عمران خان اور وزیر اعلیٰ سندھ کی اہم ملاقات،اہم پیش رفت
27 جنوری 2020 (20:13) 2020-01-27

کراچی:وزیراعظم عمران خان اوروزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ کے مابین طویل ملاقات کے بعد وفاق اورسندھ حکومت کے مابین اختلافی امورکے حل میں اہم پیشرفت ہوئی ہے.

گورنرہاﺅس میں ہونے والی وزیراعظم اوروزیراعلی کی ملاقات میں صوبے میں نئے آئی جی سندھ لگانے سمیت دیگر کئی اہم امورپراتفاق کرلیا گیا ہے امکان ہے کہ وفاقی حکومت جلد صوبائی حکومت کی جانب سے آئی جی سندھ کے لیے بھجوائے گئے ناموں میں سے کسی ایک کوآئی جی سندھ تعینات کرے گی اس امر پراتفاق رائے پیرکوگورنرہاﺅس میں وزیراعظم عمران خان اوروزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ کے درمیان ملاقات میں کیا گیا۔ ملاقات میں وزیراعلی سندھ نے وزیراعظم کوصوبے میں امن وامان آئی جی سندھ ڈاکٹرکلیم امام کے حوالے سے سندھ کابینہ کے تحفظات اوردیگرامورسے تفصیلی طورپرآگاہ کیا اوروزیراعلی سندھ نے اصرار کیا کہ سندھ میں نیا آئی جی صوبائی حکومت کی جانب سے بھجوائے گئے ناموں میں سے کیا جائے۔

قبل ازیں وزیراعظم عمران خان سے گورنرسندھ عمران اسماعیل اوروزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے ملاقات کی اورصوبے میں آٹے کے بحران ترقیاتی منصوبوں سندھ کووفاقی حکومت کی طرف سے ملنے والے فنڈز میں حائل مشکلات سمیت دیگرامورپرتفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ملاقات میں اتفاق کیا گیا کہ وفاق اورسندھ حکومت ملکرصوبے کی ترقی کے لیے کام کریں گے اورتمام امورکومشاورت سے طے کیا جائے گا۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ وفاق کے زیرانتظام منصوبوں میں سندھ حکومت کی تجاویزکو شامل کیا جائے گا،گورنرسندھ عمران اسماعیل نے کہاکہ کراچی کو ترقی دیئے بغیر معاشی ترقی کے اہداف پورے نہیں ہوسکتے،ملاقات میں وزیراعظم نے وفاقی حکومت کی طرف سے کراچی کو مطلوبہ فنڈز کی فراہمی کے لیے سندھ حکومت کی تجاویزپرغورکی یقین دہانی کرائی اورکہاکہ باہمی مشاورت سے ساتھ ملکرکراچی کی ترقی کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔واضح رہے کہ کئی ماہ بعد وزیراعظم کے دورہ کراچی کے موقع پران کی وزیراعلی سندھ سے ملاقات ہوئی ہے وزیراعظم عمران خان جب پیرکوکراچی پہنچے تو ائیرپورٹ پرگورنرعمران اسماعیل اوروزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے فیصل بیس پر ان کا استقبال کیا۔

علاوہ ازیں وزیراعلی ہاس کے جاری کردہ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے پیر کو گورنر ہاس میں وزیر اعظم عمران خان سے ملاقات میں ترقیاتی اسکیموں ، گندم کی قلت ، ٹڈی ٹولہ کے حملوں ، پولیو کے بڑھتے ہوئے واقعات اور کرونا وائرس کے خطرے سمیت متعدد امور پر تبادلہ خیال کیا۔ وزیر اعظم نے وزیر اعلی کو یقین دلایا کہ یہ سندھ حکومت کے ساتھ تمام معاملات اولین ترجیحی بنیادوں پر حل کیے جائیں گے۔ وزیر اعلی سندھ نے ترقیاتی سکیموں پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے وزیر اعظم کو بتایا کہ صوبے کے کچھ اہم منصوبے وزارت منصوبہ بندی و ترقیات میں زیر التوا ہیں اوربتایا کہ کراچی میں جاری وفاقی حکومت کے منصوبے بھی سست رفتار سے آگے بڑھ رہے ہیں۔ اس پر وزیر اعظم نے کہا کہ وہ وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقیات اسد عمر کو حکومت سندھ کی اسکیموں کے عمل کو تیز کرنے کی ہدایت کریں گے۔ جہاں تک کراچی میں وفاقی اسکیمیں سست روی سے چل رہی ہیں ، وزیر اعظم نے وزیراعلی کو یقین دہانی کرائی کہ انہیں جلد از جلد مکمل کیا جائے گا۔وزیراعلی سندھ نے وزیر اعظم کے ساتھ تبادلہ خیال کیا ایک اور ٹڈی ٹڈیوں کی بھیڑ تھی جس نے ملک بالخصوص سندھ میں کھڑی فصلوں کو تباہ کیا ہے۔ وزیراعلی نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ ان کو صحرائی علاقے میں تباہ کیا جائے جہاں ان کی افزائش کا مقام ہے

انہوں نے مزید کہا کہ ان کی افزائش اسی وقت شروع ہوگی جب صحرا میں بارش ہوگی۔ وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ وہ اپنے پلانٹ پروٹیکشن ڈیپارٹمنٹ کو ہدایت کریں گے کہ وہ اخلاقی صحرا والے علاقوں میں ضروری اقدامات اٹھائیں اور فضائی سپرے شروع کریں۔ وزیراعلی نے چین اور متحدہ عرب امارات سے ہوائی جہاز کرایہ پر لینے کی تجویز پیش کی تاکہ بروقت کارروائی کی جاسکے۔ وزیر اعظم نے متعلقہ وفاقی حکومت کے محکمہ کو ہنگامی اقدامات کرنے اور سپرے شروع کرنے کی ہدایت کی۔ملاقات میں پولیو کیسز میں اضافے کے معاملے پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا جس پر وزیر اعظم نے شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ وزیراعلی نے کہا کہ پولیو وائرس نہ صرف ہمارے بچوں کو اپاہج بنا رہا ہے بلکہ عالمی برادری میں پاکستان کو الگ تھلگ کرنے جارہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے سندھ میں پولیو وائرس پر قابو پانے کے لئے سخت اقدامات اٹھائے ہیں لیکن افغانستان ، بلوچستان اور کے پی کے سے بار بار آنے جانے کی وجہ سے یہ وائرس بار بار نمودار ہوتا ہے۔ مراد علی شاہ نے وزیر اعظم کو مشورہ دیا کہ ہمیں اس پر قابو پانے کے لئے حکمت عملی تبدیل کرنا ہوگی۔ وزیر اعظم نے کہا کہ وہ نیشنل پولیو خاتمہ ٹاسک فورس کا اجلاس طلب کریں گے جس میں تمام اسٹیک ہولڈر کو تبدیل کرنے اور اس پر قابو پانے کی حکمت عملی کو مزید تقویت دینے کا لائحہ عمل طے کیا جائے گا،علاوہ ازیں چین میں مہلک وائرس کرونا سے پاکستان باالخصوص سندھ کولاحق خطرات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

وزیراعلی نے نشاندہی کی کہ ملتان میں ایک کرونا وائرس کیس سامنے آیا ہے ممکن ہے کہ شاید یہ کرونا وائرس نہ ہو مگر چینی بڑی تعداد میں پاکستان میں کام کر رہے ہیں۔ سندھ میں چینی تھر اور کراچی میں مصروف عمل ہیں، لہذا ان کے لئے ٹریول ایڈوائزری اور پاکستان کے عوام کے لیے حفاظتی تدابیرکا جاری کیا جانا ضروری ہے۔ وزیر اعظم نے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ ، اسلام آباد کو اپنے ٹیسٹنگ سسٹم کو تیار کرنے کی ہدایت کی اور تمام صوبوں کو ڈبلیو ایچ او کے مشوروں اور احتیاطی اقدامات پر عمل کرنے کی ہدایت کی۔ وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان میں کام کرنے والے چینیوں کی بھی رہنمائی ہونی چاہئئے۔ وزیر اعظم اور وزیر اعلی نے گندم کی قلت کے معاملے پر بھی تبادلہ خیال کیا اور وزیر اعظم نے کہا کہ وہ جلد ہی اس معاملے پر اجلاس طلب کریں گے۔ وزیراعلی نے کہا کہ گندم کی نئی فصل مارچ میں آئی گی، لہذا حکومت کو تقریبا requirement ڈیڑھ ماہ کی ضرورت کی قومی ضرورت کو پورا کرنے کے لئے ضروری انتظامات کرنا ہوں گے۔


ای پیپر