نئی بات پر اشتہارات کی بندش کا عتاب
27 جولائی 2019 2019-07-27

قومی روزنامہ نئی بات پر متوازن خبریں اور بے لاگ ادارتی تبصرے کرنے کے گناہ کبیرہ اور جرم عظیم کے ارتکاب کی سزا کے طور پر ایک سال کے اندر چوتھی دفعہ سرکاری اشتہارات کی پابندی لگا دی گئی ہے… یوں ہماری معاشی ناکہ بند کرنے کی کوشش کی گئی ہے… اشتہارات سرکاری ہوں یا نجی شعبہ کے اخبارات ٹیلی ویژن چینلوں اور یہاں تک کہ سوشل میڈیا کے مختلف اور مقبول طریق ابلاغ کے لیے شہ رگ کا حکم رکھتے ہیں… امریکہ و یورپی ممالک کے ذرائع ابلاغ زیادہ تر نجی شعبے سے ملنے والے اشتہارات پر انحصار کرتے ہیں مگر پاکستان ، بھارت، سری لنکا، ملائیشیا، ترکی یا عرب ممالک کے معروضی حالات کی بنا پر سرکاری اور نجی شعبے کے اشتہارات دونوں سے حاصل ہونے والی آمدنی اخبارات وغیرہ کے لیے آکسیجن کا کام دیتی ہے… اس سے کارکن صحافیوں کی تنخواہیں دی جاتی ہیں… اُن کے گھروں کا چولہا گرم رہتا ہے… اخباری اداروں کے دوسرے اخراجات پورے کرنے میں مدد ملتی ہے… پاکستان میں سرکاری محکموں کے اشتہارات پر حکومتی اجارہ داری تو سمجھ میں آنے والی بات ہے لیکن گزشتہ چند دہائیوں سے نیم خود مختار کمپنیاں اور اداروں مثلاً واپڈا، پی آئی اے، بڑے بینک ان سب کے اشتہارات بھی سرکار والا تبار کی جناب سے جاری ہوتے ہیں… یوں حکومت کا مضبوط ہاتھ اخبارات و ٹیلی ویژن وغیرہ کی گردنوں پر رہتا ہے… وہ جب چاہتی ہے اسے مروڑ کر مفید مطلب خبریں اور اداریے چھپوا لیتی ہے… آزادیٔ صحافت پر تمام تر دعووں کے برعکس ہماری تقریباً ہر حکومت کا یہی وطیرہ رہا ہے… صحافتی ادارے اور تنظیمیں اس پر احتجاج کناں رہتی ہیں… پہلے براہ راست سینسر اور پریس ایڈوائز کا ہتھکنڈا استعمال کیا جاتا تھا اس کی مذمت بھی بہت ہوتی تھی… مگر موجودہ ’’زریں دور‘‘میں پریس کا گلا دبانے اور اس کی آزادی کا قلع قمع کرنے کے لیے کئی نئی تراکیب اور ہتھکنڈے ایجاد کر لیے گئے ہیں… معلوم نہیں ہوتا کہاں سے مکہ رسید کر دیا جائے گا… مالکوں اور ایڈیٹروں کو طاقت ور عناصر کی جانب سے خفیہ ٹیلی فون موصول ہوتے ہیں… حکم دیا جاتا ہے فلاں خبر چھاپو یا ٹیلی ویژن پر Flash کرو اور فلاں کا مقاطعہ کر دو… اداریوں، کالموں اور ٹاک شوز میں ہماری پالیسیوں کے غباروں کے اندر ہوا بھرو… مخالفیں کی کردار کشی کی جائے… بصورت دیگر تمہارا جینا محال کر دیا جائے گا… ایک آسان طریقہ نجی ٹیلی ویژنوں کے پروگراموں کو گھر گھر تک پہنچانے والے کیبل سروس کے ذمہ داران کو حکم جاری کرنا ہے کہ فلاں کی نشریات کو بند کر دو اور فلاں کو دور پیچھے لے جا کر پھینک دو… ان تمام کے ساتھ جب چاہے کسی ناپسندیدہ اخبار کے اشتہارات بند کر دینے کا پرانا اور آزمودہ نسخۂ ترکیب استعمال سے بھی پوری طرح کام میں لایا جاتا ہے… روزنامہ نئی بات کو سر زمین پاکستان کے خداوندان جمع موجودہ حکومت کی جانب سے اسی عتاب کا نشانہ بنایا جا رہا ہے… ہمارے اشتہارات وقتاً فوقتاً بند کر دیے جاتے ہیں… اُوپر سے حکم صادر ہوتا ہے کہ اپنے طور طریقوں کی اصلاح کر لو ورنہ نتائج بھگتنا پڑیں گے… یوں جمہوریت اور آزاد صحافت دونوں کی تکذیب ہوتی ہے۔

جہاں تک روزانہ کی بنیاد پر خبروں کی اشاعت کا تعلق ہے ہمارے صفحات گواہ ہیں اور پچھلے آٹھ سال کی جب سے اس اخبار کا لاہور، اسلام آباد، پشاور، کراچی اور فیصل آباد وغیرہ سے اجراء کیا گیا نئی بات کی آٹھ سالہ تاریخ بھی شاہد ہے ہم نے وقت کی حکومت اور اس کی مخالف سیاسی جماعتوں دونوں کی خبروں کو شہ سرخیوں اور سپر لیڈ سمیت برابر کی جگہ دی… حکومت اگر زرداری صاحب کی تھی ، پھر نواز شریف اور اب عمران خان کی ان کی جانب سے جب کبھی ملک و قوم کے حقیقی مفاد کی عکاسی کرنے والا کوئی کارنامہ سامنے آیا یا اہم خبر ملی، ہم نے اسے سب سے نمایاں جگہ دی… اس کے ساتھ اپوزیشن کے نقطۂ نظر، اس کی خبروں اور سرگرمیوں کو بھی استحقاق کے مطابق نمایاں طور پر شائع کیا… گزشتہ دور میں جب نواز شریف کی حکومت تھی اور پنجاب کے اندر شہباز شریف نے صوبے کی انتظامیہ اپنے ہاتھ میں لے رکھی تھی تو ان کے ترقیاتی منصوبوں اور ان کی تفصیلات کو اسی طرح چھاپا جس طرح وہ قومی نقطہ نظر سے حقدار تھے… لیکن ان کے برابر عمران خان اور طاہر القادری صاحبان کی جانب سے نکالی جانے والی ریلیوں ، اسلام آباد پر یلغار کرنے والے جلسوں اور دارالحکومت کے سامنے مہینہ بھر کے دھرنوں اور ان کے دوران کی جانے والی تقریروں کو من و عن پیش کرنے میں کسی سے پیچھے نہ رہے… ہمارے اخبار کو ایک نظر سے دیکھنے والے قاری کو یہ شکایت نہ ہوتی تھی کہ صرف ایک جماعت یا اس کی لیڈر شپ کو اس کے حق سے زیادہ نمایاں کیا جا رہا ہے… وہ دور اپنے اختتام کو پہنچا… جناب عمران کا موجودہ عہد شروع ہوا… ان کی حکومت وجود میں آئی تو ہمارا طریق کار ہرگز نہ بدلا… اب نئی حکومت ہے اور اس کے اتحادی ہیں جبکہ دوسری جانب سابقہ حکمران جماعتیں اپوزیشن کے کیمپ میں جا کھڑی ہوئی ہیں… نئی بات نے ان سب کے بارے میں وہی طریق اشاعت استعمال کیا جو قبل ازیں تھا… یعنی حکومت کی خبروں کو مثال کے طور پر عمران خان کا دورۂ امریکہ سب سے نمایاں جگہ دی… اس کے بعد اپوزیشن جماعتوں کا حق بنتا تھاکہ ان کی باتوں کو بھی قاری تک پہنچانے کا فریضہ ادا کیا جائے… سویہ ہم کر رہے ہیں… خبروں اور ان کی اشاعت کی حد تک ہماری غیر جانبداری امر مسلمہ ہے… ہماری روزانہ کی کارکردگی اس کی گواہ ہے… جہاں تک اداریوں اور کالموں کا تعلق ہے تو روزنامہ نئی بات کی ادارتی پالیسی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں… ہم نے پہلے دن اعلان کیا تھا کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کا متفق علیہ دستور مملکت جسے عمومی طور پر 1973ء کا آئین کہا جاتا ہے، اس کی بالادستی کو یقینی بنانے کے لیے اپنا زور قلم استعمال کرنے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہ کریں گے… آئین کے تحت ریاست کے تین بنیادی اداروں انتظامیہ، مقننہ اور عدلیہ کو اپنے اپنے دائرہ کار کے اندر رہتے ہوئے قومی ترقی کی شاہراہ پرگامزن رہنے کے لیے اخبار کی جانب سے ہر ممکن تائید و حمایت فراہم کرتے رہیں گے… ان کے ماتحت جتنے بھی سرکاری اور حکومتی ادارے ہیں مثلاً سول سیکرٹریٹ ، وزارت خارجہ اور مسلح افواج پاکستان جیسا کہ آئین اور جمہوریت دونوں تقاضا کرتے ہیں یہ محکمے منتخب حکومت اور پارلیمنٹ کی طے کردہ پالیسیوں پر سختی کے ساتھ عمل درآمد کرنے کی پابندی کو شعار بنائیں اس ضرورت کا احساس دلاتے ہیں… اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اسلام جیسا عظیم دین خداوندی جس کے نام پر یہ ملک حاصل کیا گیا… اس کے الٰہیاتی اصولوں سے رہنمائی حاصل کرنے کا شعور اجاگر کرتے ہیں… چنانچہ روزنامہ نئی بات کے اداریوں اور اس میں شائع ہونے والے اہم تر کالموں کے اندر اسلام، آئین کی بالادستی اور جمہوریت کے تسلسل کو رہنما اصولوں کے طور پر سامنے رکھا جاتا… ہر حکومت کی پالیسی کو خواہ وہ زرداری صاحب کی تھی ، نواز شریف کی یا موجودہ عمران خان کی ہو، اسی کسوٹی پر پرکھا گیا اور اس کی حمایت یا مخالفت کی گئی… ہم کشمیر پر بھارت کے ناجائز جارحانہ قبضے اور وہاں کے عوام کی آواز کو سفاکی کے ساتھ دبا دینے کی پالیسیوں کی مسلسل مذمت اور بھارت کے استعماری ہتھکنڈوں کا پول کھول دینے کی پالیسی کے پابند ہیں… دفاع پاکستان کے ہر ریاستی اقدام کی حمایت ہمارے لیے قومی ایمان کا حکم رکھتی ہے… حکمرانوں پر تنقید ضرور لیکن کسی کی کردار کشی کی جسارت ہم سے کبھی نہ ہوئی… افواہ کو خبر کی شکل کبھی نہیں دی… غلط خبر چھپ گئی تو معذرت کی اور وضاحت جاری کی … جہاں ضرورت پڑی حکومت کی تعریف کرنے میں بخل سے کام نہ لیا لیکن خوشامد کے قریب ہرگز نہ پھڑکے… ہماری یہی روش آج تک جاری ہے… ہمیشہ رہے گی اور خدا وند کریم سے امید ہے کہ وہ آئندہ بھی اس راہ پر چلنے کی توفیق عطا فرماتا رہے… خواہ اشتہارات کی کتنی مزید سخت پابندیاں عائد کر دی جائیں…

آج جو ہمارے اخبار اور اسے چلانے والے ادارے کے راستے پر مشکلات کھڑی کر دی گئی ہیں… اشتہارات کا مقاطعہ ہے… حکومت اور والیان ریاست غیر جانبدارانہ طریقے سے شائع ہونے والی خبروں کو عتاب کی نگاہوں سے دیکھتے ہیں … ہمارے دن رات محنت کرنے والے کارکنوں کی مالی میں اضافے کا باعث بن رہے ہیں… ان سب کو معلوم ہونا چاہیے کہ روزنامہ نئی بات نے اپنے لیے جو راہ عمل طے کی ہے ، اس پر سختی کے ساتھ کاربند رہے گا… ہماری خبروں کی غیر جانبداری میں سرے مو فرق نہیں آئے گا… ہمارے اداریوں کے اندر اسلام کی جو روح رچی بسی ہے، آئین مملکت کی بالادستی کے اصول کے ہر شعبۂ ریاست و سیاست پر اطلاق کا شعوری جذبہ نمایاں ہوتا ہے اور جمہوریت کے تسلسل کو یقینی بنانے کی جو قلمی کاوش کی جاتی ہے ، ان سب باتوں پر پہلے کبھی سمجھوتہ کیا نہ اوپر والوں کے عتاب اور اشتہاری و دیگر پابندیوں کے باوجود آئندہ کریں گے… تنقید بھی ہو گی اور جہاں ضروری ہوا تائید و تحسین میں کسی بخل سے کام نہیں لیا جائے گا مگر خوشامد پہلے ہوئی تھی نہ آئندہ کسی صورت کی جائے گی… آپ کسی کو ناجائز گرفتار کریں گے اس پر عرصۂ حیات تنگ کر کے رکھ دیں گے بغیر کسی ثبوت یا حقیقی جرم کے جیلوں میں پھینک دیں گے … اس کی خاطر مرضی کے فیصلے حاصل کریں گے… جیسا کہ مایہ ناز صحافی عرفان صدیقی کی تازہ مثال سامنے آئی ہے… ہم آپ کے ان عزائم اور طریقوں کو بے نقاب کرنے میں کوئی کسر باقی نہ رہنے دیں گے… اس کے برعکس آپ ملک و قوم کے حقیقی مجرموں کو گرفت میں لیں گے ، ٹھوس اور ناقابل تردید ثبوت کے بغیر کسی کے خلاف کارروائی نہیں کریں گے… عام آدمی کی معاشی فلاح و بہبود کے لیے پائیدار منصوبوں کا آغاز کریں گے … ملک کو اقتصادی لحاظ سے خود کفیل بنانے کی خاطر جو بھی قدم اُٹھائیں گے، نئی بات کو اس مقصد کے لیے اپنا حامی و مدد گار پائیں گے… لیکن اگر کوئی اس غلط فہمی میں مبتلا ہے کہ حکومتی طاقت اور وسائل کے ناجائز استعمال سے ہماری آزادیٔ اظہار کو سلب کر لے گا تو اُسے اِسے دور کر لینا چاہیے… ہم نے اخبار اس مقصد کے لیے نہیں نکالا تھا… نہ نئی بات میڈیا نیٹ ورک کے ٹیلی ویژن ادارے اس خاطر قائم کیے گئے تھے کہ چند وقتی حکومتی مراعات کی خاطر اپنے ضمیر کا سودا کریں گے اور اپنے قلم و زبان کو کسی کے پاس رہن رکھ دیں گے… جہاں تک سرکاری اشتہارات کا تعلق ہے تو کوئی حکومتی اہلکار خواہ کتنا بڑا ہو انہیں اپنی جیب یا ذاتی جاگیر سے ادا نہیں کرتا… یہ قوم کے خون پسینے سے حاصل کردہ ٹیکسوں کی آمدنی ہوتی ہے… امانت کے طور پر آپ کے سپرد کی جاتی ہے تا کہ اس کا منصفانہ استعمال کیا جائے… نا کہ آزادیٔ صحافت کا گلا گھونٹنے کی خاطر اسے استبدادی ہتھکنڈے کے طور پر استعمال کیا جائے… اشتہارات کی غیر منصفانہ تقسیم نے پہلے کسی حکومت کو فائدہ پہنچایا ہے نہ یہ روش آئندہ کسی کے کام آئے گی… بہتر ہے اس باب کو ہمیشہ کے لیے بند کر دیا جائے…


ای پیپر