عراق اور شام پر حملوں میں 1050 عام شہری بھی مارے گئے :امریکہ

27 جولائی 2018 (18:35)


واشنگٹن:امریکی قیادت کی اتحادی فورسز نے تسلیم کر لیاہے کہ عراق اور شام میں داعش کے خلاف فضائی بمباری سے 1059 عام شہری ہلاک ہو ئے تھے۔میڈیارپورٹس کے مطابق عراق اور شام میں داعش کی خود ساختہ خلافت کے خلاف فوجی مہم چلانے والے اتحاد نے کہا کہ اگست 2014 سے اس سال جون تک ان کے لڑاکا جیٹ طیاروں نے 29826 فضائی حملے کیے تھے۔


بیان میں کہا گیا کہ داعش کا راستہ روکنے کے لیے قائم کیے جانے والے اتحاد نے مسلح تنازعات کے علاقوں میں کارروائیوں سے متعلق یہ یقینی بنانے کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے کہ وہ قانون کے دائرے کے اندر رہیں۔اس بیان کا مقصد انسانی حقوق کے گروپس کی جانب سے عام شہریوں کی ہلاکتوں سے متعلق تازہ اعداد و شمار کی فراہمی کے مطالبے کا جواب دینا ہے۔ انسانی حقوق کے گروپس اتحادی افواج پر یہ الزام لگاتی ہیں کہ انہوں نے داعش کے خلاف برسوں کی جنگ کے دوران بہت سے شہریوں کو ہلاک کیا۔پچھلے ہفتے ایک بین الاقوامی گروپ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے شام کے علاقے رقہ میں عام شہریوں کی ہلاکتوں کے متعلق ایک بیان جاری کیا جس میں کہا گیا تھا کہ موقع پر موجود شواہد اتحادی افواج کے اس دعویٰ کی نفی کرتے ہیں کہ عام شہریوں کی ہلاکتیں محدود تھیں۔


پچھلے مہینے گروپ کی ایک اور رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ شام کے علاقے رقہ میں غلطیوں اور ناکام فضائی حملوں کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر عام شہریوں کی ہلاکتیں ہوئیں۔برطانیہ میں قائم فضائی حملوں پر نظر رکھنے والے ایک گروپ ایئر وارز کا اندازہ ہے کہ عراق اور شام میں اتحادی فورسز کے حملوں میں ہلاک ہونے والے عام شہریوں کی تعداد 6488 اور 9947 کے درمیان ہے۔تاہم اتحادی فورسز نے یہ اعداد و شمار تسلیم کرنے سے انکار کیا۔ جاری ہونے والے بیان میں اتحادی فورسز نے کہا کہ عام شہریوں کی ہلاکتوں سے متعلق 125 واقعات رپورٹ ہوئے جن میں سے 16 کی تصدیق ہو سکی، جب کہ تین رپورٹس ایسی تھیں جو دو بار جاری کی گئیں۔ باقی ماندہ 106 واقعات کی تصدیق نہیں ہو سکی۔ جب کہ مزید 234 رپورٹس کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔
امریکی قیادت کے اتحاد اور مقامی اتحادیوں نے عراق اور شام میں ان علاقوں کے ایک بڑے حصے کا کنٹرول دوبارہ سنبھال لیا ہے جس پر داعش نے اپنی خلافت قائم کی تھی۔اتحادی فواج کے عہدے داروں کا اندازہ ہے کہ اب داعش کے قبضے میں صرف 300 مربع کلومیٹر کا علاقہ باقی رہ گیا ہے جو شام میں ہے۔

مزیدخبریں