Pakistan-Youm-e-Takbeer
27 جنوری 2021 (16:03) 2021-01-27

لاہور:تجزیہ کارڈاکٹر اسلم ڈوگر نے کہا ہے کہ پاکستان حکمرانوں نے اٹامک انر جی پر کبھی بھی امریکہ کا پریشر نہیں لیا کوئی بھی پاکستان حکمران ہو اس نے اپنے ایٹمی پروگرام پر امریکہ سے کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیامغرب میں بیشمار کتابیں شائع ہوئیں پاکستان کیخلاف پراپیگنڈہ کیا جاتا ہے کہا جاتا ہے کہ پاکستان میں ہر کام امریکہ کے کہنےپر ہو تا ہے۔

انہوں نے کہا کچھ عرصہ پہلے لیوی نے ایک کتاب لکھی وہ پاکستان میں بھی رہے ہیں اخبار نویس ہیں انہوں نے کتاب میں لکھا کہ پاکستان نے دھوکہ دیکر اپنے کام کئے کہا جا تا ہے کہ پاکستانی حکمران ہمیشہ سے امریکہ کے غلام رہے ایوب خان نے کتاب لکھی اس میں انھیں پیغام دیا کہ ہم آپکو دوست سمجھتے ہیں آپ آقا نہیں ہیں شروع میں جب پاکستان اور امریکہ تعلقات بڑھے تو امریکہ نے پاکستان کو فوجی امداد دینا شروع کردی فوجی امداد چلتی رہی پاکستان استفادہ کرتارہا ۔

ایک موقع پر روس میں جب امر یکہ نے روس میں مداخلت شروع کی تو اس نے کہا کہ پاکستانی فوجی بھجوا دیں پاکستان نے کہا کہ آپ ہمارے ساتھ یہ معاہدہ کریں کہ اگر بھارت کے ساتھ جنگ ہو تی ہے تو آپ ہمارے ساتھ کھڑے ہونگے امریکہ نے انکار کر دیا آپ صرف ایک دستہ بھجوا دیں تاکہ پیغام جائے کہ آپ ہمارے ساتھ کھڑے ہیں پاکستان نے انکار کر دیا، امریکہ کا پاکستانیوں سے ہمیشہ یہ مطالبہ رہا ہے کہ اسرائیل کی مخالفت نہ کریں تعلقات قائم کریں پاکستان کا اسرائیل کے معاملے میں عربوں سے بھی زیادہ سخت ہے پاکستان میں کوئی بھی لیڈر یہ سوچ ہی نہیں سکتا کہ ہم اسرائیل کو تسلیم کرینگے ۔

پاکستانی موقف امریکی موقف سے کتنا مختلف ہے پاکستانی حکمرانوں نے امریکہ کا کتنا پریشر براداشت کیا ،جس وقت بھارت نے ایٹمی دھماکہ کیا تو بھٹو وزیر اعظم تھے انہوں نے کہا کہ ہم گھاس کھالیں گے پاکستان نے بہت کم پیسوں سے ایٹمی پلانٹ بنایا ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے کوڑیوں کے مول کہوٹہ میں ایٹمی پلانٹ بنایا کہا جا رہا تھا کہ بھٹو کو پھانسی ایٹمی پلانٹ لگانے پر دی گئی،جس شخص نے بھٹو کو پھانسی دی اسکے دور میں ہی ایٹمی پلانٹ مکمل ہوا پاکستانی حکمرانوں نے کبھی بھی ایٹمی ٹیکنا لو جی پر امریکی پریشر کو نہیں لیا ،واجپائی نے دھماکے کئے اس موقع پر نوازشریف پر دھماکے نہ کرنے کا پریشر تھا انہوں نے اسے قبول نہیں کیا ۔


ای پیپر