سود اللہ سے جنگ ہے
27 فروری 2020 2020-02-27

جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے، اس موضوع پہ پہلے بھی میں اپنی گزارشات پیش کرچکا ہوں، ہمارے حکمرانوں کا مو¿قف ہے کہ مسئلہ کشمیر کا کیا حل ہے کیا میں بھارت پہ حملہ کرکے اس سے جنگ شروع کردوں؟ مگر یہی مالک مختار وطن، اللہ سبحانہ وتعالیٰ سے جنگ شروع کردینے میں ایک لمحہ کا نہ تو توقف کرتے ہیں، نہ ہی ایک لحظہ ضائع کرتے ہیں، اور فوراً عالمی اداروں سے سود پہ رقم ادھار لینے پہ وقت ضائع نہیں کرتے اب تک ہمیں تو خوشخبریاں سنائی گئی ہیں، کہ متحدہ عرب امارات، سعودی عرب چین وغیرہ نے دل کھول کر مددکی ہے، جہاں تک اس حقیقت کا تعلق ہے، سعودی عرب نے اپنے ہم خیال ملکوں اور ریاستوں سے مل کر ایسا کنسوریشم بناکر بہت سے ملکوں کی امداد کی ہے، اس حوالے سے سب سے پہلے ہمیں مسلم ممالک سے خلوص کے ساتھ رجوع کرنا چاہیے تھا، تاکہ ہم آئی ایم ایف کے پاس جاکر خود کشی نہ کرتے، قوم کو یہ اطلاع تو دی جاتی ہے کہ سکون صرف قبر میں ملتا ہے، یہ پڑھ کر اور سن کر میں حیرتوں میں گم ہوگیا، کہ کیا یہ ایک مسلم ملک یعنی اسلامی مملکت خداداد پاکستان کے وزیراعظم کا بیان ہے، اور اس بیان کو سیاق وسباق کے ساتھ ملا کر بھی جانچا جائے، تو اس انداز تکلم کو سمجھنا میرے لیے مشکل ہے، اگر اس بیان کو درگزر بھی کرلیں، تو ان کا ایک اور بیان اخبارات کی زینت بنا، بلکہ شہ سرخیوں میں شائع ہوا کہ مشکل سے نکلنے کا مطلب زندگی آسان ہونا نہیں مگر پاکستان بنانے والے قائداعظمؒ نے تو فرمایا تھا مسلمان مشکلات میں گھبرایا نہیں کرتے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی فرمایا، کہ اگر آئی ایم ایف کے پاس نہ جاتے تو مہنگائی اور زیادہ ہو جاتی، حالانکہ مہنگائی کے ہاتھوں رعایا تو تڑپتی اور بلکتی رہتی ہے حتیٰ کہ اب سید مظفر علی شاہ جیسے شاعر بھی بول اُٹھے ہیں، کہ

ضرورت زندگی کی جو ہوا ہے

ہماری دسترس سے ماورا ہے

بجا مرنا کوئی آسان نہیں ہے

مگر جینابہت مشکل ہوا ہے

شاہ صاحب تو یہ فرماتے ہیں، کہ جینا مشکل ہوا ہے، مگر میرا خیال ہے کہ دور موجود میں مرنا تو اور زیادہ مشکل ہوگیا ہے، قبرستانوں میں قبروں کی زمین فٹوں اور گزوں میں بکتی ہے، گورکنوں نے اپنے معاوضے دوگنے کردیئے ہیں، دربار حضرت عثمان علی ہجویریؒ میں بنی بنائی دیگوں اور کھانے کی قیمتیں بھی دوگنی نہیں چوگنی ہوگئی ہیں۔

اب ذرہ تھوڑی سی نظر قارئین آئی ایف ایم پہ ڈال دیتے ہیں ، گو مجھے معلوم ہے کہ آپ لوگ آئی ایم ایف کے بارے میں جاننا تو کجا اس کا نام سننا بھی پسند نہیں کرتے، مگرمیری گزارش ہے کہ میری خاطر تھوڑا سا مزید پڑھ لیں، تاکہ آپ کی معلومات میں بھی اضافہ ہو جائے سب سے پہلی بات تو آپ ذہن نشین کرلیں کہ ایک تحقیق کے مطابق دنیا کے جتنے بھی ملک آئی ایم ایف کے مقروض ہیں، ان میں سے کوئی ایک ملک بھی ایسا نہیں ہے کہ جو اپنے پاﺅں پہ کھڑا ہوسکے بلکہ سب لنگڑیاں اور لولیاںہیں، مثلاً پولینڈ، کولمبیا، تیونس، مصر، بوسینا، جارجیا، اردن، عراق، جمیکا، میکسیکووغیرہ ایک اور حیران کن بات جو میرے لیے اور آپ کے لیے باعث حیرت ہے کہ عالمی اداروں سے قرض لینے والے زیادہ ممالک مسلمان ہیں۔ ان متذکرہ ممالک میں کیا کوئی ایسا ایک بھی ملک اس دنیا میں موجود ہے کہ جو خود اپنے پاﺅں پہ کھڑا ہوسکے؟ یہ مسلمان ملک ہی ہیں کہ جو اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے ساتھ آئی ایم ایف کی صورت میں جنگ لڑرہے ہیں، یہ بدبختی ، حکم عدولی اور نافرمانیت صرف ہماری حصے میں آئی ہے۔

اگر ہم اللہ تعالیٰ کے محبوب رسول کے امتی ہیں، تو نجانے کس برتے، کس، گھمنڈ، کس غرور وتکبر کی وجہ سے زعم میں مبتلا نظر آتے ہیں؟ کہ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی واضح حکم عدولی کی بناپر معاف کردے گا ہمارے وطن کو بنانے والے معمار وطن نے تو پاکستان بنتے ہی کہہ تھا، بلکہ ایک کے بجائے کئی دفعہ فرمایا پاکستان معدنیات سے بھرا ہوا ملک ہے اور ان کی بات کس قدر سچ ہے، کوہ سلیمان پورا، معدنیات جپسم، قیمتی پتھروں، یورینیم، سونا سے بھراہوا ہے، سندھ میں کوئلہ دنیا کے ملکوں میں جہاں کوئلہ پایا جاتا ہے ان میں شامل ہے۔ مگر گوسابق چیف جسٹس افتخار چوہدری کے ناقابل تلافی و نامعافی فیصلے کے مطابق ہم اس کونکال نہیں سکتے اور ہمیں کئی ٹریلین ڈالر کا نقصا ن ہوگیا۔کیونکہ ایک بین الاقوامی تجارتی معاہدے کے تحت، معاہدے کو منسوخ نہیں کیا جاسکتا تھا، اور ان کی یہ حب الوطنی ، وطن کو مہنگی پڑ گئی۔ عربی میں ربواکہتے ہیں جس کا مطلب ہے ایک قرض خواءاپنے قرض دار سے ایک طے شدہ شرح کے مطابق، اصل کے علاوہ وصول کرتا ہے، اس کو ہماری زبان میں سود کہتے ہیں۔

سورة البقرة میں ارشاد گرامی ہے کہ سودکھانے والے لوگوں کا حال اس شخص جیسا ہوتا ہے جسے شیطان نے چھوکر باﺅلا کردیا ہو، اللہ نے تجارت کو حلال اور سود کو حرام قرار دیا ہے، مزید آیات میں فرمایا گیا ہے کہ اگر تم نے ایسا نہ کیا، تو آگاہ ہو جاﺅ کہ اللہ اور رسول کی طرف سے تمہارے خلاف جنگ ہے، اب بھی توبہ کرلو، اور سود کو چھوڑ دو۔ تحریک انصاف ریاست مدینہ کے اصول وضوابط اپنانے کی داعی ہے، جب رسول پاک نے ریاست مدینہ کی بنیاد رکھی تھی، تو اس وقت جن مشکلات سے مسلمان گزررہے تھے اور نئی ریاست کی بنیاد رکھنے کے لیے جن ضروریات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اس وقت یہودونصاریٰ بھی وہاں کے باشندے تھے، مگر کیا مجال ہے، کہ رسول پاک نے ایک دفعہ بھی خدانخواستہ سودکے بارے میں سوچا ہو۔

قارئین، ایک دلچسپ بات آپ کو بتاﺅں، پہلی اسلامی مملکت کی بنیاد رکھنے کی خوشی میں ایک مصری یہودی نے، جو اس وقت ”سودی “ کام کرتے تھے، اس نے حضور کی خدمت میں بے شمار اونٹوں پہ لاد کر مال ومتاع تحفے کے طورپر آپ کی خدمت میں بھیجا تھا، بقول مظفر شاہ

رہ سلوک ہوئی نقش میری آنکھوں میں

جمال یار کے جلوے بیان کرتا ہوں!


ای پیپر