نظام تعلیم کا حقیقی چیلنج
27 فروری 2019 2019-02-27

موجودہ حکومت نے نئے پاکستان کے ایجنڈے میں تعلیم کو سرِفہرست رکھا تھا۔ بجا طور پر تعلیم ہی کوسرفہرست ہونا بھی چاہیے۔کسی قوم کی پہلی اُٹھان ہو یا پستی سے نکلنے کے لیے تعمیر نو کی دوسری اْٹھان، یہ تعلیم ہی کے ذریعے ممکن ہوتی ہیں۔

اُمت مسلمہ اپنی پہلی اُٹھان میں اپنے دعوؤ ں کی تصدیق کروا چکی ہے جو تاریخ کے ریکارڈ کا ایسا حصّہ ہے جسے آنے والے کسی دور میں بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکے گا۔ لیکن ہماری نشاۃ ثانیہ نے بہت بڑے بڑے چیلنجز ہمارے سامنے رکھ دیے ہیں۔ مغرب کی تہذیبی ،ثقافتی اور ٹیکنالوجیکل یلغار کا چیلنج توسامنے تھا ہی لیکن قومی ریاستوں میں تقسیم در تقسیم مسلم خطّے کا جغرافیہ کسی اجتماعی کوشش کے امکان کو مشکل سے مشکل تر بنا دیتا ہے۔ بد قسمتی سے او آئی سی بھی کسی مشترکہ کوشش کو آگے بڑھانے کی پوزیشن میں نہیں۔ لیکن اِس کے باوجود کہیں نہ کہیں سے تو آغاز کرنا ہی ہو گا۔ ایک ایسا آغاز جو وسعت کے ساتھ پھیلاؤ کے امکانات کا حامل ہو ،جو اْمت کے اجتماعی تصّور کے تحت کی جانے والی کوششوں کا حصّہ ہو۔ زوال کے عہد کی پستیوں سے نکلنے کے لیے تعلیم پہلا قدم اور ایک مشترکہ پلیٹ فارم ہو سکتا ہے۔ اگرچہ تعلیم ہی زوال کی پستیوں سے نکلنے کا واحد راستہ ہوتی ہے لیکن سر دست یہ کام اْمت کی سطح پر کسی مشترکہ کوشش کے امکان سے خالی ہے۔

زوال کی نوعیت کو جاننے کے لیے اسباب کے دریچوں سے جھانک کر دیکھیں تو بیرونی حملہ آوروں کے حوالے سے دو بڑے واقعات ہمیں نظر آتے ہیں پہلا واقعہ فتنہ تا تا ر کاہے جب گھوڑوں کی پیٹھوں پر رات گزار دینے والے منگولوں نے ایشیا ئی معاشروں کی اینٹ سے اینٹ بجا دی۔جب یہ کہا جانے لگا کہ اگر تم یہ سنو کہ پہاڑ اپنی جگہ سے ہل گیا تو مان لینا اور اگر یہ سنو کہ تا تار یوں کو شکست ہو گئی تو یہ نہ ماننا۔ یہ وہ دور تھا جب ایک تاتاری سپاہی 500مسلمانوں کو ایک رسّی سے باندھ کر جانوروں کی طرح ہانک کر لے جا رہا تھا تب ایک مسلمان کا ہاتھ رسّی کے حلقے میں سے باہر نکل آیا تو اس نے ایک تاتاری کے خوف سے اپنا ہاتھ دوبارہ رسّی کی گرہّ میں پھنسا لیا۔ جب دجلہ و فرات کا پانی مسلمانوں کی لائبریریوں کے قلمی نسخوں کی روشنائی سے سیاہ ہو گیا۔جب منگولوں کی اندھی طاقت کے سامنے سپر ڈال دی گئی۔ تب غلامی اور خود سُپر دگی پر اکتفا کرلینا ہی زندہ رہنے کی ضمانت بن گیا۔پھر یوں ہوا کہ جبر کی انہی سنگلاخ چٹانوں کے بوجھ تلے دبی ہوئی فکر کی کسی کو نپل نے سراُبھار ا اور چٹانیں تِڑکنے لگیں۔خانہ بدوشوں کی اندھی طاقت کے پاس فکر کا کوئی سرمایہ نہیں تھا لہٰذاُنہوں نے فکر کے محاذپر ہمارے سامنے سپر ڈال دی اور وہ حلقہ بگوش اِسلام ہوگئے۔ فاتحین نے اپنی رضا سے مفتوح ہونا قبول کر لیا۔دوسرا واقعہ مغرب کی اُس اُٹھان کا ہے جو اپنی بحری قوت کے ذریعے سمندروں کی چھاتی کو چیرتی ہوئی ایشیاء کے میدانوں میں اُتر گئی۔ بندوق و بارود کی عسکریت نے اقوام ایشیا ء کو پامال تو کیاہی تھا لیکن کالونیل ازم کے دو صدیوں پر محیط پڑاؤنے اِس خطّے کی ہر تہذیب و ثقافت میں اجنبیت کا وہ زہر گھول دیا کہ قوموں کے ہجوم میں سب کے سب اپنی شناخت سے محروم ہوتے چلے گئے۔قابضین نے سب سے پہلے نظام تعلیم ہی کو ہدف بنایا۔ اْنھیں معلوم تھا کہ مفتوح قوموں کی باطنی ساخت کو نظام تعلیم ہی کے ذریعے تبدیل کیا جاسکتا ہے یا کم از کم اندرونی ساخت اپنی اصل پر قائم نہیں رہتی۔

ہمارا تعلیمی نصاب ایک اجننی تصورّ علم کے فریم میں نصب کر دیا گیا ہے ،ہمیں ہماری تہذیبی اصل اور شناخت سے دور کرنے کے لیے ہماری تاریخ اور تمدن کی جگہ قابضین کی اپنی تاریخ و تمدن نے لے لی۔ طریقِ تدریس تبدیل ہوا، کمرۂ جماعت کی ہیئت بدل گئی ،اْستاد کی جگہ ٹیچر نے لی تو معلم اور طالب علم کے تعلق کی نوعیت بدل گئی ، مقامی زبانوں کی جگہ اجنبی زبان نے لی تو ہماری اقدار ہماری نہیں رہیں اور اجنبی قدریں ہماری ہو نہیں سکتی تھیں لیکن فاتح کی نظر میں سرخرو اورمحض روزگارکے حصول کے لیے کامیاب ہونے کی خاطراُن قدروں کو اپنالیا گیا جس کی بدولت ہم ،ہم نہیں رہے اور جو بننا چاہتے تھے آج تک بن نہیں سکے۔

یہی تو ہے تہذیبوں کا حقیقی تصادم کہ ہم اپنی اقدار پر شرمندہ ہوں اور اجنبی اقدار کو اپنا نا فیشن بن جائے۔ اسی تصادم کے نتیجے میں ہمارے معاشروں کی اشرافیہ میں ایک ایسے طبقے نے جنم لیا جس نے مقام و مرتبے (status) کی نئی قدریں اور deadlinesمتعارف کرائیں۔ اسی طبقے کا ذکر کرتے ہوئے فرانس کے معروف فلسفی سارتر نے ایک جگہ لکھا ہے کہ کالونیل عہد میں وہ مقبوضہ علاقوں سے اشرافیہ کے چنیدہ لوگوں کو اپنے پاس بلاتے تھے۔ انہیں سوٹ پہننا ، ٹائی باندھنا، وہسکی پینا اور ڈانس وغیرہ کرنے کے ’’آداب‘‘ سکھاتے تھے۔ اِس طرح وہ خود کو اپنے ہی معاشرے کے دیگر لوگوں سے اعلیٰ و افضل سمجھنے لگتے تھے پھر انہیں وہ اِن کے معاشروں میں واپس بھیج دیتے تھے۔ اِس طرح ان کا امتیاز انہیں فخر اور ان کے بھائی بندوں کو احساس کمتری میں مبتلا کر دیتا تھا۔کالونیل ازم نے اِن خطوں کو تقریََبا ایک ہی طرح سے متاثر کیا غلامی کی تاثیر ایک جیسی ہی ہوتی ہے جس کے اثرات کسی نہ کسی شکل میں آج تک موجود چلے آ رہے ہیں۔ بیرونی آقاؤں نے ہمارے نظام و نصاب تعلیم کو اِسی لیے تہہ و بالا کیا تھا کہ اُن کے چلے جانے کے بعد بھی ہمارے اندر غلامی کے اثرات موجود رہیں۔آج اپنے نظام تعلیم کے ذریعے ہمارے سامنے کوئی ایسا ہدف نہیں ہے کہ ہم اچھے انسان یا اچھے مسلمان بن سکیں ، ہدف ہے تو صرف یہ کہ ہم اچھے انگریز یااچھے مغربی بن جائیں۔اِس لیے ہمارے سامنے اہداف کی اولین ترجیح یہ نہیں ہے کہ سکول سے باہر 25ملین بچے سکولوں میں کیسے جائیں ،تعلیمی بجٹ کو دوگنا کیسے کیا جائے، اگرچہ اِن چیزوں کی اہمیت ہے لیکن ثانوی،کرنے کا پہلا کام یہ ہے کہ ہم اپنے نظام تعلیم کو اپنی تہذیبی اورفکری بنیادوں پر استوار کریں۔ قومی سطح پر دوبارہ جی اُٹھنے کے لیے راستہ نظام تعلیم ہی کے ذریعے نکلتا ہے۔ ایسانظام تعلیم جس کا نصاب ہمارے اپنے تصور علم اپنے ورلڈ ویو اوراپنی تہذیبی بنیادوں پر استوارہو ، جو ہماری نسلوں کو ہماری ثقافت اور ہمارے نظریے کے ساتھ جوڑدے۔جو اپنی زبان میں سوچنے ، سمجھنے اور غور وفکر کرنے کی صلاحیت پیدا کرے۔ اُس زبان میں جس میں ہم دْعا مانگتے ہیں ، جس میں ہم خواب دیکھتے ہیں ،وہ زبان جو ہمارے شعور کی تعمیر کرتی ہے۔ یہ سمجھنا ضروری ہو گا کہ شعور کی تعمیر سے زبان کا کیا تعلق ہے اور یہ کہ اجنبی زبان شعور کی تعمیر نہیں کر سکتی ،اجنبی بنا کر رکھ دیتی ہے۔ اقوام متحدہ سمیت اب بین الاقوامی سطح پر یہ تسلیم کر لیا گیا ہے کہ مادری زبان ہی میں ابتدائی تعلیم دی جانی چاہیّے تاکہ بچے کے ماحول کی زبان میں پہلے اْس کے شعور کی تعمیر ہو اور اْس کے سوچنے سمجھنے کی صلاحیتوں کی نشوونما ہو۔ اگر کسی خطے میں ایک سے زیادہ مقامی بولیاں ہوں تو ابتدائی تعلیم اسی مقامی زبان میں بہم پہچانے کے بعد اِسی خطّے کی اُس زبان میں تعلیم اور نصاب تعلیم ہونا چاہیّے جو تمام طبقوں کے درمیان رابطے کی زبان ہے جسے lingua franca کہا جاتا ہے جیسے ہمارے ہاں تمام صوبوں کے درمیان رابطے کی زبان یعنی قومی زبان اُردو ہے۔ ملکی سطح پر کیونکہ اُردو ہر جگہ سمجھی جاتی ہے اس لیے یہ مقامی اور مادری زبان ہی کی طرح قبولیت اختیار کر چکی ہے۔اُردو میں ملکی سطح پر ایک نصاب ہونے کے معنی یہ ہیں کہ ایک قوم کا تصور مستحکم ہو سکے۔ہم انگریزی زبان کے مخالف اور ناقدنہیں کیونکہ آج کی جدید دنیا میں اِس کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا لیکن اِس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ہم اپنا تمام نصاب ہی انگریزی میں مرتب کر لیں۔ اِس احمقانہ کوشش کو کسی بھی طرح ترقی کرنے کا ذریعہ نہیں بنایا جا سکتا۔ دنیا کی تمام قوموں نے تعلیم کے ذریعے جو بھی ترقی کی ہے وہ اپنی قومی زبان ہی میں کی ہے۔اِس لیے انگریزی کو ایک مضمون کی حیثیت سے شامل نصاب کرنے میں کوئی حرج نہیں لیکن اِس کو قومی زبان کی جگہ دے دینا نہ صرف یہ کہ قومی سطح پر احساس کمتری پیدا کرتاہے بلکہ یہ کوشش علمی و تعلیمی عمل کے کسی مقصد کو بھی پورا نہیں کرتی سوائے اِس کے کہ بچے رٹا لگا لگا کر امتحان پاس کر لیتے ہیں۔ لہٰذا انتظامی اصلاحات کرنے سے پہلے فکری و نظریاتی اصلاحات کے چیلنج کو سمجھنا ضروری ہے۔اگر موجودہ حکمران اِس چیلنج کو سمجھنے کا شعور رکھتے ہیں تو پھر ہماری بھی ذمہ داری یہی ہے کہ کرنے کے اس اہم کام کی طرف توجہ مبذول کروادیں ۔


ای پیپر