افغان مسافر طیارہ کیوں مار گرایا ؟طالبان نے اہم وجہ بتا دی
27 جنوری 2020 (21:46) 2020-01-27

کابل : تحریک طالبان افغانستان نے اپنے زیر انتظام علاقے میں مسافر طیارے کی تباہی کی ذمہ داری قبول کرلی،طیارے میں 80کے قریب مسافر بھی سوا ر تھے ۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق افغانستان کی سرکاری ائیرلائن آریانا ائیرلائنز کا مسافر طیارہ ہرات سے کابل کےلئے پرواز کررہا تھا جو صوبہ غزنی کے مشرقی ضلع دیہک کے پہاڑی علاقے میں گر کر تبا ہوگیا، افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ مجاہدین نے ایک امریکی طیارے کو مار گرایا ہے جس میں متعدد افسران سوار تھے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ تباہ ہونے والے طیارے میں سی آئی اے کے اعلیٰ افسران سوار تھے جو جاسوسی کے مشن کیلئے طیارہ استعمال کر رہے تھے، طالبان کے زیر انتظام علاقوں میں جاسوسی کیلئے مسافر طیارے استعمال کیے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ طالبان کے زیر انتظام علاقوں میں گزشتہ کچھ عرصے کے دوران غیر ملکی ہیلی کاپٹرز اور طیاروں کی تباہی کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔

برطانوی اخبار دی گارڈین سے گفتگو کرتے ہوئے ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ اس طیارے کی تباہی کا امریکہ کے ساتھ امن مذاکرات پر کوئی اثر نہیں ہوگا، فریقین کے مابین تاحال کوئی باضابطہ معاہدہ نہیں ہوا، امریکیوں کی جانب سے بھی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔عینی شاہدین کے مطابق طیارہ گرنے کے بعد طیارے میں آگ بھڑک اٹھی جس کے بعد لگتا ہے کہ شاید ہی کوئی مسافر یا عملہ اس حادثہ میں بچا ہو گا ۔

تین سرکاری حکام کا دعویٰ ہے کہ حادثے کا شکار ہونے والا طیارہ افغانستان کی سرکاری فضائیہ آریانا کا طیارہ تھا تاہم فضائی کمپنی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر میر واعظ میر زکوال نے ان خبروں کی تردید کی ہے۔میر زکوال نے کہ طیارہ تباہ ہوا ہے لیکن وہ ہمارا نہیں۔انہوں نے کہا کہ آریانا کی جانب سے چلائی جانے والی کابل سے ہرات اور ہرات سے دہلی کی دونوں پروازیں محفوظ ہیں۔ افغان صدر اشرف غنی کے دفتر کے سینئر عہدیدار نے بتایا کہ طیارہ صوبہ غزنی میں گر کر تباہ ہوا اور حکام تفصیلات اکٹھی کر رہے ہیں۔


ای پیپر