ہیپاٹائٹس کا عالمی دن
27 جولائی 2018 2018-07-27

عالمی ادارہ صحت کے مطابق دنیا میں ہیپاٹائٹس بی کے دو ارب سے زیادہ مریض ہیں جبکہ ہیپاٹائٹس اے کے 14لاکھ سے زیادہ مریض موجود ہیں ۔ اس کے علاوہ ہیپاٹائٹس سی کے 15کروڑ سے زیادہ متاثرین ہیں ۔ ان سب مریضوں کی تعداد میں دس لاکھ افراد سالانہ کے حساب سے اضافہ ہو رہا ہے ۔ ان مسائل سے نمٹنے اور لوگوں میں اس مرض کے بارے میں علامات ، تشخیص، احتیاطیں اور علاج کے حوالے سے لوگوں میں آگاہی پیدا کرنے کے لیے عالمی ادارہ صحت ہر سال 28جولائی کو ہیپاٹایٹس کا دن مناتا ہے ۔پاکستان میں ایک کروڑ سے زیادہ افراد اس مرض میں مبتلا ہیں ۔ اس مرض کے پھیلنے کی بنیادی وجوہات میں آلودہ پانی اور خوراک کا استعمال ، حفظان صحت کے اصولوں پر عمل نہ کرنا ، سبزیوں اور پھلوں کو دھو کر استعمال نہ کرنا، استعمال شدہ سرنج کا استعمال ، خون کی غیر محفوظ منتقلی اور حجام کا آلودہ اوزاروں کا استعمال وغیرہ ہے۔

ہیپاٹائٹس( جگر کی سوزش) ایک ایسا مرض ہے جس میں علاج معالجے میں اگر کوتاہی برتی جائے یا عطائیوں یا نا تجربہ کار معالجین سے علاج کرایا جائے تو اس سے انسانی جان کو خطرہ بھی پیدا ہو جاتا ہے ۔ علاج اور احتیاط کے ساتھ ساتھ ہیپاٹائٹس کی بیماری سے متعلق شعور اور آگہی اس میں کمی کا ایک موثر ذریعہ ہے۔پاکستان کی آبادی کا5 فیصد اس موزی مرض میں مبتلا ہے جبکہ صوبہ پنجاب میں یہ شرح 7%ہے۔ ان حالات میں ضروری ہے کہ ہم اس بیماری سے متعلق اہم اور مفید معلومات سے آگاہ ہوں ۔ ہیپاٹائٹس کی دو بڑی اقسام ہیں ایک ہیپاٹائٹس A&E(جسے پیلا یرقان بھی کہتے ہیں ) دوسری ہیپاٹائٹس C&Bجسے کالا یرقان بھی کہتے ہیں ۔

ہیپاٹائٹس کی علامات میں تھکاوٹ اور کمزوری ، فلو، تیز زرد رنگ کا پیشاب اور پاخانہ آنا ، پیٹ درد، بھوک میں کمی ، وزن میں کمی، آنکھوں اور جلد کا زرد ہونا ، مسلسل بخار رہنا ، جوڑوں میں درد اور جسم پر خارش شامل ہیں تاہم بعض اوقات اس مرض کی یہ مذکورہ علا مات ظاہر نہیں بھی ہوتیں لہذا اس مرض کا ٹیسٹ گاہے بگاہے کراتے رہنا چاہئیے۔بیماری کی تشخیص میں جسمانی معائنہ ، جگر کا ٹیسٹ ، خون کا ٹیسٹ ، خون کا ٹیسٹ ، جگر کا الٹراساؤنڈمددگار ہوتاہے۔اس مرض کی وجوہات کچھ یوں ہیں کہ ہیپاٹائٹس A&Eسے متاثرہ شخص کے ہاتھ کا پکا کھانا کھانا، واش روم سے آکر صابن سے ہاتھ نہ دھونا، آلودہ پانی کا استعمال ، سبزیوں کا اچھی طرح دھوکر استعمال نہ کرنا ، گلے سڑے پھل یا سبزیوں کا استعمال جبکہ ہیپاٹائٹسB&C مریض کی استعمال شدہ سرنج یا ریزر/استر ا کے استعمال ، مریض کا انتقال خون ، آلودہ اوزارسے کان ناک چھدوانا ، عطائی دندان سازوں سے علاج کرانا، دندان سازوں کے آلات کا جراثیم سے پاک نہ ہونا اور ایک سرنج کو ایک سے زیادہ مرتبہ استعمال کرنا ، ہیپاٹائٹس بی اور سی کا باعث بن سکتے ہیں ۔ اس مرض میں احتیاط کرنے کی بہت اہمیت ہے ۔ ہیپاٹائٹسA&Eمیں صفائی ستھرائی ، ہاتھوں کا صاف رکھنا ، آلودہ پانی کا ستعمال نہ کرنا گلے سڑے پھل اور سبزیوں سے پرہیز ، پھل اور سبزیوں کو اچھی طرح دھو کر استعمال کرنا ، بوتل /ٹن والے مشروبات سے پرہیز جبکہ ہیپاٹائٹسB&Cمیں استعمال شدہ سرنج ، استرے یا ریزر کا جراثیم سے پاک نہ کرنا ، انتقال خون ، خون کے ٹیسٹ سکریننگ اور میچنگ کے بعد کرنا اور کسی دوسرے شخص کا ٹوتھ برش استعمال نہ کرناشامل ہیں ۔

ہیپاٹائٹس کا علاج بہت ضروری ہے ۔ اس سلسلے میں مستند ، معیاری اور اور پنجاب ہیلتھ کےئر کمیشن رجسٹرڈ ڈاکٹر سے رابطہ ، مکمل آرام ، سگریٹ نوشی اور منشیات /الکوحل سے اجتناب ، حفاظتی ٹیکوں کا لگوانا ضروری ہے۔ یاد رہے کہ ہیپاٹائٹسA,B,Eکی ویکسین موجود ہے اور اس کے حفاظی ٹیکے لگوانے سے اس بیماری سے محفوظ رہا جا سکتا ہے ۔ جبکہ ہیپاٹائٹس Cکی ویکسین موجود نہیں لہذا احتیاط ضروری ہے کیونکہ یہ جان لیوا ہو سکتا ہے۔

اس سارے معاملے میں ایک بات یاد رکھنے کی ہے کہ ہیپاٹائٹس کی بیماری کو بہت سنجیدگی سے لینا چا ہئیے اور علاج میں بہت احتیاط کی ضرورت ہے ۔ اس مرض کے علاج کے لیے عطائیوں ، غیر مستند اور پنجاب ہیلتھ کےئر کمیشن سے غیر رجسٹرڈ معالجین سے ہرگز علاج نہیں کرانا چاہئیے کیونکہ اس طرح مرض کے مزید بگڑ جانے کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔ پنجاب ہیلتھ کےئر کمیشن نے اس سلسلے میں بڑی سنجیدگی اور موثر طریقے علاج گاہوں کو گزشتہ 4 سالوں سے رجسٹرڈ کرنا شروع کیا ہے ۔ فی الوقت کمیشن نے49000 سے زائدعلاج گاہوں کو رجسٹرڈ کیا ہے جبکہ عطائیوں کے 14750 سے زائد اڈے سیل کر دیے ہیں ۔ یہ تمام اقدامات ہیپاٹائٹس کی روک تھام میں اہم کردار ادا کر ر ہے ہیں ۔اس کے ساتھ ساتھ پنجاب ہیلتھ کےئر کمیشن نے ہسپتالوں کے فضلات ) Hospital (waste کومحفوظ طریقے

سے ٹھکانے لگانے کے لیے علاج گاہوں کے ساتھ مل کر بہت کام کیا ہے ۔ اس سلسلے میں اسٹاف کی تربیت اور آگاہی پر خصوصی توجہ دی گئی ہے ۔ واضح ہو کہ ہسپتال کا فضلہ ہیپاٹائٹس کے پھیلنے کی بڑی وجو ہات میں سے ایک ہے ۔ ان اقدامات سے اس مرض کو کنٹرول کرنے میں بڑی مدد ملی ہے اس کے ساتھ ساتھ کمیشن کی جانب سے تیار کردہ صحت کی خدمات کے کم سے کم معیارات (MSDS) بھی اس بیماری کی روک تھام میں اہم کردار ادا کر رہے ہے جس کے تحت علاج گاہوں کو ہسپتالوں کے فضلات ٹھکانے لگانے کے لیے طریقہ کار سے مطلع کیا جاتا ہے اور اس پر عمل در آمد کا بھی پابند کیا جاتا ہے ، جس کی مانیٹرنگ کے ذریعے تصدیق کی جاتی ہے۔اس عمل سے ہسپتالوں کے عملے کو ہیپاٹائٹس سے محفوظ رکھنے میں بہت مدد ملی ہے ۔


ای پیپر