عمران : ہمارے لہجے میں یہ توازن بڑی صعوبت کے بعد آیا
27 جولائی 2018 2018-07-27

جب تاریخ بن رہی ہوتی ہے تو سبھی واقعات خاموشی سے آگے بڑھ رہے ہوتے ہیں۔ ان کے ساتھ فلموں والا کوئی بیک گراؤنڈ میوزک نہیں ہوتا بلکہ بعض اوقات تاریخ کے ان قمیتی لمحوں کے عینی شاہدین کو احساس تک نہیں ہوتا کے کاتب تقدیر نے ان کی آنکھوں کے سامنے جو صفحہ اور جو باب رقم کیا ہے اس کی اہمیت کیا ہے۔ذوالفقار علی بھٹو جب پاکستان کے افق پر نمودار ہوا اور دیکھتے ہی دیکھتے قومی سیاست کے ایک لازمی عنصر کی شکل اختیار کرتا چلا گیا تو اس وقت بھی معاصرین کو اس کے قد کاٹھ کا درست ادراک نہیں تھا کہ ان کے سامنے کتنا بڑا لیڈر موجود ہے اس کا احساس انہیں تب ہوا جب وہ منظر سے Eliminate ہو گیا۔پاکستان ایک بار پھر تاریخ کے ایک اہم موڑ پر کھڑا ہے جہاں اس کہانی کا سب سے اہم کردار عمران خان ہے۔ جس نے سیاست کے خارزار کے بڑے گرم و سرد یکھے ہیں۔ 22 سال کی طویل جدوجہد کے بعد اقتدار کی غلام گردشیں اس کی منتظر ہیں ملک کا سب سے بڑا شیش محل وزیر اعظم ہاؤس اس کی راہ تک رہا ہے مگر وہ کہتا ہے کہ جس ملک میں بھوک غربت نے رقص ابلیس برپا کر رکھا ہے وہاں اسے اتنے بڑے محل میں رہتے ہوئے شرم آتی ہے۔ ملی غیرت کا اس سے بڑا مظاہرہ دوبارہ ریکھنے کے لیے عمرِ خضر درکار ہے۔

ملک کے چپے چپے میں سیاسی مخالفین کے ساتھ لڑنے والا عمران خان انتخابات کے نتائج کے بعد بہت بدلا بدلا لگتا ہے ۔ شعلہ بیانی کی جگہ مستقل مزاجی آ گئی ہے۔ اس کی پہلی تقریر نے اس کے حامیوں اور مخالفین ہر ایک کو دنگ کر دیا ہے۔ یہ وہ تقریر ہے جس میں کسی موقع پر بھی اس کے لب و رخسار پر رسمی مسکراہٹ کا دور دور تک نام و نشان نہیں تھا اور نہ ہی کوئی فاتحانہ شعبدہ بازی کے آثار تھے۔ وہ شروع ہی سے formalities پر یقین نہیں رکھتا یہ وہ تقریر تھی جس میں اس نے شیروانی تو دور کی بات ہے واسکٹ پہننے کی بھی زحمت نہیں کی اور سب سے اہم بات یہ تھی کہ سارا خطاب فی البدیہہ تھا۔ ایسے لگتا تھا کہ اُسے پورا پورا ادراک تھا کہ اس نے کیا کہنا ہے اور کیسے کہنا ہے لہٰذا اس نے کسی speech writer کا سہارا نہیں لیا۔ اس نے واضح کر دیا کہ پاکستان کی تعمیر نو کا مشن اس کی ذات سے بہت بڑا ہے۔ اس نے یہ بھی کہا کہ جتنی کردار کشی گزشتہ تین سال میں اس کی کی گئی ہے شاید ہی کسی اور کی ہوئی ہو گی مگر میں اس کو بھول چکا ہوں اور اُسے پیچھے چھوڑتا ہوں۔

عمران خان کی اس تقریر کو اس کی پارٹی کا چارٹر قرار دیا جا سکتا ہے جس میں اس نے نہایت مختصر جامع اور مؤثر انداز میں یہ بتا دیا ہے کہ وہ پاکستان کے لیے کیا کرنا چاہتا ہے۔ سب سے پہلے تو اس نے یہ کہا ہے کہ کسی کے خلاف کوئی انتقامی کارروائی نہیں کی جائے گی لیکن اس کے ساتھ ساتھ اس نے رول آف لاء کی بات کی اور کہا کہ میری اپنی پارٹی کا بھی اگر کوئی بندہ غلط کام کرے گا تو اس سے باز پرس کی جائے گی۔ اپنی تقریر کے دوران ایک موقع پر ان کا کہنا تھا کہ چائنہ کی

ترقی کی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے اپنے ملک سے کرپشن کا خاتمہ کیا جس کے بعد ان کا ملک ترقی کرتا چلا گیا۔ اس نے پاکستان کے ان اڑھائی کروڑ بچوں کا ذکر کیا جو سکول جانے کی عمر میں ہیں مگرسکولوں سے باہر ہیں یہ ایک تشویشناک صورت حال ہے کیونکہ آنے والی نسل کی اتنی بڑی تعداد جہالت میں پروان چڑھے گی تو انجام کیا ہو گا۔

عمران خان نے دو سرکاری اداروں کا بطور خاص ذکر کیا ہے جن کی اصلاح کیے بغیر ترقی کی جانب ایک قدم بھی نہیں چل سکتے ایک تو انہوں نے قومی احتساب بیورو (NAB) کو فعال بنانے کاعزم کیا تا کہ لوٹ کھسوٹ کا خاتمہ کیا جا سکے اور دوسرا فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) کے بارے میں کہنا کہ اس کی مکمل Restructuring کی جائے گی ان کا کہنا تھا کہ جو قوم دنیا میں خیرات دینے میں صف اول میں ہو آخر کیوں وہی قوم ٹیکس دینے سے کیسے اجتناب کر سکتی ہے۔ ٹیکس نظام میں اصلاحات ان کے ایجنڈے کا حصہ ہیں اور وہ اپنی انتخابی تقریروں میں کہہ چکے ہیں کہ وہ ٹیکس وصولی کو 4000 ارب سے بڑھا کر 8000 ارب روپے کر کے دکھائیں گے۔

ان کی تقریر کا ایک اہم نقطہ یہ تھا کہ مخالفین انتخابات میں دھاندلی کا الزام لگا رہے ہیں حالانکہ یہ انتخابات تاریخ کے شفاف ترین انتخابات تھے پھر بھی انہیں جس حلقے پر اعتراض ہے ہم اس حلقے کا ریکارڈ کھلوا کر شفافیت ثابت کریں گے یاد رہے کہ حلقے کھولنے کا یہ وہی مطالبہ ہے جس کے لیے عمران خان کی پارٹی کو تین سال تک عدالتوں میں قانون جنگ کرنا پڑی تھی۔ عمران خان کی تقریر میں ایک اہم بات کا ذکر نہیں تھا کہ ملک پر قرضوں کے بڑھتے ہوئے بوجھ کو کیسے کم کیا جائے گا کیونکہ اس وقت صورت حال یہ ہے کہ نئی حکومت قرضہ لیے بغیر ایک مہینہ بھی نہیں چل سکتی۔ اصل میں اگر وہ قرضوں کا ذکر چھیڑ دیتے تو بات اس 32 ارب ڈالر تک پہنچ جانی تھی جو گزشتہ حکومت 5 سالوں میں لیا ہے جو تاریخ میں سب سے زیادہ ہے۔ اس وقت ملک پر قرضوں کا بوجھ 93 بلین ڈالر عبور کر چکا ہے۔

انہوں نے سادگی اپنانے کی بات کی ہے وزیراعظم ہاؤس اور چاروں گورنر ہاؤسز کو بہتر مقابلہ کے استعمال کی بات کی ہے اخراجات کم کرنے کا اشارہ کیا ہے لیکن معیشت کو ایک نئی ڈگر پر ڈالنے یا ملک میں پانی کے بحران پر ڈیموں کی تعمیر پر بات کرنے سے اجتناب کیا ہے جس کی وجہ یہ ہے کہ یہ مکمل ایجنڈا وہ اپنے معاشی ماہرین سے مشاورت کے بعد کرنا چاہتے ہیں۔

پاکستان کے بیرونی دنیا کے ساتھ تعلقات کے بارے میں عمران خان کی لائن بڑی کلیئر تھی انہوں نے افغانستان کے ساتھ open booder کی بات کی ہے اور ساتھ یہ بھی کہا کہ افغانستان میں چونکہ امریکہ بھی مقیم ہے لہٰذا ان کے ساتھ ہم ایسے تعلقات چاہتے ہیں جو دونوں ممالک کے لیے Mutually Beneficial ہوں گویا عمران خان نے پاک امریکہ تعلقات کے مستقبل کا ایک نقشہ کھینچ دیا ہے کہ ایسے تعلقات جو دونوں ممالک کے لیے فائدہ مند ہوں۔ اس کے علاوہ انہوں نے مڈل ایسٹ میں پاکستان کی پوزیشن واضح کرتے ہوئے پہلے ایران سے بات شروع کی اور پھر سعودی عرب کا ذکر کیا اور کہا کہ پاکستان کو ان کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کرنا ہو گا۔ یا درہے کہ ماضی میں پاکستان کے سعودی عرب کی طرف جھکاؤ کی بناء پر ایران نے پاکستان کو ثالث ماننے سے انکار کر دیا تھا۔

انڈیا کے بارے میں عمران خان نے کہا کہ وہ مجھے بالی وڈ کا ولن سمجھتے ہیں کیونکہ حالیہ الیکشن کے دوران انڈین میڈیا اس بات پر زور دیتا رہا ہے کہ اگر عمران خان کی پارٹی جیت گئی تو انڈیا کے لیے مشکلات میں اضافہ ہو گا۔ انہوں نے کہا انڈیا میں میرے بہت دوست ہیں۔ یاد رہے کہ عمران خان کرکٹ کی وجہ سے انڈیا میں بھی یکساں مقبول اور لاکھوں دلوں کی دھڑکن رہ چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر انڈیا ہمارے ساتھ ایک قدم آگے بڑھے گا تو ہم دو قدم آگے جائیں گے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے کشمیر کا ذکر کیا اور کشمیریوں کے انسانی حقوق کے تحفظ کی ضرورت پر زور دیا گویا انڈیا کو پیغام دے دیا گیا ہے کہ ان کے ساتھ تعلقات کشمیر کا مسئلہ حل کیے بغیر ممکن نہیں ہیں۔

عمران خان نے اپنی تقریر میں چائنا کا ذکر کرپشن کے خاتمے کی مثال کی حد تک کیا ہے نہ تو CEPC کا ذکر ہوا اور نہ ہی پاکستان کی سفارتی ترجیحات میں چائنہ کا ذکر کیا گیا۔ شاید عمران خان کی نئی حکومت امریکہ کو زیادہ ترجیح دینا چاہتی ہے لیکن چائنہ کو نظر انداز کرنا فی الحال ممکن نہیں ہے اور نہ ہی مناسب ہے۔

سیاسی مبصرین کی طرف سے ان کی تقریر پر تبصرے جاری ہیں اس تقریر میں reconciliation اور تعمیر نو کی بات کی گئی ہے قوم کو امید کی کرن دکھائی گئی ہے اور چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کا عزم کیا گیا ہے۔ لیکن یہ تو محض ایک نقطۂ آغاز ہے یہ قوم اس طرح کے وعدے وعید ایک عرصہ سے سنتی آ رہی ہے۔ جب تک عملی طور پر انقلابی اقدامات نہیں اٹھائے جائیں گے۔ عوام کو زیادہ دیر تک خوش رکھنا ممکن نہ ہو گا۔ لیکن قوم میں اتنا شعور ہے کہ وہ آپ کی نیک نیتی اور اخلاص کو دیکھے گی جس قومی سادگی مہم کا اعلان کیا گیا ہے۔ اس کا تقاضا ہے کہ ارکان اسمبلی کی تنخواہوں اور اندھا دھند مراعات اور بیران ملک دوروں ان سب میں کمی کی جائے۔ نیب اور FBR کے علاوہ دیگر تمام وزارتوں میں بھی اصلاحات لائی جائیں بدعنوانی ختم کی جائے۔ بڑی بڑی بلٹ پروف گاڑیاں اور 40/40 گاڑیوں کا پروٹوکول ختم کیا جائے اور ایک منصفانہ معاشرے کے قیام کی تشکیل کا وعدہ پورا کیا جائے جس نظام کی تبدیلی کے لیے وہ گزشتہ 22 سال جدوجہد کرتے رہے ہیں اب اس کی تکمیل کا وقت آ گیا ہے۔ عمران خان کو یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ وہ سیاست میں کیوں آئے ہیں وہ بارہا یہ کہہ چکے ہیں کہ انہیں اللہ نے سب کچھ پہلے ہی ضرورت سے زیادہ دے دیا ہے۔ اگر وہ تاریخ میں نام لکھوا نا چاہتے ہیں تو اس کے لیے یہ بہترین موقع ہے بلکہ اس سے اچھا موقع شاید کسی کے لیے بھی ممکن نہ ہو۔ اب نہیں تو کبھی نہیں۔


ای پیپر