دہلی جل رہا ہے
27 فروری 2020 2020-02-27

جب روم جل رہا تھا تو نیرو چین کی بانسری بجا رہا تھا۔ یہ محاورہ بچپن سے پڑھتے اور سنتے آئے ہیں لیکن چمکتے انڈیا کے فاشسٹ وزیراعظم مودی نے اسے عملی طور پر ساری دنیا کے سامنے پیش کیا ہے۔ ایک طرف بھارتی وزیراعظم مودی امریکی صدر کے استقبال کے لئے سرخ قالین بچھا رہے تھے تو دوسری طرف ان کے پیروکار دہلی کی سڑکوں کو خون سے رنگ رہے تھے۔ ایک طرف مودی اور ان کی حکومت صدر ٹرمپ کے لیے نگاہیں بچھا رہے تھے تو دوسری طرف دہلی میں مسلمان مظاہرین کو دہلی کی سڑکوں پر بچھا کر ہندوتو ا کا سبق پڑھایا جا رہا تھا۔ جب ٹرمپ اور مودی ایک دوسرے کی تعریفیں کر رہے تھے۔ ایک دوسرے کے قصیدے پڑھ رہے تھے۔ اسی وقت دہلی میں آگ اور خون کا کھیل جاری تھا۔ وحشت اور بربریت کا کھیل۔

بھارتی میڈیا ہمیں یہ بتانے کی کوشش کر رہا ہے کہ دہلی میں دو متحارب گروپ لڑ رہے ہیں۔ ایک گروہ شہریت کے نئے قانون کا حامی ہے اور دوسرا گروہ اس کا مخالف ہے۔ بھارتی میڈیا یہ منظر کشی کر رہا ہے کہ شہریت کے قانون کے حامی اور مخالف دہلی کی سڑکوں پر آمنے سامنے ہیں۔ یہ بالکل ویسی ہی منظر کشی ہے جو فلسطین اور کشمیر میں قابض افواج کی طرف سے نہتے نوجوان مظاہرین کے خلاف وحشیانہ ریاستی طاقت کے استعمال پر کی جاتی ہے۔ ایک طرف مسلح جتھے جدید اسلحے سے لیس تربیت یافتہ فوجی اور دوسری طرف کبھی پتھروں اور کبھی چھوٹے کنکروں کا استعمال کرتے نوجوان مگر میڈیا ہمیں یہ بتانے کی کوشش کرتا ہے کہ مسلح تصادم ہوا جس کے نتیجے میں صرف کشمیری اور فلسطینی نوجوان شہید ہوتے ہیں۔ ان کے نعروں کا جواب انہیں بارود کی صورت میں ملتا ہے۔ سیاسی جدوجہد کو دبانے کے لیے ریاستی طاقت کا وحشانہ استعمال ہوتا ہے۔ دہلی میں دو مسلح گروہوں کے درمیان تصادم نہیں ہو رہا ۔ بلکہ بجرنگ دل اور راشٹریہ سیوک سنگھ (RSS) کے مسلح غنڈے پولیس کی مدد اور تعاون کے ساتھ مسلمان مظاہرین کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ اب تک 20 جیتے جاگتے انسان اس نفرت کی آگ کا ایندھن بن چکے ہیں۔ جو مودی اور اس کے حواریوں نے انڈیا میں لگا رکھی ہے۔ 200سے زائد افراد زخمی ہو چکے ہیں۔ گاڑیاں، دکانیں ، مکانات اور املاک جلائی جا رہی ہیں۔ انسانوں کو ننگا کر کے سرکوں پر گھٹیا جا رہا ہے۔ انہیں سر عام پولیس کی موجودگی میں وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ایک طرف مسلح جنونی جتھے ہیں اور دوسری طرف پر امن احتجاج کر رہے شہری ہیں۔ مسلح جتھے جو کہ انتہا پسند مذہبی جنونی سوچ رکھتے ہیں وہ ان مسلمانوں کو نشانہ بنا رہے ہیں جو شہریت کے نئے قانون کے خلاف گزشتہ کئی ہفتوں سے احتجاج کر رہے تھے۔ مسلح جتھے یہ واضح پیغام

دے رہے ہیں کہ مودی کے فاشسٹ انڈیا میں پر امن احتجاج کی اجازت نہیں ہے بلکہ مودی حکومت کے خلاف احتجاج کرنے اور آواز بلند کرنا جرم ہے۔ اس جرم کی سزا موت کی صورت میں بھی مل سکتی ہے۔ مودی کے بھارت میں مذہبی اقلیتوں کو واضح پیغام دیا جا رہا ہے کہ اگر انڈیا میں رہنا ہے تو سر جھکا کر رہنا ہو گا۔ دوسرے درجے کے شہری بن کر رہنا ہو گا۔ آئینی اور قانونی حقوق اور برابری کو بھول جاؤ۔ سیکولرازم اور جمہوری حقوق کو بھول جاؤ۔ انڈیا کو مکمل ہندو ریاست بنانے کے راست میں کسی رکاوٹ کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ لہٰذا چپ چاپ خاموشی سے سر جھکا کر زندگی گزار و۔

دہلی میں گزشتہ تین دنوں سے جو کچھ ہو رہا ہے وہ اچانک نہیں ہوا بلکہ باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت ہو رہا ہے۔ یہ وقتی اشتعال کا نتیجہ نہیں ہے۔ نفرت کی یہ آگ اچانک نہیں بھڑکی بلکہ ایک تسلسل اور شعوری پالیسی کا نتیجہ ہے۔ جب سے شہریت کے نئے قانون کے خلاف پورے انڈیا میں مظاہرے شروع ہوئے ہیں تو بی جے پی کے وزراء اور رہنما مسلسل مسلمانوں کے خلاف زہر اگل رہے ہیں۔ دہلی کے حالیہ ریاستی انتخابات کی مہم کے دوران بی جے پی کے رہنماؤں نے انتہائی زہریلی زبان استعمال کی۔ شاہین باغ دہلی میں کئی ہفتوں سے جاری مسلمان خواتین کے دھرنے کے خلاف مسلسل بکواس کی گئی۔ ان کے خلاف ہندو انتہا پسندوں کو مسلسل بھڑکایا گیا۔ ان کے خلاف مسلسل تشدد اور نفرت کو ہوا دی گئی۔ ان کو سر عام دھمکیاں دی گئیں۔ انڈیا کی ریاست خاموشی سے یہ سب کچھ دیکھتی رہی اور پھر ان دھمکیوں کو عملی جامہ پہنانے کا آغاز ہو گیا۔ انڈیا کو سرکاری طور پر ایک مکمل ہندو ریاست بنانے کی عملی لڑائی کا آغاز ہو چکا ہے۔ دہلی کو ٹیسٹ کیس بنایا گیا ہے۔ دہلی میں سیکولر اور جمہوری انڈیا کے خاتمے کے عمل کا آغاز ہو گیا ہے۔ اگر دہلی ہار گیا تو سیکولر اور جمہوری بھارت بھی ہار جائے گا۔ فاشسٹوں نے بھارت کے سیکولر اور جمہوری آئین کو دہلی کی سڑکوں اور گلیوں میں دفن کرنے کی عملی کوششوں کا آغاز کر دیا ہے۔ فیصلہ کن لڑائی شروع ہو چکی ہے۔ ہندو فاشزم کا نشانہ صرف مسلمان نہیں ہیں بلکہ تمام سیکولر اور لبرل قوتیں ان کے نشانے پر ہیں۔ اگر انڈیا کے سوشلسٹ، سیکولر اور لبرل مودی کے تیزی سے ابھرتی فاشزم کے خلاف متحد ہو کر کھڑے نہ ہوئے تو انڈیا کا سماج اور ریاست فاشزم اور مذہبی انتہا پسندی اور جنونیت کے اندھیرے اور تاریکی میں ڈوب جائے گا۔

انڈیا کی پولیس، عدلیہ اور انتظامیہ تو پہلے ہی فاشنرم کے سامنے ہتھیار ڈال چکی ہیں۔ انڈیا کی ریاست اور اس کے ادارے ہندو انتہا پسندی کی لپیٹ میں ہیں۔ اگر بھارت کے عوام دوست دانشور، صحافی اور سیاسی جماعتیں متحد ہو کر میدان میں نہ نکلیں تو فاشزم کے بڑھتے قدم رک نہیں پائیں گے۔ انڈیا کا فاشزم نہ صرف انڈیا کے سماج کے لیے بلکہ جنوبی ایشیا کے خطے کے لیے بے پناہ خطرات لیے ہوئے ہے۔ یہ اس خطے کو نئی جنگوں اور عدم استحکام میں دھکیل سکتا ہے۔

دہلی صرف ایک شہر کا معاملہ نہیں ہے۔ یہ بھارت کے مستقبل کی لڑائی ہے۔ مودی حکومت کا خیال تھا کہ اس نے ہندو توا ایجنڈے کی تکمیل کے راستے میں حائل تمام رکاوٹوں اور دیواروں کو گرا دیا ہے مگر جب شہریت کے نئے قانون کے خلاف نوجوانوں اور طالب علموں کی ملک گیر تحریک کا آغاز ہوا اور بھرپور مزاحمت سامنے آئی تو مودی سرکار نے اسے ریاستی طاقت کے ذریعے کچلنے کی کوشش کی مگر اس میں کامیابی نہ ہوئی۔ لہٰذا اب جنونی جتھوں کو استعمال کیا جا رہا ہے دہلی کے دو بڑے جرم ہیں۔ ایک تو دہلی نے بی جے پی کو اسمبلی انتخابات میں شکست دی۔ دوسرا دہلی کا شاہین باغ مودی کے خلاف جدوجہد اور مزاحمت کا استعارہ اور علامت بن کر ابھرا۔ دہلی کو اس لیے جلایا جا رہا ہے تا کہ اس مزاحمت کو توڑا جا سکے۔ اس وقت دہلی کی سڑکوں پر وہی کچھ ہو رہا ہے جو ہٹلر کے جرمنی میں ہوا تھا۔ ہٹلر نے اپنے مخالفین کی تقسیم کا فائدہ اٹھا کر جرمنی پر فاشزم کو مسلط کیا۔ اس وقت مودی بھی یہی کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ دہلی میں محض مسلمان نہیں بلکہ انڈیا کا جمہوری اور سیکولر مستقبل بھی جل رہا ہے۔


ای پیپر