سرجیکل سٹرائیک پارٹ 2 : مودی کا ایک اور ڈرامہ
27 فروری 2019 2019-02-27

2016 ء کی سرجیکل سٹرائیک کے بعد ایک بار پھر انڈیا کی طرف سے میراج 2000 جنگی طیاروں کی لائن آف کنٹرول پر مظفر آباد سیکٹر میں دراندازی کی ہے کہ انڈین طیارے پاکستان کی حدود میں جیسے ہی داخل ہوئے پاکستان فائٹرز اایئر کرافٹس نے ان کا پیچھا کیا اور وہ بھاگتے ہوئے اپنا payload یا اضافی اسلحہ پھینک کر فرار ہو گئے۔ payload عام طور پر اس وقت گرایا جاتا ہے جب پائلٹ کو خطرہ ہو کہ اس کا طیارہ intercept ہو جائے گا لہٰذا اُسے اپنی رفتار بڑھانے کے لیے اپنا وزن کم کرنا ضروری ہو جاتا ہے۔ آپ نے سنا ہو گا کہ جب کشتی ڈوبنے لگتی ہے تو بوجھ اتارا کرتے ہیں یہ وہی صورت حال تھی انڈین پائیلٹس کے لیے۔

میں آج کے کالم کا موضوع تو پاکستان کی انڈیا کے مقابلے میں حالیہ حالات میں پبلک چینل اور فرنٹ چینل ڈپلومیسی پر لکھتا تھا جس میں دونوں سطح پر پاکستان کا پلہ بھاری رہا ہے اور جسکی وجہ سے جنگ شروع نہیں ہوئی۔ آپ یہ سمجھیں کہ پلوامہ کو بنیاد بنا کر انڈیا چاہتا تھا کہ پاکستان کے ساتھ یا تصادم کا ڈھنڈورا پیٹ کر اپریل میں ہونے والے الیکشن میں حکمران جماعت بی جے پی کے لیے دوبارہ اقتدار حاصل کرنے کے لیے راہ ہموار کی جائے لیکن پاکستان کی قیادت نے معاملے کی سنگینی کو بھانپتے ہوئے یہ فیصلہ کیا کہ ہم اگرا نڈیا کے ساتھ جنگ نا گزیر ہو بھی تو پھر بھی ہم بھارت کو یہ آزادی نہیں دے سکتے کہ مذکورہ جنگ کا وقت اور مقام کا فیصلہ نریندر مودی کرے جو ایک دو مہینے کا مہمان ہے۔ پاکستان کی عسکری اور سیاسی قیادت چاہتی ہے کہ مودی کو حالات کی سنگینی کا فائدہ نہ اٹھانے دیا جائے اس تناظر میں اگر آپ معاملات کو دیکھیں گے تو آپ کو پاکستانی موقف زیادہ گہرائی پر مبنی نظر آئے گا۔ جنگ تو اندر سے مودی بھی نہیں چاہتے وہ صرف 2016 کی سرجیکل سٹرائیک والا کوئی جعلی تاثر بنا کر اپنے عوام کو مشتعل کروا کر اپنی جماعت کے لیے ووٹ لینا چاہتے ہیں۔

پاکستان کے پاس موثر ریڈار سسٹم موجود ہے انڈین فائیٹر طیارہ 30 کلو میٹر انڈیا کے اندر سے جب لائن آف کنٹرول کی طرف رخ کرتا ہے تو وہ ریڈار پر آ جاتا ہے اور اس کے لیے متعلقہ دفاعی سسٹم حرکت میں آ جاتا ہے۔ آپ کو یاد ہو گا کہ 2012 ء کے ایبٹ آباد آپریشن کے بعد یہ سوال اٹھا تھا کہ امریکی ہیلی کاپٹر کارروائی کر کے چلے گئے مگر کسی کو پتہ ہی نہیں چلا جب اس کی تحقیقات ہوئی تو پتہ چلا کہ دفاعی اداروں نے اطلاع دیدی تھی مگر انہیں امریکیوں پر حملہ کرنے کا حکم نہیں ملا تھا اس وقت کے آرمی چیف با خبر تھے صدر پاکستان کو خبر تھی فوج آرڈر کی پابند ہوتی ہے انہیں فائر کا آرڈر نہیں دیا گیا۔ آپ کو یاد ہو گا کہ 1999 ء کی کارگل جنگ میں کشمیر میں لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی کرنے پر انڈیا کے دو طیارے یکے بعد دیگرے مار گرائے گئے تھے اور ان کے پائلٹ گرفتار کر لیے گئے تھے۔میرا ذاتی تجزیہ یہ ہے کہ مظفر آباد واقعہ میں انڈیا کا مقصد یہ تھاکہ پاکستان کی operational readiness یا جنگی تیاری کو چیک کیا جائے جو پاکستان نے اپنے ریسپانس کے ذریعے ان پر واضح کر دی ہے۔ اگر یہ دوبارہ ایسا کریں گے تو جو آئے گا وہ واپس نہیں جائے گا۔ اس واقعہ کو 2016 ء کی سرجیکل سٹرائیک کی طرح انڈیا ایک بہت بڑی کامیابی قرار دے رہا ہے۔ وہ تو یہاں تک کہتے ہیں کہ دہشت گردی کے کیمپ تباہ کیے گئے ہیں جس میں سینکڑوں دہشت گرد مارے گئے ہیں۔ کوئی بے وقوف ہی یہ گمان کر سکتا ہے کہ جیش محمد والے 14 فروری سے لے کر اب تک کی ہر لحظہ بگڑتی صورت حال کے با وجود لائن آف کنٹرول پر بیٹھے انڈیا کا انتظار کر رہے ہوں گے کہ آبیل مجھے مار۔

14 فروری کے پلوامہ حملے کے بعد اگر واقعی انڈیا Retailiate کرنا چاہتا تو 72 گھنٹے کے اندر وہ اس کا جواب دے دیتا۔ آپ حکمران جماعت بی جے پی کی پلوامہ واقعہ پر نا اہلی کے لیے انڈیا کے اپوزیشن لیڈر راہول گاندھی کا بیان چیک کر یں جس نے نریندر مودی کو پرائم منسٹر کی بجائے پرائم ٹائم منسٹر قرار دیا جس دن جس وقت یہ واقعہ ہوا اس دن مودی Discovery چینل کے لیے پروگرام کی شوٹنگ میں مصروف تھے ان کی طرف سے بیان واقعہ کے تین گھنٹے کے بعد سامنے آیا کیونکہ مودی نے اپنی شوٹنگ جاری رکھی۔ اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ دھماکے کی اطلاع ان کے لیے سرپرائز نہیں تھی جس سے لگتا ہے کہ انہیں پیشگی اس حملے کا علم تھا۔

اب ایک اور پہلو کی طرف توجہ ضروری ہے۔ انڈیا کہتا ہے کہ ہماری انٹیلی جنس رپورٹ کے مطابق لائن آف کنٹرول کے اس پار جیش محمد کا ٹریننگ کیمپ تھا جسے تباہ کرنے کے لیے ہوائی حملہ کیا گیا۔ ملین ڈالر کا سوال یہ ہے کہ یہ انٹیلی جنس اس وقت کہاں تھی جب ان کے اپنے علاقے میں اتنا بڑا خود کش حملہ ہو گیا اور انہیں کانوں کان خبر نہ ہو سکی کیا یہ انٹیلی جنس اتنی بے کار ہے۔ اس پر انڈین ایجنسیاں ایک دوسرے کو الزام دے رہی ہیں۔

ایک بات طے شدہ ہے کہ پلوامہ واقعہ کے بعد کشمیر کا مسئلہ ایک بار پھر عالمی فلیش پوائنٹ بن کر سامنے آیا ہے ایمنسٹی انٹرنیشنل نے انڈیا سے کہا ہے کہ وہ کشمیریوں پر ظالمانہ ہتھیار پیلٹ گن کا استعمال بند کر دے اس کے ایک کارتوس میں 630 مہلک بارودی ٹکڑے ہوتے ہیں جو victim کی آنکھوں چہرے اور جسم کے باقی حصوں میں پیوست ہو جاتے ہیں یہ بڑا تکلیف دہ اور ظالمانہ ہتھیار ہے جس کا استعمال ممنوع سے اس سے متاثرہ شخص کی بنیائی ضائع ہوتی ہے۔ انڈیا سے سیاسی آوازیں اٹھ رہی ہیں کہ انڈین آئین سے دفعہ 135اے کو حذف کر دیا جائے جس کے تحت انڈیا عارضی طور پر کشمیر کا بندوبست سنبھالے ہوئے ہے انڈیا یہ سمجھتا ہے کہ اس کلاز کے خاتمے کے بعد وہ زبردستی مقبوضہ جموں کشمیر کو فوج کے ذریعے انڈیا کا حصہ بنا دے گا جبکہ کشمیری کہتے ہیں کہ اگر ایسا کیا گیا تو وہ اسی دن بغاوت اور انڈیا سے آزادی کا اعلان کر دیں گے۔ یہ آئینی مقدمہ بھارتی سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے۔ انڈیا کو پاکستان کے ساتھ جنگ کرنے کی بجائے کشمیر کی فکر کرنی چاہیے جو تیزی سے ان کے ہاتھ سے نکل رہا ہے۔


ای پیپر