اب کیا فرق پڑتا ہے
27 جنوری 2020 2020-01-27

آرمی ایکٹ ترمیمی بل 2020ء ہماری منتخب پارلیمنٹ کے اندر 14 منٹ کی جس عجلت کے ساتھ منظور کیاگیا اور ماشاء اللہ ملک کی تینوں بڑی منتخب جماعتوں برسراقتدار پاکستان تحریک انصاف اور اپوزیشن کی پاکستان مسلم لیگ ن و پاکستان پیپلز پارٹی نے باقاعدہ دوڑ لگا کر اور ایک دوسری کو پیچھے چھوڑتے ہوئے اس مسودہ قانون پر اپنی اپنی مہر تصدیق ثبت کی وہ آج نہیںتو آنے والے کل ضرور ہمارے بارے میں لکھے جانے والے صفحہ تاریخ پر پوری تفصیل کے ساتھ زیربحث آئے گا… پس پردہ حقائق یا سربستہ راز طشت ازبام ہوں گے لیکن تب تک پلوں کے نیچے سے بہت سا پانی بہہ چکا ہو گا اور سب کچھ ماضی کی داستان بن کر رہ جائے گا تاہم اس پر بھی تعجب کا اظہار کیاجائے گا کہ جو بحث 19 اگست کو وزیراعظم عمران خان کی جانب سے جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت کی توسیع کی منظوری سے لے کر سپریم کورٹ آف پاکستان جیسی عدالت عظمیٰ میں جائزہ کا موضوع بنی… جہاں وزیراعظم کے اعلامیہ میں پائے جانے والے قانونی نقائص بار بار سامنے آئے وہ حتمی فیصلے کے لئے پارلیمنٹ ہائوس پہنچی تو ہماری قوم کے نمائندوں نے ایک لمحہ کی تاخیر کے بغیر بلکہ بلا چوں چراں ترمیمی ایکٹ کا منصوبہ منظور کر کے اسے ارضِ وطن کی کتابِ قانون کا حصہ بنا دیا… اس پر دونوں ایوانوں کے اندر بحث کی گئی نہ ایک ایک شق کا جائزہ لینا ضروری خیال ہوا… اس غیرمعمولی عجلت کے پیچھے کیا محرکات تھے جن کی ذمہ داری آنے والے مؤرخ پہ ڈال دی گئی ہے … تاہم منظورشدہ ترمیمی ایکٹ کے مسودے پر ایک نگاہ ڈالتے ہی پاکستان کی سیاست اور جمہوریت پر اس کے دیرپا اثرات کا اندازہ ہو جاتا ہے … عام فہم زبان میں کہا جا سکتا ہے مذکورہ ایکٹ کی بدولت آئندہ جو بھی آرمی چیف بنے گا وہ اپنے سامنے تین کی بجائے چھ برس کے عہدہ ملازمت کو رکھے گا کیونکہ پہلے تین سال گزر جانے کے بعد کسی وزیراعظم کے اندر ہمت یا جرأت نہ ہو گی کہ وہ اپنے محترم آرمی چیف کو مزید تین سال کی مہلت دینے سے مجالِ انکار کرے… یوں عملی لحاظ سے اس بات کو طے سمجھئے کہ آئندہ ہر آرمی چیف کسی تردد میں پڑے بغیر اصلی تین سال کی بجائے چھ سال کی توسیع شدہ مدت کے لئے اس عہدے کی مسند پر جلوہ آرائی فرمایا کرے گا… اگرچہ آئین مملکت کے حساب سے یہ ایک ماتحت عہدہ ہے مگر عملاً سب پر بھاری ہے … اس کی چھ سال کی مدت کے مقابلے میں منتخب پارلیمنٹ جسے دنیا کی ہر جمہوری مملکت کی طرح ہمارا آئین بھی ملک کا مقتدر ترین اور طاقت ور ترین ادارہ قرار دیتا ہے پانچ برس کے لئے منصہ شہود پر ظاہر ہوا کرے گا… اس کے بعد انتظامیہ کی باری آتی ہے جس کے سربراہ وزیراعظم کو آج تک اڑھائی سال کی عمر سے زیادہ عرصے کے لئے چلنے نہیں دیا گیا … اگر وہ شومئی قسمت سے تیسری بار منتخب ہونے کی اکڑفوں دکھا کر چار برس کا عرصہ نکال بھی لیتا ہے تو اس کی وہ درگت بنا کر رکھ دی جاتی ہے جو نوازشریف کے حصے میں آئی اور اسے دیکھ کر آئندہ کوئی وزیراعظم اپنے خلاف اپنا ایسا حشر ہوتا برداشت نہ کرے گا… گویا عملی طور پر ایک آرمی چیف اپنی آنکھوں کے سامنے دو بار ملکی انتخابات ہوتے دو پارلیمانوں کو بنتا اور تین چار وزراء اعظم کی آنیاں جانیاں دیکھا کرے گا عملاً اس کی حیثیت نگران شخصیت کی ہو گی… یہ اس ملک کے جمہوری نام نہاد نظام کا حصہ ہو گا جس کے بارے میں ہم کہتے نہیں تھکتے کہ قائداعظم محمد علی جناحؒ نے اسے سول بالادستی کے مسلمہ آئینی تصور کے تحت بنایا تھا… عمل کی دنیا میں اس کی شکل اور کردار نیم فوجی نیم جمہوری نظام کی سی ہو گی… جس کی ظاہر ہے متفقہ دستور پاکستان کے صفحات تصدیق نہیں کرتے لیکن آئین تو مملکت خداداد کے حقیقی حکمرانوں کی نگاہ میں کاغذ کے ٹکڑے کی مانند ہے جس کا مقابلہ صاحبان

اقتدار حقیقی کے منہ سے نکلے ہوئے جملوں یا خواہشات اور ارادوں کے ساتھ نہیں کیا جا سکتا… کتاب آئین اور نام نہاد زمینی حقائق میں یہ تعارض اگرچہ سب کے سامنے رہے گا اور نگاہ بین آنکھوں کو کھٹکے گا… قوم کے حقیقی اور منتخب نمائندے ضمیر کی آزادی کے ساتھ اس صورت حال سے کس طرح عہدہ برآ ہوا کریں گے یہ اپنی جگہ آنے والی تاریخ پاکستان کا دلچسپ مطالعہ ہو گا…

یہ تو جو ہوا سو ہوا تازہ ترین مسئلہ پاکستان میں کرپشن کی صورت حال کے بارے میں ہے … بین الاقوامی ادارے ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی تازہ رپورٹ جس کے اندر صرف ہمارا نہیں دنیا کے پیشتر بڑے اور چھوٹے ترقی یافتہ اور ترقی پذیر جمہوری و غیرجمہوری ممالک کے انڈیکس پیش کئے گئے ہیں… کہیں پچھلے سال کے دوران کرپشن کم ہوئی ہے کہیں زیادہ مگر سخت ردعمل صرف ہماری حکومت کی جانب سے آیا ہے … جس میں ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی ساکھ کے بارے میں سوالات اٹھا دیئے گئے ہیں … یہ وہ ادارہ ہے جس کی تحقیقات اور ملاحظات کی توثیق وتائید وزراعظم عمران خان اٹھتے بیٹھتے کیا کرتے تھے… لیکن اب چونکہ اس نے واشگاف الفاظ میں بتا دیا ہے کہ کرپشن فری پاکستان کے نعرے پر منتخب ہونے والے عمران خان کے دور میں بدعنوانیوں کا گراف پہلے کے مقابلے میں بلند ہوا ہے تو ماضی قریب میں ان کے نزدیک سچ بولنے والی ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کے اس انکشاف کو حکومتی ترجمان جھوٹا اور تعصب پر مبنی قرار دے رہے ہیں… محض اس لئے کہ زد ان پر آتی ہے … ادارے کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ دو دہائیوں کے دوران پاکستان کے اندر زیادہ کرپشن چوتھے ملٹری ڈکٹیٹر جنرل پرویز مشرف کے عہد میں ہوئی… اس سے کم پیپلز پارٹی کے 1908 تا 1913ء کے عرصے میں رہی… اور مقابلتاً اس کا گراف نوازشریف کے 1913 تا2018ء کے سالوں میں نیچے رہا… مگر 2019ء میں جو ماشاء اللہ عمران خان کے ’عہد زریں‘ کا پہلا مکمل سال تھا یہ پھر اوپر کی جانب چلا گیا… ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل اگر ماضی میں سچ بولا کرتی تھی تو اب اسے جھوٹ کہنے کی ضرورت کیوں پیش آئی ہے … اس کے بارے میں ہمارے حکومتی ترجمانوں نے کچھ نہیں بتایا اور صرف پاکستان کے بارے میں ہی انہوں نے جھوٹ کیوں کہا ہے … دنیا کے دوسرے ممالک کے بارے میں سچ اور پاکستان کے حوالے سے غلط بیانی کی انہیں کیا ضرورت پیش آئی… جس پر ہماری حکومت بے چین اور بے تاب ہوئے جا رہی ہے … شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ گزشتہ چار پانچ سال کے دوران کرپشن کے خلاف سرکاری اور غیرسرکاری طور پر جتنا غلغلہ پاکستان میں پیدا کیا گیا ایک شورِ قیامت تھا جو بلند ہوا… اور قوم کے بچے بچے کی زبان پر اس کا تذکرہ ایسے رواں کیا گیا کہ کانوں پڑی آواز سنائی نہ دیتی تھی… کسی اور ملک کے اندر اس طرح کی مہم دیکھی نہ سنی گئی… ہدف اس کا حکومت وقت تھی… اس کا تیسری بار منتخب ہو کر آنے والا وزیراعظم نوازشریف تھا جس کو مختلف الزامات کے تحت ارضِ وطن کا کرپٹ ترین سیاستدان قرار دیا گیا… اور اسے اقتدار سے نکال پھینکنے کی ہر تدبیر اختیار کی گئی… اس مہم کی قیادت عوامی اپوزیشن کے قائد عمران خان کر رہے تھے جن کی زبان پر صبح شام ایک ہی وظیفہ رواں رہتا تھا وہ اس کرپٹ وزیراعظم کو نکالے بغیر دم نہ لیں گے… اس کی جگہ خود انتخاب لڑ کر آئیں گے اور پاکستان کو آن واحد میں ہر قسم کی بدعنوانی سے شفاف ترین ملک بنا کر دم لیں گے… مقتدر قوتیں اس کام میں ان کی سرپرستی فرما رہی تھیں… پوری کی پوری اسٹیبلشمنٹ نواز حکومت کے در پے آزار تھی… وہ جو کہتے تھے وجہ اس نفرت انگیز مہم کی کچھ اور ہے اور نواز کا اصل قصور تمام اداروں کو بظاہر کتنے طاقتور ہوں آئینی حدود میں رکھنا ہے … انہیں بھی نکو بنا کر رکھ دیا گیا… پھر جب عدالتی اور قانونی لحاظ سے کچھ نہ ثابت ہو سکا تو عالی مرتبت ججوں نے اقامہ جیسے مضحکہ خیز الزام پر منتخب وزیراعظم کو گھر کی راہ دکھائی گئی… بڑی عدالت کے فیصلے کے ذریعے عمر بھر کے لئے نااہل قرار دے دیا گیا… اگلے انتخابات کے ذریعے کرپشن سے پاک عمران خان کو برسراقتدار لانے کے لئے ہر طریقہ استعما ل کیا گیا… سخت بیماری اور حالت اسیری میں نواز خاندان پر اتنا دبائو ڈالا گیا کہ بالآخر اس مردِ میدان نے بھی توسیع کے مسئلے پر ہتھیار ڈال دیئے… بہت سارے لوگوں کو جنہوں نے اس سے امیدیں وابستہ کر رکھی تھیں مایوسی کا سامنا کرنا پڑا… نوازشریف اگر اس مرحلے پر بھی ڈٹے رہتے تو امرہو جاتے مگر یہ شاید ان کی قسمت میں نہ تھا… موصوف علاج کی خاطر لندن میں جا بسے مگر اب ایک بین الاقوامی ادارے نے یہ انکشاف کر کے پوری قوم کو حیران کردیا ہے کہ ان کے عہد میں کرپشن کم تر ہوئی… ان کی جگہ لینے والے اور شفاف پاکستان کے بہت بڑے علمبردار عمران کے پہلے دور میں ہی اس کے سبز قدموںنے ملک کو دوبارہ آن لیا… آخری تجزیے میں ملک و قوم کی قسمت کے ساتھ یہ کھیل کھیلنے کا ذمہ دار کون ہے اس کے بارے میں کچھ کہتے ہوئے ہاتھ لرزتے ہیں اور قلم کانپ کانپ جاتا ہے کہ کس نے اپنے غیرآئینی اقتدار کو مزید مستحکم کرنے کے لئے یہ ناٹک رچایا… حاصل اس سارے کام کا یہ ہوا ہے کہ آرمی ایکٹ کے ترمیمی بل کے مسئلے پر پوری کی پوری منتخب پارلیمنٹ گھٹنوں کے بل جھک گئی ہے … کہاجا رہا ہے کہ عمران خان کا چند روزہ اقتدار بھی خطرے میں ہے … موصوف وزیراعظم رہیں یا نہ رہیں یار لوگوں نے ان سے جو کام لینا تھا وہ لے لیا اب رہنے یا جانے سے کیا فرق پڑتا ہے


ای پیپر