Source : Yahoo

آل پارٹیز کانفرنس میں انتخابی نتائج مسترد،احتجاجی تحریک چلانے پر غور
27 جولائی 2018 (21:52) 2018-07-27

اسلام آباد:متحدہ مجلس عمل اور مسلم لیگ (ن)کی جانب سے مشترکہ طور پر بلائی گئی آل پارٹیز کانفرنس کے شرکا نے انتخابات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے ملک گیر تحریک چلانے کا اعلان کردیاہے اور کہاہے کہ مقدس ایوان میں ڈاکہ ڈالنے والوں کو کسی صورت داخل نہیں ہونے دیا جائے گا،نہ ان کا مینڈیٹ تسلیم کرتے ہیں نہ ان کو حق حکمرانی دیں گے ،دیکھیں گے یہ لوگ کیسے ایوان میں داخل ہوتے ہیں اور کہاہے کہ جمہوریت کے لےے قربانیاں دی ہیں اسے اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھوں یرغمال نہیں بننے دیں گے ۔

جمعہ کے روزمولانا فضل الرحمان نے آل پارٹیزکانفرنس کے اجلاس کے بعد پاکستان مسلم لیگ (ن)کے صدر شہباز شریف ،جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق،راجہ ظفرالحق ،محمود اچکزئی،لیاقت بلوچ،اسفند یارولی، غلام احمد بلور،شاہ اویس نورانی، ساجد میر،آفتاب شیر پا، اکرم درانی، ساجد نقوی و دیگر کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ آل پارٹیز کانفرنس نے پچیس جولائی کو پاکستان میں منعقدہ انتخابات کو مکمل طورپر مسترد کردیاہے ، یہ عوامی مینڈیٹ نہیں ہے یہ ڈاکاہے ،نہ حق حکمرانی دیں گے نہ ان کی اکثریت تسلیم کریں گے ، منتخب ہونے والے ارکان حلف نہیں اٹھائیں گے ۔انہوں نے بتایاکہ نون لیگ نے حلف نہ اٹھانے کے حوالے سے مشاورت کے لےے ایک دن کا وقت مانگ لیا۔

انہوں نے کہاکہ ملک بھر میں دوبارہ انتخابات کے لےے ملک گیر تحریک چلائی جائے گی اس حوالے سے اگلے دو دن میں تین رکنی کمیٹی تشکیل دے کر طریقہ کار پر اتفاق کرلیاجائے گا۔انہوں نے بتایاکہ نتائج پر اعتراض رکھنے والی دیگر پارٹیوں سے بھی ایک دودن میں رابطے کرکے مشترکہ لائحہ عمل تیار کیاجائے گا، ملک میں جمہوریت کی بقا چاہتے ہیں قربانیاں ہیں جمہوریت کو کسی اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھوں یرغمال نہیں بننے دیں گے، جو قوتیں یہ سمجھتی ہیں کہ سب کچھ ہمارے ہاتھ میں ہے ہم ان کو بتانا چاہتے ہیں ان کے ہاتھ میں کچھ نہیں سب کچھ عوام کے ہاتھ میں ہے ، الیکشن کمیشن ناکام ہوگیاہے،آراوزفوجیوں کے یرغمال بنے رہے ہیں ،پولنگ ایجنٹس کو نتیجہ فراہم نہیں کیا گیاہے ،ہم دیکھیں گے یہ ایوان کیسے چلاتے ہیں، مقدس ایوان میں ڈاکے ڈال کر جانے والے لوگوں کو ایوان میں داخل نہیں ہونے دیں گے ۔

تین رکنی کمیٹی قائم کی جائے گی جو بہت جلد پاکستان پیپلزپارٹی سے رابطہ کرے گی ۔قبل ازیںکانفرنس کی صدارت مولانا فضل الرحمن اور مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف نے مشترکہ طورپر کی جبکہ کانفرنس میں مشاہد حسین، اور سابق وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب ،متحدہ مجلس عمل کے صدر مولانا فضل الرحمن، اکرم درانی ودیگر ،مسلم لیگ ن کے انجم عقیل،حاصل بزنجو،مسلم لیگ ن کے راجہ ظفر الحق،مسلم لیگ ن کے خرم دستگیر ،جماعت اسلامی پاکستان کے امیر سراج الحق، وزیر اعلی گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن ،اے این پی کے اسفند یار ولی بھی اور بشیر بلور،وزیر اعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر،علامہ اویس نوارنی، علامہ ساجد نقوی ، ایم کیو ایم کے فاروق ستار،مسلم لیگ ن کے رہنما اور سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق ۔ محمودخان اچکزئی،عبد القادر بلوچ ،مشاہد اللہ خان ،لیاقت بلوچ و دیگرنے شرکت کی۔ کانفرنس میں شرکت کے موقع پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے شہبازشریف کا کہنا تھاکہ اس مستقبل اپنی اپنی سیاست ہوتی رہی اب تمام جماعتوں کومتحد ہونا چاہیے۔

انتخابات میں دھاندلی ہوئی ہے، ،شہباز شریف نے فارم 45 میں ردوبدل کے بارے میں حقائق بیان کیے،آپ سب اس پررائے دیں، پھر کوئی فیصلہ کریں گے۔سراج الحق کا کہنا تھاکہ ہمیں الیکشن سے پہلے متحدہونا چاہیے تھااب بھی وقت ہے کہ متفقہ لائحہ عمل اختیار کیا جائے۔ رہنما ایم کیوایم فاروق ستار نے کہاکہ ہم نے یہ کھڑکی بھی کھلی رکھی ہے جہانگیرترین نے بھی ہم سے رابطہ کیاہے اگر اے پی سی میں متفقہ فیصلہ آیاتو حمایت کریں گے۔ اسفند یار ولی نے کہاکہ ہم کراچی اورپشاوربندکرسکتے ہیں ،پی ٹی آئی کی طرح ہمیں بھی شہربندکرنے ہوں گے۔

اگر کچھ کرنے کا حوصلہ ہے تو کریں ورنہ خاموشی سے بیٹھ جائیں اگر ان کے خلاف احتجاج کرنا تو 100 بسم اللہ اگرایسا کرنا ہے تو سب اپنی چادریں اٹھائیں اور گھروں کو جائیں ہم عمران کی طرح بے شرم نہیں بن سکتے ،قومی اسمبلی میں بیٹھ کرتنخواہیں لیں اورباہراحتجاج کریں۔آفتاب شیرپا کا کہنا تھا کہ جوفیصلہ کرناہے آج ہی کریں،کوئی اسٹیئرنگ کمیٹی نہ بنائیں۔پیپلز پارٹی کا انتظار نہ کیا جائے بلکہ نتائج کو مسترد کرکے تحریک شروع کی جائے۔مصطفی کمال کا کہنا تھاکہ الیکشن سے قبل ہمیں پی ٹی آئی سے اتحاد کا کہا گیاہم نے پنجابی، بلوچی، پٹھان سب کو ٹکٹ دیے۔

ایاز صادق نے کہا کہ میرے حلقے کا ریٹرننگ افسر کرپشن پر نکالا گیا تھا ،ریٹرننگ افسر کیخلاف دو مرتبہ الیکشن کمیشن کو خط لکھے ،الیکشن کمیشن کو کہا کہ مجھے آر او پر اعتماد نہیں،پولنگ بیگز کو دوبارہ سیل کیا جا رہا ہے ،بیگ دوبارہ سیل کرنے کی تصاویر سیکرٹری الیکشن کمیشن کو بھجوا دی ہیں،اگر میرا نتیجہ تبدیل ہوا اس کا مطلب ہے رات کوتھیلوں میں کچھ نہ کچھ ڈالا گیا ہے،دن ڈیڑھ بجے مجھے رزلٹ دیا گیا جس کے مطابق میں کامیاب ہوں،حلف اٹھانے کا فیصلہ سوچ کر کرینگے ،موجودہ صورتحال میں بطور سپیکر آپ کیا کر سکتے ہیں کے سوال پر ایاز صادق کا کہنا تھاکہ سپیکر کے طور پر میں کیا نہیں کر سکتا؟ بطور سپیکر چاہوں تو اجلاس کو غیر معینہ مدت تک ملتوی کر سکتا ہوں۔


ای پیپر