ملک میں گداگری کی بڑھتی لعنت اور ریاستی ذمہ داریاں
27 فروری 2020 2020-02-27

کہتے ہیں ایک مرتبہ حضرت امام بخاریؒ سفر پرجارہے تھے۔ دوران سفرحضرت کے پاس ایک ہزار دینار بھی تھے۔ کشتی میں سوار مسافروں میں سے کسی نے امام بخاریؒ کے پاس یہ دینار دیکھ لئے۔ اس زمانے میں دینار سونے کا سکہ ہوا کرتا تھا۔ مسافر نے حضرت سے دینار ہتھیانے کیلئے ایک ترکیب سوجھی۔ انہوں نے شورمچانا شروع کیا کہ میرے پاس ایک ہزار دینار تھے جو کسی نے مجھ سے چرالئے۔ ملاح نے مسافر سے کہا کہ اس میں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں، جس کسی نے بھی چرالئے ہوں ابھی پتہ چل جائیگا کیونکہ اس کشتی سے کوئی باہر تو گیانہیں ہے۔ امام بخاریؒ کو فکر لاحق ہوئی کہ اگرملاح نے تلاشی کے دوران یہ ایک ہزار دینار میرے ساتھ دیکھ لئے تو میرے پاس کیا ثبوت ہیں کہ میں ان دیناروں کو اپناثابت کرسکوں۔ یہی سوچ کر حضرت نے دینار دریا میں پھینک دئے۔تلاشی کے دوران حضرت سے پیسے توبرآمد نہیں ہوئے لیکن حضرت کے دیناروں پر نظر بد رکھنے والے مسافر کو تعجب ضرور ہوا۔ تھوڑی دیر بعد وہ حضرت امام بخاریؒکے پاس گیا اور ان سے پوچھا کہ یہ ماجرا کیا ہے۔ حضرت نے مسافر سے کہا کہ یہ میں ضرور بتاوں گا لیکن پہلے آپ ان تمام موجود مسافروں کے سامنے اعتراف جرم کرکے اپنی ندامت کا اظہار کریں۔ مسافر کے ایسا کرنے کے بعد حضرت نے فرمایا کہ میں نے وہ دینار دریابرد کئے اور وہ اس لئے کہ میں حدیث کا ایک طالب علم بھی ہوں اور استاد بھی۔ اور میں نہیں چاہتا کہ کل کلاں میری کتاب میں لکھے گئے کسی حدیث کا حوالہ دیتے ہوئے لوگ میری نسبت اس واقعے سے کریں جس میں میرا نام کسی دینار چرانے والے آدمی کی حیثیت سے لیا جائے۔ اسی واقعے کو لے کر میں سوچ رہاتھا کہ یہ شان تھی ہمارے اکابرین کی جو حدیث کے ایک استاد کی حیثیت سے اپنے نام کو کسی بھی قسم کے داغ سے پاک رکھنے کیلئے ہزاروں دینار دریا میں بہادیتے تھے اور ایک ہم ہیں جو ایک دینار کی خاطراپنے نام، پہچان اور ضمیر کا بھی سودا

کر دیتے ہیں۔ کوئی مسجدوں میں مختلف حیلے بہانوں سے جھوٹ موٹ کے قصے گھڑ کرپیسے بٹورتے ہیں تو کوئی بازاروں میں مختلف طریقوں سے لوگوں سے پیسے ہتھیالیتے ہیں۔مسجدوں میں تقریباً ہر نماز کے بعدیہ پیشہ ور گداگر روروکراپنے ضمیر کو مرواکرمختلف طریقوں سے پیسے بٹورنے کی کوشش کرتے ہیں۔کوئی بیماری کا فسانہ گھڑ کر تو کوئی تنگ دستی کا قصہ سناکر۔مسجد سے باہر گداگروں کی لمبی قطاریں نمازیوں کی منتظر ہوتی ہیں۔ان گداگروں میں مردوں کی نسبت خواتین کی تعداد زیادہ ہوتی ہے۔ اپنے ہاتھوں میں ڈاکٹروں کے نسخے تھامے اپنے یا اپنے پیاروں کی بیماری کا رونا روتے یہ خواتیں زیادہ تر ان مسجدوں کا رخ کرتے ہیں جہاں نمازیوں کا رش نسبتاً زیادہ ہوتا ہے۔ کچھ خواتین اپنے بچوں کو کندھوں پر بٹھائے اپنی روتی شکل کے ساتھ انسانی جذبات کو ابھارتے ہیں اور مختلف واسطوں سے انکی غیرت کو للکار کرانکی کمزوریوں سے استفادہ کرتے ہیں اور پیسہ بٹورتے ہیں۔

لاری اڈوں اور بازاروں میں ان پیشہ ور گداگروں کی ترکیبیں مختلف ہوتی ہیں۔کچھ حضرات خوبصورت کپڑے زیب تن کئے یہ تاثر دینے کی کو شش کرتے ہیں کہ ان کی جیب کسی نے کاٹی ہے اور یوں اپنے گھرجانے کیلئے ان کے پاس پیسے کم پڑگئے ہیں۔ اس وعدے پر کہ وہ یہ پیسے جلد واپس کردیگا، یہ پیشہ ور لوگ سادہ لوح انسانوں کے جذبات سے کھیلتے ہیں۔ کئی حضرات ہاتھ میں تسبیح، مذہبی کتابیں، رومال یاٹوپی تھامے اسے بیچنے کے بہانے بھیک مانگتے ہیں تو کوئی پھول تھامے اسے بیچنے کے بہانے چوراہوں پر نت نئے طریقوں سے بھیک مانگتے ہیں ۔ کچھ لوگ ریسٹورانوں ، ہوٹلوں اور چائے خانوں پر ڈیرے جمائے ہوئے ہوتے ہیں۔ جونہی کوئی اپنے موٹر کار سے چائے کے بہانے اترا تو وہاں کپڑا اور پانی کی بالٹی تھامے صاحب نے بنا پوچھے گاڑی کے فرنٹ شیشے پر کپڑامارنا شروع کردیا۔ یہ خدائی خدمتگار آپ کی پرزور اصرارپر بھی آپکی خدمت سے پیچھے نہیں ہٹتے۔ اور گاڑی کے وائپرز اوپر کرکے اپنا نام بھیک مانگنے والوں میں رجسٹرڈ کروادیتے ہیں۔بھیک مانگنے کا یہ نرالہ انداز آج کل تقریباً اکثر ٹیکسی ڈرا ئیوروں نے اپنایا ہوا ہے۔ جونہی آپ انکی گاڑی میں آکر بیٹھ گئے تو تنگ دستی اور مہنگائی کے قصے شروع ہوگئے۔جب اس پر بھی بات نہیں بنی توٹو ٹے پیسے نہ ہونے کا بہانہ بناکرنوٹ کے بقیہ پیسے بھی بطور ٹپ اپنے نام کرنے کی سعی شروع ہوجاتی ہے۔ اگر آپ بقیہ پیسے واپس کرنے پر اصرار کریں تو منتیں شروع ہوجاتی ہیں کہ آج سارا دن کام نہیں ہوا اور گھر میں آٹا ، گھی ناپید ہے۔ یوں چار وناچارآپ بقیہ پیسے چھوڑنے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔سڑک کے بیچوں بیچ کھڑے اکثر لنگڑے اخبار فروش اخبار بیچنے کے بہانے بھیک مانگتے دیکھے جاسکتے ہیں۔ اسی طرح اسلام آباد کی سڑکوں پر سج دھج کر آئے ہوئے خواجہ سرائوں کے بھیک مانگنے کے اپنے انداز ہیں۔ غرض ہمارا پورا معاشرہ بھیک کی اس لعنت میں مبتلا ہے۔ لیکن انداز اور طریقے مختلف ہیں۔ ملک کو اس لعنت سے پاک کرنے کیلئے جہاں ریاست کی کچھ ذمہ داریاں ہیں وہاں انفرادی حیثیت میں ہماری بھی کچھ ذمہ داریاں بنتی ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ بھیک مانگنے والوں کی اس لمبی فہرست میں کچھ لوگ انتہائی غریب ہیں جو بحالت مجبوری بھیک مانگنے پر مجبور ہیں لیکن اکثر وہ پیشہ ور بھکاری ہیں جنہوں نے بھیک مانگنے کو اپنا مستقل پیشہ بنایا ہواہے۔ ایسے لوگوں کی مالی امدادکر کے انکی حوصلہ افزائی کرنا اس جرم میں انکے ساتھ شریک ہونے کے مترادف ہے۔ انفرادی طور پر ہماری ذمہ داری یہ بنتی ہے کہ ہم اپنے حلقہ اثر میں ایسے مستحقین کو تلاش کریں جو واقعی ہماری مالی امدادکے مستحق ہیں تاکہ حق صحیح حقدار کو پہنچ سکیں اور دوسری طرف ان پیشہ ور افراد کی حوصلہ شکنی ہو۔ ریاستی ادروں کی زمہ داری یہ ہے کہ وہ ان سڑکوں، چوراہوں ، گلیوں اور بازاروں میں ایسے پیشہ ور افراد کی بھیک مانگنے پر مکمل پابندی لگائیں اور انکے لئے کوئی ایسا خاطر خواہ بندوبست کریں جس سے یہ لوگ معاشرے پر بوجھ بننے کی بجائے اسی معاشرے کے ایسے مفید شہری بن سکیں جو اس معاشرے کی تعمیر نو میں اپنا بھرپور کردار ادا کرسکیں۔ اس کی عملی شکل اچھے ماڈل پر بنے وہ ری ہیب سنٹر ہوسکتے ہیں جہاں پر ان لوگوں کیلئے مختلف قسم کے تکنیکی تربیتی کورسز کا اہتما م ہوں۔


ای پیپر