میرٹ ہی ہمارا بنیادی اصول ہے:شبلی فراز کی نئی بات سے گفتگو
27 جولائی 2020 (17:53) 2020-07-27

منیزے معین:

پاکستان تحریک انصاف نے اکانومی کو بہتر کیا پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ ڈیفیسٹ تھا۔ اگر سابقہ ریکارڈ کو کمپیر کریں تو اس بات کا ادراک ہو سکتا ہے۔ بشمول پوری دنیا کے پاکستان بھی کرونا کی لپیٹ میں آیا جس سے ہماری اکانومی شدید متاثر ہوئی لیکن حکومت پاکستان اس پر ثابت قدم رہیں اور زبردست طریقے سے ہینڈل کیا جس کی مثال ہمیں نہیں ملتی۔ حکومت کی پالیسیوں میں غریب طبقے پر توجہ دی جا رہی ہے۔ غریب آدمی کو بینک سے قرضہ لینے کے لیے مشکلات پیش آتی ہیں اس لیے حکومت بینکوں سے قرض کی اقساط کی ادائیگی کے لیے کام کرے گی کیونکہ قرض کی اقساط کی آسان ادائیگی ہوگی تو غریب گھر تعمیر کرا سکے گا۔

بیوروکریسی کی کپیسٹی اب کمزور ہو گئی ہے جو پچھلی حکومتوں میں نہیں تھی. بیوروکریٹس کو پولٹسایز کیا گیا تھا. جن کی کارکردگی اچھی تھی انکو سائیڈ لائن کیا گیا تھا۔ تقرر اور تبادلے کا معیار میرٹ کی جگہ وفاداری تھی۔ جس کی وجہ سے لوگ نہ امید ہوئے اور ان کی وجہ سے مسائل پیدا ہوئے۔ ایک کے بعد ایک ہر مافیا کو بے نقاب کیا جائے گا اور ادارے مضبوط ہوں گے۔ عمران خان ایک مضبوط لیڈر ہے اور اس مافیا کو پنپنے نہیں دیں گے۔ سیاستدان لمبے عرصہ کیلئے حکومت میں نہیں رہ سکتے اس لئے بیوروکریسی بہتر انداز میں زیادہ عرصے کیلئے حکومتی نظا م کی دیکھ بھال کر سکتی ہے۔ قواعد و ضوابط وضع کرنے کی ذمہ داری بیورو کریسی کی نہیں ہو تی البتہ وہ اس عمل میں حکومت وقت کی معاون ضرور ہو سکتی ہے۔ عوام کا منتخب نمائندہ ہونے کی حیثیت سے سیاستدانوں کو قواعد و ضوابط وضع کرنے چاہئے۔

یہ باتیں وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات جناب شبلی فرازسے ان کے دفتر پی ٹی وی ہیڈ کوارٹر میں ملاقات ہوئی۔ شبلی فراز 28 اپریل 2020 سے اس منصب پر موجود ہیں اور اپنے فراض سرانجام دے رہے ہیں۔ ان سے ملاقات کیلئے جب اچانک فون کیا تو وہ کچھ نالاں نظر آئے لیکن جب گفتگو کا آغاز ہوا تو بہت دلچسپ ،کچھ نرم گرم گفتگو ہوئی. ان سے کیے گئے سوالات درج ذیل ہیں۔.

پاکستان تحریک انصاف کی دو سالہ کارکردگی سے کیا آپ مطمئن ہیں؟

پاکستان تحریک انصاف جب سے اقتدار میں آئی ہے پی ٹی آئی کی ترقی کا تعین کرنے کے لئے اگر ہم بیس لائن کو نہیں سمجھیں گے تو ہمیں نہیں پتہ چلے گا کی کیا کارکردگی رہی۔ پاکستان تحریک انصاف نے اکانومی کو بہتر کیا پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ ڈیفیسٹ تھا۔ اگر سابقہ ریکارڈ کو کمپیر کریں تو اس بات کا ادراک ہو سکتا ہے۔ بشمول پوری دنیا کے پاکستان بھی کرونا کی لپیٹ میں آیا جس سے ہماری اکانومی شدید متاثر ہوئی لیکن حکومت پاکستان اس پر ثابت قدم رہیں اور زبردست طریقے سے ہینڈل کیا جس کی مثال ہمیں نہیں ملتی۔ کوڈ 19 نے ہر شعبے کو متاثر کیا خواہ وہ سیاست کا ایرلائنز کا ہو یا سیاحت کا، یہ ایسی باتیں جیسے ہلکا نہیں لیا جا سکتا تھا۔ پاکستان تحریک انصاف نے مختلف پراجیکٹس کا آغاز کیا ہے، جن میں ہاؤسنگ پروجیکٹ بھی ہے۔ اس پروجیکٹ سے وہ لوگ بھی فیضیاب ہونگے جو گھر بنانے کا خواب ہی دیکھ سکتے تھے۔ پاکستان تحریک انصاف کیونکہ ان کی بنیاد رکھ دی گئی ہے اب ہم اس لیول پر آگئے ہیں جس کے بعد ہماری کارکردگی عوام کو نظر آئے گی۔ وفاقی وزیر اطلاعات شبلی فراز نے کہا ہے کہ حکومت کی پالیسیوں میں غریب طبقے پر توجہ دی جا رہی ہے۔ غریب آدمی کو بینک سے قرضہ لینے کے لیے مشکلات پیش آتی ہیں اس لیے حکومت بینکوں سے قرض کی اقساط کی ادائیگی کے لیے کام کرے گی کیونکہ قرض کی اقساط کی آسان ادائیگی ہوگی تو غریب گھر تعمیر کرا سکے گا۔وزیر اطلاعات نے کہا کہ 5 مرلہ گھر کی تعمیر کے لیے مارک اپ 5 فیصد رکھا گیا ہے۔انھوں نے کہا کہ حکومت نے بہترین حکمت عملی سے کورونا سے نمٹنے کی کوشش کی جبکہ کورونا کے دوران سب سے زیادہ کمزور طبقہ متاثرہوا۔انہوں نے کہا کہ حکومت سمجھتی ہے شعبہ تعمیراتی کی ترقی وقت کی اہم ضرورت ہے اور ملک میں کورونا کی وجہ سے معیشت پر منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔احساس ایمرجنسی کیش پروگرام کے فنڈز کو بڑھا کر 230 ارب روپے کر دیا گیا ہے جبکہ احساس کفالت پروگرام کو بین الاقوامی سطح پر پزیرائی ملی ہے۔انہوں نے کہا کہ احساس ایمرجنسی کیش پروگرام بہترین منصوبہ ہے اور ہر صوبے کے لوگ اس پروگرام سے مستفید ہوں گے۔ بعض لوگوں کو رقم کی فراہمی میں مشکلات کا سامنا ہے جبکہ وزیر اعظم نے بار بار کہا ہے کہ میرٹ کے مطابق کام کیا جائے۔

کیا حکومت اور بیوروکریسی ایک پیج پر ہیں؟

ش ف : بیوروکریسی کی کپیسٹی اب کمزور ہو گئی ہے جو پچھلی حکومتوں میں نہیں تھی. بیوروکریٹس کو پولٹسایز کیا گیا تھا. جن کی کارکردگی اچھی تھی انکو سائیڈ لائن کیا گیا تھا۔ تقرر اور تبادلے کا معیار میرٹ کی جگہ وفاداری تھی۔ جس کی وجہ سے لوگ نہ امید ہوئے اور ان کی وجہ سے مسائل پیدا ہوئے۔ انھوں نے کہا کہ دنیا میں بیورو کریسی کا کردار ہمیشہ زیر بحث رہا ہے۔ مملکت کو احسن طریقے سے چلانے، موثر حکمت عملی وضع کرنے اور اسکے نفاذ میں اس مکالمے کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ مروجہ نظام حکومت سے قطع نظر بیوروکریسی، امور مملکت چلانے کیلئے ضروری ہے مگر اس کا انحصار حکومتی ڈھانچے پر ہے کہ وہ کیا کردار تفویض کرتا ہے۔ ترقی یافتہ ممالک میں تو بیوروکریسی ا چھا کردار ادا کر رہی ہے مگر ترقی پذیر ممالک میں صورتحال بالکل برعکس ہے۔

پوری دنیا میں بیورو کریسی کا اصل کام حکومت وقت کے قواعد و ضوابط کو بھرپور لگن اور دیانتداری سے نافذ کرنا ہوتا ہے۔ عوام کے وسیع تر مفاد میں سول ملازم کی حیثیت سے نظام حکومت چلانا بیورو کریسی کے فرائض میں شامل ہے۔ سیاستدان لمبے عرصہ کیلئے حکومت میں نہیں رہ سکتے اس لئے بیوروکریسی بہتر انداز میں زیادہ عرصے کیلئے حکومتی نظا م کی دیکھ بھال کر سکتی ہے۔ قواعد و ضوابط وضع کرنے کی ذمہ داری بیورو کریسی کی نہیں ہو تی البتہ وہ اس عمل میں حکومت وقت کی معاون ضرور ہو سکتی ہے۔ عوام کا منتخب نمائندہ ہونے کی حیثیت سے سیاستدانوں کو قواعد و ضوابط وضع کرنے چاہئے مگر نااہل سیاسی قیادت نے بیورو کریسی کو سول ملازم سے حکمران بنا دیا ہے۔ لیکن ان تمام معاملات کو دیکھ رہے ہیں اور اچھے نتائج کی توقع کرتے ہیں۔

نان الیکٹڈ لوگوں کی وجہ سے الیکٹڈ لوگوں کو تحفظات ہیں، کیا یہ بات درست ہے؟

نان الیکٹڈ لوگوں کی وجہ سے یقینی طور پر الیکٹڈ لوگوں کو تحفظات ہیں اور ان کے یہ تحفظ جائز بھی ہے.الیکٹڈ لوگ انتہائی محنت کے بعد لوگوں کا یقین حاصل کرنے کے بعد منتخب ہوتے ہیں ان پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہیاور وہ اپنے لوگوں کو جواب دہ ہوتے ہیں یہی وجہ کہ وہ اپنا کام پوری ذمہ داری سے بھی کرتے ہیں جبکہ اگر ان کی بات کی جائے ان کا کوئی مشکل بات نہیں اور نہ ہی وہ کسی کو جواب دہ ہیں۔

کیا مافیا حکومت سے زیادہ طاقتور ہے، جو آئے روز آٹا چینی پٹرول بحران پیدا ہو رہا ہے؟

کرپٹ ٹولے کے خلاف پاکستان تحریک انصاف کی ایک ہی پالیسی ہے۔ سب کا احتساب ہوگا اور سب کے خلاف کارروائی ہو گی۔ جہاں تک مافیہ کی بات ہے تو ہرمافیہ طاقتور ہوتی ہے کیونکہ وہ ہر قسم کا کام کرتے ہیں. ان کے پاس بے انتہا ریسورسز ہوتے ہیں اور جس کی وجہ سے ان کو کچھ دکھائی نہیں دیتا۔ ان کے لیے صرف ان کا مالی مفاد مقدم ہوتا ہے، خواہ آٹا چینی مافیا ہی کیوں نہ ہو اگر لیڈر طاقت ور ہو تو ایسے لوگ پکڑ میں ضرور آتے ہیں۔ ایک کے بعد ایک ہر مافیا کو بے نقاب کیا جائے گا اور ادارے مضبوط ہوں گے۔ عمران خان ایک مضبوط لیڈر ہے اور اس مافیا کو پنپنے نہیں دیں گے۔ انھوں نے کہا کہ گندم اور چینی کی وافر پیداوار کے باوجود دونوں چیزوں کا بحران کیوں پیدا ہوا؟ وزیرِ اعظم عمراں خان کہتے ہیں کہ مافیا کو نہیں چھوڑوں گا اور آٹے او چینی کا بحران پیدا کرنے والے مافیا کے خلاف کاروائی کروں گا۔ ایف آئی اے کی رپورٹ میں وزیرِ اعظم کو بتایا گیا گندم کی 9 لاکھ ٹن اضافی پیداوار اسمگلنگ اور ذخیرہ اندوزی سے عدم دستیابی میں بدلنے کی کاروائی میں سابق حکمران اور ان کے قریبی طاقتور لوگ شامل ہیں۔ اسی طرح چینی کا بحران بھی مصنوعی پیدا کیا گیا ہے۔ عوام بد عنوان سیاست دانوں سے تنگ آئی ہوئی تھی انہوں نے عمران خان کے کرپشن کے خاتمے کے نعرے پر لبیک کہا اور انہیں وزارتِ عظمیٰ کے منصب پر منتخب کروایا۔ عمران خان یقینا اس مافیا سے قوم کو نجات دلائیں گے۔

گزشتہ دو سالوں میں سینکڑوں میڈیا ورکرز کا استحصال ہوا اور ان کو تنخواہیں نہ دی گئی کیا اس حوالے سے حکومت کی پالیسی وضع کردہ ہے؟

میڈیا ورکرز کا استحصال ہمیشہ سے ہوا ہے یہ کوئی نئی بات نہیں ہے. جتنا بھی میڈیا ہے خواہ وہ پرنٹ میڈیا ہو الیکٹرانک میڈیا ہو یا سوشل میڈیا اس میں اس طرح کے لوگ گھس آئے ہیں جن کا کام حکومتی اشتہارات سے چلتا ہے۔ ہماری حکومت نے بھی1.15 ارب روپے میڈیا میں تقسیم کیے تھے لیکن کیا وجہ بنی کہ ملازمین کو تنخواہیں نہیں دی گئی۔ لوگوں کو چاہیے کہ مالکان کے خلاف احتجاج کریں کیونکہ ان کو پیسے ملتے ہیں اور وہ ملازمین کو پیسے نہیں دیتے۔ اس حوالے سے میں ایک پالیسی مرتب کر رہا ہوں جس میں ہم ایک ایسا میکنزم بنائیں گے ، جس میں میڈیا مالکان بتائیں گے کہ ان کا کتنا کیپٹل لگا ہے اور ان کے ملازمین کتنے ہیں اور ان کی تنخواہیں کتنی ہے وغیرہ وغیرہ۔ تاکہ جب ان کو پیسے دیے جائیں تو پھر مکمل آڈٹ ہو سکے۔ سیکورٹی ایکسچینج کمیشن اس میں معاونت کرے گا۔ اس طرح میڈیا کرائسس سے نمٹا جا سکتا ہے اور بہترین انتظامات کو بھی یقینی بنایا جا سکتا ہے۔

وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار، یعنی وسیم اکرم پلس کی تبدیلی کے کتنے امکانات ہیں؟

وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار کا انتخاب عمران خان نے کیا تھا اور یہ کیپٹن کی ہی مرضی ہوتی ہے کہ وہ کب اپنے کھلاڑی کو تبدیل کرے۔ تاہم وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کہیں نہیں جا رہے۔ شبلی فراز نے عثمان بزدار کی تبدیلی کے حوالے سے میڈیا اور سوشل میڈیا پرچلنے والی خبروںمیں کوئی صداقت نہیں۔وفاقی وزیر نے کہا ہے کہ وزیراعلیٰ عثمان بزدار کہیں نہیں جا رہے، ان کی تبدیلی کے حوالے سے کی جانے والی تمام قیاس آرائیاں بے بنیاداور بددیانتی پر مبنی ہیں۔

٭٭٭


ای پیپر