ہسپتال چلانے اور حکومت چلانے میں فرق ہے!
27 جولائی 2018 2018-07-27

پاکستانی تاریخ اور سیاست کے کسی بھی طالب علم کے ذہن میں کوئی شک نہیں ہے کہ خلائی مخلوق جس وزیر اعظم کو جب چاہے ہٹا سکتی ہے اور جسے چاہے وزیر اعظم بنا سکتی ہے اگر کسی کو کوئی شک تھا تو وہ 25جولائی 2018 کے الیکشن کے نتائج کے بعد دور جانا چاہئے۔ سیاسی تجزیہ کرنے والے اور تاریخ کے طالب علم 25جولائی کے نتائج کا تجزیہ پیش بھی کر رہے ہیں اور کرتے رہیں گے۔بعض سینیر پروفیسرز نے تو اس میں خاص ملکہ حاصل کر لیا ہے اور انہوں نے پاکستان میں ہر ہونے والے الیکشنوں پر کتاب لکھی ہے ۔اسی طرح وقت کے ساتھ ساتھ جہاں بین القوامی سطح پر کسی بھی ملک میں ہونے والے الیکشنوں پر نظر رکھی جاتی ہے اور ان کا جائزہ لینے کے لئے باہر سے ٹیمیں آتی ہیں اسی طرح ملک کے اندر بھی غیر سرکاری تنظیمیں الیکشن کا جائزہ لیتی ہیں۔ایک زمانے میں یہ کام پاکستان کمیشن برائے انسانی حقوق بھی کرتا تھا مگر آجکل FAFENنامی تنظیم یہ کام وسیع پیمانے پر کر رہی ہے اس کے علا وہ PILDATنے بھی بڑا نام کمایا ہے ۔
25جولائی 2018کے عام انتخابات کو سمجھنے کے لئے میرے نزدیک ہمیں پاکستانی تاریخ میں ہونے والے الیکشنوں پر ایک نظر ڈالنی چاہئے۔یہ بات بھی ذہن میں رکھنے کی ضرورت ہے کہ برصغیر میں آزادی سے پہلے جتنے بھی الیکشن ہوئے وہ محدود رائے دہی کے تحت ہوئے یعنی ہر شہری کو ووٹ دینے کا حق نہیں تھا۔قیام پاکستان سے پہلے 1946میں بھی اسی اصول کے تحت الیکشن ہوئے تھے۔
پاکستان بننے کے بعد غالباً 1951 سب سے پہلے پنجاب میں پنجاب اسمبلی کے لئے عام انتخابات ہوئے ۔جس میں حکومت وقت نے خوب دھاندلی کی اور جھرلو کی ٹرم ایجاد ہوئی۔مشرقی پاکستان میں جگتو فرنٹ نے مسلم لیگ کو شکست فاش دی اور بڑے بڑے برج الٹ دئیے۔آخر کار اس حکومت کو ڈسمس کرنا پڑا۔ یہ بات بھی ہم سب کو معلوم ہے کہ پاکستان میں جلد ہی نوکر شاہی مسلم لیگ پر حاوی ہو گئی اور سارے اہم فیصلے انہوں نے ہی کرنے شروع کر دئیے ۔نوکر شاہی کے غلام محمد(گورنر جنرل)‘ سکندر مرزا (گورنر جنرل) اور چوہدری محمد علی وزیر اعظم بن گئے ۔محمد علی بوگرا کی کابینہ میں فوج کے کمانڈر ان چیف جنرل محمد ایوب خان کیبنٹ کے ممبر بن گئے اور کہتے ہیں کہ سکندر مرزا کو گورنر جنرل بنانے میں ان کا کاسٹنگ تھا۔ میں نوکر شاہی اور سیاست دانوں کی کشمش کی تفصیل میں نہیں جانا چاہتا صرف یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ خلائی مخلوق سیاست دانوں کی بالا دستی کبھی بھی برداشت نہیں کرتی حتیٰ کہ گورنر جنرل غلام محمد نے خواجہ ناظم الدین کی حکومت کو بر طرف کر دیا۔ میں پاکستان کے پہلے وزیر اعظم نوابزادہ لیاقت علی خان کے قتل کے بارے میں کچھ نہیں کہتا کیونکہ ابھی تک اس کی تفتیش ہو رہی ہے ۔ جیسے تیسے پھر 1956کا آئین بن گیا اور طے ہوا کہ عام انتخابات 1959میں ہوں گے( مجھے آج تک یہ بات سمجھ نہیں آتی کہ انتخابات 1956/57میں کیوں نہیں ہو سکتے تھے)۔
پھر پاکستان کی تاریخ کا سیاہ باب شروع ہوتا ہے یعنی ملک میں 1958میں فوج نے فیروز خان نون کی حکومت کو برطرف کرکے اقتدار پر قبضہ کر لیا۔صدارتی نظام قائم کردیا۔صدر اور اسمبلیوں کے الیکشن کے لئے الیکڑول کالج بنا دیا۔ایوب خان نے پہلے ریفرنڈم کر وایا اور پھر جنوری 1965کو محترمہ فاطمہ جناح کے خلاف صدارتی الیکشن دھاندلی سے جیتا۔فیلڈ مارشل محمد ایوب خان کا تختہ فوج کے سربراہ جنرل یحیےٰ خان نے الٹ کر 1970کے الیکشن کروائے مگر خلائی مخلوق نے عوامی مینڈیٹ ماننے سے انکار کردیا اور مشرقی پاکستان پر فوج کشی کردی اور پاکستان دو لخت ہو گیا میں اس الیکشن کا ذکر نہیں کر رہا جس میں مشرقی پاکستان میں خلائی مخلوق نے بسکٹ بانٹے تھے۔پھر 1977میں بھٹو نے الیکشن کروائے جس پر دھاندلی کا الزام لگا اور جب پاکستان قومی اتحاد اور پیپلز پارٹی میں معاہدہ ہونے لگا تھا تو جنرل محمد ضیا الحق نے مارشل لا لگا دیا۔(جب سے میں نے عمران خان کی طرف سے کرپشن کا نعرہ سنا ہے میں یہ سمجھنا چاہتا ہوں کہ 1977کے الیکشن میں پی این اے نے ایک منشور دیا تھا وہ ایجٹیشن میں ’نظام مصطفےٰ ‘ کے نعرہ میں کیسے تبدیل ہوا)۔کیا یہ خدائی مخلوق کا کام تھا؟
جنرل ضیا الحق نے پہلے فوج کے ذریعہ پہلے سیاست دانوں کا احستاب کیا اور بہت ساروں کو نااہل قرار دے دیا۔پھر مجلس شواریٰ بنائی اور بعد میں 1985میں غیر جماعتی انتخابات کروائے اور محمد خان جونیجو کو وزیر اعظم بنایا۔مگر اس سے نباہ نہیں ہو سکا کیونکہ وہ کہتا تھا کہ ’ میں جرنیلوں کو سوزوکیوں پر بٹھاوں گا‘۔اسے خدائی مخلوق نے برطرف کر دیا اور پھر ہوائی حادثہ میں جنرل ضیا الحق مارا گیا۔خدائی مخلوق نے آ ئی جے آ ئی بنوائی۔نواز شریف کو پروموٹ کیا مگر نوکر شاہی کے سردار صدر غلام اسحاق کی اس سے نہ بن سکی۔ 1988سے لیکر 1999تک خدائی مخلوق نواز شریف اور بے نظیر کو لڑواتی رہی پھر ایک اور مارشل لا جنرل مشرف نے لگا دیا اور نواز شریف کو قید کرلیا۔سپریم کورٹ نے بھی اسے آئین میں ترمیم کا حق دے دیا۔یہ بات سب کو معلوم ہے کہ ریفرنڈم کیسے اور کیسا ہوا پھر خدائی مخلوق نے آج کی طرح 2002کے الیکشن کروائے۔چوہدری افتخار کی برطرفی کے خلاف وکلا نے تحریک چلائی جس کے نتیجہ میں جنرل مشرف کو وردی اتارنی ٖپڑی اور آخر کار صدارت سے استعفیٰ دینا پڑا۔ 2008کے نتیجہ میں یوسف رضا گیلانی وزیر اعظم اور پھر آصف علی زرداری صدر بن گئے۔
اب 2013ء کے الیکشن کی طرف آتے ہیں۔ خدائی مخلوق نہیں چاہتی تھی کہ نواز شریف جس کو جنرل مشرف نے اقتدار سے نکالا تھا حکومت میں آئے لہذا ہمیں یہ بھی یاد ہے کہ لاہور میں خدائی مخلوق نے اس کو relaunch کیا اور ہر ضلع میں خدائی مخلوق کے اپنے لوگ اور ہمدرد راتوں رات تحرک انصاف کے زبردست حامی بن گئے۔ پہلے دن سے یہ الزام لگایا گیا کہ فوج نے نواز شریف کو جتوایا ہے ۔یہ بھی پہلی دفعہ ہوا کہ سابقہ فوج کے سربراہ جنرل کیانی کے خلاف جنرل اطہر عباس کے ذریعہ پراپیگنڈہ کیا گیا۔ بہرحال نواز شریف کو صحیح ٹریک پر رکھنے کے لئے نیا گھوڑا عمران خان خدائی مخلوق نے تیار کر لیا تھا۔ پھر نوازشریف کا نا اہل ہونا اور ا لیکشن سے پہلے اسے سزا دینا کل کی بات ہے ۔
یہ ساری باتیں دہرانے کا مقصد یہ ہے کہ خدائی مخلوق گو عمران خان کو وزیر اعظم بنوانے میں کامیاب ہو گئی ہے مگر دودھ میں پانی اس قدر ملا دیا ہے کہ وہ لسی بننے کی بجائے اور کچھ بن گیا ہے ! نواز شریف‘ اس کی بیٹی مریم اور اس کا داماد جیل میں ہیں۔ عمران خان جلد ہی وزیر اعظم ہاوس میں ہوگا۔عمران کی تقریر میں نے غور سے سنی ہے جس میں مجھے کوئی نئی بات نظر نہیں آئی دعا گو ہوں کہ کوئی ایک ہی وعدہ پورا کر سکے! عمران خان اپنی پہلی تقریر میں ہسپتالوں کا ذکر نہ کرتا تو بہتر تھا کیونکہ ہسپتال بنانا اور حکومت چلانا تو مختلف کام ہیں ۔ ابھی دیکھنا ہے کہ پنجاب میں کیا ہوتا ہے اور یہ بھی جاننا ضروری ہے کہ کتنے لوگوں نے خدائی مخلوق کے سارے حربوں کے باوجود ان کے بندوں کو ووٹ نہیں ڈالے۔
میں اپنے دوست نصرت جاوید سے اتفاق کرتا ہوں کہ حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے 25جولائی کے نتائج کو 5جولائی 1977کا پیش خیمہ نہیں بننا چاہئے۔ قومیں نئے حالات میں جدوجہد کے نئے طریقہ ڈھونڈ لیتی ہیں۔ نواز شریف کی قربانی رائیگاں نہیں جائے گی۔One step forward two steps backwardکا سلسلہ تو چلتا رہتا ہے ۔ آخر میں یہ کہنے پر مجبور ہوں کہ خدائی مخلوق کی کھلی اور ننگی مداخلت سے قوم کی نفسیات پر بہت منفی اور برے اثرات پڑتے ہیں۔


ای پیپر