dr azhar waheed columns,urdu columns,epaper,urdu news papers
27 جنوری 2021 (11:45) 2021-01-27

یہ اَمر باعث ِ صد برکت ورحمت ہے کہ فی زمانہ اُردواَدب کے کینوس میں نعتیہ مشاعرے کی روایت کا قلم لگ چکا ہے۔ باقاعدہ نعت فورم تشکیل پا چکے ہیں‘ جہاں شعرائے عظام اپنا تازہ نعتیہ کلام پیش کرتے ہیں۔ بسا اوقات طرحی مشاعرے کا اہتمام بھی ہوتا ہے۔ پہلے پہل شعرا صرف غزل کہاکرتے اور ہر شاعر کی کوشش ہوتی کہ تبرکاً چند نعتیں بھی کہہ کر دبستانِ حسّان میں اپنا نام لکھوا لے، لیکن اب بحمدللہ، ایسے شعرا کرام کی ایک فہرست موجودہے ‘جنہوں نے خو د کو صرف نعت کہنے میں مخصوص کیا۔ محترم حفیظ تائبؒ سے لے کے کر صوفی حافظ محمد افضل فقیرؒ تک ایسے صوفی منش شعرا موجود ہیں جنہوں نے اپنے شعری ذوق و استعداد کو نعت گوئی کے لیے وقف کیا۔ بنیادی طور پر ہر صوفی نعت گو ہی ہوتا ہے‘ خواہ و ہ نظم لکھے‘ یا نثر۔ مرشدی حضرت واصف علی واصف ؒ کی نثرملاحظہ کریں، بلند پایہ نقاد لکھتے ہیں کہ واصف علی واصفؒ کے مضامین نثری نعت ہیں۔مضامین ِ واصف ؒ میں ہر موضوع کا نقطۂ معراج ذکرِحبیبؐ خدا ہوتا ہے۔ اسی طرح غزلیات ہیں۔ بیشتر غزلیات مطلع سے مقطع تک نعت ہیں، باوصف اس کے کہ نعت گوئی میں آپؒ کا مقامِ امتیاز جدا ہے۔ آپؒ نے اُردو ، پنجابی اور ہندی زبان میں بالخصوص بھی نعت کہی۔ غزل اور نعت کا ربط بناتے ہوئے‘ اپنے پنجابی کلام’’بھرے بھڑولے‘‘ میں کہتے ہیں:

تیر ی نعت نوں غزل بناوندا جی سی ڈاڈھا کردا

مزید کہتے ہیں: 

چھوٹی وڈی نعت نہیں ہوندی پیش کرو جو سَردا

’’شب چراغ‘‘ آپؒ کا اوّلین شعری مجموعہ ہے، اس میں ایک نمائندہ غزل میں آپؒ یوں نغمہ سرا ہیں: 

صورت میری آنکھوں میں سمائے گی نہ کوئی 

نظروں میں بسی رہتی ہے سرکارؐ کی صورت

آپ ؒ ستّر کی دہائی میں نابھہ روڈ پرانی انارکلی ’’لاہور انگلش کالج‘‘ میں نعتیہ مشاعروں کا اہتمام باقاعدگی سے کرواتے رہے۔ اُس دَور کے ممتاز شعرا اِس میں شرکت کرنے کو اپنے لیے باعث ِ برکت تصور کرتے۔ اِسی روایت کے تسلسل میں اِس خاکسار نے ’’مجلسِ فکر واصفؒ‘‘ کے زیرِ اہتمام نعتیہ مشاعروں کے انعقاد کا سلسلہ شروع کیا۔’’ مجلسِ فکرِ واصفؒ‘‘ کے بنیاد آج سے بارہ برس قبل رکھی گئی، سہ ماہی ’’واصفؒ خیال‘ کا اجراء بھی اِسی فورم سے ہوا، مزید براں ہفتہ وار ادبی و فکری نشستوں کا آغاز بھی اسی روایت کے تسلسل کی صورت ہے۔ یہ فقیر اعتراف کرتا ہے کہ وہ شاعر نہیں‘ بنیادی طور پر نثر نگا رہے، شعری ذوق صرف نعت کہنے اور سننے کے 

لیے مخصوص ہے۔’’مجلسِ فکرِ واصفؒ‘‘ میں منعقد ہونے والے ماہانہ نعتیہ مشاعروںنے شعری ذوق کو مہمیزکیا۔ الحمد للہ! اب ہر مشاعرے پر ایک تازہ نعت کہنے کی سعادت میسر آ جاتی ہے۔ اس نعتیہ مشاعرے میں شرکت کرنے والے باقی شعرا ئے کرام سے پوچھیں تو وہ بھی کچھ ایسی ہی قلبی واردات کا اعتراف کرتے ہیں۔ 

اوائل سے چند ماہ قبل تک نعتیہ مشاعرے کی نشست ’’واصفؒ میڈیکل سینٹر‘‘ واقع محمدعلی جوہر ٹاؤن لاہور میں ہوتی رہی۔ کرونا ئی ماحول میں یہ سلسلہ کچھ عرصہ موقوف رکھنا پڑا۔ ازاں بعد حاضرین و سامعین کی تعداد بڑھنے کی وجہ سے اور کرونائی وبا کی احتیاطی تقاضوں کے پیشِ نظر سے جگہ تبدیل کرنا پڑی۔ اب یہ نشستیں ہمارے ہمدمِ دیرینہ محمد یوسف واصفی کی رہائش گاہ میں ( جی بلاک جوہر ٹاؤن) میں ہوتی ہیں۔ یوسف واصفی صاحب ان مشاعروں کے مستقل نقیب ہیں۔ یوں تو سب مانتے ہیں کہ شاعری خداداد صلاحیت ہے لیکن یوسف صاحب کی زندگی کو دیکھتے ہیں تو رُوحانی تصرفات پر یقین آنے لگتا ہے۔ حیرت ہوتی ہے‘ شاعری کی ابجد سے یکسر ناواقف ایک شخص جو صرف سائنس پڑھنا اور سوچنا جانتا تھا‘ دیکھتے ہی دیکھتے کیسے زبان و بیان پر قدرت رکھنے والا ایک اعلیٰ ذوق و ظرف کا حامل قادر الکلام نعت گو شاعر بن گیا۔ اِن کی شاعری بھی فقط نعت اور منقبت کے لیے مخصوص ہے۔

 برادرم مظہر عباس چودھری کہ درجنوں کتابوں کے مؤلف اور معلم ہیں’’ مجلسِ فکر ِ واصفؒ‘‘ کے نعتیہ مشاعرے کے حوالے سے ایک تحقیقی مقالہ تحریر کرنے کا اِرادہ رکھتے ہیں۔اس ماہ منعقد ہونے والے نعتیہ مشاعرے میں اِس فقیر سے اس بابت ابتدائی تعارف کے حوالے سے ایک تحریر کے طالب ہوئے۔ چنانچہ تکریمِ زبانِ خلق کاتقاضا تھا کہ ایک مختصر ابتدائیہ قلم بند کردیا جائے۔ یہاں ہونے والے ماہانہ نعتیہ مشاعرے میں شریک شعرائے کرام کا ایک مختصرتذکرہ ضروری ہے۔مظہر عباس چودھری ایک نہایت زود گو شاعر ہیں، نعت کے ساتھ ساتھ منقبت کا حوالہ اِن کی تخصیص ہے۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کے مناقب پر اِن کا ایک شعری مجموعہ’’عْلو‘‘ کے نام سے منصّہ شہود پر موجود ہے۔ راقم اس کتاب پر انہیں تحریری صورت میں خراجِ تحسین پیش کر چکا ہے۔ ہمارے نعتیہ مشاعرے کے مستقل صاحب ِ صدر محترم پروفیسر حسن عسکری کاظمی ہوتے ہیں۔ اِن کی صدارت ہمارے مشاعرے کے لیے جہاں باعثِ عز و افتخار ہے‘ وہاں ہم ایسے شاگردوں کے لیے اصلاح کا ایک باب بھی ہے۔ پروفیسر صاحب کے فکر و فن پر چار مقالے مکمل ہو چکے ہیں، نعت کا حوالہ بھی ایسا معتبر ہے کہ ایک دو تین نہیں بلکہ چودہ نعتیہ مجموعے اب تک شائع ہو چکے ہیں اور ابھی یہ سلسلہ جاری ہے، اللہ کریم انہیں عمرِ خضر عطا کرے، نوّے برس کی پیری میں ہم ایسے مضمحل نوجوانوں کے لیے ان کا وجود باعث ِ تقویت ہیں۔ ایک اور اہم نام برادرم محمد طارق واصفی کا ہے۔ واصفی نسبت ہمارے درمیان قدرِ مشترک ہے۔ قادرالکلام شاعر ہیں، نعت کا حوالہ بہت مضبوط ہے، کسی تعارف کے محتاج نہیں۔ کرامت بخاری صاحب کا شعری حوالہ اور تعارف اہلِ لاہور کے لیے کبھی بھی اجنبی نہیں رہا۔ جب سے کرامت بخاری اس نعتیہ مشاعرے میں شرکت کرنے لگے ہیں‘ سچ پوچھیں تو ہماری محفل کو چار چاند لگ گئے ہیں۔ شستہ اور مختصر شعر کہتے ہیں، اور جب نعت اور منقبت پر آتے ہیں تو کمال کرتے ہیں۔ ان کے بعض اشعار تخلص سمیت کرامت آفریں ہوتے ہیں۔ مثلاً یہی شعر دیکھیں :

کم نہیں یہ بھی کرامت کہ کئی صدیوں سے 

کربلا سایہ فگن ہے ‘ نئے افکار کے ساتھ

کامرانؔ شاہین آغاز ہی سے ہمارے ساتھ منسلک ہیں۔ سہ ماہی’’واصفؒ خیال‘‘ سے لے کر نعتیہ مشاعرے تک قدم قدم پر انہوں نے بھرپور ساتھ دیا ۔ بہت منجھے ہوئے اور نستعلیق شاعرہیں، مختلف اَدبی مجالس کے رُوحِ رواں رہے، بس گردشِ زمانہ اور چکی کی مشقت اْنہیں بسا اوقات اپنے ذوق ِ فکر و فن کے سفر میں مانع ہو جاتی ہے۔ 

شاعر ابنِ شاعر ابن ِ شاعر فرید لاہوری بھی ابتداہی سے باقاعدگی سے شرکت کرنے والے شعرا میں شامل ہیں۔ ترنم سے پڑھتے ہیں ،پنجابی نعت بھی کمال کی کہتے ہیں۔ عبدالرزاق ایزدؔ ‘بحمدللہ‘ گزشتہ بارہ برس سے اس محفل میں ساتھ ساتھ چل رہے ہیں، اِن کے ساتھ کرم کی بات یہ ہوئی کہ ِاس محفل کی برکت سے اِن کی شاعری نے گلستانِ نعت کا رخ کر لیا ہے، ہر مرتبہ تازہ نعت سناتے ہیں اور کمال کرتے ہیں۔ روانی اور سلاست میں ڈھلا ہوا کلام بہت لطف دیتا ہے۔ جناب ایاز الغنی اور احسان ساحر بھی ایک عرصے سے اس نعتیہ مشاعرے کے مہمان شعرا کی فہرست میں ہوتے ہیں۔ اُبھرتے ہوئے نئے شعرا ء میں نوید ناظم اور رفیع الدین کا ذکر بھی یہاں ضروری ہے۔ گاہے گاہے شامل ہونے والوں میںجناب اختر شمار اور زاہد شمسی صاحب کے نام فوری طور یادداشت کی تختی پر اُبھر آئے ہیں۔ 

لاہور میں نعتیہ مشاعروں کی روایت میں’’ مجلس ِ فکر واصفؒ‘‘ کا حصہ اہلِ فکر و سخن کی نظروں سے ہرگز اوجھل نہیں رہا۔ دُعا ہے کہ اس شعری ذوق کا رُخ سوئے مدینہ و نجف رہے اور حاضرین و سامعین کے لیے فلاح ِ دارین کا باعث بنے۔


ای پیپر