بے عزتی کا چسکا!
27 فروری 2021 2021-02-27

این اے 75ڈسکہ کے ضمنی انتخاب کے حوالے سے اپنے گزشتہ کالم میں، میں نے عرض کیا تھا اِس انتخاب میں جن انتظامی وپولیس افسران نے ”حق غلامی“ ادا کرتے ہوئے ”مجرمانہ غفلت “ کا مظاہرہ کیا الیکشن کمیشن آف پاکستان نے اپنی ایک پریس ریلیز میں اُن کی صرف نشاندہی کی ہے، جبکہ اُنہیں اُن کے قصور یا جُرم کے مطابق فوری طورپر معطل یا تبدیل کیا جانا چاہیے۔ اگلے ہی روز الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایک اعلیٰ افسر نے مجھے ایک نوٹیفکیشن میرے واٹس ایپ پر بھجوایا جس میں ذمہ داران افسران کو معطل اور تبدیل کرنے کی ہدایت کی گئی تھی، ہمارے کچھ سرکاری افسران خود کو حکمرانوں کا وفادار ثابت کرنے کی ہرگھٹیا حدپارکرنے کی کوشش کریں اُن کے ساتھ اِس سے بھی بُرا سلوک ہونا چاہیے، اُن کے لیے یہ ہدایت جاری ہونی چاہیے آئندہ کبھی اُنہیں فیلڈ میں تعینات نہیں کیاجائے گا، ہمارے اکثر افسران آنکھیں بندکرکے، صرف اور صرف اپنی اچھی پوسٹنگ بچانے یا حاصل کرنے کے لیے حکمرانوں کا ہرجائز ناجائز حکم تسلیم کرنے کے عمل کو باقاعدہ ایک اعزاز یا ”پارٹ آف سروس“ بلکہ ”آرٹ آف سروس“ سمجھتے ہیں، اِن افسران نے ملک کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا، اُن کے ہوتے ہوئے کسی بیرونی دُشمن کی پاکستان کو کوئی ضرورت ہی نہیں ہے، ایسے افسران کو ہلکی سی زد پہنچا کر الیکشن کمیشن آف پاکستان نے اپنا مکمل طورپر کھویا ہوا وقار کچھ بحال کرنے کی اچھی کوشش کی ہے،....اپنے گزشتہ کالم میں، میں نے یہ بھی عرض کیا تھا گزشتہ اڑھائی، پونے تین برسوں میں حکمرانوں نے سوائے سابقہ حکمرانوں کو گالیاں وغیرہ بکنے کے یا پھر افسران کے تبادلوں کے طوفان بدتمیزی برپا کرنے کے کچھ نہیںکیا، مہنگائی نے عوام کی کمر پہلے صرف دوہری کی ہوئی تھی، موجودہ حکمرانوں نے توڑ کر رکھ دی، سوائے ”کاروبار جھوٹ ومنافقت“ کے سارے کاروبار ہی ٹھپ ہوکر رہ گئے ہیں، بجلی، پیٹرول ، گیس کی قیمتیں کئی کئی باربڑھائی جارہی ہیں، یوں محسوس ہوتا ہے اِس حکومت کا عذاب جاری رہا آئندہ یہ قیمتیں ہرگھنٹے بعد بڑھائی جائیں گی، ....یہ اتنی بے وقوف حکومت ہے بندہ پوچھے بجلی گیس اور پیٹرول کی قیمتیں کسی انجانی یا ناگہانی مجبوری کے تحت بڑھانی ہی ہیں تو ضمنی الیکشن کے بعد بڑھا لیں، دوتین ماہ بعد بجٹ آرہا ہے اُس میں بڑھا لیں تاکہ ضمنی الیکشن میں آپ کو کچھ ووٹ ہی پڑ جائیں، یا ووٹ حاصل کرنے کے لیے جس سرکاری مشینری کو آپ اپنے حق میں استعمال کرنا چاہتے ہیں وہی کچھ کارگر ثابت ہو جائے۔ پر کیا کریں اِن بے وقوف حکمرانوں کو اپنے پاﺅں پر کلہاڑی مارنے کی ایسی عادت پڑ گئی ہے اب یہ اپنے پاﺅں پر کلہاڑی نہ بھی ماریں اِن کا پاﺅں خود جاکر کلہاڑی پروج جاتا ہے، .... اپنے گزشتہ کالم میں، میں نے کچھ وجوہات بیان کی تھیں جن کے باعث حکمران جماعت سابقہ حکمران جماعت نون لیگ سے این اے 75ڈسکہ کی سیٹ آسانی سے چھیننے میں کامیاب نہیں ہوسکی، اور ناکام بھی اِسی طرح ہوئی کہ مزید بدنام ہوگئی، نقل کے لیے عقل کی ضرورت ہوتی ہے، دھاندلی میں سابقہ حکمرانوں کی نقل کرتے ہوئے ذرا عقل کا استعمال اُنہوں نے نہیں کیا جس کا نتیجہ یہ نکلا سیٹ تو ہاتھ آئی نہیں، رہی سہی عزت بھی چلی گئی، اُس کے بعد ”کھسیانی بلیوں“ نے کھمبانوچنے کی کوشش کی تو الیکشن کمیشن کے کھمبے نے ایسا کرنٹ اُنہیں مارا اب یہ اوندھے منہ گرے پڑے ہیں، ....اب میں کچھ مزید وجوہات بیان کرتا ہوں جن کے پیش نظر کم ازکم مجھے پورا یقین تھا حکمران ایڑی چوٹی ودیگر اعضا کا پورا زور لگاکر بھی نون لیگ سے یہ سیٹ چھیننے میں ناکام رہیں گے، .... پی ٹی آئی کے امیدوار علی اسجد ملہی ایک شریف اور پڑھے لکھے انسان ہیں، پر میری معلومات کے مطابق وہ اپنے حلقے کو اتنا وقت نہیں دیتے کہ الیکشن کے روز گھر بیٹھ کر سیٹ جیت لیتے، اپنے لیڈر کی طرح لوگوں کے دُکھوں اور خوشیوں میں شریک ہونے کا کوئی خاص تجربہ بھی اُنہیں نہیں ہے، اُنہیں گزشتہ الیکشن میں بھی شکست ہوئی تھی، اُنہوں نے گزشتہ الیکشن میں شاید اکسٹھ ہزار ووٹ حاصل کئے تھے، اُن کے مقابلے میں ایک آزادامیدوار نے پی ٹی آئی کے ٹکٹ کے لیے درخواست دی پر اُن کی درخواست مسترد کردی گئی تھی۔ اُن کا نام محمد عثمان خالد ہے، اُنہوں نے ساڑھے ستاون ہزار ووٹ حاصل کیے تھے، محمد عثمان خالد نے اِس بار بھی پی ٹی آئی کے ٹکٹ کے لیے درخواست دی تھی، پی ٹی آئی سے ٹکٹ حاصل کرنے کے لیے پی ٹی آئی کا جو مخصوص طریقہ واردات ہے اُس کا حصہ بھی وہ بنے تھے، اِس کے باوجود وہ ٹکٹ حاصل کرنے میں ناکام رہے، اُن کا اِس حلقے میں اچھا خاصا اثرورسوخ ہے، اُن کے بزرگ اِس حلقے میں اتنے فلاحی کام کرتے ہیں لوگ اُن کے دیوانے ہیں، میں یہ اُمید کررہا تھا اِس بار پی ٹی آئی محمد عثمان خالد کو ٹکٹ دے گی، اُس کے بعد یہ اُمید بھی میں کررہا تھا وہ یہ سیٹ نون لیگ سے چھیننے میں کامیاب ہو جائیں گے، پر پی ٹی آئی نے سابقہ شکست خوردہ اُمیدوار کو ایک بارپھر ٹکٹ جاری کرکے میرے اِس شک کو مزید تقویت بخشی کہ کہیں بے شمار معاملات میں پی ٹی آئی، نون لیگ سے ملی تو نہیں ہوئی؟،پاکستان میں الیکشن پیسے کا ہوتا ہے، عمومی تاثر یہی ہے جس کے پاس پیسہ زیادہ ہے اُس کے پاس ووٹ بھی زیادہ ہیں، یا یوں کہہ لیں جوالیکشن میں دل کھول کر پیسہ خرچ کرنے کا حوصلہ رکھتا ہے اُس کی شکست کے امکانات کم ہوتے ہیں، ایسے اُمیدوار کے لیے حکومتی اُمیدوار ہونا بھی کوئی اہمیت نہیں رکھتا، یہاں ہرشے بِکتی ہے، گزشتہ دو اڑھائی برسوں میں فرق بس یہ پڑا ہرشے کے ریٹس کئی گنا بڑھ گئے، الیکشن میں دِل کھول کر پیسہ خرچ کرنے کے معاملے میں پی ٹی آئی کے اُمیدوار علی اسجد ملہی، محمدعثمان خالد کے مقابلے میں بہت کمزور تھے، یا پھر ہوسکتا ہے پی ٹی آئی کا ٹکٹ حاصل کرنے کے بعد وہ بے چارے مالی لحاظ سے اتنے کمزور ہوگئے ہوں الیکشن میں خرچ کرنے کے لیے اُن کے پاس کچھ بچا ہی نہ ہو، .... گوکہ محمد عثمان خالد اِس الیکشن میں پی ٹی آئی کے امیدوار علی اسجد ملہی کے حق میں دستبردار ہوگئے، پر ظاہر ہے دوبار اُنہیں ٹکٹ کا لارا لگاکر اور اُن کا اچھا خاصا خرچا کرواکر اُنہیں ٹکٹ نہ دے کر جس بدسلوکی کا مظاہرہ کیا گیا اُس کے نتیجے میں یہ ممکن نہیں اِس الیکشن میں پی ٹی آئی کے اُمیدوار کے حق میں دستبردار ہونے کے باوجود پی ٹی آئی کے اُمیدوار کی دِل سے اُنہوں نے حمایت کی ہو، .... اور شاید اِس ایک وجہ سے بھی حکمران جماعت ڈسکہ این اے 75کی سیٹ نون لیگ سے نہیں چھین سکی کہ اِس الیکشن میں عمومی تاثر یہی ہے کچھ قوتوں نے خود کو ہرممکن حدتک غیر جانبدار رکھنے کی کوشش کرکے حکمرانوں کو شاید یہ پیغام دیا بہتر ہے اپنی گندگی کو ٹھکانے لگانے کا بندوبست اب آپ خود ہی فرما لیا کریں، .... ہماری کچھ قوتیں یہ برداشت نہیں کرتیں کسی اور کی گندگی مسلسل اُن کے کھاتے میں پڑتی رہے ، سو اِس بار کسی کی گندگی اپنے کھاتے میں ڈلوانے کی کوشش اگر نہیں کی گئی یہ اچھی بات ہے، یہ عمل مستقبل میں بھی جاری رہا تو پاکستان ٹوٹنے کے زخم پر مرہم رکھنے کے مترادف ہوگا، اِس سے پاکستان کو اپنی مرضی کانیا پاکستان بنانے کی مذموم کوششیں بھی کسی حدتک رُک جائیں گی، ....الیکشن کمیشن آف پاکستان نے ڈسکہ کا ضمنی الیکشن اب 18مارچ کو کروانے کا اعلان کیا ہے۔18مارچ تک ”دُھند“ ختم ہوچکی ہوگی لہٰذا حکمرانوں کو الیکشن جیتنے کے لیے اِس بار اُس کے متبادل کوئی انتظام کرنا پڑے گا، .... اُمید ہے دونوں اطراف سے اب وہ بلنڈرز نہیں دہرائے جائیں گے جو انتخابات کے حوالے سے پاکستان کے لیے عالمی رسوائیوں کا باعث بنتے ہیں، اِس ضمن میں سب سے بڑی ذمہ داری خود الیکشن کمیشن آف پاکستان پر عائد ہوتی ہے !! 


ای پیپر