اوکھے پالن بول…
27 جنوری 2020 2020-01-27

عوام صبر کریں،عوام قربانی دیں ،مشکل وقت ختم ہونے والا ہے،پاکستان دنیاکا ٹائیگر بن جائے گا،غیرملکی سرمایہ کارپاکستان آنے کیلئے’’ ترلے ‘‘کریںگے،ملک میں کوئی غریب رہے گانہ کوئی بھوکا سوئے گا،انصاف ہرشخص کو گھر کی دہلیزپر ملے گا،تھانے شرفا ء کیلئے مثال بن جائیں گے کے جیسے فرمودات سابقہ اور موجودہ حکمرانوں کے ہیں کئی نسلیں آئیں اور منوں مٹی تلے جا سوئیں لیکن وعدے پورے نہ ہو سکے اور خواب خواب ہی رہے،تبدیلی سرکارنے بھی چکنی چپڑی باتوں سے عوام کو پیچھے لگایا،ڈی چوک اسلام آباد میں 126دن زمین وآسمان کے قلابے ملائے گئے،اس محبوب کی طرح جو اپنی محبوبہ کوآسمان سے تارے توڑ کرلانے کی نویدسناتا ہے جوہو ہی نہیں سکتا مگرصرف محبوبہ کو ’’پیڑی متے‘‘ لگانے کیلئے یہی وطیرہ موجودہ سرکار کا ہے جس نے ایک بھی وعدہ پورا نہ کیا اور یوٹرن پر یوٹرن لینے کے ریکارڈبنا ڈالے،حکومت کی نااہلی کی بدولت آج ملک معاشی بحران کا شکار ہوکر ہچکولے کھا رہاہے دو سال ہونے کو ہیں عمران خان بخت ماری عوام سے کئے وعدوں پر پورا نہیں اتر رہے مہنگائی کے طوفان سے عام آدمی کا جینا دوبھر ہوچکا ہے بات یہاں ہی ختم نہیں ہوتی ملک کو آئی ایم ایف کے رحم وکرم پر چھوڑ دیا گیا ہے جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ غریب ملک کے غریب باسیوں پر سٹیٹ بینک کا ڈپٹی گورنربھی آئی ایم ایف کا مسلط کردیا گیا ہے،مرتضیٰ سید کی18 لاکھ 60ہزارماہانہ پرتین سال کیلئے تعناتی کی گئی ہے۔

آج ملک کے اندر افراتفری کا ماحول ہے ، حکومتی ایوانوں میں ہلچل مچی ہوئی ہے جس کے اثرات ابھی تک ایوانوں میں محسوس کیے جا رہے ہیں،غر بت بے روز گا ر ی اور مہنگائی کے خاتمہ کے دعویدار و ں نے

مہنگائی کے جن کو مکمل طور پر آزاد کر د یا ہے پورے ملک کی عوا م تبدیلی سر کا ر کے اقتصاد ی ترقی گر و تھ ریٹ اور معیشت کے استحکا م کے بے بنیاددعو ئو ں کو مستر د کر چکی ہے ،عوامی حلقوں اور سول سوسائٹی میں معاشی عدم استحکا م اور اشیا ئے ضرور یہ کی قیمتوںمیں غیر معمولی اضافے پر اشتعا ل فطری سی با ت ہے تبدیلی سرکا ر احسا س پروگرا م در جنوں ٹاسک فورسز کے ذریعے قومی وسائل ضا ئع کر ر ہی ہے، پی ٹی آئی کی حکومت جب اقتدار میں آئی تو کہا گیا کہ ملک میں کوئی غریب نہیں رہے گا جبکہ یہاں الٹی گنگا بہائی گئی اورمہنگائی، بھوک، افلاس کو غریبوں کا مقدر بنا کر انہیں سکون کیساتھ قبر تک پہنچانے کیلئے ہر چیز مہنگی کردی ، موجودہ حکمرانوں نے اپنے قریبی مافیا کو پہنچانے کیلئے کوئی نہ کوئی بحران پیدا کرنے کی پلاننگ بنا رکھی ہے کبھی ٹماٹر مہنگے کردیئے جاتے ہیں تو کبھی آٹے کا بحران پیدا کردیا جاتا ہے اب مخصوص مافیا کو فائدہ پہنچانے کیلئے چینی مہنگی کردی گئی ہے ۔

مو جو دہ حکمرانوں کی ناقص پالیسیوں نے غریبوں کے منہ سے روٹی کا نوالہ بھی چھین لیا ،افسوسناک امر یہ کہ گندم برآمد کر نیوالہ ملک آج درآمد کر نے پر مجبور ہے تبد یلی سرکار نے غریب عوام پر مہنگائی کا عذاب نازل کر دیا ہے ، ہو ش ر با مہنگائی کے حوا لہ سے محکمہ شما ر یا ت کے اعداد و شمار نا لا ئق تبدیلی سرکار کے خلا ف چار ج شیٹ ہیں آج ملک نا اہل نا لائق اور غیر سنجید ہ ٹولہ کے رحم و کر م پر ہے بجلی گیس سے لے کر ہر چیز کے نر خ ڈبل ہو گئے ‘تبدیلی سرکار نے پاکستا ن کو جد ید سے لنگر خانہ معیشت میں بدل د یا ہے کنٹینر پر کھڑے ہوکر وزیراعظم قوم سے جو بھی وعدے کرتے رہے، 18مہینے پو رے ہو نے پر وز یر اعظم ایک بھی وعد ہ پورا نہ کر سکے ،عمران خان غر بت بے روزگاری اورمہنگائی میں غیرمعمولی اضافہ کرکے عوا م کو رلانے کا جو وعدہ کیا تھا صرف وعدہ ہی رہا ،موجودہ حکومت کا معاشی اقتصاد ی اور انتظا می تباہی کا سفر پریشانی کا با عث ہے ایک بحرا ن کے بعددوسرا بحرا ن سامنے آ رہا ہے،اس کے باوجود حکمران ٹولہ بڑھکیں لگا نے سے با ز نہیں آر ہا ،تبدیلی حکومت نے جب سے اقتدار سنبھالا ہے ملکی معیشت کا بیڑا غرق کرکے رکھ دیا ہے۔

ٹیکسوں کی بھرمار سے انڈسٹری اور دیگر کاروبار کے ساتھ وابستہ افراد تالے لگانے پر مجبور ہو گئے ہیں ملک میں اس وقت حکومت نام کی کوئی چیز نظر نہیں آرہی، بجلی گیس اور پیٹرولیم مصنوعات کے نرخ پہلے ہی آسمان کی بلندیوں کو چھو رہے ہیں، مافیا کی ملی بھگت کے سامنے تحریک انصاف کی حکومت نے گھٹنے ٹیک دیے ہیں جس کی وجہ سے چینی، آٹا، گھی اور دیگر اشیاء ضروریہ کی قیمتوں میں آئے روز اضافہ ہو رہا ہے جس کی وجہ سے گڈ گورننس کا پول کھل گیا ہے ،قارئین وزیراعظم عمران خان نے حالیہ دورہ سوٹئزر لینڈ میںخطاب کرتے ہوئے کہا کہ کرپشن اور منی لانڈرنگ کے باعث پاکستان میں مہنگائی اور غربت پیدا ہوئی، ماضی میں حکمرانوں نے ملک سے دولت لے جانے کے لیے ادارے کمزور کیے تاہم ریاستی اداروں کو مضبوط کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، پاکستان میں احتساب کا عمل بھی تیز کیا گیا ہے، انہی اقدامات کی بدولت روپے کی قدر مستحکم ہوئی اور ملک درست سمت میں بڑھ رہا ہے حالانکہ سب جانتے ہیں کہ حالات اس کے برعکس ہیں روپیہ مستحکم ہوا نہ معیشت ؟دوسری طرف وزیر اعظم دیار غیر میں بیٹھ کر اپنے ملک اورملک کے باسیوں کیخلاف نشترزنی کر کے جگ ہنسائی کا باعث بن رہے ہیں انہیں کوئی پوچھے کہ امریکہ،چین،سعودیہ سمیت دیگر غیرممالک سے وزراء یا اہم عہدیداران دورہ پاکستان کے دوران اپنے ملک اور اپنے ملک کے سیاستدانوں کیخلاف بولتے ہیں؟


ای پیپر