کشمیر، کشمیر، کشمیر
27 فروری 2019 2019-02-27

مجھے پچھلے پندرہ بیس سال کے دوران صحافی کی حیثیت سے کم از کم 3 مرتبہ بھارت کے مختلف شہروں میں جانے کا اتفاق ہوا جہاں مجھے وزیراعظم نرسہما راؤ، وزیر خارجہ اِندر کمار گجرال (جو بعد میں وزیراعظم بھی بنے)، ڈاکٹر فاروق عبداللہ، مغربی بنگال کے دو تہائیوں تک وزیراعلیٰ رہنے والے اور چوٹی (Legend)کے کمیونسٹ کے رہنما جیوتی باسو، بھارت کے سرکردہ مسلمان رہنماؤں اور بی جے پی کے لیڈروں کے علاوہ statesman اور The Hindu جیسے ممتاز اخبارات کے ایڈیٹروں اور کئی ایک دانشوروں سے تفصیلی انٹرویوز ، ملاقاتوں اور تبادلہ خیال کا موقع ملا۔۔۔ دسمبر 1996ء میں کلکتہ میں پاک بھارت تعلقات اور تنازعہ کشمیر کے موضوع پر ہونے والی دونوں ملکوں کے دانشوروں پر مشتمل ایک کانفرنس سے بھی خطاب کیا۔۔۔ان گفتگوؤں کے دوران جب بھی کسی بھارتی دانشور یا دوسرے شخص کی جانب سے مشرقی پاکستان کی علیحدگی اور اس میں بھارت کے ’’فاتحانہ‘‘ کردار کا ذکر چھڑا تو میرا جواب ہوتا تھا آپ نے ہماری داخلی سیاسی کمزوریوں سے بھرپور فائدہ اٹھا کر اور مکتی باہنی جیسی تنظیموں کے تربیت یافتہ افراد کو سرزمین مشرقی پاکستان کے اندر بھیج کر یقیناًعلیحدگی کے بیج بوئے اور فائدہ بھی حاصل کیا لیکن مشرقی پاکستان تو بین الاقوامی قانون کی ہر ہر شق کے تحت پاکستان کا جزو لا ینفک تھا۔۔۔ اس کے برعکس کشمیر ہر اصول کے لحاظ سے متنازع خطہ ہے کبھی آپ نے اس کی اس حیثیت کو برملا تسلیم کیا تھا۔ اقوام متحدہ کی قراردادوں پر دستخط بھی کیے تھے۔۔۔ یہ علاقہ سابق امریکی صدر بل کلنٹن کے الفاظ میں نیو کلیئر فلیش پوائنٹ بننے کے قوی امکانات رکھتا ہے۔۔۔ عنقریب ایک دن آنے والا ہے کہ خطہ اور اس کے عوام صرف آپ کے ضمیر کا بوجھ نہیں بلکہ لاکھوں کی تعداد میں مسلح افواج کے ذریعے وہاں پر آپ کا جارحانہ قبضہ آپ کی پوری قوم اور اسٹیبلشمنٹ کے لیے مصیبت بن جائے گا۔

اس کی وجہ یہ نہیں ہو گی کہ پاکستان کشمیر کو آپ سے چھین کر وادی پر قبضہ جما لینے کی صلاحیت رکھتا ہے ہم اس غلط فہمی میں مبتلا نہیں بلکہ سبب اس کا یہ ہوگا کہ آزادی کشمیر کی تحریک جس نہج پر زور پکڑتی جا رہی ہے جلد اس کا بچہ بچہ باغی بن کر آپ کے خلاف اُٹھ کھڑا ہوگا۔۔۔ اس قوم نے کبھی آپ کے ساتھ مصنوعی الحاق کو تسلیم نہیں کیا۔۔۔ بہتر ہو گا کہ ہمیں مشرقی پاکستان پر بنگلہ دیش کا طعنہ دینے کی بجائے جو کہ اب بھی ایک خود مختار ملک ہے۔ آپ کشمیر کی جانب متوجہ ہوں۔۔۔ اس پر قبضہ آپ کے لیے درد سر نہیں درد جگر بن جائے گا۔۔۔ تین جنگیں اس تنازع پر چھڑ چکی ہیں، چوتھی کی آگ کسی وقت بھڑک کر دونوں ملکوں کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی اور اب جو ہم ایٹمی طاقتیں بن چکے ہیں۔۔۔ نئی جنگ اپنے جلو میں تصورات سے کہیں کچھ خطرناک نتائج لا سکتی ہے۔۔۔ 1991ء میں بھارتی وزیراعظم نرسیمہ راؤ کے ساتھ رسمی انٹرویو کے بعد جب آف دی ریکارڈ گفتگو کرنے کا موقع ملا تو میں نے ان سے سوال کیا کہ جناب وزیراعظم کیا آپ واقعی سمجھتے ہیں کہ آپ کشمیر پر تادیر فوجی تسلط برقرار رکھ پائیں گے۔۔۔ جبکہ وہاں کے عوام کی بھاری اکثریت بپھری ہوئی ہے اور قربانیاں بھی دے رہی ہے تو انہوں نے اپنی گھومنے والی کرسی کو پیچھے کی جانب جھکاتے ہوئے کہا نہیں میں ایسا ہرگز نہیں سمجھتا۔۔۔ ایک دن اس تنازع کا حل نکالنا پڑے گا۔۔۔ میں نہیں کہہ سکتا کہ بھارت اور پاکستان دونوں جگہ ایسی حکومتیں کب آئیں گی۔۔۔ جو جرأت سے کام لے کر اس کے حل کے لیے ایک دوسرے کی جانب آگے بڑھیں گی۔

یہ وہ مہ و سال تھے جب مقبوضہ ریاست جموں کشمیر پر بھارت کی قابض فوج کی تعداد پانچ لاکھ کے قریب تھی۔۔۔ اب سات لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے جبکہ مزاحمت نے گھر گھر پھیل کر کہیں زیادہ شدت اختیار کر لی ہے اور وادی کے عوام پر بھارتیوں کی گرفت کمزور سے کمزور تر ہوتی جا رہی ہے۔۔۔ 2016ء میں برہان الدین مظفر وانی کی شہادت سے جنم لینے والے زبردست ردعمل نے تو خود بھارت کے اندر کئی ایک دانشوروں جواہر لال نہرو یونیورسٹی دہلی جیسے اعلیٰ تعلیمی مرکز کے غیر مسلم طلبہ اور ادب و شعر کی دنیا سے تعلق رکھنے والے ارون دتی و دیگر بیدار مغز لوگوں کو بھی سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ تابکے! گزشتہ 14 فروری کو ہونے والے پلوامہ واقعے نے دونوں ملکوں کو جنگ کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے اور ایسی جنگ جو اگر ذرا سی قابو سے باہر ہو گئی تو بھارت کے پلے کچھ رہے گا نہ پاکستان کے۔۔۔ بدھ 27 فروری کو جب یہ سطور قلم بند کی جا رہی ہیں پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے نیشنل کمانڈ اتھارٹی کے اجلاس سے فراغت کے بعد مختصر مگر اعتماد بھرے لہجے کے ساتھ جامع خطاب کیا ہے۔ ان کا روئے سخن بھارت کی طرف تھا۔۔۔ اور ایسی حالت میں مخاطب ہوئے کہ پاکستان کی ایئر فورس اسی روز صبح ایک روز قبل کے بھارتی فضائیہ کے شب کے اندھیروں کے حملے کا بھرپور جواب دے چکی تھی ۔۔۔ پوری قوم اس مؤثر جوابی کارروائی کی خبر پا کر نئے اعتماد اور نئے ولولے سے سرشار تھی۔۔۔ وزیراعظم پاکستان نے مختصر مگر مؤثر طریقے سے بھارتی ہم منصب کو ایک دفعہ پھر مذاکرات کی دعوت دے دی۔ حقیقت یہ ہے بھارت کو بروقت جواب دینے کے بعد وہ Point of strength سے بات کر رہے تھے۔۔۔ بھارت مذاکرات کی تازہ پیشکش کو فوری طور پر قبول کرتا ہے یا نہیں یہ علیحدہ سوال ہے کیونکہ وہاں کی پوری فضاء پر جنگی جنون طاری ہے ۔۔۔ جس کے محرکات میں سے ایک مودی صاحب کو در پیش داخلی سیاسی چیلنج ہے اور دوسرا کشمیر میں بھارتی سٹریٹجی کی ناکامی سے پیدا ہونے والی خفت!۔۔۔ آئندہ ماہ اپریل میں اس ملک میں عام انتخابات منعقد ہونے والے ہیں۔۔۔ نریندر مودی کو اپوزیشن جماعتوں کے چیلنج کا سامنا ہے۔۔۔ موصوف 2014ء میں جب اپنے ملک کی لوک سبھا کا چناؤ جیت کر بھاری اکثریت کے ساتھ وزیراعظم بنے تھے ،تب انہوں نے دو نعروں کے بل بوتے پر ملک کے ووٹروں خاص طور پر متعصب ہندو اکثریت کو متاثر کیا۔۔۔ ایک اقتصادی ترقی کا نعرہ دوسرے پاکستان دشمنی کے جذبات گزشتہ 5 سال میں بھارت کے لوگ اقتصادی ترقی کے خواب کو سراب بنتا دیکھ چکے ہیں۔۔۔ غربت روز افزوں ہے، اشیائے ضرورت تیل اور گیس کی قلت پائی جاتی ہے اور ترقی کا ایک بھی پروجیکٹ شروع نہیں ہو پایا جبکہ نوٹ بندی نے درمیانے طبقے کی کمر توڑ کر رکھ دی۔۔۔ اس کے بعد پاکستان دشمنی رہ گئی ہے جس کے خمار میں وہ بھارتی قوم خاص طور پر متعصب ہندو اکثریت کو مبتلا رکھنا چاہتے ہیں۔۔۔ اگرچہ پچھلے دو ماہ میں 5 ریاستوں کے اندر چناؤ ہار چکے ہیں لیکن اپریل کا بڑا چناؤ جیتنے کی خاطر پاکستان دشمنی کا آزمودہ ہتھیار ہاتھ سے نہیں گنوانا چاہتے۔۔۔ اس لیے پلوامہ کی آڑ لے کر 26 فروری کی شب کے اندھیروں میں مظفر آباد کے قریب فضائی حملہ کر دیا۔۔۔ بھارت میں عام خیال تھا کہ پاکستان شاید ان کی جارحیت کا جواب نہ دے سکے گی لیکن 27 کی صبح پاکستان کی فضائیہ نے ان کے جو 2 طیارے مار گرائے ہیں۔۔۔ ایک پائلٹ کو حراست میں لے لیا ہے۔۔۔ اس کے بعد جناب مودی کو چپ سی لگ گئی ہے ۔۔۔ البتہ ان کی وزیر خارجہ سشما سوراج کا بیان آیا ہے کہ ہم کشیدگی کو مزید نہیں بڑھانا چاہتے۔۔۔ تو بسم اللہ آئیے۔۔۔ مذاکرات کی میز پر جمع ہو جاتے ہیں جو تنازع دونوں ملکوں کے لیے تین جنگوں سمیت ستر سال کی روز افزوں کشیدگی کا باعث بنا ہوا ہے۔۔۔ اس کا حل نکال لیتے ہیں۔۔۔ شملہ معاہدے کی آپ خود یہ تعبیر کرتے ہیں کہ مسئلہ پاک بھارت دونوں ملکوں کے مابین دوطرفہ طور پر حل ہونا چاہیے اور بذریعہ مذاکرات ہونا چاہیے تو پھر کیوں نہ سیدھے راستے کو اختیار کر لیا جائے۔۔۔ باقاعدہ نظام الاوقات (Time Frame)طے کر کے نتیجہ خیز مذاکرات کیے جائیں۔۔۔ آپ بھی خوش ہم بھی راضی۔۔۔ خطے کے اندر امن کی بہار آجائے گی۔۔۔ دونوں ملک اپنے اضافی دفاعی بجٹ عوام کی خوشحالی پر خرچ کریں گے اور سب سے بڑھ کر ایک ارب سے زائد کشمیری عوام کا مستقبل طے ہو جائے گا جنہوں نے آزادی کی خاطر ہر چیز داؤ پر لگا دی ہے۔۔۔ یہ ایک ایسی لازوال اور منفرد جدوجہد ہے کہ آج نہیں کل ہر صورت رنگ لانے والی ہے تو پھر کیوں نہ آج ہی اس کی جانب فیصلہ کن قدم اٹھایا لیا جائے۔۔۔ کشمیر افغانستان کے ہمسایہ میں واقع ہے۔۔۔ وہاں سوویت یونین قدم جما سکا نہ امریکہ کے لیے 17 سال کی طویل جنگ ثمر بار ہوئی ہے۔۔۔ آپ تو دونوں کے مقابلے میں ننھی منی فوجی طاقت ہیں۔۔۔ عوام کے ہمالیہ پہاڑ سے کب تک ٹکر لیتے رہیں گے۔


ای پیپر