جھوٹی گواہی انصاف کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے:چیف جسٹس
27 جولائی 2019 (20:28) 2019-07-27

لاہور:چیف جسٹس آف پاکستان آصف سعید کھوسہ نے کہاہے کہ جھوٹی گواہی انصاف کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے، قتل کے کیس میں اکثر عینی شاہدین جھوٹی گواہی دیتے ہیں ، جھوٹا گواہ انصاف کے سارے عمل کومتاثر کرتا ہے۔، جھوٹی گواہی دینے والوں کوسزا دیکر مثال قائم کرنی چاہئے ۔

خبر پڑھیں:خاموشی کا فن

چیف جسٹس نے کہا آئین کے مطابق سب برابر ہیں ‘ ماڈل ہائی کورٹس سے ہائی کورٹ پر مقدمات کے بوجھ میں نمایا ں کمی ہوئی ہے ‘ انصاف کی جلد فراہمی کیلئے ماڈل کورٹس اہم کردار ادا کررہی ہیں۔

ہفتہ کو لاہور میں جوڈیشل اکیڈمی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس نے کہا کہ جھوٹی گواہی انصاف کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے ،آئین کے مطابق سب برابر ہیں ، ماڈل ہائی کوٹس سے ہائی کورٹ پر مقدمات کے بوجھ میں نمایا ں کمی ہوئی ہے ، انصاف کی جلد فراہمی کیلئے ماڈل کورٹس اہم کردار ادا کررہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جھوٹی گواہی دینے والوں کوسزا دیکر مثال قائم کرنی چاہئے ، صحیح ثبوت کے بغیر انصاف فراہم نہیں کیا جاسکتا ، فوری انصاف کی فراہمی ہر شہری کاحق ہے ، نوجوان وکلا ءکو قانون کی معیاری تربیت فراہم کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قتل کے مقدمات میں اکثر عینی شاہدین جھوٹی گواہی دیتے ہیں ، تفتیشی افسران کو بھی تربیت فراہم کررہے ہیں، انصاف کی فراہمی کیلئے پولیس اصلاحات بھی انتہائی اہم ہیں،پولیس میں اصلاحات کیلئے اقدامات اٹھائے ہیں۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ انصاف کیلئے عوام کے سامنے پولیس کاامیج بہتربنانے کیلئے کمیٹی تشکیل دی، مختلف قوانین اورکیسزسے متعلق جدیدریسرچ سینٹرقائم کیاجائےگا، ریسرچ سینٹرسے جج صاحبان کوفیصلے کرنے میں آسانی ہوگی، ججزکو "وائس ٹائپنگ" کی سہولت بھی فراہم کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ آئین کا آرٹیکل 37خواتین کوتحفظ دیتا ہے،صنفی بنیادوں پر تشدد کی روک تھام عدالت پروگرام کاحصہ ہے۔


ای پیپر