جبکہ 2 روز مکمل لاک ڈاؤن اپنایا گیا۔خلاف ورزی کرنے والوں کو جرمانے اور متعدد دکانیں بھی سیل کردی گئی،عید الفطر سے قبل کورونا کیسز کو اسلام آباد انتظامیہ کی جانب سے کافی حد تک کنٹرول کیا گیا۔ کئی سیکٹرز اور مراکز میں انتظامیہ سختی سے نمٹی تاجروں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا مگر ضروری تھا کہ کاروبار پر زندگی کو اہمیت دی جائے لیکن ایسا کیا ہوا کہ کنٹرول کرونا کیسز میں یکدم ہوشربا اضافہ ہوا اور دیکھتے ہی دیکھتے اسلام آباد کے اسپتالوں میں کرونا مریضوں کے لیے جگہ کم پڑنے لگی؟عیدالفطر کی آمد پر مارکیٹس کو کھلا رکھنے کافیصلہ ایک ایسی غلطی تھی جس کا اثر آج تک شہر اقتدار کی عوام کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔ایسے میں عوام کو ایسے آزادی ملی کہ کرونا وائرس سے متعلق خطرناک انجام کو پس پشت ڈال دیا گیا اور دیکھتے ہی دیکھتے تقریبا ڈیڑھ ماہ میں کرونا کیسز کی صرف اسلام آباد میں تعداد 13 ہزار سے تجاوز کر گئی۔

کورونا نہ صرف عام عوام پر حملہ آور ہوا بلکہ ایوان میں بیٹھے عوامی نمائندوں اور سیاست دانوں کو بھی اپنے شکنجے میں لیتا رہا۔80 سے زائد اراکین پارلیمنٹ کورونا کا شکار ہوئے۔جس کے بعد اس صورتحال سے نکلنا حکومت سمیت اسلام آباد کی انتظامیہ کے لیئے مشکل ٹاسک تھا جس سے کچھ سختی برتنے کی اسٹریٹجی اپنا کر بخوبی نکلا گیا۔۔انتظامیہ کی جانب سے شہر بھر کے پبلک مقامات،دفاتر،شاپنگ مالز ،دکانوں حتیٰ کہ گاڑیوں میں بھی ماسک کا استعمال لازم قرار دیا گیااور خلاف ورزی کرنے والوں کے لیئے جرمانے اور قید بھی طے کی گئی لیکن کورونا کے کیسز مین دن بدن اضافہ ہی ہوتا جارہا تھا صورتحال کو دیکھتے ہوئے دوسری اہم اسٹریٹیجی پر عملدرآمد کروانے کی ٹھانی گئی جس میں ذیادہ کورونا کیسز والے علاقوں کی نشاندہی کرتے ہوئے ان کو ہاٹ سپاٹ قرار دے دیا گیا جس کے بعد ان علاقوں کو سیل کردیا گیا۔۔اسلام آباد میں ،کوٹ ہتھیال ،بھارہ کہو،رمشا کالونی،چک شہزار،غوری ٹاؤن کے 2 فیزز،آئی ایٹ 3،آئی ایٹ 4 اور سیکٹر آئی ٹین ون اور ٹو ،جی نائن،اور کراچی کمپنی کے علاقے وقفے وقفے سے سیل کیئے گئے۔سیکٹر ا?ئی 8 میں ایک دن کے دوران کورونا کے 200 کیسز سامنے ا?ئے جبکہ سیکٹر ا?ئی 10 میں ٹوٹل 400 کیسز رپورٹ ہوئے۔اسلام آباد کے معروف علاقے کراچی کمپنی کو بھی انتظامیہ کی جانب سے سیل کیا گیا اس کے بعد 4 مزید رہائشی سیکٹرزجی سکس ون، ٹو،جی سیون 2 اور جی ٹین فور کو شہری آمدورفت کے لیئے بند کیا گیا۔سیل کرنے سے قبل انتظامیہ کی جانب سے شہریوں کو اشیائیخوردونوش اور ضروری اشیا کو رکھنے کی ہدایت کر دی گئی تھی۔سب کو پہلے ہی آگاہ کیا گیا کہ کریانہ، میڈیکل اسٹور، بیکری اوردودھ کی دکانیں کھلی رہیں گی۔تاہم ان علاقوں میں پرائیویٹ دفاتر اور پارکس بند رکھے گئے، شہریوں کے لیے گھر سے باہر جانا ضروری ہو تو شناختی کارڈ ساتھ رکھنے کی ہدایت کی گئی،ہیلتھ ورکرز اور ایمبولینسز کو جانے کی اجازت دی گئی،ملک کے دیگر شہروں کی طرح جہاں سیل شدہ علاقوں میں شہریوں اور ملازمت پیشہ افراد کو دشواری پیش آئی وہیں دیکھا گیا کہ اسلام آباد کی انتظامیہ اور پولیس کے لیئے سب سے کٹھن وقت ایسے علاقوں میں ڈیوٹی دیتے ہوئے پیش آیا جب ہر پولیس والے کو کڑی دھوپ میں ایک ایک شہری کو سمجھانے میں آدھا آدھا گھنٹہ صرف کرنا پڑتا کہ ہم ڈیوٹی پر ہیں آپ کے لیئے آپ گھر پر رہیں ہمارے لیئے۔جہاں میں ضروری سمجھوں گا کہ اسلام آباد انتظامیہ کے ساتھ ساتھ وفاقی پولیس کا بھی ذکر کروں۔کیونکہ کرونا کیسز کی نشاندہی کا کام انتظامیہ اور ہیلتھ ٹیم کا تھا لیکن عملی طور پر عملدرآمد کرنے میں اسلام آباد پولیس کا اہم کردار رہا۔ہاٹ سپاٹ علاقوں میں پولیس نواجوں نے اپنی زندگی خطرے میں ڈال کر شہریوں سے ایس او پیز اور ناکہ جات لگا کر عوام کے محافظ ہونے کی مثال قائم کی۔اس دوران کئی مقامات پر پولیس اور شہریوں کے درمیان ایک محبت جیسا رشتہ بھی قائم ہوا جہاں کم وسائل کے باوجود پولیس اہلکار سخت ڈیوٹی پر معمور تھے تو وہی شہریوں کی جانب سے ان کے جذبے کو سراہا گیا۔اس کا سہرا ڈی آئی جی آپریشنز سید وقار الدین ان کی ٹیم شیخ زبیر ملک نعیم عمر خان اور سرفراز ورک کو جاتا ہے۔

ہر علاقے کو کم سے کم 15 روز کے لیئے سیل کیا گیا بعد میں ہر علاقے کا مختلف ڈیٹا کی جانچ کرنے اور ہیلتھ ٹیم سے مشاورت کے بعد علاقوں کو ایک ایک کر کے ڈی سیل گیا گیا،اس دوران ڈپٹی کمشنر اسلام آباد حمزہ شفقات بھی کافی متحرک نظر آئے علاقے ڈی سیل ہونے سے قبل علاقوں کا دورہ کیا اور پولیس کی حوصلہ افزائی کے لیئے ان میں کھانا بھی تقسیم کرتے دکھائی دیئے۔ڈپٹی کمشنر اسلام آباد حمزہ شفقات نے علاقوں کو سیل کرنے سے متعلق اپنا نقطہ نظر بیان کیا کہ علاقوں کو سیل کرنے کا فیصلہ فقط ڈیٹا کی بنیاد پر کیا جاتا ہے شک تھا کہ زیادہ آبادی اور رش والے علاقے جیسے کہ سبزی منڈی اور بس اڈوں پر رش کے باعث کورونا کیسز میں اضافہ ہوگا لیکن معاملہ اس کے برعکس نکلا پوش علاقوں میں کورونا کیسز کی تعداد رش والے علاقوں سے ذیادہ دکھائی دی۔۔سبزی منڈی کے علاقے میں 10 سے 12 ہزار کو تخمینہ لگایا گیا جبکہ صرف 17 کیسز رپورٹ ہوئے اور پوپش ایریا میں 300 سے 400 کیسز سامنے آئے۔ڈپٹی کمشنر نے ایک ہی بات دہرائی کہ انتظامیہ پولیس ٹائیگر فورس اور رینجرز تو شہریوں کی معاونت کے لیئے موجود ہیں لیکن شہریوں کو اپنی ذمہ داری ادا کرتے ہوئے خود ایکشن لینا ہوگا شہریوں کے تعاون کے بغیر کیسز پر قابو پانا ناممکن ہوگا۔

اپریل میں وزیراعظم عمران خان کی طرف سے اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ کو کرونا سے نمٹنے کے لیے 5کروڑ روپے کی امدادی رقم جاری کی گئی تھی۔ جاری امدادی رقم کو کورونا وائرس سے متاثرہ مقامی افراد پر خرچ کیاگیا اس سلسلے میں اسلام آباد میں قائم قرنطینہ سینٹروں میں ہونے والے تمام تر اخراجات کو بھی شامل کیا گیا،بیرون ملک سے آئے افراد کو ایئرپورٹ سے لاکر حاجی کمپس میں قرنطینہ کیا گیا مسافروں کی خواہش پر انہیں بہترین ہوٹلز میں بھی قرنطینہ کرنے کا انتظام کیا گیا۔ اسلام آباد انتظامیہ کی معاونت کرتی ٹائگر فورس بھی کافی متحرک نظر آئی۔ان کی ذمہ داری لاک شدہ علاقوں میں لوگوں کو کھانے کی سہولیات ادوایات وغیرہ فراہم کرنا تھا۔اسلام آباد کی کچی آبادیوں میں شہریوں خصوصاً بچوں کے ہاتھوں کو سینی ٹائز کرواتے ٹائیگر فورس کے ٹائیگر اہلکار دکھائی دیئے۔۔ٹائیگر فورس کے اہلکار پہلے مرحلے میں مارکیٹ کا وزٹ کرتے اور خلاف ورزی کرنے والے علاقوں کی نشاندہی کرنے کے بعد پولیس کے ساتھ مل کر دکانوں کو سیل اور جرمانے کرتے۔۔لوگوں کو گھر گھر جا کر آگاہی دینا بھی ٹائیگر فورس کے فرائض میں شامل ہے۔۔اسلام آباد انتظامیہ کی بڑی کامیابی تب سامنے آئی جب شہر اقتدار میں اسمارٹ لاک ڈاؤن اور ایریاز کو سیل کرنیکیمثبت اثرات سامنے آنے لگے، لاک ڈاون کیئے علاقوں میں کوروناکیسزمیں 90 فیصد تک کی کمی ہونے لگی جس کے بعد انتظامیہ نے بقایا 3 سیکٹرز میں لاک ڈاؤن کو ختم کرنے کر کا بھی فیصلہ کیا،،?15 جون کواسلام آبادمیں 635 کوروناکیسزریکارڈہوئے تھے جبکہ اب اسلام آباد میں روزانہ کی بنیاد پر کرونا کیسز کی تعداد بدریج کم ہو کر 50 سے 60 رہ گئی ہے۔اب تک خیبر پختونخواک کے مقابلے میں نہ صرف زیادہ ٹیسٹ کیئے گئے بلکہ صحتیاب ہونے والے مریضوں کی تعداد بھی کئی زیادہ ہے جو کہ شہر اقتدار کی عوام کے لیے ایک اچھی خبر ہے۔اسلام آباد انتظامیہ کے لیئے اگلا امتحان بڑی عید یعنی عید الاضحی کا آنے والا ہے جس میں ہجوم کو کنٹرول رکھنا،ایس او پیش پر عمل درآمد منڈیوں کو شہر سے باہر لگانے جیسے کام شامل ہیں اسی سلسلے میں ضلعی انتظامیہ کی جانب سے منڈیوں کے لیئے ایس او پیز جاری کیئے گئے ہیں جن کے تحت مویشی منڈیوں کو شہر سے باہر لگانے اور بڑی عمر اور چھوٹے بچوں کو منڈیوں میں لانے پر پابندی ہوگی۔مگر ایسے میں کیا دوبارہ وہی غلطی دوہرائی جائے گی جس سے بارہ لاکھ سے زائد والی آبادی والے شہر کو ایک بار پھر ایسی صورتحال پر لا کھڑا کیا جائے جہاں سے واپسی ممکن نہ ہو پائے؟ صرف انتظامیہ اور پولیس پر ہی ذمہ داری عائد نہیں ہوتی ہمیں بھی اپنی قومی ذمہ داری اور فریضہ ادا سے متعلق سوچنے اور کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔


ای پیپر