یہ سیاہی کیسے مٹے گی؟
27 جولائی 2018 2018-07-27

میرا سب سے بڑا مسئلہ ہے کہ یہ سیاہی کیسے مٹے گی؟۔ ہر طرح کے جتن کر کے دیکھ لئے لیکن یہ انتخابی سیاہی مٹنے کا نام نہیں لے رہی ۔تھک ہار کر بیٹھ گیا اور اپنے ہاتھ کی طرف بے چارگی سے دیکھنے لگا جہاں پر سیاہی میرا منہ چڑھانے میں مصروف تھی۔ 1937ء میں میسور کے کرشن راجہ واڈیار کے کارخانے میں پہلی بار بننے والی سیاہی جسے انتخابی عمل میں اس لئے استعمال کرنا شروع کیا گیا کہ ایک شخص دو دفعہ ووٹ نہ ڈال سکے ، یعنی انتخابی عمل میں کوئی تعلیم یافتہ ، ان پڑھ یا پڑھا لکھا جاہل جسے چاہے ووٹ ڈالے ۔ چاہے وہ کوئی مولانا ہو ،کاروباری ، منافع خور یا شریف۔ آپ کا ووٹ ٹھیک آدمی تک پہنچے اور کوئی بھی آپ کے حق رائے دہی کے ساتھ کھلواڑ نہ کرسکے۔ گویا یہ سیاہی انتخابات کے شفاف عمل کی گواہی دیتی ہے ۔ ایسا بھی نہیں کہ یہ سیاہی مجھے شروع سے ہی بری لگ رہی تھی۔ نہیں ، بلکہ جب میں 25مئی کی صبح خاص طور پر اہتمام کر کے پرچی بنوا کر پولنگ سٹیشن کے اندر جانے لگا تو مجھے ذاتی طور پر اس بنیاد پر اندر جانے سے روک دیا گیا کہ میں نے شاید الیکشن کی نگرانی کرنے والوں کے من پسند کیمپ سے پرچی نہیں بنوائی تھی۔ اصولی طور پر مجھے اس بات پر برا لگنا چاہیے تھا مگرمیں نے اپنا موڈ خراب ہونے سے بچایا ۔ کرین کی پرچی بنوا نے کے بعد مجھے پولنگ سٹیشن کے اندر داخل ہونے کی اجازت ملی اور میں نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا۔ دفتر جاتے ہوئے کئی بار غیر ارادی اور اکثر ارادی طور پر میری نظر انگوٹھے پر پڑتی تومجھے اچھا لگتا۔ ایسا محسوس ہوتا جیسے میں نے پاکستان کیلئے اپنا فرض ادا کر دیا ہے ، بحیثیت ایک ذمہ دار شہری اپنی پسند کی جماعت کو ووٹ ڈال دیا ہے۔ اپنی پیشہ وارانہ ذمہ داریاں ادا کرنے کیلئے دفتر پہنچا۔پورے پاکستان کو ووٹ ڈالنے کی چھٹی تھی لیکن ہم پر آج ورک لوڈ کچھ زیادہ تھا کیونکہ بریکنگ نیوز کو بروقت پاکستانیوں تک پہنچانا تھا۔ خبریں آ رہی تھیں کہ ملک بھر میں پاکستانی ریکارڈ تعداد میں گھروں سے نکل رہے ہیں ، پولنگ سٹیشن پر رش تھا کہ ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا ۔ پھر اطلاعات آنی شروع ہو گئیں کہ کچھ پولنگ سٹیشنز میں مخصوص جماعت کی پرچی والے لوگوں کو پولنگ سٹیشن میں داخل ہونے سے روکا جا رہا ہے تو ماتھا ٹھنکا ۔ بے اختیار اپنے ساتھ صبح ہونے والا واقعہ یاد آ گیا مگر پھر نظر اپنے ہاتھ پر لگی کالی سیاہی کی طرف گئی تو ایک ذمہ داری کا احساس ہوا کہ پورے ملک میں انتخابی عمل جاری ہے ، کروڑوں لوگ گھروں سے نکل رہے ہیں ، کچھ مسائل تو آئیں گے۔پھر اطلاعات آئیں کہ پولنگ کا عمل سست روی کا شکار ہے۔ ایک خاص جماعت کی پرچی والے ووٹرز کو پولنگ سٹیشن کے اندر لیجایا جا رہا ہے جبکہ دوسری جماعت کے لوگوں کو لائنوں میں گھنٹوں انتظار کروایا جا رہا ہے۔ خواتین جو اپنی من پسند جماعت کو ووٹ ڈالنا چاہتی ہے وہ شدید حبس اور گرمی میں گھنٹوں کھڑے ہونے کے بعد گھروں کو واپس جا رہی ہیں۔

یہ بھی خبریں آرہی تھیں کہ بہت سے پولنگ سٹیشنز میں پولنگ کے عملے کے آنے سے پہلے ہی بیان حلفی لکھ کر ڈبوں کو بند کر دیا گیا تھا۔ رپورٹرز بتا رہے تھے کہ مسلم لیگ(ن) کے ووٹرز کو تنگ کیا جا رہا ہے۔ صحافیوں کو کارڈ ہونے کے باوجود رپورٹنگ کرنے سے روکا جا رہا ہے ، پولنگ سٹیشن کے اندر نہیں جانے دیا جا رہا ۔ پہلے تین گھنٹے کے عمل کے بعد پولنگ کا عمل بہت سست کر دیا گیا۔ ہر پولنگ سٹیشن کی حدود میں خفیہ طور پر نوٹ کیا جاتا رہا کہ کس جماعت کے کتنے ووٹ کاسٹ کئے جا رہے ہیں (اور بعد میں معلوم ہوا کہ انہی فہرستوں کی بنیاد پر اپنی ضرورت کے مطابق حلقوں کے نتائج کو اپنی مرضی کے مطابق ڈھالا گیا)۔ حد اس وقت ہو گئی جب یہ خبریں آئیں کہ پولنگ سٹیشن کے باہر ہزاروں کی تعداد میں لوگ موجود ہیں اور وہ اپنا ووٹ ادا کئے جانے کا انتظار کر رہے ہیں ۔ سیاسی جماعتوں کی شکایات کے باوجود الیکشن کمیشن نے وقت نہ بڑھایا ،پولنگ کا وقت ختم ہو گیا۔ہزاروں لوگوں نے ووٹ کا حق نہ ملنے پر احتجاج کیا ، دھرنے دئیے ، پھر ووٹ ڈالے بغیر گھروں کو واپس لوٹ گئے۔ سعد رفیق نے رات پولنگ سٹیشن میں گزاری کہ کب انہیں فارم 45ملے اور انہیں معلوم ہو سکے کہ وہ ہار چکے ہیں۔ تیس سے زائدحلقوں میں پولنگ ایجنٹس کو فارم 45دئیے بغیر نکال دیا گیا ہے۔ شکایات کی جا تی رہیں ، ویڈیو بھیجی گئیں لیکن الیکشن کمیشن شاید لمبی تان کر سو تا رہا اور پھر محروم پاکستانیوں پر رحم آیا تو سسٹم کی ناکامی کا سارا قصور ’’نادرا‘‘ پر ڈال رہا ہے جبکہ نادرا کا کہنا تھا کہ ’’آرٹی ایس‘‘ سسٹم کی ناکامی کا الیکشن کمیشن کا دعویٰ غلط ہے۔ مسلم لیگ(ن) اور دیگر جماعتوں کے امیدوار پورے پاکستان میں فارم 45کے حصول کی کوششیں کرتے رہے ۔ٹی وی چینلز جیسے کسی کچی سڑک پر گاڑی چلا رہے تھے ، جھٹکوں سے کبھی مسلم لیگ(ن) کی نشستیں 30ہو رہی تھیں کبھی 70 ، تحریک انصاف البتہ پولنگ ختم ہونے کے دو گھنٹے کے اندر سنچری مار چکی تھی اور پھر ن لیگ کے 70بھی وقفے وقفے سے تحریک انصاف کو ملتے رہے۔

تسلیم کہ نادرا کا آر ٹی ایس سسٹم بیٹھ گیا لیکن کیا الیکشن کمیشن کے نمائندوں کو گنتی بھی بھول گئی ہے۔ عمران خان اعلان فرما رہے تھے کہ سب حلقے کھول دیں گے اور میں ان سے کہنا چاہ رہا تھا جناب کم از کم امیدواروں کو الیکشن کمیشن سے یہ تو پتہ کروا دیجئے کہ نتائج کیا ہیں ؟ حلقے تو بعد میں بھی کھلتے رہیں گے۔ ان انتخابات کو بلاشبہ پاکستان کی تاریخ کے بدترین الیکشن کہا جا سکتا ہے۔ ملکی تاریخ میں پہلی بار پولنگ کا وقت ختم ہونے کے بعد سیاسی جماعت کے پولنگ ایجنٹس کو باہر نکال کر کنڈیا ں لگا لی گئیں ، پہلی بار ملک کی نو بڑی جماعتوں نے الیکشن کے پہلے ہی دن پولنگ ختم ہونے کے صرف چار گھنٹے بعد نتائج کو تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے بدترین دھاندلی کی نشاندہی کر دی اور ان انتخابات کو پہلی بار یہ شرف حاصل ہوا کہ پولنگ ختم ہونے کے 42گھنٹے بعد ، یہ تحریر لکھنے تک الیکشن کمیشن نے مکمل نتائج کا اعلان نہیں کیا ہے اور ابھی تک کچھ پتے اپنے پاس رکھے ہیں۔

ہمیں تو تیسرے دن یہ معلوم ہو چکا ہے انگوٹھے پر لگنے والی کالی سیاہی کو indelible inkکہا جاتا ہے ، اس میں 23فیصد سلور نائٹریٹ شامل ہوتا ہے اس لئے یہ 20دن تک نہیں اترتی مگر خیال آ رہا ہے کہ پاکستانیوں کی تقدیر میں معلوم نہیں کتنے ہزار فیصد سلور نائٹریٹ شامل کی جا چکی ہے کہ ان کے تقدیر کی کالی سیاہی اترنے کا نام ہی نہیں لے رہی ۔


ای پیپر