پی ٹی آئی کی حکومت سے عوامی توقعات
27 جولائی 2018 2018-07-27

عام آدمی کے نزدیک پاکستان کی اکثر حکومتوں کا ہر بجٹ امیروں کا بجٹ رہا اور ماضی کی اکثر حکومتیں غریب مکاؤ پالیسی پر ایک تسلسل کے ساتھ عمل پیرا رہیں۔ یہ بات پورے وثوق کے ساتھ کہی جاسکتی ہے کہ ماضی کی حکومتوں کے تمام بجٹ ملک کے بالائی طبقہ ،(ELITE CLASS) ملٹی نیشنلز اور سرمایہ داروں جا گیر داروں کے مفاد کے آئینہ دار رہے اور ہربجٹ غریب عوام کو ریلیف دینے کا باعث نہیں بنا۔عام شہری بغیر کسی جھجک کے کہہ رہے ہیں کہ ان حکومتوں کے اقتصادی مشیروں کی جانب سے اقتصادی ترقی کے جو دعوے کیے جاتے رہے ہیں وہ افسانے سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتے، افراط زر ہر برس مزید بڑ ھتا گیا اور ہر حکومت ہرمالی سال میں مہنگائی پر قابو پانے میں ناکام رہی، اکثر مالی سالوں کا میزانیہ غریب مکاؤ پالیسی کی ایک کڑی

ثابت ہوا۔ سرکاری ملازمین حکومت کی جانب سے تنخواہوں میں اضافے کے اعلان کو اونٹ کے منہ میں زیرے سے تشبیہ دیتے رہے۔عالم یہ ہے کہ آج بھی پاکستان میں 73.6 فیصد لوگوں کی آمدنی فی کس دو ڈالر روزانہ سے کم ہے۔ ماضی کی حکومتوں کے ہر وزیر خزانہ اور اقتصادی مشیروں سے عام شہری یہ مطالبہ کرتے رہے ہیں کہ کہ وہ 15ہزار روپے میں 4 افراد کے کنبے کا بجٹ بنا کر دیں تو پر ہجوم پوسٹ بجٹ کانفرنسوں میں وزیر خزانہ ، وزیر مملکت برائے خزانہ، ڈپٹی چیئر مین منصوبہ بندی کمیشن، چیئر مین سینٹرل بورڈ آف ریوینو ، وزارت خزانہ کے اقتصادی مشیر اور سیکرٹری جنرل خزانہ میں سے ہر ایک نے ایک کنبے کا بجٹ بنا کر دینے کی بجائے ان کے اس مطالبے کو سنا اَن سنا کر دیا۔ معاشی تجزیہ نگاروں کا موقف ہے کہ حکومتیں بجٹ میں یوٹیلیٹی سٹورز پر عوام کو سستے داموں اشیاء فراہم کرنے کی پالیسی اپناتے ہوئے اکثر اعدادو شمار کی جادو گری سے کام لیتی رہیں ۔بعض معاشی ماہرین اس پر بھی معترض ہیں کہ ہر عہد حکومت کے ہر مالی سال میں حکمرانوں کے شاہانہ اخراجات میں بے تحاشہ اضافہ ہوتارہا ۔ یہی وجہ کے اضافی اخراجات کی تفصیلات بجٹ دستاویزات میں شامل نہیں کی جاتی رہیں۔ ۔ البتہ ٹیکس نیٹ بڑھانے کی خوش خبری ضرور سنائی جاتی رہی۔ ترقی و خوشحالی کے تمام تر حکومتی دعووں کے با وجود حقیقت یہ ہے کہ گزشتہ عہد حکومت میں غیر ملکی قرضوں کا حجم 90ارب دالر تک پہنچ چکا ہے اور پی آئی اے ، پاکستان سٹیل ملز، پاکستان ریلوے ،کے ای ایس سی اور واپڈا ایسے تمام ادارے خسارے میں رہے ۔

این ڈی پی (یونائیٹڈ نیشنز ڈویلپمنٹ پروگرام) کی ایک مطبوعہ رپورٹ کے مندرجات کا مطالعہ مذکورہ اقتصادی ماہرین کو دعوتِ فکر و عمل دینے کے لئے کافی ہے۔ رپورٹ کے مندرجات کیمطابق ’’ پاکستان میں آبادی کے 44فیصد افراد غربت کی آخری لکیر سے بھی نیچے زندگی بسر کر رہے ہیں، ملک میں ایک کروڑ دس لاکھ بچے چائلڈ لیبر کا شکارہیں،جن 75فیصد بچوں کو سکولوں میں داخلہ ملتا ہے، ان میں سے 25فیصدبچے پرائمری سے قبل ہی سکول چھوڑ دیتے ہیں جبکہ صرف 27 فیصد بچے سیکنڈری سکولوں میں داخلہ

لیتے ہیں، پاکستان میں 80فیصد بیماریاں صرف اس وجہ سے ہوتی ہیں کہ لوگوں کو پینے کا صاف پانی میسر نہیں، پانچ سال سے کم عمر کے 38فیصد بچے کم خوراک اور بھوک کا شکار ہیں، صرف 20فیصد حاملہ خواتین کو قدرے طبی سہولیات میسر ہیں، پاکستان میں 10میں سے 7افراد کسی نہ کسی جسمانی مرض کا شکار ہیں جبکہ 10میں سے 9افراد ذہنی امراض میں مبتلا ہیں‘‘ اس رپورٹ کے اعداد و شمار کی تردید کی جا سکتی ہے لیکن اس کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ ملک کی ایک قابل ذکر آبادی غربت کی لکیر سے نیچے حیوانی سطح پر زندگی بسر نہیں کر رہی۔20 کروڑشہریوں میں سے چند کروڑ کو پینے کے صاف پانی کی بنیادی سہولت حاصل ہے۔

محنت کشوں کا مطالبہ ہے کہ حکومت ان کے استحصال، محنت کشوں کے خلاف نافذ کیے گئے کالے قوانین، مہنگائی، بے روزگاری، نجکاری، کنٹریکٹ سسٹم کا خاتمہ کرے اور نیز یہ کہ مہنگائی کے تناسب سے ان کی تنخواہوں اور معاوضوں میں اضافہ کیا جائے۔ مہنگائی ، بے روز گاری اور بے کاری نے عام آدمی کے لیے دو وقت کی روٹی کے حصول کوبھی اس حد تک مشکل بنا دیا ہے کہ قومی روزناموں کے صفحات آئے روز کسی نہ کسی محنت کش کی بھوک ، فاقے اور بے کاری کے ہاتھوں تنگ آ کر خود کشی کے ارتکاب کی خبروں سے ’’مزین‘‘ ہوتے ہیں۔ ایک عالمی نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق موجودہ دور میں ملک کے لیبر قوانین میں کئی ایسی ترامیم کی گئیں جن کے ذریعے محنت کش طبقے کے حقوق پر کاری ضرب لگی۔ ان میں نمایاں ’’فیکٹری کلوز ڈے ‘‘قانون کی ترمیم ہے جس کے تحت اب ہفتے میں ایک روز کارخانہ بند کرنا ضروری نہیں رہا۔محنت کش کے روز انہ اوقات کار کو 8 سے 12 گھنٹے کر دیا گیا ہے اور کنٹریکٹ نظام کی ایک ایسی شق صنعتی قانون میں شامل کی گئی ہے جس کے بعد مالکان کو اختیار مل گیا اور مزدور مستقل ملازمتوں سے محروم کر دیئے گئے ہیں اسی طرح سرکاری محکموں میں بر طرفی آرڈیننس کا نفاذ بھی محنت کش طبقات اور ملازمین کے نزدیک بنیاد ی انسانی حقوق کے منافی ہے۔ لیبر قوانین میں کی گئی ترامیم کی وجہ سے لیبر کورٹ سے ایک محنت کش کے لیے انصاف کا حصول خاصا مشکل ہو گیا ہے۔یاد رہے کہ محنت کش طبقات کو کسی ایک جلسہ ،جلوس ، سیمینار ، سیمپوزیم اور ریلی سے خطاب کے دوران سنہرے مستقبل کے خواب دکھاتے ہوئے ’’گا، گے ، گی‘‘ کی راگنی الاپنے والے حکمران تادیر اپنی مقبولیت ، محبوبیت اور ہر دلعزیزی کو قائم اور بر قرار نہیں رکھ سکتے۔

اس ناپسندیدہ تناظر میں عوام پاکستان تحریک انصاف کی متوقع وفاقی حکومت سے توقع رکھتے ہیں کہ اس کے 5سالہ آئینی دورانیہ میں پاکستان کی معاشی خود کفالت، اقتصادی خودانحصاری ، صنعتوں کے فروغ، مقامی و بین الاقوامی سرمایہ کاروں کی حوصلہ افزائی، میرٹ کی بحالی اور عام آدمی کے معیار زندگی کی سر افرازی کو اپنی اولین ترجیحات میں نہ صرف نمایاں جگہ دیں گے بلکہ عام آدمی کے سب سے بڑے مسئلے مہنگائی کے خاتمے کو یقینی بنائیں گے۔


ای پیپر