فرموداتِ عالیہ… !
27 جولائی 2019 2019-07-27

سیاسی جماعتوں نہیں مافیہ سے مقابلہ ہے۔ اپوزیشن ملک کو غیر مستحکم کرنے میں مصروف ہے۔ امریکہ سے امداد نہیں تعاون مانگا ہے۔ برابر کی بنیاد پر دوستی چاہتے ہیں۔ کوئی بھی قوم امداد سے نہیں چل سکتی۔ کسی بھی ملک سے امداد مانگنے سے نفرت ہے۔ معاشی طور پر دیوالیہ ہونے کے قریب تھے۔ اس دوران سعودی عرب نے پاکستان کی مدد کی۔ 1960ء میں پاکستان تیزی سے ترقی کر رہا تھا۔ 70ء کے بعد کچھ مسائل آئے اور ہم ترقی برقرار نہ رکھ سکے۔ اس دوران میں نے کرکٹ کھیلی۔ اس کے بعد میں نے شوکت خانم ہسپتال بنایا۔ اس کے بعد میں سیاست میں آیا۔ میرے سیاست میں آنے کی وجہ ملک کو کرپشن سے پاک کرنا تھا۔ کرپشن کی وجہ سے پاکستان آگے نہیں بڑھ رہا تھا۔ سابق حکمرانوں نے ملک کے اربوں روپے لوٹ کر بیرونِ ملک بھیجے۔ منی لانڈرنگ اور آف شور کمپنیوں کے ذریعے پیسے بھیجے گئے۔ حکمران طبقے نے ملک کو بہت زیادہ معاشی نقصان پہنچایا۔ اپوزیشن ملک کو غیر مستحکم کرنے میں مصروف ہے ۔مجھے لگتا ہے میں سیاسی جماعتوں سے نہیں مافیا سے نبرد آزما ہوں۔ ان کا رویہ سیاسی جماعت کی طرح نہیں اس لئے میں انہیں مافیا کہتا ہوں۔ کرمنل مافیا کے خلاف ملک بھر میں آپریشن کر رہے ہیں۔ میں اسے احتساب اور مخالفین اِسے انتقامی کاروائی کہتے ہیں۔ پاکستان کے قرضے 6ہزار اَرب سے بڑھ کر 30ہزار ارب روپے ہوئے ہیں۔ اس پر تحقیقاتی کمیشن قائم کیا ہے۔ کرپٹ مافیا سے حاصل رقم غربت میں کمی کے لئے استعمال کی جائے گی۔یہ چیدہ چیدہ نکات وزیر اعظم جناب عمران خان کی کسی دھرنے کے دوران کنٹینر پر کھڑے ہو کر احتجاجی مظاہرین سے کیے جانے والے خطاب کے نہیں ہے بلکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے وائٹ ہائوس میں خوشگوار ملاقات کے بعد اگلے دِن امریکہ تھنک ٹینک ’’انسٹیٹیوٹ آف پیس‘‘ سے خطاب کے ہیں۔ تھنک ٹینک سے خطاب کے دوران جناب وزیر اعظم نے اَور بھی بہت ساری باتیں کیں۔ اُن کا کہنا تھا کہ جب صدر ٹرمپ نے مجھے ملاقات کی دعوت دی تھی تو میں تھوڑا پریشان تھا۔ امریکہ صدر سے ملاقات خوشگوار تجربہ رہا۔ جس طرح امریکی صدر نے ہماری مہمان نوازی کی وہ قابل تعریف ہے۔ آپ چاہیں نہ چاہیں امریکہ سے اچھے تعلقات رکھنے پڑتے ہیں۔ میرا ہمیشہ سے یہ موقف رہا کہ افغان مسئلہ طاقت کی بجائے مذاکرات سے حل ہو سکتا ہے۔ امریکی عوام کو افغان تاریخ کے بارے میں زیادہ معلوم نہیں تھا۔ افغان مسئلہ کا کوئی آسان حل معلوم نہیں۔ تاہم مل کر پائیدار حل نکال سکتے ہیں۔ امریکی ٹی وی چینل فوکس نیوز کو انٹریو میں عمران خان نے کہا کہ بھارت کے ساتھ تنازعات کے حل کے لئے ایٹمی جنگ کوئی آپشن نہیں۔ بھارت نے جو یہ ہتھیاروں سے دستبردار ہو جائے تو پاکستان بھی ایٹمی ہتھیار ترک کر دے گا۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان تنازعات کی اصل جڑ مسئلہ کشمیر ہے۔ امریکہ واحد ملک ہے جو پاکستان اور بھارت میں ثالثی کا کردار ادا کر سکتا ہے۔ امریکہ سے شکیل آفریدی اور ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے تبادلے پر بات چیت ہو سکتی ہے۔ عمران خان نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ القاعدہ کے سربراہ اُسامہ بن لادن کے خلاف ایبٹ آباد میں امریکی کاروائی پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کی جانب سے دی گئی خفیہ معلومات کی بنیاد پر کی گئی تھی۔ اگر آپ سی آئی اے سے پوچھیں تو آپ کو اندازہ ہوتا ہے کہ آئی ایس آئی نے ابتدا میں اُسامہ کی موجودگی کا ٹیلیفونک لنک امریکہ کو فراہم کیا تھا۔ ہم امریکہ کو اپنا اتحادی سمجھتے تھے اور یہ چاہتے تھے کہ ہم خود اُسامہ بن لادن کو پکڑتے لیکن امریکہ نے ہماری سرزمین میں گھس کر ایک آدمی قتل کر دیا۔

جناب عمران خان کے امریکی تھنک ٹینک سے خطاب اور ٹی وی چینل سے انٹر کے یہ چیدہ چیدہ نکات اپنی جگہ اہم ہی نہیں ہیں بذاتِ خود چشم کشا بھی ہیں کہ اِن کی مزید تشریح اور توضیح کی زیادہ ضرورت نہیں ہو سکتی لیکن پھر بھی الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا اِن خیالات، افکار اور فرموداتِ عالیہ پر تبصروں اور تجزیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ جہاں تک اِس بات کا ذکر ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ نے جناب عمران خان کو کتنی پذیرائی بخشی اور اُن کا اور اُن کے وفد کا کس گرمجوشی سے استقبال کیا اِس بارے میں یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ امریکی صدر کی طرف سے جناب عمران خان اور اُن کے وفد کا گرمجوشی سے استقبال ہوا اَور اُنہیں توقع سے بڑھ کر پذیرائی بخشی گئی۔ اوول آفس میں میڈیا کے نمائندوں سے طویل گفتگو کے دوران صدر ٹرمپ کا اندازِ گفتگو انتہائی شگفتہ، مہذب اور پاکستان کے نقطہ نظر سے حوصلہ افزا رہا۔ بلاشبہ اِسے پاکستان کی کامیابی قرار دیا جا سکتا ہے۔ لیکن اس پر بھی زیادہ اِترانے کی ضرورت نہیں کہ ہمارے سامنے ماضی کی مثالیں موجود ہیں۔ کہ امریکہ کو جب ہماری ضرورت ہوتی ہے تو آنکھیں بچھانے کے لئے تیار ہو جاتا ہے اور جب اُس کا مطلب پورا ہو جاتا ہے تو پھر ’’ڈومور‘‘ کا مطالبہ ہی نہیں کرنے لگتا بلکہ آنکھیں بھی دِکھانے لگتا ہے۔ 9/11کے بعد صدر پرویز مشرف نے جب افغانستان کی جنگ میں امریکہ کا ساتھ دینے اور امریکہ کی جنگ لڑنے کا فیصلہ کیا اَور امریکہ کو زمینی اور فضائی سہولیات، انٹیلی جنس معلومات اور پاکستان کے ہوائی اڈوں کے استعمال کی اِجازت دی اور صدر پرویز مشرف امریکہ کی آنکھوں کا تارہ بن گئے۔ وہ امریکہ کے دورے پر گئے تو امریکی صدر بش نے وائٹ ہائوس میں ہی اُن کا سربراہِ مملکت کے طور پر غیر معمولی استقبال نہیں کیا بلکہ امریکی صدر کے تعطیلات اور تفریح کے لئے مخصوص مقام ’’کیمپ ڈیوڈ‘‘ میں بھی اُن کو لے کر گئے اور وہاں دونوں صدور نے بانہوں میں بانہیں ڈال کر چہل قدمی بھی کی۔ اِسی موقع پر بُش اور مُش کی اصطلاح بھی سامنے آئی۔ لیکن ساتھ امریکہ کی طرف سے ڈو مور کے مطالبے اور کیرٹ اور سٹک کی پالیسی بھی جاری رہی ۔ امریکی صدر کی قومی سلامتی کے مشیر کنڈولیز رائس جس نے بعد میں امریکی وزیر خارجہ ما منصب سنبھالانے اپنے سخت رویے سے پاکستانی حکمرانوں کا ناک میں دم کیے رکھا۔ پھر چند سال بعد جب امریکیوں کا مقصد بڑی حد تک پورا ہو گیا تو اُنہوں نے صدر مشرف سے آنکھیں پھیر لیں اور پھر ساری اُمیدیں پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن محترمہ بے نظیر بھٹو سے وابستہ کر لیں۔ اور صدر مشرف کو این آر او کے ذریعے سیاست دانوں بالخصوص پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم سے وابستہ سیاست دانوں کو رعایتیں دینے پر مجبور کیا۔

بات ذرا لمبی ہو رہی ہے تاہم اس بات کا جائزہ لینا ضروری ہے کہ جناب عمران خان نے کیپٹل ارینا واشنگٹن ڈی سی میں پاکستانیوں کے بہت بڑے مجمعے (ایک اندازے کے مطابق تقریباً 20ہزار) سے خطاب کے دوران اپنے مخالف سیاست دانوں کا جس انداز اَور لب و لہجے میں ذکر کیا ، کیا وہ مناسب تھا؟ وزیر اعظم عمران خان اپنے مخالف سیاست دانوں اور سیاسی جماعتوں کو مافیا قرار دیے ہیں۔ لیکن کیا وہ اس بات کا جواب دینے کے لئے تیار ہیں کہ اُن کے اِرد گرد جمع سیاست دان اَور اُن کے بہت سارے قریبی ساتھی ماضی میں اُن جماعتوں سے وابستہ نہیں رہے ہیں۔ جن کو وہ اب مافیا قرار دیتے ہیں۔ یہاں کس کس کا حوالہ دیا جائے۔ پاکستان مسلم لیگ قائدِ اعظم کے رہنما چوہدری برادران آج عمران خان کے حکومتی اور جگری ساتھی ہیں۔ لیکن ماضی میں وہ کرپٹ سیاست دان تھے۔ شیخ رشید اُن کا چپڑاسی بننے کا بھی اہل نہیں تھا۔ فردوس عاشق اعوان پیپلز پارٹی کے دور میں وفاقی وزیر رہیں۔ ڈاکٹر بابر اعوان وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کی کابینہ میں وزیر قانون رہے۔ چوہدری فواد حسین بھی صدر مشرف کے پُر جوش حامی اور پیپلز پارٹی کے ترجمان رہے ہیں۔ یہ سب تحریک انصاف میں شامل ہو کر عمران خان کے ساتھی بنے ہوئے ہیں تو کیا اب پاک صاف ہو گئے ہیں۔ اگر تحریک انصاف میں شامل ہونے والے دوسرے بہت سارے سیاست دان پاک صاف ہیں تو پھر دوسرے سیاست دانوں اور سیاسی جماعتوں کو مافیا قرار دینا کہاں کا انصاف ہے۔

وزیر اعظم کا یہ کہنا بھی محل نظر ہے کہ ایک سانس میں وہ ارشاد فرماتے ہیں کہ کوئی بھی قوم امداد سے نہیں چل سکتی۔ کسی بھی ملک سے اِمداد مانگنے سے نفرت ہے کہ جب ہم معاشی طور پر دیوالیہ ہونے کے قریب تھے اِس دوران سعودی ارب نے پاکستان کی مدد کی۔ سعودی عرب سے ہی نہیں متحدہ عرب امارات ، چین اور اَب قطر سے مجموعی طور پر کم و بیش 8ارب ڈالر امداد یا قرضہ لیا گیا ہے۔ آئی ایم ایف سے لیا جانے والا 6ارب ڈالر قرضہ اس کے علاوہ۔ سعود ی عرب سے آسان شرائط اور تین سال کی ادائیگی پر خام تیل دینا شروع کیا گیا ہے۔ جس کا پہلا جہاز پاکستان پہنچ گیا ہے ۔کیا یہ سب کچھ امداد کے زمرے میں نہیں آتا ہے۔ جناب عمران خان کو اگر نادیدہ قوتوں کی حمایت اور مدد سے زمامِ حکومت سنبھالنے کا موقع ملا ہے اَور اب بھی انہیں مقتدر حلقوں کی پوری حمایت حاصل ہے تو اُنہیں چاہیے کہ نفرتوں اور انتقام کے بیج بونے کے بجائے تعمیری اور مثبت انداز سے آگے بڑھیں اِسی میں ملک و قوم کی فلاح ہے اور جناب عمران خان کی بھی نیک نامی ہے۔


ای پیپر