Sajid Hussain Malik columns,urdu columns,epaper,urdu news papers
27 فروری 2021 (12:23) 2021-02-27

پچھلے جمعہ کو سیالکوٹ کے حلقہ NA-75 ڈسکہ میں قومی اسمبلی کے ضمنی انتخابات کے انعقاد کو اگر چہ ہفتہ عشرہ گزر چکا ہے لیکن ان کی بازگشت نہ جانے کب تک سنائی دیتی رہے گی۔ اس لیے کہ اس انتخاب کی بنا پر جو منظر نامہ اُبھر کر سامنے آیا ہے۔اس نے وطن عزیز میں اب تک ہونے والے عام انتخابات میں مبینہ طور پر ہونے والی دھاندلیوں، بے قاعدگیوں اور نتائج کو اپنی مرضی کے رنگ دینے کی کوششوں میںجہاں قابل ذکر اضافہ اور کچھ نئے ریکارڈ بھی قائم کیے ہیںوہاں الیکشن کمیشن کی طرف سے ان بے ضابطگیوں، بے قاعدگیوں یا ایک طرح کی دھاندلی کا سختی سے نوٹس لیتے ہوئے ان انتخابات کو کالعدم قرار دے دیا ہے۔ الیکشن کمیشن نے 18 مارچ کو اس حلقے میں دوبارہ پولنگ کا حکم دیتے ہوئے کہا ہے کہ انتخاب آزادانہ ماحول میں اور ایمانداری سے نہیں کرایا گیا اور نہ ہی ووٹرز کو آزادانہ رائے دینے کا موقع مل سکا۔ الیکشن کمیشن نے اس صورتحال کو سامنے رکھتے ہوئے صوبائی انتظامیہ کے بعض اعلیٰ افسران کے خلاف تادیبی کارروائی کا حکم بھی دیا ہے۔

یہ کوئی معمولی بات نہیں تھی اور پاکستان کی حالیہ انتخابی تاریخ میںغا لباًپہلی بار ایسا ہوا ہے کہ 20پولنگ سٹیشنوں کے پریزائیڈنگ افسر رات بھر غائب رہنے کے بعد صبح 6بجے ریٹرنگ افسر کے آفس میں اس طرح پہنچے کہ ریٹرنگ افسر کے مطابق وہ انتہائی پریشان حال ، گھبرائے اور سہمے ہوئے تھے ۔ ان میں سے کسی کے موبائل فون کی بیٹری نے کام کرنا چھوڑ دیا تھا تو کسی کے موبائل پر What'sAppکی سہولت ختم ہوگئی تھی۔ وہ رات بھر (رات 6بجے سے صبح 6بجے 12گھنٹے) کہاں رہے تھے اس کا ان کے پاس سوائے اس کے کہ دھند نے ان کی راہ مسدود کر دی تھی اور کوئی کافی اور شافی جواب نہیں تھا۔ آخر یہ سب کچھ کیسے ہوا اور کیوں ہوا ؟  الیکشن کمیشن نے پولنگ کے دوسرے دن 20 فروری کو جاری کردہ اپنے پریس ریلیز میں کچھ اس طرح نشاندہی کی کہ "حلقہ NA-75سیالکوٹ IVکے نتائج غیر ضروری تاخیر کے ساتھ موصول ہوئے ۔ اس دوران متعدد بار پریزائڈنگ آفیسرز سے رابطہ کرنے کی کوشش بھی کی گئی مگر ناکامی ہوئی۔ ڈسٹرک ریٹرنگ آفیسر کی اطلاع پر چیف الیکشن کمیشن نے انسپکٹر جنرل پولیس پنجاب، کمشنر اور ڈپی کمشنر کے ساتھ رابطہ کرنے کی کوشش کی تاکہ متعلقہ پریزائڈنگ آفیسرز کا پتا لگایا جا سکے، مگر کوئی جواب نہ ملا۔ چیف سیکرٹری سے ایک دفعہ رابطہ رات کو تقریبا ً 3بجے ممکن ہوا ۔ انہوں نے گمشدہ آفیسرز اور پولنگ بیگز کو ٹریس کرکے نتائج کی فراہمی کی یقین دہانی کرائی مگر پھر انہوں نے اپنے آپ کو غیر دستیاب (Unavailable) کر لیا۔ کافی تگ و دو کے بعد تقریباً 6بجے پریزائڈنگ آفیسرزبمعہ پولنگ بیگز حاضر ہوئے۔ ڈسٹرک ریٹرننگ آفیسر اور ریٹرننگ آفیسر حلقہ NA-75 نے یہ اطلاع دی کہ 20پولنگ اسٹیشن کے نتائج میں رد و بدل کا شبہ ہے لہٰذا مکمل انکوائری کے بغیر حلقہ کا غیر حتمی نتیجہ جاری کرنا ممکن نہیں۔ اس ضمن میں ڈسٹرکٹ ریٹرننگ آفیسر تفصیلی رپورٹ الیکشن کمیشن میں ارسال کر رہا ہے۔ الیکشن کمیشن نے ڈسٹرکٹ ریٹرننگ آفیسر کو حلقہ NA-75سیالکوٹ IV کے غیر حتمی نتیجہ کے اعلان سے روک دیاہے اور مکمل انکوائری اور ذمہ داران کے تعین کے لیے انہیں ہدایات جاری کی ہیں ۔ صوبائی الیکشن کمشنر اور جوائنٹ صوبائی الیکشن کمشنر کو ڈسٹر ک ریٹرننگ آفیسر اور ریٹرننگ آفیسر کے دفتر پہنچنے کی ہدایت کی ہے تاکہ معاملات کی تہہ تک پہنچا جا سکے اور ریکارڈ کو مکمل محفوظ کر لیا جائے یہ معاملہ انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کمزوری لگتی ہے"۔  

 یہ امر خوش آئند ہے اورغالباً پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ الیکشن کمیشن نے اس طرح کھل کر درپیش مشکلات، مسائل اور کچھ حلقوں کی طرف سے سامنے آنے والی کوتاہیوں اور رکاوٹوں کا ذکر ہی نہیں کیا ہے بلکہ ان مشکلات و مسائل اور کوتاہیوں کے ذمہ دار سٹیک ہولڈرز کی نشاندہی بھی کی ہے۔ الیکشن کمیشن کے حوالے سے یہ امر حوصلہ افزا ہے اور الیکشن کمیشن کا یہی انداز فکر و عمل برقرار رہتا ہے تو آئندہ ملک میں منعقد ہونے والے انتخابات میں بے قاعدگیوں ، بے ضابطگیوں اور غیر متعلقہ حلقوں کی مداخلت کو روکنے میں مدد ہی نہیں ملے گی بلکہ غیر جانبدارانہ اور شفاف انتخابات کے انعقاد کو یقینی بھی بنایا جا سکے گا۔تاہم الیکشن کمیشن کے اعلامیہ میں انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کمزوری کا ذکر یا صوبے ، ضلع یا ڈویژن کی سطح کے انتظامیہ کے افسران کا چیف الیکشن کمشنر جیسے اعلیٰ ترین آئینی عہدے پر فائز شخصیت کی طرف سے رابطوں کی کوششوں سے اغماض برتنا کسی صورت میں نظر انداز کیے جانے کے قابل نہیںتھا۔ اچھا ہوا الیکشن کمیشن نے اسکا سخت نوٹس لیا ہے اور جہاں سیا لکوٹ کے ڈی سی ، سی پی او اور دو ڈی ایس پی معطل کرنے کا حکم اور کمشنر اور آر پی او گجرانوالہ کو ہٹانے کی سفارش کی ہے وہاں چیف سیکرٹری پنجاب اور آئی جی پنجاب کو  4مارچ کو ذاتی حیثیت سے الیکشن کمیشن کے سامنے پیش ہونے کی ہدایت بھی کی ہے۔یقینا یہ فیصلہ خوش آئند ہے اور غالباً پہلی بار ملک میں الیکشن کمیشن کی طرف سے اس طرح کی فعالیت اور خرابیوں کو دور کرنے کی بروقت مستعدی 

سامنے آئی ہے ورنہ اس سے قبل ذمہ دار حلقوں کی طرف سے اس طرح کے معاملات میں اغماض ہی برتا جاتا رہا ہے۔

وزیر اعظم جناب عمران خان کے حوالے سے یہ کہنا شائد غلط نہ ہو کہ ڈسکہ کے انتخاب کو متنازع اور غیر شفاف بنانے کی منصوبہ بندی کرنے اور اس پر عمل کرنے والوں کو ان کی اشیرباد اس طرح حاصل تھی کہ خود ان کی اپنی پارٹی کے قریبی ساتھیوں اور اعلیٰ حکومتی عہدے داروں کو ہدایت تھی کہ NA-75سیالکوٹ IV  کا الیکشن ہم نے کسی صورت میں بھی ہارنا نہیں ہے بلکہ اسے ہر صورت میں جیتنا ہے۔ جب پارٹی کے سربراہ اور ملک کے چیف ایگزیکٹو کے عہدے پر براجمان شخصیت کی ایسی ہدایت ہو تو پھر ماتحت حکومتی عہدے داروں یا پارٹی رہنمائوں کی کیا مجال کہ وہ ایسی ہدایت کو پس پشت ڈال سکیں۔ تاہم اس طرح کی ہدایت اور اس پر عمل در آمد کا نتیجہ کیسا سامنے آتا ہے ۔تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ یہ کبھی بھی خوشگوار اور مثبت شکل میں سامنے نہیں آیا ۔ مارچ 1977کے عام انتخابات کی مثال ہمارے سامنے موجود ہے کہ وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو مرحوم نے عام انتخابات کے انعقاد کا اعلان کیا تو ان کے حکومتی ساتھیوںنے عوام میں ان کی مقبولیت اور ہر دل عزیزی کا سکہ جمانے کے لیے لاڑکانہ کے قومی اسمبلی کے ان کے آبائی حلقے سے ان کی بلا مقابلہ کامیابی کا اس طرح بندوبست کیا کہ ان کے مد مقابل اپوزیشن کے متفقہ امیدوار مولانا جان محمد عباسی مرحوم (امیر جماعت اسلامی سندھ )کو گھر سے اٹھا کر اس طرح غائب کر دیا کہ وہ اپنے کاغذات نامزدگی بھی داخل نہ کرا سکے۔ اسی پر بس نہ کیا گیا بلکہ 7مارچ کو 1977کو ووٹنگ کے دوران مخالف امیدواروں کو ناکامی سے دوچار کرنے کے لیے ہر طرح کی دھندلی اور غیر قانونی حربے آزمائے گئے ۔ نتیجہ یہ نکلا کہ پیپلز پارٹی بظاہر کامیاب ہوگئی لیکن اپوزیشن جماعتوں نے انتخابی دھندلیوں کے نتیجے میں پیپلز پارٹی کو ملنے والی اس کامیابی کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیااور وزیر اعظم بھٹو کے خلاف احتجاجی تحریک شروع کر دی جو بالآخر 5جولائی 1977کو ملک میں مارشل لاء کے نفاذ پر منتج ہوئی ۔

 سچی بات ہے کہ ڈسکہ کے انتخابات میں تحریک انصاف کی کامیابی کو یقینی بنانے کے لیے جو منصوبہ بندی کی گئی یا جو حربے آزمائے گئے بلاشبہ ان کی جہاں داد دی جانی چاہیے وہاں ان کے تخلیق کاروں کی تحسین بھی کی جانی چاہیے کہ انہوں نے اپنے قوی دماغ کو استعمال کرتے ہوئے کیسی بے مثال منصوبہ بندی کی۔ کیا زبردست طریقہ کار اپنایا گیا کہ موٹر سائیکلوں پر سوارنامعلوم افراد ایسے پولنگ سٹیشنوں کے باہر اندھا دھند فائرنگ کرتے رہے جہاں مسلم لیگ ن کو اکثریتی ووٹ پڑنے کے امکانات تھے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ان پولنگ سٹیشنوں پرووٹنگ بند کر دی گئی ۔ باہر جمع لوگ ووٹ ڈالنے کے لیے شور مچاتے رہے اور پولنگ سٹیشنوں کی عمارات کے بیرونی دروازوں یا پھاٹکوں سے سر پٹختے رہے لیکن بہت سارے لوگ ووٹ ڈالنے سے رہ گئے۔پولنگ سٹیشن پر ووٹ ڈالنے کے عمل کے سست ہونے یا اس میں رکاوٹ پڑ جانے کے معاملے کو اگر ایک طرف رکھ بھی دیا جائے تو 20پریزائڈنگ آفیسرزکی رات بھر گمشدگی اور باوجود کوشش کے ان کا پتا نہ لگایا جا سکنا NA-75سیالکوٹ IVڈسکہ کے الیکشن کے حوالے سے ایسی باکمال اور بے  مثال منصوبہ بندی کا نمونہ سامنے آیا ہے جس کی جتنی بھی داد دی جائے کم ہے۔ اس کو سامنے رکھ کر یقینا یہ کہا جا سکتا ہے" ڈسکہ الیکشن … تمام ہی ریکارڈ ٹوٹ گئے!"


ای پیپر