ڈاکو بمقابلہ ڈاکو....
27 فروری 2021 2021-02-27

ہماری ایک قلمکار دوست ہیں فرمانے لگیں ایک وقت آتا ہے جب شوہر اچھے لگنا شروع ہو جاتے ہیں بے تابی سے پوچھا وہ وقت کب آتا ہے انہوں نے کہا جب بچے اس سے بھی زیادہ خراب نکل آتے ہیں۔ بعینہ پاکستانی سیاست میں بھی ہر نئے آنے والے کی بری کارکردگی گزشتہ والوں کو معتبر ثابت کر دیتی ہے حالانکہ ہوتے وہ ہرگز نہیں وہ اپنے اسلاف کے آگے شرمندہ ہوتے ہیں۔ موجودہ ضمنی انتخابات نے بھی جہاں پی ٹی آئی کی بری کارکردگی سے پردہ اٹھایا ہے وہاں گزشتہ والوں کی کامیابی میں حصہ بھی ڈالا ہے اڑھائی پونے تین برس محض انتقامی کارروائیاں کرنے اور مسلم لیگ ن کو ہدف بنانے میں جو کارخانہ سرکار کا نقصان ہوا ہے اس کا کیا؟

سرکاری خرچے پر سرکاری پٹرول اور گاڑیوں پر چینل در چینل پھر پھر کر کون سی قومی خدمت ہوئی؟بلکہ میں تو یہاں تک کہوں گی کہ اگر حکمران مسلم لیگ ن سے محبت میں بھی اتنا وقت ضائع کرتے تو قومی نقصان ہی ہوتا۔ حکومتوں کا کیا کام کہ وہ تمام وقت تمام ترقی تمام الزامات گزشتہ حکومت پر لگا کر سبک دوش ہو جائیں مگر اس شکست کو پی ٹی آئی نے شکستِ فاتحانہ میں تبدیل کر دیا ہے۔ محض باتیں کر کر کے جواز یہ کہ ووٹ بڑھ گئے بھئی پی ٹی آئی گھرانوں میں بہوﺅں دامادوں کے اضافے کے علاوہ کئی نئے ووٹر بھی اس اثنا میں ووٹ کی عمر کو پہنچ جاتے ہیں....

مغربی مفکرین نے کہا ”فتح کا کوئی نعم البدل نہیں “ شکست تو بہرحال شکست ہی ہوتی ہے اور آئندہ کے لئے اپنی غلطیاں درست کرنے میں معاون ثابت ہوتی ہے مگر وطنِ عزیز میں تو ایسے کوئی آثار نہیں ۔ یہاں تو شکست پر ڈھول پیٹے جاتے ہیں اور فتح پر تو خیر بھنگڑے بنتے ہیں خیر اب ڈسکہ اور اس کے ”بکسے“ عدالتوں میں ہیں کہ عدالتوں کو بس اب اسی ساس بہو کے ”سوپ“ کو نمٹانے کے لئے مختص کر لیا گیا ہے....

کیا ”تبدیلی“ لڑائی کا انداز بدلنے کی کاوش تھی۔ لغت میں تو تبدیلی ”تباہی، تہس نہس، ہر چیز کا اپنی مقررہ جگہ سے ہٹ جانے کا نام ہے“ اور ”سونامی“ تو ہے ہی پوری تباہی۔ یہ جو ہلچل تبدیلی کے نام پر ہم پر تھوپی گئی اس خانہ ویرانی پر اپنا شعر (کہ قلم شعرو نثر میں یکساں سفر کرتا رہتا ہے کیا کریں؟)

وہ آسماں رہا ہے نہ ویسے زمیں رہی

کوئی بھی چیز اپنی جگہ پر نہیں رہی

اِک دوسرے کے واسطے آئے تھے دہر میں

وہ بھی کہیں رہا ہے تو میں بھی کہیں رہی

چلو تہس نہس ہی سہی مگر اب چیزیں اپنی جگہ پر آ جانی چاہئیں

بکھیر کر وہ مجھے خاک سے اُٹھا لے گا

وہ پہلے توڑے گا اور پھر مجھے بنا لے گا

سو صاحب اب ”تبدیلی“ کی جگہ سکون چاہئے ۔ بہت ہو گئی تبدیلی الزام تراشی، گالی گلوچ اور گلے پڑنے کے نئے ڈھنگ میڈیا وار سے ترقی کر کے انٹرنیٹ پر وائرل ہو چکے ہیں کردار کشی اپنے عروج کو آداب سخن ”اوئے“ اور چور ڈاکو کو پھلانگ چکے اب بتایئے بھلا آٹا چور چینی چور الیکشن ایک بڑی پارٹی ایک بڑی پارٹی ڈاکو چور تیسری کمیشن کھانے والی تو کیا ہم واقعی قائداعظم کے پاکستان میں رہتے ہیں۔ وہ قائداعظم جن کے بارے ہمارے والد کہتے تھے ”بابا“ کے آگے سر نہیں اٹھ سکتا مگر یہاں تو مسلسل جھگڑالو عورتوں والی لڑائی لگی ہے۔

کسی کو اصل نقصان کا احساس ہی نہیں کہ یہ دوطرفہ یا سہہ طرفہ چور ڈاکو چور ڈاکو والی لڑائی کو پورے پاکستان کے بچے سن رہے ہیں ہم نے تو بچپن میں چور ڈاکو کہتے نہیں سنا اپنے بزرگ سیاست دانوں کو موجودہ لاٹ پر بڑھاپا تو آ گیا ہے مگر ”بزرگی“ ہرگز نہیں آئی....

ہم زیادہ سے زیادہ بچپن میں چور سپاہی والا کھیل کھیلتے کبھی کبھار کوئی مرغی چور کھیس چور بھی دیکھتے جسے محلہ خود ہی سیاہ منہ کر کے کھوتی پر بٹھا کر گلی گلی کی سیر کرا دیتا چوری میں دو چار برتن بھانڈے بھی شامل ہوتے تو ازراہ احتیاط چور کے گلے میں ”چھتروں“ کا ہار بھی ڈال دیا جاتا اور ہم سب بچے پیچھے پیچھے ”پھکڑی“ لگاتے جاتے.... ہمیں جو کہیں پتہ ہوتا کہ ڈاکو کھلے عام پھریں گے اور کھیل چور سپاہی کے بجائے ڈاکو بمقابلہ ڈاکو شروع ہو جائے گا تو کبھی کے دبک کر پر اس معاشروں کی راہ لیتے ہیں مگر اب نہ جائے رفتن نہ پائے ماندن یہی صدائیں سنتے سنتے اللہ حوالے ہو جائیں۔ لمحہ آخر میں یہ سوچ ہو گی ہم ایک ایسے ملک کے تھے جہاں سب ڈاکو تھے حساب برابر....

وہ ملک جہاں ”ندیاں“ پیلاں ڈالتی ہیں جہاں کے جھرنے گاتے ہیںجہاں چاروں موسم بہار دیتے ہیں جہاں کے گیت شاعر ادب ایسا کہ UNESCO یونیسکو نے بھی ادبی شہروں میں لاہور کو مقام دیا جہاں ہر شخص ہی تخلیق کار ہے جہاں اقبال، فیض، فراز پیدا ہوئے مگر (شبلی فراز سے بھی انکار نہیں)۔


ای پیپر