گندگی، صفائی اور صفایا!
27 جنوری 2021 2021-01-28

اِس ملک میں کئی طرح کی گندگیاں ہیں، سب سے بڑی گندگی ذہنی گندگی ہے یا پھردِل کی گندگی ہے۔ شاید اِسی لیے ہی اکثر ہم ایک دوسرے سے کہتے ہیں”اپنا دِل صاف کرلو“.... اپنی یہ گندگیاں ہمیں چونکہ دیکھائی نہیں دیتیں، سو ہم اکثر صرف اُن ہی گندگیوں کی بات کرتے ہیں جو ہمیں دیکھائی دیتی ہیں، اور دکھائی نہ بھی دیں اپنی فطرت کے مطابق کہیں نہ کہیں سے ہم ڈھونڈ ہی لیتے ہیں، آج میں اپنے دِل ودماغ کی گندگی کو ایک طرف رکھتے ہوئے اُس گندگی پر بات کرنا چاہتا ہوں جو اِن دنوں میرے شہر لاہور میں جابجا پڑی اور بکھری ہوئی دکھائی دیتی ہے۔ اگلے روز میں لاہور پر اپنے عزیز چھوٹے بھائی رحمان فارس کی ایک خوبصورت غزل پڑھ رہا تھا، پہلے آپ ذرایہ غزل سُن کراپنا دِل صاف کرلیں۔ 

ڈھونڈتا پِھرتا ہوں لوگوں سے بھرے لاہور میں

کچھ پرانے یار مِل جائیں نئے لاہور میں 

میں نے منت مان لی ہے آج داتا کے حضور

دیکھنا تم جلد واپس آﺅ گے لاہور میں 

داناپانی ڈھونڈنے سب جا بسے ہیں دُور دیس

کیا زمانہ تھا کہ سارے دوست تھے لاہور میں 

فیض، منٹو اور منیر، اقبال ناصر اور ندیم 

ہائے کیا کیاولولے آباد تھے لاہور میں

دوہی شہروں میں ہیں اچھی آنکھیں ہندوستانیو

یا تمہارے لکھنو¿ میں یا میرے لاہورمیں

 آپ شاید بھول بیٹھے ہیں مجھے تو یاد ہے

 ایک بار آنکھیں مِلیں تھیں آپ سے لاہور میں 

جانے کس آسیب کا سایہ ہے میرے شہر پر

آج کل لگتے نہیں ہیں قہقہے لاہور میں

لاہور کے حوالے سے دل صاف، کشادہ اور شاد کرنے والی اِس خوبصورت غزل کے بعد میرا جی تو نہیں چاہتا لاہور کی گندگی پر میں بات کروں، پر کیا کروں میرے کچھ قارئین شہر میں جابجا بکھری ہوئی اِس گندگی پر لکھنے کے لیے مسلسل اصرار کررہے ہیں، میڈیا خصوصاً سوشل میڈیا پر شورمچنے کے بعد اِس گندگی (کوڑاکرکٹ) کو اُٹھانے یا ٹھکانے لگانے کا تھوڑا بہت بندوبست ضرور ہوا ہے، پر گندگی اتنی زیادہ ہے ابھی تک دس فی صد گندگی بھی شاید نہیں اُٹھائی جاسکی۔ اُوپر سے ہم مسلسل اِس خطرے کا شکار ہیں ہمارے محترم وزیراعظم اِس گندگی کا کوئی نوٹس ہی نہ لے لیں، حسبِ معمول اُس کے بعد گندگی زیادہ بڑھ جانے کا امکان ہے۔ متعلقہ ادارے کی یہ ذمہ داری ہے اِس گندگی (کوڑاکرکٹ) کو روزانہ بلکہ ہرددوگھنٹوں بعد صاف کرے۔ پرکام چوری کے روز بروز بڑھتے ہوئے رحجان میں اِس حوالے سے کسی کے کان پرجُوں تک نہیں رینگتی، میں نے اپنے گزشتہ ایک کالم میں عرض کیا تھا پنجاب کی سرکارِ اعلیٰ سے اُن کی اہلیت سے زیادہ ہم کچھ نہیں مانگتے، پر اپنی اہلیت وصلاحیت کے مطابق وہ اتنا تو کریں لاہور کی سڑکوں پر کُھلے ہوئے مین ہولوں کا منہ بند کردیں، یعنی گٹروں پر ڈھکنے ہی رکھوادیں، جابجا بکھری ہوئی گندگی کے علاوہ شہر کے کئے مین ہولوں کے منہ کچھ سیاسی ترجمانوں کے منہ کی طرح مسلسل کھلے ہیں، جس طرح کچھ سیاسی ترجمانوں کے جو منہ میں آئے بک دیتے ہیں، اِسی طرح لاہور شہر کی سڑکوں پر موجود مین ہولوں سے اتنی گندگی روزانہ اُبل رہی ہوتی ہے کہ اُن کے قریب سے بلکہ دُور سے بھی گزرتے ہوئے لوگ بچنے کی جتنی چاہیں کوشش کرلیں گندگی کے چھینٹے اُن کے کپڑوں کو حکمرانوں کے ارادوں کی طرح ناپاک کرہی دیتے ہیں، ویسے میں اکثر سوچتا ہوں وزیراعلیٰ کی خدمت میں ذاتی طورپر حاضر ہوکر شہر کی گندگی پر اُن کی توجہ دلاﺅں، پھر سوچتا ہوں وہ اس کا بُرا ہی نہ مان جائیں، بہت سال بیت گئے، اِک روز میں گھر سے باہر نکلا، میں نے دیکھا گھر کے مین گیٹ کے قریب ایک کتا مراپڑا ہے، میں نے لاہور میونسپل کارپوریشن کے اُس وقت کے ایک ڈپٹی میئر، جوبعد میں میئر بن گئے تھے کو فون کیا، اُن سے گزارش کی اِس کتے کو اُٹھوانے کا انتظام کردیں،.... میری اِس گزارش پر وہ مجھ سے سخت ناراض ہوئے، کہنے لگے ”میرا یہ کام نہیںہے“ ....اُن کی ناراضگی کا یہ عالم تھا ایک گالی بھی اُنہوں نے مجھے دے دی، وہ عمر میں مجھ سے بڑے تھے، ظاہر ہے اُن کی اِس گالی کا جواب گالی سے میں نہیں دے سکتا تھا، البتہ اُن کی خدمت میں یہ ضرور میں نے عرض کیا ”جناب میرا کام ” مرحوم“ کے ”لواحقین“ کو اطلاع کرنا تھا۔ اب آپ کی مرضی آپ اِس مرحوم کتے کو اُٹھائیں یا نہ اُٹھائیں “....ویسے میں اکثر سوچتا ہوں جیسی قوم ہوگی ویسے حکمران اُس پر مسلط کردیئے جائیں گے کے”سنہری قول“ کے مطابق ہم پر گندگی پسند بلکہ ہرقسم کی گندگی پسند حکمران شاید اس لیے مسلط کردیئے گئے ہیں کہ ذاتی طورپر ہم خود بھی گندگی پسند ہیں،.... جیسے ہمارے حکمرانوں میں مختلف قسم کی گندگیاں صاف کرنے کی اہلیت نہیں، ایسے ہی ہم میں بھی یہ اہلیت نہیں اپنی گلیوں، محلوں، بازاروں اور سڑکوں کو گندگی سے پاک رکھنے کی کم ازکم اِس لیے ہی کوشش کرلیں کہ ایک تو ہمارے موجودہ حکمرانوں میں گندگی صاف کروانے کی اہلیت نہیں، دوسرے ہمارے دین میں صفائی کو نصف ایمان قرار دیا گیاہے،.... ہم نے شاید گندگی کو ”نصف ایمان“ سمجھ لیا ہے، شاید اِس لیے گندگی کو نصف ایمان سمجھ لیا ہے کہ منہ کی بواسیر میں مبتلا ہمارے کچھ دینی کم سیاسی رہنما اپنی تقریروں اور واعظوں وغیرہ سے معاشرے میں گندگی پھیلا کر اپنی طرف سے شاید یہی پیغام عام کرنے کی کوشش کررہے ہیں کہ ”گندگی نصف ایمان ہے“.... اس پس منظر اور اِس ماحول میں، میں جب دنیا کے مختلف ممالک میں جاتا ہوں، وہاں صفائی کا نظام دیکھ کر مجھے یوں محسوس ہوتا ہے یہ بہت ”بے ایمان “ لوگ ہیں، .... پچھلے برس میں جاپان میں پاکستان کے ہردل عزیز سفیر جناب امتیاز احمد کی خصوصی دعوت پر تین ہفتے کے لیے جاپان گیا وہاں کی صاف شفاف سڑکیں دیکھ کر میرا دِل خراب ہونے لگا۔ یوں محسوس ہوا مجھے ابھی متلی ہوجائے گی۔ اصل میں میں پاکستان میں جس گندے ماحول میں پلابڑھا ہوں، خصوصاً گزشتہ دواڑھائی برسوں سے میرے ملک بالخصوص میرے شہر لاہور میں گندگی جس بلند وبدمقام پر آکر رُک گئی ہے بلکہ مزید بڑھ رہی ہے، مجھے اِس کی عادت ہوگئی ہے، لہٰذا صاف ستھرا ماحول جہاں بھی ہو میرا جی متلانے لگتا ہے،.... سچ پوچھیں مجھے تو اب یہ بھی محسوس ہوتا ہے بزدار صاحب کو ہٹا کر پنجاب میں کسی اور کو لایا گیا تو میرا جی متلانے لگے گا۔ اور مجھے لگتا ہے میرا جی جلد متلانے والا ہے!! 


ای پیپر