خود فریبی کا جنگل اور بھارت
27 فروری 2020 2020-02-27

بھارت کے ایک گائوں کونے میں ٹرمپ مند ر میں ڈونلڈ ٹرمپ کی 6 فٹ کی مورتی لگائی گئی جہاں لوگ اسکی پوجا کرتے ہیں ۔ بسہ کرشنا نامی بھارتی شہری نے چار سال قبل ٹرمپ مندر بنایا کرشنا کا کہنا ہے کہ 2019پاک بھارت میچ سے پہلے رات ٹرمپ انکے خواب میں آئے اور بھارت کی کامیابی کا کہا اور بھارت میچ جیت گیا اس سے یہ بات تو ثابت ہوتی ہے کہ بھارتی طاقت کے پجاری ہیں انہیں اپنے دست و بازو پر بھروسہ نہیں اور وہ اپنے بھگوان بھی بدلتے رہتے بھگوان کے ساتھ اور نہ جانے کیا کیا بدلتے ہیں ۔یوں تو قیام پاکستان کے ساتھ ہی بھارت نے پاکستان کے خلاف سازشوں کے جال بننا شروع کر دئیے تھے لیکن اس وقت کہ جب بھارت میں آر ایس ایس ’ راشٹریہ سیوک سنگھ‘ کی پیرو کار جماعت بی جے پی کی حکومت ہے تو سازشوں کا عمل اور بھی زیادہ تیز ہو چکا ہے راشٹریہ سوائم سیوک سنگھ یا آر ایس ایس بھارت کی ایک ہندودہشتگرد تنظیم جو 1925میں قائم ہوئی جس نے قیام پاکستان سے قبل اور بعد میں مسلمانوں کا قتل عام جاری رکھا بھارت میں تقسیم سے قبل برطانوی حکومت نے اس پر پابندی لگائی آزادی کے بعد بھی بارہا اس تنظیم کو ممنوع قراردیا گیا ۔دنیا میں آر ایس ایس کو دہشتگرد تنظیم تسلیم کیا جا چکا ہے بھارتی مسلمانوں اور کشمیریوں کے کھلے قتل عام میں ملوث اس تنظیم کی گرویدہ جماعت بی جے پی اس کے نقش قدم پر چل رہی ہے ۔اندرا گاندھی نے اپنے دور اقتدار میں اس پر پابندی لگائی تھی بابری مسجد کی شہادت ہو کہ سانحہ سمجھوتہ ایکسپریس ان میں براہ راست آر ایس ایس ملوث رہی ہے ہندوستان میں فسادات کی آڑ میں مسلمانوں کے

قتل عام میں اس تنظیم کا ہاتھ رہا ہے ۔

آج کا بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی جب آٹھ سال کا تھا تو اس تنظیم میں شامل ہوا اور اسکا فعال رکن رہا 2002ء میں مودی جب گجرات کا وزیراعلیٰ تھا تو اسکے حکم پر آرایس ایس کے غنڈوں نے تقریبا دس ہزار مسلمانوں کا قتل عام کیا بنیادی طور پر آر ایس ایس بھارت کو خالص انتہاء پسند ہندو ملک بنانا چاہتی ہے اور اس جماعت کے متحرک رکن مودی اسی تنظیم کے منشور پر عمل کررہے ہیں امریکی صدر ٹرمپ کے دورہ بھارت سے مودی کے پائوں زمین پر نہیں لگ رہے تھے بڑی حسرت سے ڈونلڈ ٹرمپ کے لئے جے پور میں سونے چاندی کے برتن تیار کئے گئے تھے لیکن ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارت میں کھڑے ہو کر پاکستان کی تعریف کرکے مودی کے خواب چکنا چور ہی کر دئیے جس پر بھارتی میڈیا آگ بگولہ ہو چکا ہے مودی کی انتہاء پسند حکومت مسلمانوں کے حوالے سے متنازعہ بل سے لے کر کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرچکا ہے ٹرمپ کے دورہ بھارت سے اسے کچھ فائدہ تو ہونہ ہوا الٹا وہاں مظاہروں میں شدت آئی بے گناہ شہری جان سے گئے دلی میں کیجرووال فتح یاب ہوئے تو مودی کی حیثیت وہاں پھر سے چائے والے کی ہوگئی ہے بھارت میں ٹرمپ کا پہلا لیکن امریکی صدر کا آٹھواں دورہ تھا نریندر مودی در حقیقت امریکہ سے کاروباری روابط چاہتا ہے جز اسکے بھارت کو امریکی صدر کے دورہ سے کچھ حاصل ہونے والا نہیں ٹرمپ کو گاندھی آشرم کا دورہ کراتے وقت مودی یہ بتانا تو بھول گئے کہ 1948 ء میں آر ایس ایس کے ایک رکن ناتھورام ونائک گوڑسے نے مہاتما گاندھی کو قتل کر دیا تھا شائد دنیا بھی بھارتی فریب کا ادراک کر چکی ہے لیکن مفادات کبھی لبوں پر خاموشی کی مہر لگا دیتے ہیں پاکستان تو ایک امن پسند ملک ہے جس نے ہمیشہ بھارت کو امن مذاکرات کی دعوت دی ہے دوستی اور بھائی چارے کی بات کی ہے تاہم بھارت کی تان پاکستان دشمنی پر آکر ٹوٹتی ہے پاکستان اس وقت پہلے والا پاکستان نہیں جہاں بھارت کے بھیجے دہشتگرد معصوم شہریوں کی جانوں سے کھیلتے افواج پاکستان کی دہشتگردوں کے خلاف موثر کارروائیوں سے دہشتگردوں کی کمرٹوٹ چکی ہے پاکستان میں امن ہے اور پاکستان ہمیشہ امن کا خواہاں رہا ہے اور ہمیشہ بھارت کی جانب دوستی کا ہاتھ بڑھایا لیکن بھارت نے ہمیشہ راہ فرار اختیار کی بھارت کو بھی اس حقیقت کو تسلیم کر ہی لینا چاہئے کہ دنیا کے طاقتور ملکوں کے سربراہ بھارت کا دورہ کریں یا بھارت بے وقت کی راگنی الاپتا رہے اس سے کچھ حاصل ہونے والا نہیں خطے کی ترقی عوامی خوشحالی کے لئے ضروری ہے کہ بھارت پاکستان دشمنی سے نکل آئے مسلمانوں کا قتل عام بند کرے مقبوضہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قرارداداں کے مطابق حل کرے بصورت دیگر بھارت کی ہٹ دھرمی اسے لے ڈوبے گی بالاکوٹ پر فضائی حملہ کرکے بھارت پاکستان کی طاقت کا اندازہ کر چکا ہے اسے اپنے فائٹر طیارے کے ٹکرے بھی نہیں ملے تھے الٹا اپنے پائلٹ ابھینندن کی رہائی کے لئے منتیں کرتا رہا جسے رہا کرکے پاکستان نے اخلاقی اقدار کی پاسداری کی ورنہ بھارتی دہشتگرد کلبھوش ہنوز پاکستانی قید میں زندگی کے دن گن رہا ہے افواج پاکستان کی بہادری ۔ قابلیت اور صلاحیتیوں کا لوہا تو دنیا مانتی ہے اب بھارت کو بھی مان لینا چاہئے اور بھارتی حکمران دنیا کو فریب دینے سے تو رہے لیکن انہیں خود فریبی کے جنگل سے بھی نکل آنا چاہئے ۔


ای پیپر