آٹا مافیا نے بحران کیسے پیدا کیا
27 جنوری 2020 2020-01-27

ملک پاکستان میں آج ایک ایسا بحران زیر بحث ہے جس کے ذمہ داران کا تعین کرنا مشکل ہو گیا ہے۔ الزام در الزام کی سیاست عروج پر ہے۔ عوامی مسائل حل کرنے کی طرف کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ سارا زور اس بات پر ہے کہ اپوزیشن نے حکومت کو کتنی جگتیں کیں اور حکومت نے اپوزیشن کے نام پر کتنے سیاسی لطیفے عوام کو سنائے۔ سیاسی ٹاک شوز میں کون جیتا اور کون ہارا کی بنیاد پر بحث چل رہی ہے۔ عام آدمی کو آٹا ملا یا نہیں اس سے کسی کو کوئی سروکار نہیں ہے۔

پاکستان گندم برآمد کرنے والے ممالک میں شامل ہے اور آج وقت یہ آن پہنچا ہے کہ حکومت گندم درآمد کرنے کا فیصلہ کر چکی ہے۔ یہ بحران کیسے پیدا ہوا اور اس کا ذمہ دار کون ہے۔ یہ جاننے کے لیے ہمیں دیکھنا ہو گا کہ ماضی میں ایسے بحرانوں کو پیدا کرنے اور ان سے فائدہ اٹھانے والے کون لوگ تھے اور وہ آج کہاں ہیں۔ اگر آپ تاریخ پر نظر دوڑائیں تو دو ہزار پانچ میں پاکستان میں آٹے کا شدید بحران پیدا ہوا تھا۔ پورے ملک میں آٹے کی قلت تھی اور میڈیا بحران کے ذمہ داروں کا تعین کرنے کے در پے تھا۔ اس وقت کی میڈیا رپورٹس کے مطابق پرویز مشرف کابینہ کے دو اہم رکن جناب جہانگیر ترین اور ہمایوں اختر خان صاحب آٹا بحران پیدا کرنے کے ذمہ دار تھے۔ جب تک عوام کو اس سکینڈل کا علم ہوا تب تک وہ لْٹ چکے تھے۔ یہ بحران اتنی مہارت سے پیدا کیا جاتا ہے کہ حقائق جانتے ہوئے بھی کسی کو سزا دینا تقریباً ناممکن ہوتا ہے۔

بحران پیدا کرنا مافیاز کے بائیں ہاتھ کا کام ہے۔ وہ اس منصوبے کو کامیابی سے مکمل کرنے میں پی ایچ ڈی کی ڈگری رکھتے ہیں۔ بحران پیدا کرنے سے لے کر، پیسہ اکٹھا کر کے اسے مطلوبہ مقام پر محفوظ کرنے، میڈیا کو ہینڈل کرنے، اس ایشو کو پرانا بنانے کے لیے نیا ایشو پیدا کرنے اور مل بیٹھ کر عوام کو بیوقوف بنانے کا عمل اس قدر مہارت سے کیا جاتا ہے کہ پاکستان کی ستر سالہ تاریخ

میں کوئی حکومت ان کے گریبان تک نہیں پہنچ سکی۔ کیونکہ حکومتی مشینری اس مافیا کی رہنمائی اور بعض معاملات میں سرپرستی کرتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ وہ اس فارمولے کو ہر حکومت میں بوقت ضرورت اپلائے کرتے ہیں اور مطلوبہ نتائج حاصل کر لیتے ہیں۔

آئیے یہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ موجودہ آٹا بحران کس طرح پیدا کیا گیا۔ آٹا بحران پیدا کرنے کے لیے سب سے پہلے گاڑیوں کے چالان بڑھانے کا اعلان کیا گیا۔ اس کے بعد ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال کا بندوبست کیا گیا۔ ہڑتال کے باعث صوبوں میں آٹے کی عارضی قلت پیدا کی گئی۔ جب ہڑتال کامیابی سے جاری تھی تو آٹا چکی ایسوسی ایشن کو آٹے کی قیمت چھ روپے فی کلو بڑھانے کا حکم دے دیا گیا۔ مافیا نے اپنا کردار صرف یہاں تک ادا کیا۔ کیونکہ اس کے بعد معاملات خود بخود خراب ہونے لگتے ہیں۔ جیسے ہی چکیوں پر آٹا مہنگا ہوا، دکانداروں اور سٹورز نے بھی منافع کی غرض سے آٹے کی قیمت بڑھا دی۔ اگلے مرحلے میں نان بائی نے روٹی کی قیمت بڑھا دی۔ ڈبل روٹی، میدہ سمیت ہر چیز کی قیمت بیٹھے بٹھائے بڑھا دی گئی۔ منافع خور مافیا نے گندم کی سپلائی روک دی۔ انھیں یقین تھا کہ کچھ دن مزید انتظار کر کے قلت کو صحیح معنوں میں کیش کروایا جا سکے گا۔جب عوام کی چیخیں بلند ہونے لگیں تو گوداموں سے مہنگا آٹا نکلنے لگا۔ مافیا نے چند دنوں میں اربوں روپے کما لیے۔ اب عوام کی توجہ ہٹانے کے لیے ایک نیا ایشو کھڑا کر دیا جائے گا۔ پاکستانی عوام کی یادداشت چونکہ بہت کمزور ہے اس لیے وہ لْٹنے کی بعد اس واقع کو بھول جائے گی۔

وقت کے ساتھ مافیا ٹیکنالوجی اور میڈیا کا جدید استعمال بھی سیکھ چکا ہے۔ بحران کو ہوا دینے کے لیے وزرا اور حکومتی عہدیداروں سے ایسے بیانات دلوائے جاتے ہیں جو جلتی پر تیل کا کام کرتے ہیں۔ موجودہ آٹا بحران میں بھی یہی سٹریٹیجی اپنائی گئی۔ جیسے ہی آٹے کی قلت پیدا ہوئی حکومتی وزرا نے غیر ذمہ درانہ بیان دینا شروع کر دیے۔

شیخ رشید نے فرمایا کہ نومبر دسمبر میں لوگ روٹیاں زیادہ کھاتے ہیں جس کے باعث بحران پیدا ہوا۔ اگر شیخ صاحب کی اس بات کو درست بھی مان لیا جائے تو یہ بحران ہر سال نومبر دسمبر میں پیدا ہونا چاہیے جبکہ ایسا نہیں ہوتا۔ حکومتی وزار کا غیر ذمہ دارانہ بیان دراصل اپوزیشن اور میڈیا کو دعوت نامہ ہوتا ہے کہ آئیں اور حکومت پر تنقید کریں۔ غیر ضروری بیانات حکومت کے غیر سنجیدہ ہونے کا پیغام دیتے ہیں۔ جو عوام کے لیے زیادہ تکلیف دہ ہوتا ہے۔

شوکت یوسف زئی صاحب نے فرمایا کہ نان بائیوں کو روٹی کی قیمت بڑھانے کی اجازت نہیں دیں گے۔ نان بائی روٹی کا سائز چھوٹا کر دیں۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ حکومتی وزیر کا یہ بیان کیا پیغام دیتا ہے۔ یہ بیان مسئلہ حل کرنے میں مددگار ہو سکتا ہے یا مزید مسائل پیدا کرنے کا باعث بنے گا۔ اس بیان کے مطابق حکومتی وزیر نان بائیوں کو سر عام کرپشن کرنے کے لیے مدعو کرتا دکھائی دیتا ہے۔ یعنی کہ آپ عوام سے قیمت پوری وصول کریں لیکن انھیں مال کم تول کر دے دیں۔

پاکستانی عوام یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ شوکت یوسفزئی صاحب خود کو ذہین سمجھتے ہیں یا عوام کو سرٹیفائیڈ بیوقوف سمجھتے ہیں۔ میرا خیال ہے کہ وہ خود کو ذہین بھی سمجھتے ہین اور عوام کو سرٹیفائیڈ بیوقوف بھی۔ اگر روٹی کا وزن کم ہو گا تو عوام ایک کی بجائے دو روٹیاں کھانے پر مجبور ہو گی۔ اس سے عوام پر بوجھ بڑھے گا یا کم ہو گا؟

صدر مملکت جناب عارف علی صاحب سے جب آٹا بحران کے بارے میں سوال کیا گیا تو انھوںنے معصومیت سے فرما دیا کہ مجھے بحران کا علم ہی نہیں ہے۔ اب جس ملک کا صدر عوام میں آکر اس طرح کے بیانات دے تو اس عوام کے پاس یہ سوچنے کے علاوہ کیا حل رہ جاتا ہے کہ ہمارے حکمران غیر سنجیدہ ہیں۔

حکمرانوں سے اس طرح کے بیانات دلوا کر عوام میں اشتعال پھیلایا گیا۔نتیجہ یہ نکلا کہ جو آٹا بحران سے متاثر نہیں بھی تھا وہ بھی اس پر بات کرنے لگا۔ بے چینی اور اضطراب کی کیفیت بڑھ گئی۔ مارا ماری کے اس ماحول میں مافیا پیسے بٹورتا رہا اور عام آدمی استعمال ہوتا رہا۔


ای پیپر