long-term,contract,lng,muftah ismail,bought,pti
27 فروری 2021 (12:51) 2021-02-27

اسلام آباد : حکومت پہلے کہتی تھی کہ طویل مدتی معاہدہ کرنا ہی نہیں چاہیے اور ایل این جی سپاٹ ریٹ پر خریدنی چاہیے لیکن اب حکومت نے خود طویل مدتی معاہدہ کر لیا ہے۔

ایک انٹرویو میں سابق وفاقی وزیر خزانہ اور مسلم لیگ(ن) کے رہنما مفتاح اسماعیل نے کہا کہ مسلم لیگ(ن) کی حکومت نے قطر سے سپاٹ ریٹ سے سستے ریٹ پر ایل این جی خریدی تھی مگر موجودہ حکومت نے سپاٹ ریٹ سے زیادہ پر معاہدہ کیا ہے۔ندیم بابر کہتے رہے کہ گرمیوں میں ایل این جی کی ضرورت نہیں ہوتی۔اب اچانک ضرورت کیسے پڑ گئی۔آپ اب تک سپاٹ ریٹ اس سال تک بیس بیس فیصد تک لیتے رہے تو اگر آپ گزشتہ سال ایسا ہی کر دیتے تو اچھا نہیں تھا ٗ میں کہتا رہا ہوں کہ لانگ ٹرم ایگزیمنٹ کر لو۔ آپ نے نہیں کیا اور اس کا بھی نقصان ہوا۔

انہوں نے کہا کہ اس کے بعد دو اور چیزیں ہیں۔جب ہم نے قطر سے لانگ ٹرم ایگزیمنٹ کیا تھا آج سے پانچ سال پہلے تو ہمارا ریٹ جو تھا وہ سپاٹ ریٹ تھا۔اس زمانے میں 14 فیصد تھا اور ہم نے سستا معاہدہ کیا تھا 13.37 پر ہم نے معاہدہ کیا تھا۔اس زمانے کے جو بھی ریٹ تھے اس سے سستی ڈیل تھے اور ہم نے ایک کنٹریکٹ کروایا قیمتوں کیلئے تعین کیلئے۔آج کل ان کو 10.02 پر مل رہی ہے مگر انہوں نے 10.2 کر لیا۔

انہوں نے پرائس ڈسکوری کیلئے کوئی تعین نہیں کیا۔یہ کیسے سکتے ہیں کہ انہوں نے کم قیمت پر معاہدہ کیا۔ ان کو پرائس ڈسکوری کرنی چاہیے تھی۔ حکومت نے قطر سے ایل این جی معاہدہ کے حوالے سے بہت جھوٹ بولے ہیں کہ ان کی کوئی ساکھ باقی نہیں رہ گئی ہے۔


ای پیپر