Iftikhar Hussain Shah columns,urdu columns,epaper
27 فروری 2021 (12:14) 2021-02-27

غلام رسول کی سائیکلوں کی مرمت کی دُکان تھی ، لیکن علاقے میں اُس کی بڑی اہمیت تھی۔اُس سے ٹائم لینا کوئی اتنا آسان کام نہیں تھا۔لوگ اُس کی availabilityکا کئی کئی دِ ن  انتظار کرتے تھے۔بسا اوقات تو وہ صاف کہہ دیتا تھا کہ اِس ہفتے تو کوئی ٹائم نہیں ہے البتہ اگلے ہفتے دیکھیں گے۔اُس کی دُکان میں سائیکل مرمت کرانے والوں کی تعداد تو برائے نام ہوتی تھی لیکن دوسرے مختلف قسم کے کاموں کے لیے آنے والوں کا رش رہتا تھا۔کوئی آ رہا ہوتاتھا تو کوئی جا رہا ہوتا تھا۔وہ ہر وقت دُکان میں نہیں ہوتا تھا۔اُس کا بھتیجا سائیکلوں کی مرمت کرتا تھا لیکن زیادہ وقت وہ غلام رسول کے اسسٹنٹ کی ڈیوٹی ادا کرتا تھا۔کِسی کو کہہ رہا ہوتا تھاکہ چچا پانچ بجے دُکان پر ہوں گے ، تو کسی دن کِسی سے کہہ رہا ہوتا تھا وہ ملتان گئے ہوئے ہیں، دو دِن بعد دُکان پر ہوں گے۔لوگ غلام رسول کی تلاش میں دُکان کے چکر لگاتے رہتے تھے۔غلام رسول کی اِس اہمیت کی سب سے بڑی وجہ اُس کی مختلف قسم کے شعبوں میں غیر معمولی مہارت اور جانکاری تھی ،لیکن اِس سے بھی بڑھ کر اُس کا پُر خلوص اور بے لوث رویہ لوگوں کو اُس کی طرف کھینچتا تھا۔مجھے کچھ دوستوں کا غلام رسول کو تلاش کرنانہ صرف جاہلانہ لگتا تھا بلکہ مجھے اُن پر غصہ آتا تھا۔آپ خود غور کیجئے کہ غلام رسول کی سائیکلوں کی مرمت کی دُکان تھی اور دوستوں نے سیکنڈ ہینڈ کار خریدنی تھی۔چاہے سارے گھر نے ایک کار پسند کر لی ہو جب تک غلام رسول کار کا معا ئنہ نہ کر لے اور ہاں نہ کر دے ،کار نہیں خریدی جائے گی۔غلام رسول کے کار معا ئنہ کا بھی اپنا ایک طریقہ کار تھا۔ پہلے بونٹ کھول کر کار کے انجن کا معائنہ کیا جائے گا۔پھر بونٹ بند کر کے گاڑی کی ساری باڈی پر ہاتھ پھیرا جائے گا۔پھر ڈگی کھول کر اندر سے معائنہ کیا جائے گا اور سب سے آخر میں وہ گاڑی کے نیچے گھس جاتا تھا۔ باہر نکل کر ساتھ لے جانے والے دوست کو  ایک سائیڈ پر ایک کونے میں لے جاتا اور کوئی ایسی بات اُس کے کان میں کہہ دیتا تھا کہ سب دوست ایک منٹ ضائع کیے بغیر وہاں سے روانہ ہو جاتے تھے۔ذرا سی تحقیق کی تو پتہ چلا کہ موصوف نے فیصلہ سنایا کہ گاڑی کا Majorیعنی بہت بڑا ایکسیڈنٹ ہو 

چکا ہے اور اُس کی باڈی بھی ٹیڑھی ہے، لہٰذا اِس کی خرید کا سوچا بھی نہ جائے۔ اور اگر کوئی گاڑی غلام رسول کو پسند آ گئی تو وہ انتہائی پُر اعتماد لہجے میں کہہ دیتا کہ بس خرید لیں۔خریدار اگر قیمت کچھ زیادہ ہونے کی بات کرتا تو غلام رسول کہتا کہ پیس ( Piece )  مِل گیا ہے فوراً خرید لیں ، لاکھ دو لاکھ کا نہ سوچیں۔بھلا سیکنڈ ہینڈ گاڑیاں بھی اتنی اچھی ملتی ہیں۔اور یار لوگ فوراً بیعانہ دے کر سودا پکا کر لیتے تھے۔غلام رسول کی مہارت (  expertise ) صرف کاروں تک محدود نہیں تھی بلکہ وہ پراپرٹی کی خریدوفروخت میں بھی اتنا ہی ماہر تھا اور انتہائی پر اعتماد لہجے میں رائے دیتا تھا۔اُس کا ایک قول مجھے آج تک نہیں بھولا کہ پراپرٹی اُس وقت تک نہیں خریدنی جب تک بندہ  پراپرٹی کے سنٹر (centre ) میں کھڑا ہو کر نہ دیکھ لے۔وہ پلاٹ کو دیکھتے ہی کہہ دیتا کہ یہ بالکل نہیں خریدنا۔آپ لاکھ کہیں کہ پلاٹ سستا ہے لے لینا چاہیے ،لیکن موصوف فوراً کہتے کہ آپ کو نظر نہیں آتا سامنے قبرستان ہے۔ اِس کی قیمت جُوں کی رفتار سے بڑھے گی۔سرکاری کالونیوں کے پلاٹ کی خرید کے تو بہت مخالف تھا۔کہا کرتا تھا کہ جہاں تک ممکن ہو سرکاری کالونیوں میں پلاٹ مت خریدو۔اِن میں مسائل ہی مسائل ہوں گے، اگراِس کے ٹائٹل یعنی ملکیت میںکوئی نقص نہ بھی ہوا تو کوئی نہ کوئی پریشانی نکلتی رہے گی۔ہاں فوجیوں کی کالونیوں کا بڑا گرویدہ تھا۔ فوراً کہتا بس آنکھیں بند کر کے لے لو۔لوگوں نے گاڑی خریدنی ہوتی تھی یا پراپرٹی کا کوئی سودا کرناہوتا تھا(چاہے دوسرے شہر میں جا کر کرنا ہوتا تھا) وہ بڑے تردّد سے غلام رسول کو ساتھ لے کر جاتے۔ کمال یہ تھا کہ اِن تمام سروسز (Services)کا غلام رسول کوئی معاوضہ نہیں لیتا تھا۔بلکہ اِسے معیوب سمجھتا تھا۔اِس مصروفیت کی وجہ سے اُس کی اپنی دُکان اور کئی گھریلو ذمہ داریوں کا ہرج ہوتا تھا، لیکن اُسے اِس کی کوئی پروا نہیں تھی۔ اُس کا دو کمروں کا گھر تھا اور سواری کے لیے ایک ویسپا سکوٹر، جس پر اتوار یعنی چھُٹی کے دِن اپنی بیوی اور دو بیٹوں کے ساتھ سیر سپاٹے کے موڈمیں گھومتا نظر آتا تھا۔آپ حیران ہوں گے کہ غلام رسول کی سروسز صرف پراپرٹی اور گاڑیوں کی خریدوفروخت تک محدود نہیں تھیں بلکہ وہ رشتوں کی تلاش اور پھر اُن کی چھان بین جیسی مشکل ترین ڈیوٹی بھی اپنے سر لے لیتا تھا۔پوری تحقیق کے لیے وہ متوقع رشتہ کے محلے اور اُس محلے کی مسجد کے بھی کئی کئی چکر لگا لیتا تھا،اور پھر اُسی حتمی لہجے میں کہتا تھا کہ بڑے بیبے لوگ ہیںآنکھیں بند کر کے رشتہ کر لو ،ساری عمر غلام رسول کو دُعائیں دو گے۔لوگوں کے اِس قسم کے بڑے بڑے کام کرانے کے بعد وہ اِن کا ذِکر کر نا بھی ٹھیک نہیں سمجھتا تھا۔ اُس کا فلسفہ تھا کہ ایسا کرنے سے آدمی کی اصلیت کا پتہ چل جاتا ہے کہ وہ کتنا چھوٹا آدمی ہے۔کِسی کی مدد کر کے بھول جانا ہی خاندانی لوگوں کا شیوہ ہوتا ہے۔ پھر دیکھنے میں آیا کہ غلام رسول کی دُکان پر رش کم رہنے لگا،اور غلام رسول نظر بھی نہیں آتا تھا۔ پتہ چلا کہ غلام رسول بہت بیمار ہے اور اُسے معدے کاکینسرہوگیاہے۔چند دوستوں کے ساتھ اُس کے گھر پہنچے۔چند اور لوگ بھی بیٹھے تھے۔غلام رسول کو اپنی بیماری کا پورا ادراک تھا۔اُسے اِس بیماری کے ہسپتالوں کا بھی علم تھا اور سپیشلسٹ ڈاکٹروں کا بھی ۔ اُس کی کمزوری اورنقاہت دیکھ کر اُسے کہا کہ وہ کِسی اچھے ہسپتال میں داخل کیوں نہیں ہو جاتا۔کہنے لگا کہ اِس مہنگی اور مہلک بیماری کے لیے گورنمنٹ کا کوئی ہسپتال نہیں اور میرے پاس اتنی رقم نہیں کہ اپنے طور پر کِسی پرائیویٹ ہسپتال میں داخل ہو کر علاج کرا سکوں۔اللہ بہتر کرے گا ۔اللہ خود کوئی راستہ نکالے گا۔رات ہو چلی تھی ہم سب دوست وہاں سے نکلے اور یہ فیصلہ کیا کہ جس سے جتنا بھی ہو سکے وہ اپنا حصہ ڈالے اور کل ایک معقول رقم غلام رسول کے حوالے کی جائے۔ہم سب نے رقم اکھٹی کی اور دوسری شام اُس کے گھر پہنچ گئے۔صرف ایک شخص بیٹھا تھا وہ بھی اُس کا کوئی رشتہ دار تھا۔ہمیں دیکھ کر خوش ہوا ،کہنے لگا آپ لوگوں نے آج پھر وقت نکال لیا۔ہم نے اپنے آنے کا مدعا بیان کیا اور ایک لفافے میں ڈالی رقم اُس کے حوالے کی۔لیکن وہ اُٹھ کر بیٹھ گیا، سب دوستوں کا بہت شکریہ ادا کیا اور کہنے لگا ،میں نے ساری عمر ہاتھ نہیں پھیلایا۔ اب زندگی کے آخری دنوں میں مجھ سے وہ کام نہ کرائیں جو مجھے توڑ کر رکھ دے۔اتنے میں اُس کی بیوی بھی آ گئی۔ہنس کر کہنے لگا کہ میری بیوی نے اپنا سارا زیور بیچ دیا ہے حالانکہ میں نے اِسے بہت منع کیا ،لیکن کہتی ہے کہ میں نے آپ کے بغیر زیور کا کیا کرنا ہے۔ ان شاء اللہ کل ہسپتال داخل ہو جائیں گے۔ لیکن صبح کی اذانوں کے ساتھ غلام رسول کی موت کا اعلان ہو رہا تھا۔


ای پیپر