hamza shahbaz,released,kot lakhpat,maryam nawaz,nab court
27 فروری 2021 (15:55) 2021-02-27

لاہور :مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر حمزہ شہباز کو بیس ماہ بعد  کوٹ لکھپت جیل سے رہا کر  دیا گیا

تفصیلات کے مطابق مسلم لیگ(ن) کے رہنما حمزہ شہباز منی لانڈرنگ کیس میں بیس ماہ سے جیل میں تھے۔ لاہور ہائیکورٹ نے ایک ایک کروڑ روپے کے دو مچلکوں کے عوض حمزہ شہباز کی رہائی کا حکم دیا تھا۔جیل کے باہر کارکنوں کی بڑی تعداد نے ا ن کا استقبال کیا۔ انہوں نے پھولوں کے ہار اٹھائے ہوئے اپنے رہنما کا استقبال کیا۔ڈھول کی تھاپ پر رقص بھی کیا گیا۔نعرے باری بھی کی گئی۔ 

 حمزہ شہباز کی بدھ کے روز ضما نت ہوئی تھی۔ان کی روبکار جاری کرنے مسائل آرہے تھے مگر آج احتساب عدالت نمبر دو نے ان کی روبکار جاری کر دی جس کے بعد کیمپ جیل سے انہیں کوٹ لکھپت جیل بھیجا گیا۔پہلے ان کی روبکار کیمپ جیل کے سپرنٹنڈنٹ نے سائن کی اور پھر عدالتی ہرکارہ روبکار لے کرکوٹ لکھپت جیل گیا ۔ اس کی وجہ سے ان کی رہائی میں تاخیر ہوئی۔پہلے یہ پروگرام تھا کہ حمزہ شہبازکو  داتا دربار لایا جائیگا ۔ اب یہ پروگرام لگ رہا ہے کہ شاید انہوں ان کی رہائش گاہ ماڈل ٹائون پہنچایا جائیگا اور وہاں وہ میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کریںگے۔

مزید برآں مریم نواز شریف نے حمزہ شہباز شریف کی رہائی سے قبل میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے  کہا  کہ حکومت نے ڈسکہ میں اغوا بھی کر لیا ٗ ان سے ٹھپے بھی لگوا دئیے ٗ دھاندلی بھی کرلی ٗ پھر بھی الیکشن ہار گئے۔اب ڈسکہ کا الیکشن آرہا ہے ٗ  سینٹ کا الیکشن بھی آرہا ہے۔اس کے بعد لانگ مارچ کی پوری تیاری ہے اور عوام بھی پرجوش ہیں۔

انہوں نے کہا کہ میں یہ ضرور جانتی ہوں کہ پی ٹی آئی کے جو ارکان ہیںوہ اب پی ٹی آئی کو ووٹ دینے کو تیار نہیں ہیں۔اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ سیاستدان ہیں ٗ اپنے حلقوں کی سیاست کرتے ہیں۔ انہوں نے اپنے حلقوں میں واپس جانا ہے۔انہوں نے عوام کو فیس کرنا ہوتا ہے ٗ ووٹ چور عمران خان کی کارکردگی ٗ چینی چور ٗ آٹا چور ٗ ووٹ چور ٗ بجلی چور ٗ گیس چور حکومت یہ جانتی ہے کہ اس کی نااہلی نے ووٹ بنک پر بھی بہت برا اثر ڈالا ہے۔ایک دفعہ تو عمران خان ساز باز کر کے ووٹ چوری کر کے آگیا اب دوبارہ اس کا چانس نہیں ہے۔

مریم نواز شریف نے کہا کہ عمران خان کے جو ایم این اے ٗ ایم پی ایز جانتے ہیں پی ٹی آئی کی مقبولیت کم ہوئی ہے تو وہ اپنے لئے کوئی محفوظ راستہ ڈھونڈ رہے ہیں۔ وہ بھی اس کو ووٹ نہیں دیں گے اور ووٹ دینا بھی نہیں چاہیے کیونکہ ووٹ دینے کا مطلب ہے کہ آپ عوام کے دشمن کو ووٹ دیں گے۔عمران خان کی جماعت میں ہر صوبے سے بغاوت ہو رہی ہے۔تو میرے خیال میں اس کے ارکان کو انہیں ووٹ نہیں دینا چاہیے بلکہ میرا خیال ہے عوام کی صف میں کھڑا ہونا چاہیے۔


ای پیپر