سوئے میخانہ
27 جولائی 2019 2019-07-27

امریکہ کا تین روزہ دورہ کر کے وزیر اعظم لوٹ آئے۔ ایئر پورٹ پر استقبال کو آئے پی ٹی آئی عوام کے بیچ، خدا یاد آیا، کی کیفیت میں ایاک نعبد و ایاک نستعین دہراتے رہے۔ تجدید ایمان ضروری بھی تھی۔ ریاست مدینہ کا نام لیوا جدید رومن ایمپائر سے پینگیں بڑھا کر لوٹا تھا ! کہنے لگے: اسی قوم سے پیسہ اکٹھا کریں گے۔ ہسپتال بنائیں گے صاف پانی دلائیں گے۔ اس پر خالی جیبوں والی قوم ضرور پریشان ہوئی ہو گی کہ امریکہ کا پھیرا لگا کر بھی واپس وہیں کہ ہمیں سے پیسہ اکٹھا کریں گے؟ اللہ خیر کرے۔ وہاں سے کیا لائے؟ ٹرمپ نے آئزن ہاور کی تصویر والا بلّا ( بیٹ) دیا۔ کانگریس مینوں نے تھپکی والی خیر سگالی قرار داد دی۔ بہت سے فوٹو سیشن ہوئے۔ کھلونے دے کے بہلایا گیا ہوں ! سب سے بڑا ایونٹ، کنٹینر تقاریر کی یاد تازہ کر دینے والا پاکستانی اکٹھ تھا، جہاں ویسی ہی جارحانہ تقریر ایک عرصے بعد ہوئی۔ امریکہ کی سر زمین پر خوب اپوزیشن کے لتے لئے۔ گندے کپڑے چوراہے پر دھوئے۔ البتہ امریکی کانگریس ارکان کے بیچ خان صاحب سچی بات مستی میں کہہ گزرے۔ ’ہم امریکہ کے ساتھ باہمی اعتماد اور احترام کی بنیاد پر تعلقات چاہتے ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں 70 ہزار پاکستانیوں نے جان دی۔ اربوں ڈالر کا نقصان ہم نے سہا۔ امریکہ کے لیے لڑی جانے والی جنگ کی بنا پر پاکستان کی سالمیت دائو پر لگ گئی۔ پاکستان نے امریکہ کی جنگ لڑی۔ پاکستان کا نائن الیون سے کوئی واسطہ نہ تھا ۔ افغانستان میں مداخلت کی بناء پر ہم نے اپنے ملک کو بہت نقصان پہنچایا‘۔ سویلین حکمرانوں کو امریکہ اسی لیے تو کنارے پر رکھتا ہے ۔ اصل ملاقاتیں تو پینٹا گون میں ہوئیں۔ آرمی چیف کو زبردست گارڈ آف آنر، 21 گن کی سلامی دی گئی۔ امریکی قبرستان میں ہمارا قومی ترانہ بجایا گیا ۔ یہ بہر حال کوئی اچھا شگون نہیں کہ امریکی فوجی قبرستان میں پاک سر زمین شادباد، کشور حسین شاد باد الاپا جائے۔ جس میں ویت نام ، عراق، افغانستان کے امریکی فوجی یا ان کی راکھ دفن ہے۔ وزیراعظم کو پروٹوکول کے اعتبار سے کمتر دورے کی بنا پر ہمارے اپنے ہی سفیر اور شاہ محمود قریشی نے ایئر پورٹ پر ان کا استقبال کیا۔ میٹرو میں بٹھا کر لے جائے گئے۔ ٹرمپ نے اشک شوئی کو کشمیر پر ثالثی کی بات کر لی جس پر بھارت میں طوفان کھڑا ہو گیا۔ بارڈر پر اپنا غصہ نکال کر 2 پاکستانی شہید کر ڈالے۔ ہم نے تو جانے سے پہلے حافظ سعید گرفتاری کا تحفہ دیا تھا ۔ مگر ( امریکہ کی ) بندگی میں مرا بھلا نہ ہوا، والاالمیہ ہوا۔ بعد ازاں بھارت کو مطمئن رکھنے کو بات بدل دی۔ سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے کہا : کشمیر دو طرفہ معاملہ ہے اگر دونوں ملک ہماری مدد چاہیں گے تو ہم کر دیں گے ۔ !

طالبان کو بہلا پھسلا کر امریکہ کے پیج پر لا بٹھانا ہمارے سپرد ہوا ہے ۔ دورے کی حقیقی کامیابی اسی پر معلق ہے۔ ستمبر 2019 ء تک امریکہ کے ساتھ طالبان بارے پیش رفت پر شاید کولیشن سپورٹ فنڈ کے رکے ہوئے پیسے ( 9 ارب ڈالر) بھی مل جائیں۔ شاید فوجی امداد بھی بحال ہو جائے ۔ اگرچہ یہ رکے پیسے ہم پر احسان نہیں۔ یہ تو افغانستان سے ملحقہ قبائلی علاقہ جات امریکہ کی خاطر خالی کروانے پر اخراجات اٹھے تھے جن کی ادائیگی باقی ہے ! ٹرمپ کی بے صبر بے قراری انتخابات کے لیے ہے ۔ اگلی ٹرم کی صدارت کا اہم نکتہ افغانستان سے با عزت انخلاء ہے جس کے لیے پاکستان کی مدد کی اشد ضرورت ہے ۔ وہ اپنی ضروریات بھی اپنی شرائط پر پوری کراتے ہیں۔ پاکستان پر قادیانیوں کے حوالے سے مسلسل دبائو ہے۔ آسیہ کی طرح، قادیانیت کا اشاعتی کام کر کے سزا پانے والے ( آئین کی خلاف ورزی پر ) نا معلوم سے قادیانی کو ٹرمپ نے شرفِ ملاقات بخش کر ہمیں گھر کا ۔ باوجویکہ پاکستان میں قادیانیوں کو بڑے بڑے عہدوں پر لا بٹھا یا گیا ہے۔ اسی طرح عمران خان کی امریکہ یاترا سے قبل امریکی نائب صدر نے توہین مذہب کے الزام میں گرفتار پروفیسر جنید حفیظ کو رہا کرنے کا مطالبہ کیا یہ فرماتے ہوئے کہ، امریکی عوام ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔ امریکی عوام سارے اسلام دشمنوں کے ساتھ کیوں کھڑے ہیں بھلا ؟ ہماری فدویت کا حال تو یہ ہے کہ ایسے تمام لوگ عبد الشکور، موچی، بھینسے( شاتم رسول ؐ بلا گرز) جیسے دین دشمن پچھلے دروازے سے امریکہ ، یورپ بر آمد کر دیئے جاتے ہیں۔ اس کے باوجود ان کے واویلے ختم نہیں ہوتے۔ سارے انسانی حقوق، قادیانیوں، اسلام دشمنوں کے نام ہو چکے ! اسلام پسندوں پر ، اہل دین پر زمین تنگ کی جا رہی ہے دن بدن۔ لاالہٰ کے نام پر حاصل کردہ خطہ زمین پر گرجا ، مندر بنائے جانے والا المیہ ہے یہ ! پہاڑہ ریاست مدینہ کا پڑھتے ہوئے:

قمر تسبیح پڑھتے جا رہے ہیں سوئے میخانہ

کوئی دیکھے تو یہ سمجھے بڑے اللہ والے ہیں

کمال تو یہ ہے کہ تحریک انصاف امریکہ میں وزیر اعظم کے دورے پر اتنی مسرور ہے کہ پشاور سمیت صوبے بھر میں ، بلکہ ملک بھر میں یوم تشکر منا رہی ہے ۔ شکرانے کے نوافل ادا کر رہی ہے ۔ اگرچہ امریکی خوشی منانے کا مقام تو امریکی سفارتخانہ یا امریکی قونصلیٹ تھی۔ پیش بتاں شکرانہ پیش کیا جاتا۔ اُف لکم ولما تعبدون من دون اللہ، تف ہے تم پر اور تمہارے ان معبودوں پر جنہین تم اللہ کو چھوڑ کر پوجتے اور پکارتے ہو! امریکہ کی تھپکی سے، آئی ایم ایف سے سودی قرضے لیکر خوشیاں منائی جاتی ہیں اور اسے بڑی کامیابی گردانا جاتا ہے ۔ بتوں سے تجھ کو امیدیں خدا سے نو میدی۔ مجھے بتا تو سہی اور کافری کیا ہے! تضاد تو یہ ہے کہ ساتھ یہ بھی کہے جاتے ہیں کہ کسی بھی ملک سے امداد مانگنے سے نفرت ہے۔ ( آخر IMF ملک تو نہیں ہے نا !) اس دورے سے لوگ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی وطن واپسی کی امید لگائے بیٹھے تھے! ٹرمپ سے تو تذکرہ تک نہ ہوا۔ فوکس نیوز سے انٹرویو میں وزیر اعظم نے یہ امکان ظاہر کیا کہ شکیل آفریدی کو عافیہ کے بدلے رہا کیا جا سکتا ہے۔ حالانکہ یہ تو نہایت غیر منصفانہ تبادلہ ہوتا۔ ڈاکٹر عافیہ قوم کی بے گناہ معزز بیٹی جو بچوں سمیت کراچی سے اغواء کر کے کابل پہنچائی گئی۔ جھوٹے ڈرامے پر بچوں سمیت اٹھائی گئی کمزور سی لڑکی پر (ایک بچہ مار دیا) امریکی فوجی پر فائرنگ کا جھوٹا ڈرامہ گھڑ کر عمر بھر کی سزا انصاف کے نام نہاد عالمی علم برداروں نے دی۔ جب کہ شکیل آفریدی قومی مجرم ہے ۔ سرکاری ملازم جس نے جعلی پولیو مہم، امریکہ کے لیے جاسوسی کرنے کو چلائی۔ اسے سزا تک اس کے جرم کے مطابق نہ سنائی گئی۔ تاہم یہ گفتگو بھی فوکس نیوز روم کی ہوا میں اڑ گئی اور بس۔ نہ وائٹ ہائوس ، نہ پینٹا گون۔ کہیں بھی قوم کی بیٹی کی بازیابی پر لب کشائی کا حوصلہ نہ کیا گیا ! باوجود کہ اس وقت امریکہ کو ہماری ضرورت ہے۔ لیکن یہ کبھی بھی تو قومی ترجیح نہ رہی ! پیکر حب الوطنی وزیر اعظم کے لیے بھی ترجیح نہ بنی۔ٹرمپ نے انتخابی خمار میں افغانستان بارے کہہ دیا کہ یہ جنگ ایک ہفتے میں جیت سکتا ہوں لیکن اس میں ایک کروڑ جانیں ( افغان) جائیں گی۔ اور میں یہ نہیں چاہتا۔ ہیرو شیما ناگا ساکی ، دیوانے صدر کو یاد آ رہا ہے ۔ 18 سالوں میں 49 ممالک کی سر براہی میں تم نے کیا کچھ نہ کیا۔ ان پر دنیا کا ہر ہتھیار ، میزائیل، بم آزمائے۔ اب فتح یاب طالبان سے با عزت واپسی کی بھیک مانگی جا رہی ہے! طالبان تو یوں بھی ہر حال کامیاب ہیں۔ فتح یا شہادت ! اسی لیے نا قابل شکست بھی ہیں۔ ٹرمپ کے اس بیان پر امریکہ دوستی کی حقیقت بھی کھل گئی۔ اشرف غنی سے پوچھ دیکھئے، یہ جو ہمیں کامیاب دورے کا خمار چڑھا ہے !اصلاً تو دنیا ساری ہی استحصالی جتھوں کی زد میں ہے۔ فرانس میں نومبر 2018 ء میں مہنگائی اور معاشی پالیسیوں کے خلاف شروع اور منظم ہونے والی پیلی جیکٹ تحریک پر لگا تار 36 ہفتے ہو چکے ہیں۔ ہر ہفتے کے دن مظاہرے ہوتے ہیں۔ پیرس و دیگر شہروں سے نکل کر یہ دیگر یورپی ممالک میں بھی جا پہنچی ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف اٹھنے والی یہ تحریک اگر کچل نہ دی گئی تو عرب بہار کی مانند یورپ بہار ہو کر پھیلنے کو ہے۔ دیکھئے اس بحر کی تہہ سے اچھلتا ہے کیا ! امریکہ میں اسی طرح وال سٹریٹ تحریک اٹھی تھی۔ 99 فیصد عوام کے ایک فیصد کے ہاتھوں استحصال کے خلاف ! ہمارے ہاں عوام کو غلط العام میں مونث لکھا جاتا ہے۔ شاید اس لیے کہ پاکستانی عوام، مرنجاں مرنج، چر کے کھانے میں طاق ہو چکے ہیں۔ سر جھکا ئے ظلم، جبر، مہنگائی، ٹیکسوں کے تھپیڑے کھاتے ہیں۔ مشرقی بی بی کی طرح اف نہیں کہتے۔ تاہم تنگ آمد بجنگ آمد تو ہوا ہی کرتا ہے۔ لارا لپا کب تک سہیں گے۔ کسی دن پیلی جیکٹ نہ پہن لیں۔


ای پیپر