بدل ڈالو نظامِ گلشن
27 جنوری 2020 2020-01-27

ہم ایک سوراخ سے کتنی بار ڈسے جائیں گے؟ عالمی اقتصادی فورم میں ٹرمپ سے ملاقات، امریکی وفد سے بات چیت، نیا کیلے کا چھلکا ہے جس پر ہم پھر پھسلنے کو تیار بیٹھے ہیں۔ کہانی وہی سردار جی کی ہے جو صبح سویرے نکلے اور ناگہانی کیلے کے چھلکے سے پھسل گئے۔ اللہ نے ہڈیاں جوڑ بچالئے۔ اگلے دن اسی راستے پر پھر جا رہے تھے تو ایک کیلے کا چھلکا نظر آگیا۔ کہنے لگے سٹپٹا کر… لو کر لو گل… اب پھر پھسلنا پڑے گا! ہم کرتار پور راہداری کے بعد مومنانہ فراست (’مومن ایک سوراخ سے دو بار نہیں ڈسا جاتا‘ نیز: ’مومن کی فراست سے ڈرو، وہ اللہ کے نور سے دیکھتا ہے‘۔ کی نبویؐ تصریح) تو رکھتے نہیں، سردارانہ خوبو زیادہ ہے۔ دجالی نگاہ کا دور ہے یوں بھی، جو یک چشم ہے۔ سو امریکی چھلکے پر پھسلنے کو پورے اعتماد سے ہم تیار ہیں از سر نو۔ 22جولائی کو وائٹ ہاؤس میں ٹرمپ سے ملاقات پر وزیراعظم کشمیر کے حوالے سے کتنے نہال تھے! کشمیر پر ثالثی کی یقین دہانی ٹرمپ نے عمران خان کو کروائی تھی۔ اس کی حقیقت مودی کے ساتھ ٹرمپ کی گرمجوشیوں، بھارتیوں کے جلسے میں، امریکہ بھارت معاہدوں میں ہی ہوا ہو گئی۔ اس کے 15 دن کے اندر اندر مودی نے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر کے، کرفیو اور مزید فوج مسلط کر کے کشمیریوں کی رہی سہی حیثیت بھی صفر کر دی! یہ تھا ٹرمپ کی یقین دہانی کا انجام۔ کہ خوشی سے مر نہ جاتے اگر اعتبار ہوتا۔ اس وقت امریکہ جگہ جگہ سینگ پھنسائے بیٹھا ہے۔ ایران، امریکہ کشیدگی۔ افغانستان امریکہ مذاکرات نازک مرحلے میں، عراق امریکہ کچھاؤ اور ازلی چین (سی پیک) چپقلش ۔ سو اب امریکہ کو پاکستان یاد آرہا ہے تو کچھ عجب نہیں۔ ہم سے اظہار محبت بلا سبب نہیں۔ جب دوآپس میں لڑ پڑیں (امریکہ ایران کی طرح)، تو جانبین منتظر ہوتے ہیں کہ کوئی اور ہمارا بیچ بچاؤ کروا دے تا کہ انا مجروح ہونے سے بچ جائے۔ رہا کشمیر، تو امریکہ، اسرائیل مودی کے جگری دوست ہیں۔ انہی کی پشت پناہی اور آشیر باد سے کشمیر کا فلسطین بنایا جا رہا ہے۔ فارمولا وہیں سے آیا ہے۔ اور ہم ٹرمپ سے وفا کی امید لگا بیٹھے ہیں حسب سابق۔ اسے بڑی کامیابی گردانا جا رہا ہے کہ ٹرمپ نے یہ تک کہہ دیا میڈیا سے، کہ ’ہم کبھی پاکستان سے اتنے قریب نہ تھے جتنے اب ہیں‘۔ اب اس قدر بھی نہ چاہو کہ دم نکل جائے! آج پاکستان جو بحر انستان بنا بیٹھا ہے۔ یا جیسے ایک وقت ترکی کو یورپ کا مردِ بیمار کہا جاتا تھا۔ پاکستان مردِ بحران بن چکا۔ ایک بلا سے نکلتے نہیں کہ اگلا بحران نگلنے کو تلا کھڑا ہوتا ہے۔ (مگر آپ نے گھبرانا نہیں ہے۔) آٹا بحران سر پر عفریت بنا کھڑا تھا کہ حکومت کو شوگر بھی ہو گئی۔ چینی سے قوم کو بچانے والے میدان میں آگئے۔ بجلی کا حال بھی ایسا ہی ہے کہ… برق گرتی ہے تو بے چارے مسلمانوں پر! گیس اول تو کمیاب ہے، جتنی آر ہی ہے وہ بھی بل کو مزید آگ (مہنگائی کی) لگانے کو تیار ہے۔ نیز سٹیٹ بینک کو مزید IMF سے ایک ڈپٹی گورنر فراہم کیا جا رہا ہے۔ یہ IMF پلس کیا تحائف عوام کو دے گا، دیکھنا باقی ہے! چوکے چھکے لگانے والے حکمرانوں نے عوام کے چھکے چھڑا دیئے ہیں۔ منصوبہ بندی کا بحران اس حکومت کا اصل مسئلہ ہے جس کے نتیجے میں سبھی بحرانوں کا سامنا ہے۔ جہانگیر ترین خوراک کی نگرانی پر کیا بیٹھے کہ آٹا چینی کو بھی مہنگا ترین کر دیا۔ اب عوام یا روٹی کے لقمے کے لیے راشن کی لائن میں لگیں، ورنہ لنگر پر جا بیٹھیں۔ گھر چھین کر شیلٹر اور گندم غائب کر کے لنگر۔ اللہ بھی ناراض ہے سو کسر ٹڈی دل حملوں سے پوری ہو رہی ہے۔ سندھ، چولستان، جنوبی پنجاب کے بعد اب فیصل آباد میں فصلوں کی تباہی کا اندیشہ ہے۔ ایسے میں وزیر اطلاعات کے پی کے، زخموں پر نمک چھڑکتے ہوئے ہوٹل والوں کو روٹی کا وزن کم کرنے کا مشورہ دے رہے ہیں۔ اور شیخ رشید عوام کو روٹی آٹا بحران کا ذمہ دار ٹھہرا رہے ہیں کہ وہ ان مہینوں میں روٹی زیادہ کھاتے ہیں! نیز یہ بھی فرمایا کہ فروری مارچ میں مہنگائی بڑھے گی۔ کتنے مہربان ہیں کہ پیشگی تیاری کروا دیتے ہیں۔ سو ہمیں گھبرانا نہیں ہے۔ دوسری تسلی وزیراعظم نے بھی دی تھی کہ سکون قبر میں جا کر ملے گا! قوم بھی ایسی ہی ہے کہ ہاتھ پر ہاتھ دھرنے منتظر فردا ہے۔ سو پر سکون قبر کی تشفی پر مطمئن ہے!

اکنامک فورم میں وزیراعظم کی ٹرمپ کی صاحبزادی سے ملاقات ہوئی۔ پاکستان میں تعلیم و تربیت کے حوالے سے ایوانکا ٹرمپ کے ممکنہ پروگرام پر بات چیت ہوئی۔ چہ معنی دارد؟ یعنی پاکستان میں یو ایس ایڈ اور برطانوی تعلیمی مشیروں کی ڈسی ہوئی تعلیم پر مزید تڑکا یہودی (ہوجانے والی) ایوانکا ٹرمپ لگائیں گی؟ یاد رہے کہ ٹرمپ نے اپنے یہودی داماد کشنر اور اسی بیٹی کے حوالے سے فخریہ فرمایا تھا کہ وہ اپنے بچے کی تربیت یہودی مذہبی طرز پر کر رہے ہیں۔ (کلنٹن کا

داماد بھی یہودی ہے!) سو کیا یہی تعلیم و تربیت کا پروگرام وہ اب ملکِ خداداد پاکستان (جس کے آئین میں قرار داد مقاصد ہے!) میں چلائیں گی؟ عمران خان کے بچے بھی اپنے یہودی ننھیال کی گود میں پلے ہیں۔ کیا ہمارے بچوں کا فکری تعلیمی تربیتی چارہ ایوانکا فراہم کریںگی؟ ہمارے حکمران یا تو وہ ہیں جو مفکر پاکستان کے فکر و فلسفے سے کلیتاً بے بہرہ ہیں یا وہ آئی ایم ایف ورلڈ بینک کے

کارندے ہیں جو قصداً اندھے بہرے گونگے بنے ہمارا سودا اغیار سے چکائے بیٹھے ہیں۔ اقبال کی الہامی فکر (کیونکہ وہ قرآن و سنت سے مستنیر ہے) کا دور رس ہونا ملاحظہ ہو۔ خطاب بہ جاوید میں کہتے ہیں: ’اے پسر! مسلمان ہوتے ہوئے بھی جو مسلمان فرنگی استعمار کا نمک خوار ہو (اور اس کا حمایتی ہو) وہ کرگس (گدھ) ہے اور کرگسوں کے طور طریقے (طرزحیات) جی حضور اور گھٹیا ہوتے ہیں۔ جبکہ حریت پسند اور فرنگی استعمار سے آزادی کے متوالوں (شاہینوں) کے اطوار بالکل جدا ہیں‘۔ (ترجمہ:انجینئر مختار فاروقی) سو ہمارا پورا نظامِ تعلیم، قومی سطح پر سالہا سال سے سیرت و کردار سازی سے قاصررہا… کرگس ساز ہے شاہین ساز نہیں… 9/11 کے بعد مشرف کے ہاتھوں جو مزید زوال آیا اس کا نتیجہ آج ہم بھگت رہے ہیں۔ اصل بحران تو قیادت کا بحران ہے! استعمار کے روبوٹ درآمد کر کے ہم نے یہ دن دیکھے ہیں۔ وہ فریب خوردہ شاہین جو پلا ہو کر گسوں میں، اسے کیا خبر کہ کیا ہے رہ و رسمِ شاہبازی… جب ہی تو خوشی خوشی صاحبزادی ٹرمپ سے تعلیم و تربیت پروگرام پر گفت و شنید ہو رہی ہے۔ ہمارے ہاں حکمران اور مقتدر طبقات سب استعماری فیکٹریوں میں تیار ہوتے ہیں۔ وہاں کا دانہ دنکا چگتے پھر یہاں لا کر چھوڑ دیئے جاتے ہیں۔ اب ملالہ یوسفزئی (خاکم بدھن) بھی تو اسی اہتمام سے بے شمار ڈراموں سے گزار کر تیار کی جا رہی ہے، آئندہ حکمرانی کے لیے ! نیم خواندہ پسماندہ لڑکی یورپ بھر کے پارلیمانوں میں گھمائی پھرائی نوبل انعام دلوائی گئی۔ ہمارے حکمران بننے کے لیے واں انگریزی، آکسفورڈ کا ٹھپا، مغرب کا پروردہ ہونا اہلیت کا معیار ہے۔ اردو میڈیم ہمیں شرمسار کرتا ہے غلط انگریزی سے۔ سو آج جو ہم اس حال کو پہنچے ہیں وہ ہماری ذہنی غلامی، فکری کجی کا شاخسانہ ہے۔ جہانبانی سے ہے دشوار تر کارِ جہاں بینی، جگر خوں ہو تو چشمِ دل میں ہوتی ہے نظر پیدا۔ جگر خوں ہونے کا امتحان سامنے آیا تو ہم نے ہتھیار ڈال کر امریکی چوکھٹ پر سجدہ دیا۔ نظر ہمسائے (طالبان) کے حصے آ گئی! انہوں نے سپر پاوروں کے چھکے چھڑا دیئے۔ ہمارے حکمران جہاں بینی کی صلاحیت سے محروم عوام ہی کے چھکے 19 سالوں سے چھڑا رہے ہیں۔

وہ دن تو آنا ہے جب دنیا کا مقدر بدلنا ہے۔ اللہ کے سچے وعدے پورے ہونے ہیں۔ رب کائنات کا بھیجا ہوا آفاقی نظامِ حیات رحمت بن کر پوری دنیا پر چھائے گا۔ انسانی تاریخ اس پر گواہ ہے۔ ظلم پھر ظلم ہے بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے۔ رات جتنی گہری ہوتی جاتی ہے اتنی ہی دبے پاؤں نویدِ سحر قریب آتی جاتی ہے۔ سارے ہلاکو، چنگیز، انسانی تاریخ کے جبارین و متکبرین آج اکٹھے ہو گئے۔ دنیا بھر میں دہشت گردی اور اسلامو فوبیا کے دجالی فریبی ناموں پر چھیڑی جنگوں نے 40 لاکھ انسان مار دیئے۔ 6 ملک تباہ کر دیئے۔ کیا یہ محض اتفاق ہے کہ مرنے والے، در بدر ہو کر ہجرتوں کے تھپیڑے سمندروں صحراؤں میں کھانے والے سب مسلمان ہیں؟ تباہ ہونے اجاڑے جانے والے ملک مسلمان ہیں۔ شام کے کھنڈر دیکھ لیجیے۔ یورپ ، مغرب کے سبھی ممالک جو دہشت گردی کا ڈھول پیٹتے رہے چمکتے دمکتے آج بھی لہلہا رہے ہیں۔ انہیں تھپیڑے چرکے لگے تو اللہ کی طرف سے آگ، سیلاب، طوفانوں، برفباریوں کے عذابوں کی صورت لگے۔ ورلڈ اکنامک فورم کیا ہے؟ عالمی معاشی استحصالی چوہدریوں کا اکٹھ۔ گلوب کے 7 ارب انسانوں کا خون پینے والی جونکوں کا اکٹھ۔ سرمایہ دارانہ نظام کی چکی میں پسنے والے انسانوں کو نچوڑنے کا سالانہ پلان تیار کرنے میں اعداد و شمار کی دھوکا دہی کے لیے یک جائی۔ جہاں پھر کشکولیئے بھی اپنے لیے کچھ دال دلیے کی فکر لیے جا بیٹھتے ہیں۔ اس نظام کا لپیٹا جانا لازم ہے۔ اسلام سے خوفزدہ یہ بڑی طاقتیں جانتی ہیں کہ یہ وہ نظام حیات ہے جو پہلے قبول کرنے والوں کی دنیا کو ہر خوف اور رنج سے رہائی دیتا ہے، (لا خوفٌ علیھم و لا ھم یحزنون) دورِ فاروقیؓ کی مانند۔ اور پھر ابدی زندگی کی لا منتہا عافیت و راحت کا ضامن بنتا ہے۔ اس کی آفاقیت سے فراعنہ لزرتے ہیں!

متحد ہو تو بدل ڈالو نظامِ گلشن

منتشر ہو تو مرو، شور مچاتے کیوں ہو


ای پیپر