Riaz Chaudhry columns,urdu columns,epaper,urdu news papers
27 فروری 2021 (12:21) 2021-02-27

3 مارچ کو سینیٹ کے انتخا بات ہونے جا رہے ہیں۔ چونکہ سینیٹ کے آدھے ارکان ریٹائر ہو جائیں گے اور یوں 52 ممبران کے انتخاب کے بعد سینیٹ میں پارٹی اکثریت بھی تبدیل ہونے کا امکان ہے۔ اسی لئے ان انتخابات میں حکمران اتحاد اور اپوزیشن جماعتیں اپنی عددی پوزیشن برقرار رکھنے کے لیے کوشاں ہیں۔ حکومت سینیٹ انتخابات کیلئے خفیہ ووٹنگ کا طریقہ کار تبدیل کرنے کیلئے کوشاں ہے لیکن اس کیلئے قانون میں ترمیم کی ضرورت ہے۔ جبکہ اپوزیشن اتحاد اس ترمیم کے حق میں نہیں۔ 

تاہم حکومت پرامید ہے کہ سینیٹ انتخابات میں تمام صوبوں میں ان کے امیدوار بھرپور طریقے سے کامیاب ہوں گے ۔ پنجاب میں وزیر اعلیٰ عثمان احمد خان بزدار نے سیاسی حکمت عملی سے ایک کارنامہ انجام دیا ہے کہ پنجاب سے 11 سینیٹرز کا بلا مقابلہ انتخاب عمل میںآگیا ہے۔ اب پنجاب میں سینیٹ  انتخابات کیلئے پولنگ نہیں ہوگی صرف 3 مارچ کو الیکشن کمیشن نومنتخب سینیٹرز کا حتمی اعلان کر ے گا۔ 

 پنجاب میں سینیٹ انتخابات میںجو 11 امیدوار بلامقابلہ منتخب ہوئے ہیں ان میں 5 تحریک انصاف اور 5 مسلم لیگ ن  اور 1 مسلم لیگ ق کے  امیدوار شامل ہیں۔ ان میں سید علی ظفر، ڈاکٹر زرقا، سعدیہ عباسی، عرفان الحق صدیقی، ساجد میر، اعظم نذیر تارڑ، اعجاز چوہدری، عون عباس اور کامل علی آغا بھی کامیاب ہونے والوں میں شامل ہیں۔ اسی طرح پی ٹی آئی کے امیدوار سیف اللہ سرور نیازی  اور مسلم لیگ ن کے مشاہداللہ خان مرحوم کے بیٹے افنان اللہ خان بھی بلامقابلہ منتخب ہوگئے ہیں۔ 

 یہ حقیقت ہے کہ وزیراعلیٰ نے کامیاب حکمت عملی سے سینیٹرز کو بلامقابلہ منتخب کرایا۔ یوں شفافیت کی جیت اور بولیاں لگانے والوں کو مایوسی ہوئی۔پنجاب میں جمہوری روایات کا علم بلند ہوا ہے۔ شفاف الیکشن سے جمہوریت مضبوط ہوتی ہے۔ بلامقابلہ انتخاب کیلئے وزیر اعلیٰ پنجاب نے اسپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویزالٰہی کے ساتھ مل کر اہم کردار ادا کیا۔  انہوں نے پیپلزپارٹی اور ن لیگ سے اپنے زائد امیدواروں کے کاغذات واپس لینے کیلئے آصف زرداری ودیگر سے رابطے بھی کیے۔ اس طرح دونوں جماعتوں کے زائد اور آزاد امیدواروں نے بھی کاغذات واپس لے لیے۔جس کے بعد پنجاب میں بلامقابلہ انتخابات کا عمل ممکن ہوسکا۔وزیر اعلیٰ پنجاب کی کاوشوں سے پنجاب میں عددی تعداد کے مطابق امیدوار کامیاب ہوئے۔

پنجاب میں ایسا سیاسی ہم آہنگی کا ماحول وزیر اعلیٰ پنجاب کی بردباری کا نتیجہ ہے۔ ان کی مثالی کاوشوں کی بدولت سیاسی محاذ آرائی سے گریز ممکن ہوا۔ انہوںنے پنجاب کی سیاست میں تحمل، برداشت کا کلچر پروان چڑھایا۔ بلا مقابلہ امیدواروں کا انتخاب صرف پنجاب میں ممکن ہوا۔ دیگر صوبوں میں صورتحال مختلف ہے۔ انہوںنے حکومتی اتحاد کے نومنتخب سینیٹرز کیلئے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ منڈیاں لگانے والوں کی سیاست کو ناکام بنایا ہے۔ پنجاب میں شفافیت کی جیت ہوئی اور بولیاں لگانے والوں کو مایوسی کا سامنا کرنا پڑا۔وزیراعظم عمران خان کی قیادت میں شفاف پاکستان کی بنیاد رکھی گئی ہے۔ تحریک انصاف کی حکومت پاکستان کی تاریخ کی سب سے شفاف حکومت ہے۔ پاک دھرتی ہم سے اتحاد و اتفاق کا تقاضا کرتی ہے اور ہماری پہچان پاکستان سے ہی ہے۔ بہر حال پنجاب میں ایسا شفاف انتخاب، بزدار حکومت کا یہ انتہائی احسن قدم ہے۔ 

 پنجاب حکومت نے عوام کی فلاح و بہبود کے لئے عملا ً اقدامات کئے۔ اڑھائی برس کے دوران وہ کام کئے جو سابقہ حکومتیں برس ہا برس نہ کر سکیں۔وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے صوبے میں مزید 5 مدر اینڈ چائلڈ کیئر ہسپتالوں کے منصوبوں کی منظوری دی۔ان 5 ہسپتالوں کی تعمیر کے منصوبوں پر 28 ارب روپے لاگت آئے گی۔ مدر اینڈ چائلڈ ہسپتال اٹک، لیہ، راجن پور، بہاولنگر اور سیالکوٹ میں بنائے جائیں گے اور ان ہسپتالوں کے منصوبوں کا جلد سنگ بنیاد رکھا جائے گا۔ یہ ہسپتال اگلے دو برس میں مکمل کرنے کی پوری کوشش کریں گے کیونکہ معیاری علاج معالجے کی سہولتوں تک رسائی زچہ و بچہ کا حق ہے۔ان ہسپتالوں کے منصوبوں پر ہونے والی پیش رفت کا خود جائزہ لوں گا۔ ہسپتالوں کی تعمیر کے حوالے سے وسائل کی فراہمی میں کمی نہیں آنے دیں گے۔ ان کی ہدایت پر محکمہ صحت اور متعلقہ محکمے مدر اینڈچائلڈ ہسپتالوں کے منصوبو ں سے متعلقہ امو رکو جلد نمٹا رہے ہیں۔  

دوسری طرف یہ خوشخبری بھی ہے کہ 8 مارچ سے صوبے میں 60 برس سے زائد عمر کے افراد کو کورونا ویکسین لگانے کا عمل شروع کیا جائے گا اور پنجاب میں 60 برس سے زائد عمر کے تقریباً 75 لاکھ افراد کو کورونا ویکسین لگائی جائے گی۔بزرگ افراد کو ویکسین لگانے کیلئے اضلاع میں خصوصی سنٹرز بنائے جا رہے ہیں۔  پنجاب میں 47 ہزار فرنٹ لائن ہیلتھ پروفیشنلز کو کورونا ویکسین لگائی جا چکی ہے اور سوا دو لاکھ ہیلتھ پروفیشنلز کی رجسٹریشن ہو چکی ہے۔  فرنٹ لائن ڈاکٹروں، نرسوں اور پیرامیڈیکل سٹاف کی خدمات لائق تحسین ہیں۔ ہیلتھ پروفیشنلز کورونا وباء میں مثالی کام کررہے ہیں اور پنجاب حکومت ڈاکٹروں،نرسوں اور پیرا میڈیکل سٹاف کی خدمات کی معترف ہے۔

صحت کے حوالے سے یہ منصوبے پنجاب حکومت کی صحت کے میدان میں کاوشوں کی بہترین مثال ہے۔ ان سے شہریوں کی زندگی میں آسانیاں پیدا ہوں گی اور ان کے دیرینہ مسائل حل ہوں گے۔ یہ تمام کام عوامی فلاح و بہبود اور ملکی ترقی کے زمرے میں آتے ہیں جن کے آغاز کا سہرا وزیراعلیٰ پنجاب سردارعثمان بزدار کے سر ہے۔ اسی وجہ سے عوام نے  انہیں زبردست خراج تحسین پیش کیا ہے۔


ای پیپر