کانگریس یا بی جے پی:اصل میں دونوں ایک ہیں
27 جولائی 2018 2018-07-27

بھارت کی دوسری بڑی جماعت، کانگریس کے رہنما راہول گاندھی نے 20اگست 2007ء بھارت کے ایک ایسے علاقے میں جسے راشٹریہ سیوک سنگھی پریوار کے سیاستدان ’’منی پاکستان‘‘ کہتے ہیں، ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے جو کچھ کہا وہ اس امر کا آئینہ دار تھا کہ کانگریس اور اس کی قیادت تقریباً چھ عشرے گزر جانے کے باوجود آج بھی پاکستان کے وجود کو دل سے تسلیم نہیں کرتی۔ اندرا گاندھی کے پوتے راہول گاندھی نے بھارت کے ’’منی پاکستان‘‘ اترپردیش میں، جس کے بارے2007ء میں بھارت کی ایک فاضل عدالت اپنے فیصلے میں واشگاف الفاظ میں قرار دے چکی ہے کہ’ یہ مسلم اکثریتی صوبہ ہے‘۔ یاد رہے کہ اترپردیش کو عرف عام میں یوپی کہا جاتا ہے۔ ایک جائزے کے مطابق یوپی میں مسلم آبادی بہرطور4کروڑ سے کہیں زائد ہے۔ اکثریتی مسلم آبادی کے صوبے اترپردیش کے ایک تاریخی شہر بریلی میں ایک اجتماع عام سے خطاب کرتے ہوئے طویل عرصہ بھارت پر حکمرانی کرنے والے خاندان کے وارث راجیو گاندھی کے بیٹے راہول گاندھی نے کہا تھاکہ’’ پاکستان کو توڑ نا ان کے خاندان کا اہم کار نامہ ہے، ان کا خاندان جس ہدف کا تعین کرتا ہے اسے حاصل بھی کر لیتا ہے، ان کے خاندان سے تعلق رکھنے والی شخصیات نے جن مقاصد کا تعین کیا ان کے حصول میں کامیابی بھی حاصل کی، ان کی کامیابیوں میں 1947ء میں بھارت کی آزادی اور 1971ء میں پاکستان کو دو ٹکڑے کرنا بھی شامل ہے۔ گاندھی خاندان نے پاکستان کو توڑنے سمیت کئی کامیابیاں حاصل کیں۔ نہرو خاندان کے چشم و چراغ راہول ابھی سیاسی طور پر نابالغ ہیں۔ انہیں بالی عمریا میں اس قسم کی عصبیت اور اشتعال سے پر گفتگو سے احتراز برتنا چاہئے۔ اندرا گاندھی کے پوتے کو اس امر کی خبر ہونا چاہئے کہ بیسویں صدی کے آٹھویں عشرے کے آغاز میں قیام بنگلہ دیش کے نام پر پاکستان کے دو ٹکڑے کرکے انہوں نے اس خطے میں یونائیٹڈ انڈیا کے سینے میں جو کہ کانگریس کا پرانا سپنا ہے ایک نئی مسلم ریاست کا خنجر گھونپا ہے۔ کیا ان سے پوچھا جا سکتا ہے کہ 16دسمبر 1971 کے بعد کیا اس خطے میں 2 نئی مسلم ریاستیں قائم نہیں ہو گئیں۔ کھندکر مشتاق احمد کے عہد صدارت میں اس کا نام اسلامی جمہوریہ بنگلہ دیش رکھا تھا۔مشرقی پاکستان کو بنگلہ دیش کا روپ دیتے وقت اندرا گاندھی کے فرشتوں کو بھی اس امر کی خبر نہ تھی کہ ان کی حکومت اور افواج اکھنڈ بھارت کو2 مسلم ریاستوں کے حصار میں دے چکے ہیں۔ بنگلہ دیش کا بین الاقوامی تشخص ایک مسلم ریاست کا نشخص ہے ۔ ہاں، اگر بنگلہ دیش ایک سیکولر ہندونواز اور بھارت نواز ملک کے طور پر اپنا تشخص قائم کرتا تو اندرا کا یہ دعویٰ قدرے درست ثابت ہوتا کہ وہ دو قومی نظریہ کو سمندربرد کرنے میں کامیاب ہو چکی ہیں۔ پاکستان کے ٹکڑے کرنے کی بات کرنے والے بھارت کے نومولود کانگریسی رہنما کو یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ بھارت کے بھی آنے والے دنوں میں مزید ٹکڑے ہونے والے ہیں۔ جھاڑکھنڈ، تامل ناڈو، ناگالینڈ، میزو رام ،منی پورہ ،آسام ، خالصتان اور کشمیر میں تو آزادی کی تحریکیں اس حد تک توانا اور قوی ہو چکی ہیں کہ وہ مقبوضہ علاقوں سے بھارتی افواج کے انخلاء کیلئے فدائی حملوں کے ہتھیار کو آج بھی استعمال کر رہی ہیں۔

یہ امر واضح رہے کہ بھارت میں نہرو خاندان کو بنیادپرست اور انتہاپسند ہندو سیاسی رہنماؤں کی جماعتوں اور خانوادوں کی نسبت قدرے ماڈریٹ اور لبرل تصور کیا جاتا ہے لیکن 1971 میں اندرا گاندھی نے جب دو قومی نظریہ کو سمندربرد کرنے کی بڑھک لگائی تھی، اس نے یہ ثابت کیا تھا کہ اب نہرو خاندان کے ہر فرد کے وجود میں راشٹریہ سیوک سنگھی تصورات، تعصبات اور نظریات کی روح حلول کر چکی ہے۔ راجیو گاندھی کی بیوہ سونیا گاندھی بھی مسلم بیزاری اور پاکستان دشمنی میں بھارتیہ جنتا پارٹی اور شیو سینا کے رہنماؤں سے ہمیشہ دو قدم آگے ر ہیں۔

بھارت میں حکومت کانگریس کی ہو یا بھارتیہ جنتا پارٹی کے سیاستدانوں کی ، ہر دو کے دور میں جامع مذاکرات کی راگنی ضرور الاپی جاتی ہے ۔ یہ محض ’’آئی واش‘‘ اور جھانسا ہوتا ہے۔ دونوں جاعتوں کے ببھارتی نیتا اس ہم رنگ زمیں جال کو پھیلا کر عالمی برادری کو یہ تاثر دینا چاہتے ہیں کہ بھارتی حکمران پارٹی خطے میں امن، شانتی اور اہنسا کی فضا کو بحال کرکے کشیدگی اور تناؤ کے ماحول کو ختم کرنا چاہتی ہے۔ آج مودی کے دور میں بھی ایک طرف امن کی باتیں کی جا رہی ہیں اور دوسری طرف ان کے عہد حکومت میں بھارت کا شمار دنیا کے ان دو بڑے ممالک میں ہوتا ہے جو جوہری اور غیرروایتی اسلحہ کے سب سے بڑے خریدار ہیں۔ ایسے میں قیام امن کی باتیں بغل میں چھری منہ میں رام رام کے مصداق ہیں۔ بھارتی حکمران اور ان کے زیرتربیت مستقبل کے سیاسی لیڈر پاکستان دشمنی کے پرچم لہرا کر بنیادپرست اور انتہاپسند ہندو ووٹ بینک کی ہمدردیاں حاصل کرنا چاہتے ہیں۔

یہ ایک کڑوا سچ ہے کہ بھارت نے ہر دور میں پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی کوششیں اور سازشیں جاری رکھی ہیں ۔س کی ہمیشہ سے خواہش رہی ہے کہ پاکستان میں لسانیت ، ذیلی قومیت، فرقہ واریت، مسلکی انتہا پسندی، تخریب کاری ، دہشت گردی کو فروغ دیا جائے ۔ عوامی حلقے امید رکھتے ہیں کہ پاکستان تحریک انصاف کے عہد حکومت میں بھارت کو واشگاف الفاظ میں بتادیا جائے کہ موجودہ پاکستان 1971 کا پاکستان نہیں ،یہ2018ء کا پاکستان ہے، پاکستان دفاعی صلاحیت کے لحاظ سے اتنا مستحکم ہے کہ وہ اپنے ہر دشمن کے دانت کھٹے کر سکتا ہے۔ یہ ایک زندہ زمینی حقیت ہے کہ 1971ء کی صورت حال اور آج کی صورت حال میں زمین اور آسمان کا فرق ہے اور اب کسی کو اس بارے میں غلط فہمی نہیں ہونی چاہئے۔ تاریخ کے اوراق پر نگاہ رکھنے والے شہری جانتے ہیں کہ 1971ء میں کیا ہوا؟ انہیں اس امر کی خبر ہے کہ اس دور میں بھارت نے پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت کی اور تب سے اس کی کوشش رہی ہے کہ پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہ جانے دیا جائے۔2007 ء میں راہول اور2015ء میں ڈھاکہ یونیورسٹی میں نریندرا مودی کے اعترافات اس امر کے ناقابل تردید شواہد ہیں۔ اب جب کہ 2019ء میں بھرت میں عام انتخابات ہونے جارہے ہیں ،بھارتی مسلم شہریوں اور پاکستانی حکمرانوں کو یہ بات اپنے ذہنوں میں بٹھالینا چاہیے کہ آل انڈیا نیشنل کانگریس ہو یا بھارتیہ جنتا پارٹی مسلم بیزاری اور پاکستان دشمنی میں ایک ہی ایجنڈا رکھتی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اصل میں دونوں ایک ہیں۔


ای پیپر