میرے ووٹ کو عزت ملے گی؟
27 جولائی 2018 2018-07-27

آج آپ ایک جنونی کارکن کا عمران خان کے نام خط ملاحظہ فرمائیں۔

محترم عمران خان صاحب!

میں نے اپنی قومی ذمہ داری پوری کر دی۔میں نے اپنے ووٹ کو عزت و تکریم دلوانے کا سوچا اور بلے پہ مہر لگا دی۔خان صاحب میرا یقین ہے کہ آپ مجھے کبھی بھی مایوس نہیں کریں گے‘آپ پاکستان کو کبھی بھی عالمی طاقتوں کے سامنے نہ تو شرمندہ کریں گے اور نہ ہی جھکنے دیں گے۔خان صاحب گزشتہ جنرل الیکشن میں تحریک انصاف کواپنا ووٹ دیا تھا یہ سوچتے ہوئے کہ یہ رائیگاں نہیں جائے گا اور آپ کا اپوزیشن میں کردار دیکھ کر دلی خوشی ہوئی کہ میرا ووٹ واقعی رائیگاں نہیں گیا۔آپ نے اپوزیشن میں رہتے ہوئے میرے ووٹ کا تحفظ کیا‘اسے حقیقی معنوں میں عزت دی۔خان صاحب عزت اسے ہی کہتے ہیں کہ آپ نے میرے ٹیکسوں کا غلط استعمال نہیں کیا‘آپ نے (کے پی کے میں) پانچ سالہ دورِ اقتدار میں ایک روپے کی بھی نہ تو کرپشن کی اور نہ ہی کرنے دی۔یہی وجہ ہے کہ آج پانچ سال بعد بھی ووٹ کاسٹ کرتے ہوئے میں سوچ رہا تھا کہ خان صاحب ایک دفعہ پھر آپ پہ اعتماد کر رہا ہوں کیونکہ میرا ووٹ صرف اعتماد کا ہے۔مجھے اس دفعہ بھی قوی امید ہے کہ میرا ووٹ حقیقی پارٹی کو کاسٹ ہوا۔

خان صاحب! میرا دعویٰ ہے کہ ووٹ کو عزت دینے کا مطلب پاکستان اورپاکستان کے تمام اداروں کو عزت دینا ہے اور اگر اس انداز میں دیکھا جائے تو آپ نے عدلیہ کو عزت دی‘آپ فوج کے ساتھ اس وقت بھی ڈٹ کر کھڑے رہے جب نون لیگی پٹواری اور دیگر شرپسند عناصر اس پر الزام تراشیاں کرتے رہے‘اسے خلائی مخلوق سمیت کئی بے ہودہ القابات سے پکارتے رہے‘آپ نے احتساب عدالت سمیت پارلیمینٹ اور دیگر قومی اداروں کو نہ صرف عزت دی بلکہ ان کو مضبوط تر بنانے کے لیے دن رات کوششیں کی۔اس کی زندہ مثال خیبر پختونخواہ ہے۔وہاں کی پولیس کو عوام سیلیوٹ کرتے ہیں‘وہاں کے تعلیمی اداروں میں داخلوں کی شرح توقع سے زیادہ بڑھی‘وہاں یونیورسٹیوں اور کالجز کے قیام کی شرح میں گزشتہ ادوار کی نسبت اسی فیصد سے زائد تک اضافہ ہوا جس کا ریکارڈ میں ۲۶؍مئی ۲۰۱۸ء کے کالم میں تفصیل سے پیش کر چکا ہوں(اگرچہ کچھ نون لیگی کارکنوں نے اسے غلط ثابت کرنا چاہا مگر نہ کر سکے)۔صحت کے میدان میں تحریک انصاف کی کارکردگی بھی شاندار رہی جس کی تفصیلی رپورٹ پاکستان تحریک انصاف نے شائع بھی کی جو آج بھی میرے ٹیبل پہ موجود ہے۔آج کے پی کے میں تحریک انصاف نے کلین سویپ کیا‘اگر وہاں خان صاحب آپ نے کام نہ کیا ہوتا تو پٹھان آپ کو کبھی بھی دوبارہ نہ آزماتے۔خان صاحب مجھے پنجاب‘سندھ اور بلوچستان بھی کے پی کے کی طرح صاف اور شفاف چاہیے‘مجھے ویسی ترقی پورے ملک میں چاہیے۔

خان صاحب !مجھے امید ہے کہ جیسے آپ نے گزشتہ دور میں اپوزیشن میں بیٹھ کے ثابت کیا کہ صاف اور شفاف اپوزیشن کیسے ہوتی ہے‘آپ آئندہ بھی ثابت کریں گے کہ ووٹ کو عزت کیسے دی جاتی ہے۔خان صاحب آپ نے قوم سے جتنے بھی وعدے کیے تھے اب پورے کرنے کا وقت آ گیا ہے۔خدارا اس قوم کو مایوس نہ کیجیے گا ۔یہ قوم پچھلے ستر سالوں میں صرف وعدوں پہ زندگی گزارتی آئی ہے‘اسے ہر پارٹی اور ہر لیڈر نے دونوں ہاتھوں سے لوٹا شاید یہی وجہ ہے کہ آپ نے پکارا تو یہ لوگ بھاگتے چلے آئے‘انہوں نے ستر سالہ تاریخ بدل کر رکھ دی‘اس قوم نے بادشاہی نظام درہم برہم کر دیا‘اس قوم نے تسلیم کرلیا کہ اب تبدیلی ضروری ہو گئی ہے‘یہ قوم چلے ہوئے کارتوسوں سے تنگ تھی لیکن جب آپ کے ساتھ ایلیکٹیبلز نے ہاتھ ملایا یہ قوم پھر مطمئن ہو گئی کیونکہ اسے یقین تھا کہ عمران خان کے ساتھ پارلیمنٹ میں بیٹھ کر یہ کوئی دھوکہ دہی نہیں کر سکتے۔خان صاحب آپ کا شکریہ ‘آپ نے عوام کو اعتماد دیا‘آپ نے عوام کو شعور دیا ‘آپ نے انہیں سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیت سے مالا مال کیا مگر خان صاحب اب امتحان زیادہ کڑا ہے‘اب عوام آپ کی طرف متوجہ ہے۔آپ نے شروع کے نوے دنوں کا ایجنڈا دیا تھا‘کیاآپ وہ پورا کر پائیں گے‘آپ اس ایجنڈے کو نافذ کر کے تبدیلی کا آغاز کریں گے۔

خان صاحب !آپ کے بارے میں عمومی تاثر یہ ہے کہ آپ جذباتی ہیں‘آپ غصے اور جوش میں بہت سے کچے بیان دے دیتے ہیں جسے بعد میں انصافین ڈیفینڈ کرتے رہتے ہیں مگر آپ کی فتح کے بعد کی پہلی تقریر نے دل خوش کر دیا۔خان صاحب کسی بھی ملک میں تین ادارے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں‘انصاف‘تعلیم اور صحت۔خان صاحب ہمارے ملک کے یہ تینوں ادارے تباہ ہو چکے ہیں‘سب سے پہلے انہیں ریفائن کرنے کی اشد ضرورت ہے۔یہ تینوں ادارے بزنس مینوں اور سرمایہ داروں کے ہاتھوں یرغمال بن چکے ہیں‘خان صاحب اس ملک سے سرمایہ دارانہ اور جاگیردارانہ نظام ختم کیا جائے۔ہمیں غریب اور امیر کا ایک پاکستان چاہیے اور اب آپ نے اسے

ثابت کرنا ہے ۔خان صاحب ہمیں میڈیا سمیت ملک کے تمام نجی اور سرکاری اداروں کی فنشنگ کرنی ہے‘ہمیں اداروں کے لیے ان کی حدود کا تعین کرنا ہے اور یہ تعین ہی اداروں کی مظبوطی کی دلیل ہوگا۔خان صاحب خدارا اب یہ قوم اور جھوٹ اور دھوکے برداشت نہیں کر پائے گی اور اگر خدا نخواسطہ آپ نے بھی صرف وعدوں اور تقریروں پہ کام چلایا تو یہ قوم آپ کو کبھی معاف نہیں کرے گی کیونکہ ستر سال بعد اس قوم کے چہروں پہ خوشی اور امید لوٹی ہے۔خان صاحب میں نے دس سال کے بچوں سے لے کر ستر اور اسی سال کے بزرگوں تک کے چہروں پہ خوشی دیکھی‘وہ آپ سے محبت کرتے ہیں‘وہ اس عمران خان سے محبت کرتے ہیں جس نے گزشتہ پانچ سال اپوزیشن میں رہنے کا حق ادا کیا۔اب وقت آ گیا ان وعدوں کو پرا کرنے کا جو آپ نے مینار پاکستان سمیت ملک کے کئی بڑے شہروں میں اپنے جلسوں کے دوران کیے اور کرتے آ رہے ہیں۔خان صاحب میں ایک ادنیٰ سا سپورٹر ہوں اور میں نے آپ کے لیے جھولی پھیلا کر ووٹ مانگا‘میں نے قوم سے ہاتھ جوڑ کر گزارش کی اور آپ کا یقین دلایا‘خدا کے لیے مجھے مایوس مت کیجیے گا۔شکریہ عمران خان۔دعا گو:آپ کا جنونی سپورٹ


ای پیپر