انتخابی نتائج میں تاخیر۔۔۔ فنی خرابی یا دھاندلی؟
27 جولائی 2018 2018-07-27

جمعرات کی رات کو یہ کالم لکھا جا رہا ہے اور ہفتہ کو انشاء اللہ اشاعت پذیر ہو گا۔اُمید ہے کہ اُس وقت تک عام انتخابات 2018 ء کے قومی اسمبلی اور چاروں صوبائی اسمبلیوں کے تمام حلقوں جہاں انتخابات منعقد ہوئے ہیں کے نتائج سامنے آ چکے ہونگے۔ تاہم اس وقت صورتحال یہ ہے کہ ووٹنگ کے عمل کو تقریباً28 گھنٹے گزرنے کے باوجود ابھی تک قومی اسمبلی کی 270 اور چاروں صوبائی اسمبلیوں کی 570 نشستوں کے مکمل نتائج کی بجائے تقریباً 80 فیصد حلقوں کے غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کا ہی اعلان کیا جا سکا ہے۔ اس تاخیر کی وجہ کیا ہے ؟ الیکشن کمیشن کی طرف سے بتایا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن کی طرف سے پہلی بار متعارف کروائے گے رزلٹ مینجمنٹ سسٹم (RTS) کے فیل ہونے کی وجہ سے نتائج کے اعلان میں یہ تاخیر ہوئی ہے ۔ الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ ملک بھر میں قائم تقریباً85ہزار پولنگ سٹیشنوں پر متعین پریذائڈنگ آفیسرز نے اپنے اپنے پولنگ سٹیشن کے انتخابی نتائج (فارم 45 ) رزلٹ مینجمنٹ سسٹم کے تحت الیکشن کمیشن کو بھجوائے تو سرور (Server ) پر غیر معمولی بوجھ پڑا جس کو سنبھال نہ سکھا اور بیٹھ گیا۔ رات کو اڑھائی بجے کے بعد سرور بند ہو گیا تو پریذائڈنگ آفیسر کو ہدایت کی گئی کہ وہ آر ٹی ایس پر رزلٹ بھیجنے کی بجائے ریٹرنگ آفیسرز کے پاس جا کر مینوےئل طور پر جمع کروائیں ۔ آر ٹی ایس سسٹم کے تحت رات اڑھائی بجے تک صرف اکتیس ہزار فارم 45 وصول ہوئے تھے۔ سیکریٹری الیکشن کمیشن بابر یعقوب فتح محمد نے جمعرات شام کو میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ اس وقت الیکشن کمیشن کی طرف سے 82 فیصد انتخابی نتائج کا اعلان کیا جاچکا ہے جبکہ ریٹرننگ آفیسرز اپنے طور پر 90 فیصد انتخابی نتائج کا اعلان کر چکے ہیں۔ سیکریٹری الیکشن کمیشن نے وضاحت کی کہ رات 10 بجے تک 100 فیصد نتائج کا اعلان کر دیا جائے گا ۔ نتائج کی تاخیر کے حوالے سے اُن کا کہنا تھا کہ دنیا بھر میں الیکشن نتائج کے اعلان میں وقت لگتا ہے جبکہ ہم نے ممکن حد تک جلد سے جلد انتخابی نتائج کے اعلان کو یقینی بنانے کی کوشش کی ہے اور اگر کوئی تاخیر ہوئی ہے تو اس میں کسی بدعنوانی، بد نیتی اور انتخابی نتائج کو تبدیل (Temper ) کرنے کا قطعاً کوئی عمل دخل نہیں۔ ہمیں اندازہ نہیں تھا کہ الیکشن کمیشن کی طرف سے پہلی بار متعارف کروایا گیا رزلٹ مینجمنٹ سسٹم (RTS ) پوری فعالیت سے کام کرنا چھوڑ دے گا یہ تاخیر اُسی کی وجہ سے ہوئی ہے۔
انتخابی نتائج کے اعلان میں تاخیر کے بارے میں الیکشن کمیشن کی یہ وضاحت یقینااپنے اندر وزن رکھتی ہے اور بر سرِ زمین حقائق کو دیکھا جائے تو بھی یہ تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ انتخابی نتائج کو ٹیمپر کرنا یا اُن میں من مانی تبدیلیاں کرنا اب آسان نہیں رہا ہے۔ گمانِ غالب یہی ہے کہ ایسا کچھ نہیں ہوا ہے تاہم مسلم لیگ ن کے صدر میاں شہباز شریف، متحدہ مجلس عمل کے سربراہ مولانا فضل الرحمن یا پیپلز پارٹی کے قائدین نے انتخابی نتائج کے اعلان میں تاخیر پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے یا اُنہیں دھاندلی پر مبنی قرار دیا ہے تو ہو سکتا ہے اُن کے پاس اس کے کچھ ٹھوس شواہد ہوں ورنہ ہمارے ہاں روایت یہ رہی ہے کہ ہارنے والی پارٹیاں یا اُمیدوار اکثر انتخابی نتائج پر اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہیں اور انہیں دھاندلی پر مبنی قرار دینے سے گریز نہیں کرتے ہیں۔ 2018 ء کے عام انتخابات کے نتائج کے بارے میں مسلم لیگ ن اور دیگر جماعتوں اور سیاسی رہنماؤں کے تحفظات ، شکوک و شبہات اور خدشات کا اظہار بھی اگر دیکھا جائے تو بڑی حد تک اسی سوچ اور اندازِ فکرو عمل کی عکاسی کرتا ہے تاہم الیکشن کمیشن اور آنے والی حکومت کا یہ فرض بنتا ہے کہ وہ اس ضمن میں ایسے ضروری اقدامات کرے جن سے ان شکوک و شبہات اور تحفظات اور خدشات کا ازالہ ہو سکے۔ اچھا ہوا قومی اسمبلی میں اکثریت حاصل کرنے والی جماعت تحریکِ انصاف کے سربراہ جناب عمران خان نے جو یقیناًوزارتِ عظمیٰ کا منصب سنبھالیں گے اپنے خطاب میں کھل کر کہا ہے کہ اگلے چند دنوں میں دھاندلی کے الزامات عائد کرنے والی سیاسی جماعتوں کی تسلی کے لیے تحقیقات کروانے کے لیے تیار ہیں اور اس مقصد کے لیے کسی بھی انتخابی حلقے کے ووٹوں کے تھیلے کو کھلوانے سے بھی انہیں انکار نہیں ہو گا۔ جناب عمران خان کا یہ بیان اُن کی ماضی کی روایات کے مقابلے میں یقیناًحوصلہ افزا ہے۔ مخالف جماعتوں کو چاہیے کہ وہ دھاندلی یا انتخابی نتائج کو ٹیمپر کرنے کے حوالے سے اپنے تحفظات اور شکوک و شبہات کو دور کرنے کے لیے جناب عمران خان کی اس پیشکش سے ضرور فائدہ اُٹھائیں۔
انتخابی نتائج کے بارے میں بعض حلقوں کے تحفظات اور شکوک وشبہات کے بارے میں کہا جاسکتا ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ان میں کمی آ جائے گی تاہم پولنگ ڈے 25 جولائی کو جس طرح کا ماحول اور صورتحال تھی اس کوسامنے رکھ کر کہا جاسکتا ہے کہ انتخابی نتائج بڑی حد تک اُس کے مطابق سامنے آئے ہیں۔ میں یہاں تھوڑا سا تذکرہ قومی اسمبلی کے حلقے این اے 59 اور صوبائی اسمبلی کے حلقے پی پی 10 اور اُس کے ساتھ اسلام آباد کے قومی اسمبلی کے تین حلقوں اور راولپنڈی کے قومی اسمبلی کے بھی تین ہی حلقوںNA-57 ، NA-58 ، NA-61 ، NA-62 اور NA-63 کے انتخابی نتائج کا تذکرہ کرنا چاہوں گا ۔ میرا گاؤں چونترہ قومی اسمبلی کے حلقہ NA-59 اور صوبائی اسمبلی کے حلقہ PP-10 میں آتا ہے ۔ NA-59 سے یہاں پی ٹی آئی کے سرور خان، مسلم لیگ ن کے قمر الاسلام راجہ اور آزاد اُمیدوار چوہدری نثار علی خان مدِ مقابل تھے جبکہ PP-10 سے چوہدری نثار علی خان کو مسلم لیگ ن کے قمر الا اسلام راجہ کے علاوہ آزاد اُمید نصیر الحسن شاہ اور پیپلز پارٹی کے چوہدری کامران اسلم کا مقابلہ کرنا تھا۔ عام خیال یہی تھا کہ چوہدری نثار علی خان NA-59 اور PP-10 سے آسانی کے ساتھ جیت جائیں گے لیکن پولنگ ڈے سے ایک دو دن قبل صورتحال میں واقعی تبدیلی آ چکی تھی۔ 25 جولائی کو میں اپنے اہل خانہ کے ہمراہ ووٹ ڈالنے کے لیے گاؤں پہنچا اور گورنمنٹ گرلز ہائیر سیکنڈری سکول میں قائم پولنگ سٹیشن کے سامنے سے گزر کر اپنے گھر کی طرف بڑھا تو مجھے باہر کے مناظر دیکھ کر کچھ کچھ خیال گزرنے لگا کہ چوہدری نثار علی خان کی اگر چونترہ جیسے اُن کی حمایت کے بڑے مرکز میں برسرِزمین صورتحال ایسی ہے تو NA-59 اور PP-10 سے آسانی کے ساتھ اُن کی جیت شاید ایں خیال است ، جنوں است و محال است کا روپ دھار چکی ہے ۔ ووٹ ڈالنے کے دوران پولنگ سٹیشن پر مجھے کوئی غیر معمولی سرگرمی نظر نہیں آئی ۔ پولنگ بوتھ جہاں میں نے ووٹ ڈالنا تھا وہاں کوئی خاص رش نہیں تھا ویسے بھی بزرگ شہری ہونے کے ناطے میں ترجیح کا حقدار تھا۔ اسسٹنٹ پریذائڈنگ آفیسر نے میرے شناختی کارڈ کو دیکھا تو انہوں نے کہا کہ آپ پنڈی سے ووٹ ڈالنے کے لیے آئے ہیں ۔ میں نے محکم لہجے میں جواب دیا کہ آپ میرے شناختی کارڈ پر میرا مستقل پتہ نہیں دیکھ رہے ہیں آگے سے اسسٹنٹ پریذائڈنگ آفیسر نے جواب دیا کہ سر میں نے آپ کا مستقل پتہ ہی نہیں دیکھ لیا ہے آپ کو بھی دیکھ لیا اور پہچان لیا ہے میرا تعلق ایف جی سکول ۔۔۔۔۔ راولپنڈی ہے اور فیڈرل بورڈ میں آپ کی نگرانی میں میں نے بطورِ ممتحن (Sub Examiner ) کام کیا ہوا ہے۔ پولنگ بوتھ پر موجود مختلف اُمیدواروں کے پولنگ ایجنٹ اور دوسرا عملہ اس گفتگو کو
دلچسپی سے سُن رہا تھا۔ میں پولنگ سٹیشن سے باہر آیا تو مختلف اُمیدواروں کے الیکشن آفسز کو فرداً فرداً دیکھا۔ پی ٹی آئی کے سرور خان اور آزاد امیدوار چوہدری نثار علی خان کے انتخابی دفاتر میں واقعی رش تھا تاہم اس جائزے میں مجھے ایسے محسوس ہوا کہ اگرچہ بہت سارے لوگ ووٹ دینے کے لیے ڈگمگائے ہوئے ہیں اور وہ چوہدری نثار خان کے الیکشن آفس سے اپنے ووٹ نمبر کی پرچیاں لینے کے بعد اپنے ووٹ سرور خان کے حق میں ڈالنے کی راہ پر گامزن ہو چکے ہیں۔ یہ صورتحال یقیناًکسی حد تک حیران کن تھی اور دن بھر اس کا مظاہرہ کسی نہ کسی صورت میں سامنے آتا رہا اور رات کو جب 10 بجے چونترہ کے پولنگ سٹیشن کے مجموعی انتخابی نتائج کا اعلان کیا گیا تو سرور خان چوہدری نثار علی خان کے حاصل کردہ ووٹوں پر 200 سے زائد ووٹوں کی برتری لیے ہوئے تھے۔ چونترہ کے پولنگ سٹیشن کا یہ انتخابی نتیجہ اگرچہ بہت سارے لوگوں کے لیے اچنبھے کا باعث تھا کہ چوہدری نثار علی خان 1985 ء سے لیکر 2013ء تک منعقد ہونے والے 8 عام انتخابات میں یہاں سے بڑی اکثریت کے ساتھ جیتتے رہے تھے لیکن شاید اب سرور خان کی باری تھی کے وہ چوہدری نثار علی خان کے 600 سے کچھ اوپر ووٹوں کے مقابلے میں 800 سے زائد ووٹ لیے ہوئے تھے۔ یقیناًیہ انتخابی نتیجہ اُس رجحان کو ظاہر کر رہا تھا جو اگلے کچھ گھنٹوں میں تحریکِ انصاف کی کامیابی اور مسلم لیگ کی ناکامی کی صورت میں سامنے آنے والا تھا۔
اسلام آباد کے تینوں حلقوں NA-52 ، NA-53 اور NA-54 سے مسلم لیگ ن کے اُمیدواروں کو شکست کا سامنا کرنا پڑا جبکہ تینوں حلقوں سے تحریکِ انصاف کے اُمیدوار واضح اکثریت لے کر کامیاب ہوئے۔ اس صورت حال میں جہاں تحریکِ انصاف کی مقبولیت کا عمل دخل ہے وہاں مسلم لیگ ن کے اُمیدواروں کی نااہلی اور مسلم لیگ ن کی بحیثیت جماعت پالیسیوں کا بھی یقیناًعمل دخل ہے۔ اس کے بارے میں انشاء اللہ اگلے کسی کالم میں تفصیل سے ذکر ہو گا۔ جہاں تک راولپنڈی کے حلقوں NA-57 ، NA-58 ، NA-61 اور NA-62 اور NA-63 کا تعلق ہے یہاں NA-58 سے پیپلز پارٹی کے کامیاب اُمیدوار راجہ پرویز اشرف کو چھوڑ کر باقی حلقوں پر تحریکِ انصاف کے صداقت علی عباسی اور سرور خان اور عوامی مسلم لیگ کے شیخ رشید احمد مسلم لیگی اُمیدواروں کو شکست دینے میں کامیاب رہے ہیں۔ ان کی کامیابی بھی اُسی رجحان (Trend ) کی عکاسی کرتی ہے جس کا مظاہرہ 25 جولائی کی رات کو میں نے اپنے آبائی گاؤں چونترہ کے پولنگ سٹیشن پر دیکھا۔ راولپنڈی سے مسلم لیگ ن کے اُمیدواروں سابق وزیرِ اعظم شاہد خاقان عباسی، راجہ جاوید اخلاص، ملک ابرار احمد اور بیرسٹر دانیال عزیز اور اس کے ساتھ آزاد اُمیدوار چوہدری نثار علی خان کی ناکامی کے اسباب و علل کا تجزیہ بہت ضروری ہے انشاء اللہ اگلے کالم میں اس کا جائزہ لیا جائیگا۔


ای پیپر