farooq adam khan,nawaz sharif,nab,broadsheet,kaveh mosvi
27 جنوری 2021 (10:45) 2021-01-27

لندن : نیب کے سابق پراسیکیوٹر جنرل اور بعد ازاںبراڈ شیٹ کے ساتھ کام کرنے والے فاروق آدم خان نے لندن کی عدالت میں یہ اعتراف کیا تھا کہ نواز شریف اور ان کے ساتھیوں پر بیرون ملک کسی بنک میں  ایک ارب ڈالر کے اثاثوں کا اندازہ قیاس آرائی تھا۔

تفصیلات کے مطابق نیب کے سابق پراسیکیوٹر جنرل فاروق آدم نے برطانوی عدالت کے سامنے 2015 میں کہا کہ فاروق آدم نے ہی نیب سے براڈ شیٹ کا معاہدہ تیار کیا  تھا ۔ انہوں نے نیب کے پراسیکیوٹر جنرل کا عہدہ اس وقت کے نیب چیئر مین جنرل (ر) امجد کی درخواست پر سنبھالا تھا۔انہوں نے تسلیم کیا کہ نیب چھوڑنے کے بعد انہوں نے براڈ شیٹ کیلئے کام شروع کر دیا تھا۔

فاروق آدم نے 2010 میں نواز شریف کے ایک ارب ڈالر اثاثوں کا بیان حلفی دیا اور پانچ سال بعد اپنے بیان حلفی سے مکر گئے اور کہا کہ پچھلے بیان حلفی کے وقت بیمار تھا۔انہوں نے اپنے دوسرے حلف نامے میں کہا کہ 2010 میں میںبیمار تھا اس لئے میرا نیا حلف نامہ قبول کیا جائے۔دوسرے حلف نامے میں فاروق آدم خان نے کہا کہ نواز شریف کے اثاثوں سے متعلق دعوے اندازوں کی بنیاد پر کئے گئے تھے۔فاروق آدم خان نے 2010 والے حلف نامے میں یہ دعویٰ بھی کیاتھا کہ معاہدہ منسوخ نہ ہوتا تو براڈ شیٹ ایک ارب ڈالر نکلوا سکتا تھا۔ 

انہوں نے یہ بھی الزام لگایا ہے کہ سابق چیئر مین نیب جنرل (ر) امجد پر براڈ شیٹ کو مشورے دیتے تھے کہ نیب کے ساتھ معاملات کیسے نبٹائے جائیں۔ فاروق آدم خان دل کے عارضہ کے سبب 2018 میں انتقال کر گئے تھے۔


ای پیپر