Ch Farrukh Shehzad columns,urdu columns,epaper,urdu news papers
27 فروری 2021 (12:19) 2021-02-27

عشق اور سیاست میں ایک قدر مشترک ہے۔ علامہ اقبال ؒ نے فرمایا تھا کہ ’’عشق تھا فتنہ گر و سرکش و چالاک میرا‘‘۔ سیاست میں یہ تینوں چیزیں سکہ رائج الوقت ہیں ۔ یہ کالم لکھتے ہوئے مجھے آج ملک عبدالرحمن مرحوم بہت یاد آ رہے ہیں وہ بحرین پولیس کی ملازمت کے دنوں میں میرے استاد اور سینئر تھے۔ ان کا تعلق وزیر آباد سے تھا وہ بعد ازاں کینسر کا شکار ہو کر اپنے کیریئر کے عروج پر فوت ہو گئے۔ حکومت بحرین نے انہیں سرکاری خرچ پر علاج کے لیے برطانیہ بھی بھیجا مگر بے سود۔ ملک صاحب کی خصوصیت یہ تھی کہ وہ چھوٹے چھوٹے واقعات سے بہت بڑا نتیجہ اخذ کرنے کے ماہر تھے اور مذاق مذاق میں ایسی بات کر جاتے تھے جس کی کاٹ بڑے عرصے تک محسوس ہوتی تھی۔ انہوں نے آج سے ربع صدی پہلے وزیر آباد ریلوے اسٹیشن کا ایک واقعہ سنایا تھا یہ ایک نوسر باز کی کہانی ہے جو اپنے گروہ کا سرغنہ تھا یہ گروپ وزیر آباد ریلوے اسٹیشن اور گردو نواح میں سادہ لوح مسافروں کی جیبیں کاٹتے تھے ۔ یہ گروہ اتنا منظم اور متحرک تھا کہ کسی کے قابو میں نہیں آتے تھے۔ گروہ کے سرغنہ کا طریقۂ واردات تھا کہ وہ بہت زیادہ رش والی جگہ پر اونچی آواز میں کہتا تھا کہ جیب کتروں سے ہوشیار رہیں جیسے ہی لوگ آواز سنتے وہاں شور مچ جاتا کہ فلاں فلاں کی جیب کٹ گئی ہے کیونکہ وہ پکارتا ہی اس وقت تھا جب اس کے کارندے رفو چکر ہو چکے ہوتے تھے پھر وہ سادہ لوح لٹنے والوں کو ڈانٹنے لگتا کہ یہ آپ کی اپنی غلطی ہے آپ نے جیب کی حفاظت نہیں کی ۔ میں نے تو آپ کو پہلے ہی خبردار کر دیا تھا وغیرہ وغیرہ۔ آپ سوچ رہے ہوں گے کہ جب عوام کو لوٹنا ہی مقصد ہے تو اس ڈرامے کا کیا مقصد ہے۔ جی وہ بھی آپ کو بتاتے ہیں۔ جیب کتروں کا یہ ڈون اس سے عوام کے ساتھ اعتماد اور ٹرسٹ قائم کر لیتا تھا اصل کہانی اس وقت شروع ہوتی تھی جب اس کا کوئی کارندہ واردات کے دوران رنگے ہاتھوں پکڑا جاتا تھا وہ نوسر باز دور سے بھاگتا ہوا اور گالیاں دیتا ہوا جیب کترے پر حملہ کر دیتا۔ اس پر تھپڑوں کی بارش کرتا اسے گریبان سے پکڑ کر گھسیٹ کر مجمع سے باہر نکالتا اور ساتھ لے کر چل پڑتا اگر کوئی اسے پوچھتا کہ کہاں لے جا رہے ہو تو وہ اپنی لمبی قمیص کا دامن تھوڑا سا اوپر اٹھاتا اور کمر پر بندھی ہوئی پولیس کی پیٹی جس پر جعلی پیٹی نمبر بھی لگا ہوتا وہ دکھاتا اور کہتا کہ میں خفیہ پولیس کا افسر ہوں اور میں اسے گرفتار کر کے تھانے لے جا رہا ہوں آپ لوگ بے فکر ہو جائیں۔ وزیرآباد والے اطمینان کا سانس لیتے کہ آج ایک جیب تراش کو پولیس کے حوالے کیا ہے۔ 

نوسر باز اپنے کارندے کو گھر لے جا کر پہلے تو اس بات پر سرزنش کرتا کہ پکڑے کیوں گئے ہو۔ آئندہ ناکام ہوئے تو گینگ سے چھٹی کرا دوں گا۔ 

مجھے یہ واقعہ پاکستان میں سینیٹ الیکشن کے حوالے سے ہارس ٹریڈنگ کا جو طوفان مچا ہوا ہے اس کی نسبت بڑی شدت سے یاد آ رہا ہے ۔ اس وقت پورا ملک وزیرآباد کا ریلوے اسٹیشن بن کر رہ گیا ہے جہاں ہر طرف قیامت مچی ہوئی ہے کہ جیب کتروں سے ہوشیار رہیں مگر جو اس کا سب سے زیادہ شور مچا رہے ہیں حقیقت میں وہی اس دھندے میں ملوث ہیں کہیں ویڈیو دکھائی جا رہی ہیں کہیں مفتیان عدل سے فتویٰ کی استدعا کی جا رہی ہے۔ کہیں قصر صدارت سے راتوں رات فرمان جاری ہو جاتا ہے۔ اتنی دھند تو ڈسکہ میں ضمنی الیکشن کی رات نہیں پڑی جتنی گہری دھند اس وقت قومی سیاست کی لپیٹ میں لیے ہوئے ہے لیکن اس ساری دھند کے باوجود بہت سے چہرے پہچانے جا سکتے ہیں۔ خیبر پختونخوا کی 2018ء کی ویڈیو ریلیز پر کسی طرف سے کوئی پتہ بھی نہیں ہلا ہم نے تو سمجھا تھا کہ اس پر جوڈیشل کمیشن بنے گا ۔ ویڈیوکے کرداروں نے جن اعلیٰ شخصیات کی نشاندہی کی تھی انہیں بلایا جائے گا مگر کچھ بھی نہ ہوا۔ 

ویڈیو ملیاں کجھ نہ ہلیا

کیوں سجناں دا گلہ کراں

میں لکھ واری بسم اللہ کراں

لیکن آج تو حد ہی ہو گئی ہے سندھ کے سابق وزیراعلیٰ ، سابق وفاقی وزیر اور بہت ہی معتبر سیاستدان لیاقت جتوئی صاحب کا پیمانۂ صبر لبریز ہو گیا انہوں نے اپنی ہی پارٹی کے خلاف مورچہ بنا لیا اور ببانگ دہل دعویٰ کر دیا کہ پاکستان تحریک انصاف نے سیف ابڑو کو سندھ سے سینیٹ کا ٹکٹ 35 کروڑ میں فروخت کیا ہے مجھے ایک دفعہ پھر وزیر آباد سٹیشن کی بازگشت سنائی دے رہی ہے۔ اگر اب بھی الیکشن کمیشن یا سپریم کورٹ نے نوٹس نہ لیا تو پھر سمجھ لیں کہ بقول فیض

یہ فصل امیدوں کی ہمدم

اس بار بھی غارت جائے گی

یہ محنت صبحوں شاموں کی

اب کے بھی اکارت جائے گی

اگر اب بھی کوئی یہ سمجھتا ہے کہ پاکستان میں جمہوریت مضبوط ہو رہی ہے تو میرے خیال میں اسے نظر چیک کرانے کی نہیں بلکہ دماغ کا CT Scan کرانے کی ضرورت ہو گئی۔ ہم نے جمہوریت کے ساتھ منہ کالا کرنے کے بعد اسے نئے گہرے زخم لگا دیئے ہیں کہ بین الاقوامی مبصرین یہ کہنے پر مجبور ہیں کہ ڈسکہ الیکشن 2018ء کے انتخابات سے کچھ نہ کچھ بہتر تھا۔ یہ وہ الیکشن ہے جس میں صرف دو درجن پولنگ سٹیشنوں کے نتائج کی چوری ثابت ہو چکی ہے۔ 

بات محترم لیاقت جتو ئی صاحب کی ہو رہی تھی۔ جتوئی صاحب کے سیاسی Credentials میں ایک خوبی یہ ہے کہ وہ جاوید ہاشمی کی طرح باغیانہ سوچ کے حامل ہیں وہ جس پارٹی سے بھی الگ ہوتے ہیں اس کی وجہ پارٹی کی اعلیٰ ترین قیادت کے ساتھ Clash ہوتی ہے وہ زیادتی اور نا انصافی پر خاموش نہیں رہتے۔ ان کا شمار خاموشی سے پارٹی سے الگ ہونے والوں میں نہیں ہے۔ وہ بے آبرو ہو کر نکلتے ہیں مگر پارٹی قیادت کو بھی بے آبرو کر دیتے ہیں۔ پاکستان تحریک انصاف پر پیسے لے کر ٹکٹ فروخت کرنے جیسا گھناؤنا الزام اگر لیاقت جتوئی جیسے قد آور اور بزرگ سیاستدان کی طرف سے عائد ہوتا ہے تو اس کی تحقیقات ہونی چاہیے۔ اس سے پہلے اسی پارٹی پر بلوچستان میں عبدالقادر کو ٹکٹ دینے پر پارٹی میں بغاوت ہو چکی ہے جس کو فوری ٹکٹ کی منسوخی کے ذریعے دبا دیا گیا تھا مگر ابھی تک وہاں صورت حال غیر یقینی ہے۔ بلوچستان والے سینیٹ الیکشن میں ہمیشہ اپ سیٹ دینے میں مشہور ہیں ۔ حکمران جماعت کی نیندیں ایسے ہی حرام نہیں ہوئیں۔ بلوچستان میں کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ 

یہ حکومت جو ہمیشہ عوام کو نہ گھبرانے کا مشورہ دیتی ہے ان کی اپنی گھبراہٹ کا یہ عالم ہے کہ پختونخوا میں ضمنی الیکشن ہارنے کے اگلے دن وزیراعظم کا طیارہ پختونخوا اترا تو طیارے کے اترنے کے ساتھ ساتھ ان کاچہرہ بھی اترا ہوا تھا کیوں کہ ان کی اپنی پارٹی میں نقب زنی کی بہت بڑی واردات ہوئی جب پرویز خٹک کے بھائی لیاقت خٹک کو فوری طور پر وزیر آبپاشی کے عہدے سے نکال دیا گیا ان پر الزام ہے کہ انہوں نے ضمن الیکشن میں تحریک انصاف کی بجائے ن لیگ کے امیدوار کی حمایت کی اور اسے کامیاب کرایا۔ بات یہاں ختم نہیں ہوتی۔ اطلاعات ہیں کہ وزیراعظم نے پارٹی کے ایم پی اے اور ایم این اے جن کا تعلق KPK سے تھا ان کا اجلاس طلب کیا تو اس میں کوئی ایک درجن کے قریب ممبران غیر حاضر تھے۔ وہاں بھی  حالات کافی مخدوش ہیں اور حکمران پارٹی کے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ وہ قبل از وقت ہارس ٹریڈنگ کے الزامات لگا کر اپنی عزت بچانے کی تگ و دو کرے۔ 

اس سارے کھیل میں پاکستان کے عوام کی پوزیشن وزیر آباد ریلوے اسٹیشن کے ان مسافروں کی ہے جہاں جیب کتروں کا راج ہوا کرتا تھا یہ بات پرانی ہو گئی ہے ہمیں نہیں معلوم کہ وہاں کی موجودہ صورت حال کیا ہے مگر وزیرآباد سے 10 کوہ کے فاصلے پر واقعہ شہر ڈسکہ جس کا پرانا نام 10کوہ تھا (کیونکہ یہ وزیر آباد سیالکوٹ گوجرانوالہ جیسے شہروں سے یکساں 10 کوہ کے فاصلے پر تھا جسے انگریزوں نے 10 کوہ کو بگاڑ کر ڈسکہ لکھ دیا) وہ آج پورے پاکستان کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے وہاں حکومت نے اپنی کرتوتوں کے نئے مینار کھڑے کر دیئے ہیں۔


ای پیپر