Dr. Zahid Munir Amir columns,urdu columns,epaper
27 جنوری 2021 (11:51) 2021-01-27

اہل وطن کے لیے یہ خبر مسرت کا باعث ہوگی کہ پنجاب یونی ورسٹی نے انیسویں صدی سے جاری تدریس اردو کے عمل کو ایک نئی جہت دیتے ہوئے انسٹی ٹیوٹ آف اردولینگوئج اینڈ لٹریچرکے قیام کا اعلان کیاہے۔انسٹی ٹیوٹ آف اردو لینگوئج اینڈ لٹریچریاادارئہ زبان و ادبیات اردو کے قیام کے موقع پر مناسب ہو گا اگر اس ادارے میں تدریس اردو کے ڈیڑھ سوسالہ سفر پر ایک نگاہ ڈالی جائے کہ تاریخی تناظر ،حقائق و واقعات کو دیکھنے کے لیے درست زاویہ فراہم کر دیتا ہے۔پنجاب یونی ورسٹی کی اساس، اورینٹل کالج ہے اور اورینٹل کالج کی اساس 21جنوری  1865ء کولاہورمیں قائم ہونے والی ایک نیم سماجی نیم ادبی تنظیم انجمن اشاعت مطالب مفیدہ پنجاب …انجمن پنجاب کے رنگارنگ مقاصد میں علوم مشرقی کا احیاسرفہرست تھا۔علوم مشرقی میں اردوبھی شامل تھی اور انجمن کے اربابِ بست و کشاد اس باب میں متفق رائے تھے کہ اردواور ہندی کی تعلیم اس وقت تک مکمل نہیں ہوسکتی جب تک عربی، فارسی، سنسکرت کی تعلیم کو تقویت نہ ہو۔ لاہورشکساسبھانے 1863ء میں ہیرامنڈی کے قریب ایک پاٹھ شالہ قائم کیا تھا۔ انجمن پنجاب نے اپنے قیام کے بعد 1865ء میں اس پاٹھ شالے کو اپنی تحویل میں لے کر یہاں ایک مدرسے کا آغازکردیاجس میں عربی فارسی اور اردوکی تعلیم دی جانے لگی۔ مئی 1866ء میں مدرسے کے ساتھ تجرباتی طورپرکالج کی جماعتوں کا بھی آغازکردیاگیااوریہاں اردواورفزکس بذریعہ اردو،پڑھائی جانے لگی۔یہ کالج 1868ء تک کام کرتارہا۔یہی انجمن تھی جس کے پلیٹ فارم پر10 جنوری 1865ء کو ڈاکٹرجی ڈبلیولائٹنرنے اورینٹل یونی ورسٹی کے قیام کی تجویزپیش کی۔ پنجاب یونی ورسٹی کیلنڈربابت1874-5ء کے مطابق اس مجوزہ یونی ورسٹی میں اردوکوامتحانات کی ایک زبان کے طورپر تجویز کیا گیا۔ 8دسمبر 1869ء کو یونی ورسٹی کالج قائم ہوا جس کا مقصد یہ قراردیاگیاکہ ’’یونی ورسٹی کالج علوم مشرقی کے فروغ میں پیش پیش رہے گا‘‘ ڈاکٹر جی ڈبلیو لائٹنر اس کالج کے پہلے رجسٹرار مقرر ہوئے اور پنجاب یونی ورسٹی کالج کے قیام کا پہلا مقصد ’’جہاں تک ممکن ہو پنجاب کی دیسی زبانوں (اردو و ہندی) کے ذریعے یورپی علوم وفنون کو شائع کرنا اور دیسی ادبیات کو ترقی اوروسعت دینا‘‘ قراردیاگیا۔مارچ 1872ء میں اس ادارے نے اورینٹل کالج نام پایا۔ اورینٹل کالج کی 1878-9 کی رپورٹ کے مطابق کالج میں جو چالیس مضامین پڑھائے جارہے تھے ان میں منشی اور مولوی فاضل جماعتوں کے لیے اردو بھی شامل تھی۔ اس رپورٹ میں اردومیں پڑھائے جانے والے علم  انشا کا بطور خاص ذکر کیا گیا ہے۔ اس زمانے میں ریاضی، سوشیالوجی (سیاسیات مدن)، جیالوجی (علم طبقات الارض) مبادیات ِقانون اور قانون اسلامی اردو میں پڑھائے جا رہے تھے۔14 جون 1882ء کو پنجاب یونی ورسٹی بل گورنرجنرل کی کونسل میں پیش ہوا جہاں اسے ایک کمیٹی قائم کر کے اس کے سپرد کیا گیا۔ 5اکتوبر1882ء کو یہ بل گورنرجنرل کی منظوری سے کونسل میں لایا گیا جس کے نتیجے میں 14 اکتوبر1882ء کو پنجاب یونی ورسٹی کاقیام عمل میں آیا۔ اس نئی یونی ورسٹی کے مقاصد میں بھی ’’دیسی زبانوں کی تعمیروترقی اورمشرقی کلاسیکی زبانوں اورادبیات کی تعلیم و ترقی ‘‘سرفہرست تھی۔ اردوکے ساتھ اس نوزائیدہ یونی ورسٹی کے تعلق کا اندازہ اس بات سے بھی کیاجاسکتاہے کہ 18 نومبر 1882ء کو منعقدہونے والے پہلے یونی ورسٹی کانووکیشن میں یونی ورسٹی کے پہلے رجسٹرار اور بانی ڈاکٹر جی ڈبلیو لائٹنر نے یونی ورسٹی کی پہلی رپورٹ کا خلاصہ اردو میں پیش کیا۔ بعدمیں بھی انگریز حکمران اردومیں خطبات پیش کرتے رہے۔ انگریز وائس چانسلر  G R Elsmie  1885 ..1887 نے یونی ورسٹی کانووکیشن میں اردو میں تقریر کی۔1910ء میں وائسرائے لارڈکرزن نے انگریزی پر زوردینے کی روش پر اعتراض کیا اور اردو کو اختیارکرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ 1950ء کے کانووکیشن میں سردارعبدالرب نشتر نے اردومیں خطبہ دیا اسی طرح 1989ء میں صدر غلام اسحق خان نے اردو میں تقریر کی یوں اردوسے یونی ورسٹی کا تعلق مضبوط تر ہوتا گیا موجودہ وائس چانسلر پروفیسرڈاکٹر نیاز احمد اختر نے بھی اس روایت کو برقراررکھا ہے۔ یکم اکتوبر 1884ء کو اردو کے بے مثل انشا پرداز محمد حسین آزاد گورنمنٹ کالج لاہورسے اورینٹل کالج آ گئے اور جب تک برسرکار رہے اسی ادارے سے وابستہ رہے۔ بعد کے زمانے میں علامہ اقبال نے بھی اپنے کیریرکا آغاز اسی ادارے سے کیا جس سے وہ 13 مئی 1899ء کو وابستہ ہوئے اور یہ تعلق کم و بیش چاربرس تک قائم رہا۔

1882ء میں یونی ورسٹی سنڈیکیٹ نے اردوہندی اور گورمکھی کے لیے تین لیکچررزکی آسامیاں منظور کیں، جن میں سے ایک پر اردو کے پہلے لیکچرر کی حیثیت سے ممتاز محقق اور اردو تحقیق کے معلم اول کہلانے والے حافظ محمد محمود خان شیرانی کا تقرر ہوا۔ حافظ محمودشیرانی 1914ء تک اس منصب پر فائز رہے، ان کے سبکدوش ہو جانے پر ڈاکٹر سید محمد عبداللہ اردو کے لیکچرار ہوئے جنہیں 1945ء میں ریڈر بنا دیا گیا، ریڈر آج کے ایسوسی ایٹ پروفیسر کے برابر ہوتا تھا۔ 1953ء میں وہ ریڈر سے پروفیسر بنے۔ 1954ء میں وہ  پرنسپل اورینٹل کالج بھی بنا دیے گئے۔ انہوں نے صدر شعبہ اردو، صدر شعبہ فارسی اور صدر شعبہ عربی کے طور پر بھی خدمات انجام دیں۔

ڈاکٹر سید عبداللہ نے اپنے عہد میں اردو بی اے آنرز کا سلسلہ شروع کیا۔ اس سے پہلے 1920ء میں عربی اور سنسکرت میں اس کا تجربہ کیا جا چکا تھا جو کامیابی سے ہم کنار نہیں ہو سکا تھا۔ اردو بی اے آنرز میں مختلف مضامین کی تدریس کے لیے انگریزی، اقتصادیات، سیاسیات وغیرہ کے اساتذہ کا تقرر بھی کیا گیا لیکن یہ سلسلہ تین برس سے زیادہ جاری نہ رہ سکا۔ بی اے آنرز کی آخری کلاس میں صرف ایک طالب علم تھا۔ اس سلسلے کا مقصد اورینٹل کالج کے اصل وجودکو برقراررکھنے کی کوشش تھا جو عالم اور فاضل کی کلاسوں کے ثانوی تعلیمی بورڈ کی طرف منتقل ہوجانے سے خطرے میں پڑ گیاتھا۔رفتہ رفتہ مولوی فاضل اور منشی فاضل کی کلاسیں بھی ختم ہوگئیں یوں اورینٹل کالج جس روایت کا امین تھاوہ دم توڑ گئی۔ اب اورینٹل کالج مختلف لسانی شعبوں پر مشتمل ایک اکائی کی حیثیت سے باقی رہا، جن میں اردو، عربی، فارسی بعدازاں پنجابی میں ایم اے اور کچھ مغربی وایشیائی زبانوں کی ابتدائی سطح کی تدریس شامل تھی۔ شعبہ اردو، ایک شعبے کی حیثیت سے تو 1928ء میں حافظ محمودشیرانی کے تقرر کے وقت سے کام کررہاتھا لیکن اس میں ایم اے اردوکی سطح کی تدریس کا آغاز 1948ء میں ہوا پہلے ہی سال طالب علموں کی بڑی تعداد(پچپن طالب علم ) ایم اے اردومیں داخل ہوئی۔ اسی سال طالب علموں کی ادبی تربیت وتہذیب کی غرض سے نومبر میںانجمن اردو بھی قائم کی گئی۔پنجاب میں اردوکے ایک بڑے محسن، مدیرمخزن، علامہ اقبال کے دوست اور بانگ درا کے دیباچہ نگارسر شیخ عبدالقادر انجمن اردو کے پہلے صدر مقررہوئے ان کے بعدجسٹس ایس اے رحمٰن، میاں عبدالعزیز فلک پیما، ڈاکٹر خلیفہ عبدالحکیم جیسے اکابر اس انجمن کے صدر رہے۔حافظ محمودشیرانی کے بعد 1948ء میںمقررہونے والے دوسرے لیکچرر اردو ڈاکٹر سید عبداللہ اس وقت شعبے کے سربراہ تھے۔ پہلے تووہ تن تنہا تدریسی ذمہ داریاں ادا کرتے رہے بعدازاں سرشیخ عبدالقادر، ڈاکٹر محمد طاہر فاروقی، مولانا محمد یحییٰ تنہا، خواجہ محمد شفیع دہلوی، جیسے بزرگ اس قافلے میں شامل ہوئے۔ ڈاکٹر محمد دین تاثیر نے بھی شعبہ اردو میں تدریسی خدمات انجام دیں۔ فروری 1949ء تک شعبے کو اپنے مستقل اساتذہ بھی مل گئے۔ انٹرکالجیئیٹ نظام کے تحت جن نامور اساتذہ نے شعبہ اردو میں قومی زبان کی تدریس میں حصہ لیا ان میں مولانا علم الدین سالک، صوفی غلام مصطفیٰ تبسم، سید عابد علی عابد، قیوم نظر، ڈاکٹر محمد صاد ق جیسے اساتذہ شامل رہے۔ ڈاکٹر سید عبداللہ کے بعد شعبہ اردو کی زمام کار  پروفیسر سیّد وقار عظیم، ڈاکٹر عبادت بریلوی، ڈاکٹر وحید قریشی، ڈاکٹر غلام حسین ذوالفقار اور دوسرے نامور اساتذہ کے ہاتھوں میں رہی۔2018ء سے یہ ذمہ داری ان سطور کے راقم کے پاس ہے۔ راقم نے جہاں شعبے میں تدریسی عمل میں باقاعدگی پیدا کی، ادبی 

وتہذیبی سرگرمیوں میں اضافہ کیا، علمی مطبوعات کا سلسلہ شروع کیا۔ ترکی، ایران، مصر، اٹلی، سویڈن، جرمنی، جنوبی کوریا، ڈنمارک کی بڑی یونی ورسٹیوں کے اساتذہ کی طالب علموں سے آن کیمپس ملاقات، ان کے خطبات اور طالب علموں اور اساتذہ کے ساتھ تعامل کا اہتمام کیا۔ سیرت النبیؐ، کشمیر، قائداعظم، غالب، حالی، یوم پاکستان، یوم آزادی، جدید نظم، تنقید، فروغ و رونمائی کتب، فکر اقبال پر پروگرامز اور سیمینارز منعقد کرائے، کم مدت میںعلامہ اقبال پر دو بین الاقوامی کانفرنسوں کا انعقادکرایا، وہاںشعبے کی روایت کو نئی منزلوں سے آشنا کرنے اور اسے بین الاقوامی معیار عطا کرنے کے لیے  6جنوری2020ء کو اساتذہ شعبہ اردو کا ایک اجلاس منعقدکر کے اس میں انسٹی ٹیوٹ کے قیام کی تجویز پیش کی، اس انسٹی ٹیوٹ کا ایک خاکہ بھی بنا لیا گیا جس کے مطابق انسٹی ٹیوٹ میں تین شعبے، چار مساند اور تین مراکز بنانے کی تجویز منظور کی گئی۔ یہ خاکہ اساتذہ کی منظوری سے بورڈ آف اسٹڈیز کو بھیجا گیا۔ بورڈ آف اسٹڈیز اردو نے راقم الحروف کی صدارت میں منعقد ہونے والے اجلاس 7 اگست2020ء میں اس تجویز کو چند معمولی ترامیم کے ساتھ منظور کر لیا۔ تجویزکی نئی صورت میں شعبوں اور سنٹرز کے الفاظ کو پروگرامز اور سیکشنز سے تبدیل کر دیا گیا اور یہ خاکہ وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر نیاز احمد اختر صاحب کی خدمت میں بھجوا دیا گیا۔ وائس چانسلر صاحب نے اسے تشکیل نو کے دوسرے کیسز کے ساتھ 27 اکتوبر 2020ء کو اکیڈیمک کونسل میں پیش کیا۔ انتظامی نوعیت کے فیصلے اکیڈیمک کونسل کی منظوری کے بعد یونی ورسٹی سنڈیکیٹ میں پیش کیے جاتے ہیں۔ 11 نومبر 2020ء کو تشکیل نو کے تمام کیسز سنڈیکیٹ کے اجلاس میں پیش کیے گئے جنہیں سنڈیکیٹ نے منظور کر لیا۔ سنڈیکیٹ کی منظوری کے بعد یونی ورسٹی کا اعلیٰ ترین ادارہ یونی ورسٹی سینیٹ ہے۔ جس کی صدارت بہ حیثیت چانسلر پنجاب یونی ورسٹی، گورنر پنجاب کیا کرتے ہیں۔ 26نومبر 2020ء کو گورنر پنجاب جناب محمد سرور کی صدارت میں منعقد ہونے والے پنجاب یونی ورسٹی سینیٹ کے 356ویں اجلاس میں یونی ورسٹی اداروں کی تشکیل نو کی دوسری تجاویز کے ساتھ انسٹی ٹیوٹ آف اردو لینگوئج اینڈ لٹریچر کے قیام کی منظوری دے دی گئی۔ جس کی روشنی میں رجسٹرار ڈاکٹر محمد خالد خان نے 22 جنوری 2021ء کو یہ فیصلہ نوٹیفائی کر دیا۔ یہ ایک تاریخی لمحہ ہے جس پر پنجاب یونی ورسٹی کے وائس چانسلر جناب پروفیسر ڈاکٹر نیاز احمد اختر، ڈین آف فیکلٹی پروفیسر ڈاکٹر خالق داد ملک، شعبہ اردو کے تمام وابستگان خصوصاً شعبے کے موجودہ اساتذہ ڈاکٹر محمد کامران، ڈاکٹر ضیا الحسن، ڈاکٹر ناصر عباس نیر، ڈاکٹر عارفہ شہزاد، ڈاکٹر محمد نعیم، ڈاکٹر انیلا سلیم اور ڈاکٹر آصف علی چٹھہ نیز تمام طلبا و طالبات بجا طور پر مبارک باد کے مستحق ہیں۔


ای پیپر