ہمیشہ تازہ وشیریں ہے نغمہ ء خسرو
27 فروری 2019 2019-02-27

پلوامہ حملے کے بعد پاکستان اور بھارت کے درمیان بڑھتی کشیدگی نے سعودی ولی عہد کی پاکستان آمد اور اقتصادی معاہدوں اور امداد کی خبروں کو پس منظر میں دھکیل دیا ہے ۔ لیکن حسبِ روایت پوری قوم تمام تعصبات سے بالا ترہوکران حملوں میں پاکستان کو ملوث کیے جانے اور بھارت کی دھمکیوں کے خلاف متحد اور سراپا احتجاج ہے ۔ ہندو قیادت ہمیشہ سے بھارت کے ہر نقصان کا ذمہ دار پاکستان کو قرا ر دیتی آرہی ہے ۔پلوامہ حملہ جس میں بھارت پاکستان کو ملوث کرنے پر بضد ہے ، اس حملے کے بارے میں خود بھارت میں یہ آوازیں بلند ہورہی ہیں کہ یہ حملہ مودی حکومت کی سازش ہے جس کے ذریعے وہ اپنی گرتی ہوئی سیاسی ساکھ کو بحال کرنا چاہتی ہے ۔ یہ بھی کہا جارہا ہے کہ اس واقعے کو بنیاد بنا کر مودی حکومت بھارتی عوام میں پاکستانی دشمنی میں اضافہ اور مشرق وسطیٰ و افغانستان میں پاکستان کی سفارتی اہمیت اور کامیابیوں کے نتائج پر اثر انداز ہونا چاپتی ہے ۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت اپنے اقتدار کی بقاء اور دو ماہ بعد ہونے والے انتخابات میں کامیابی کے لیے جنگ کا سہارا لے رہی ہے ۔ جنگ کا یہ جنون شاید اسے انتخابات میں کامیابی تو دلوادے لیکن مودی سرکار جنون کی کیفیت میں یہ بھولے بیٹھی ہے کہ اس وحشیانہ پن کے نتائج اس خطے کے عوام کے لیے کس قدر مہلک اور خطرناک ہونگے ۔ جہاں تک پاکستان کے ملوث ہونے کا تعلق ہے ، پاکستان جس معاشی اور خارجی صورتحال سے دوچار ہے اس کے لیے یہ کیسے ممکن ہے کہ وہ ایک اہم اسلامی ممالک کے ولی عہد کی آمد کے موقع پر خود کے لیے اتنا بڑا محاذ کھول لے؟۔ بعض حلقوں کی جانب سے یہ مشورہ بھی دیا جارہا ہے کہ پاکستان کو اپنا مقدمہ مؤثر انداز میں اقوامِ عالم کے سامنے پیش کرنا چاہیے ۔ اس کے ساتھ ہی وزیراعظم عمران خان کو بھی چاہیے کہ وہ امریکی اور یورپی ممالک کے چینلز کو انٹرویو دینے کے ساتھ ساتھ اس موضوع پر اپنا مدلل اور جامع مضمون بھی ان ممالک کے اخبارات میں شائع کروائیں تاکہ بھارتی پروپیگنڈے کا بھرپور تدارک کیا جاسکے۔

پاک بھارت تنازعات کے حوالے سے 1998ء میں پاکستان اور بھارت کی جانب سے کیے جانے والے ایٹمی دھماکوں کے تقریباََ ایک سال اور کارگل کے واقعے کے فوراََ بعد 1999ء میں میجر جنرل (ر) محمود علی درانی نے India & Pakistan - The Cost of Confilict and The Benefits of Peace کے عنوان سے ایک کتاب تحریر کی تھی۔ اس کتاب کو آکسفورڈ یونیورسٹی پریس پاکستان نے شائع کیا تھا۔میجر جنرل محمود علی درانی واشنگٹن ڈی سی میں 1977-1982 کے عرصے میں بطور ملٹری اتاشی بھی تعینات رہے تھے یہ عرصہ پاک امریکہ تعلقات میں نہایت اہمیت کا حامل رہا ہے ۔ جنرل درانی کی کتاب کا پیش لفظ ہندوستان ٹائمز کے ایگزیکٹو ایڈیٹر بھارت بھوشن نے تحریر کیا تھا۔ جنرل درانی نے کتاب میں جنوبی ایشیا کے خطے کو درپیش دوہری مشکلات کا جائزہ لیتے ہوئے اور سر د جنگ کے خاتمے کو خطے کے لیے ایک درخشاں مستقبل کی ابتداء قرار دیتے ہوئے لکھتے ہیں کہ اس جنگ کے خاتمے سے دنیا میں افواج کا حجم کم کرنے کے رجحان نے تقویت پائی ہے لیکن بدقسمتی سے جنوبی ایشیا میں ایسا نہیں ہوسکا۔ عالمی قوتوں کے درمیان تو سرد جنگ ختم ہوگئی لیکن پاکستان اور بھارت کے درمیان یہ اب بھی اسی شدت کے ساتھ جاری ہے ۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان لائن آف کنٹرول دنیا کا سب سے زیادہ عسکریت زدہ خطہ ہے کہ جہاں دونوں ممالک کی افواج ہمہ وقت آنکھوں میں آنکھیں ڈالے کھڑی ہیں۔ جنرل درانی نے کتاب میں سوشل انڈیکیٹرز کی مدد سے خطے کے ممالک کی قومی آمدنیوں، فی کس آمدن اورناخواندگی کی شرح کا تقابل بھی پیش کیا ہے جس کا مقصد وہ قیادت اور عوام کو تنازعات کے ناقابل برداشت اخراجات اور امن کے ثمرات سے آگاہ کرنا بتاتے ہیں۔ جنرل درانی نے کتاب میں پاک بھارت تناعات کے اسباب، دفاعی اخراجات اور قومی ترقی کے اخراجات کے تقابل ، فوج کے ڈھانچے سمیت ایٹمی ہتھیاروں کی مالیت اور خطے میں ایٹمی ہتھیاروں کے حامل ممالک کی موجودگی اور ممکنہ خطرات کا جائزہ لیا ہے ۔ پاک بھارت کے درمیان ہونے والی چاروں جنگوں سے درانی یہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ تین بڑی جنگوں اور کارگل تنازعے نے یہ ثابت کیا ہے کہ تنازعات جنگوں سے حل نہیں ہوتے۔ پاک بھارت کے درمیان بڑھتی کشیدگی نہ صرف دفاعی اخراجات میں اضافہ کا سبب بنتی ہے بلکہ غربت، ناخواندگی اور عوام کی محرومیوں میں بھی اضافے کا سبب بنتی ہے جب کہ دونوں ممالک کی ایٹمی ہتھیاروں کی صلاحیت نے تو خطے کو انتہائی حد تک غیر محفوظ بھی کردیا ہے ۔

ہندوستان ٹائمز کے ایگزیکٹو ایڈیٹر بھارت بھوشن نے کتاب کے پیش لفظ میں امن کے ثمرات اور تنازعات کے نقصانات بتاتے ہوئے لکھتے ہیں کہ عالمی رجحانات کو مسترد کرتے ہوئے دونوں ممالک نے عسکریت ، ایٹمی صلاحیتوں کے حصول اور سرد جنگ کا راستہ اختیار کیا ہے ۔ تقسیم کے بعد سے لے کرآج تک دونوں ممالک میں چار جنگیں ( 1948 ء ، 1965ء، 1971ء اور 1999ء) ہوچکی ہیں۔ دونوں ممالک ایٹمی صلاحیتوں کے حامل ہیں اس کے باوجود بعض بھارتی لیڈر ’’محدود جنگ‘‘ کے امکانات کی خام خیالی کا شکار ہیں۔ بھارت بھوشن ، جنرل درانی کی تجاویز کو سراہا ہے اور خاص کر اس تجویز کو جس میں انہوں نے ’’کثیر الاطراف‘‘ Multi Dimensional)) نظریے کے تحت دونوں ممالک کے تنازعات کا حل تلاش کرنے پر زور دیاہے ۔بھارت بھوشن یہ تجویز بھی پیش کرتے ہیں کہ پاک بھارت تعلقات کی بہتری کے لیے خصوصی سفیروں کی تعیناتی، ٹریک ٹو ڈپلومیسی، سارک تنظیم کی وسعت اور تنازعات کے حل کے لیے عالمی طاقتوں کی مدد بھی حاصل کی جانی چاہیے۔ بھارت کو بھی چاہیئے کہ وہ پاکستان کے مقابلے میں متکبرانہ رویہ ترک کرے اور پاکستان کے لیے فعال اور مثبت پالیسی اختیار کرے۔ تنازعات کے حل کے لیے پاکستان کو تجاویز دیتے ہوئے بھارت بھوشن نے روایتی ہندو ذہنیت کا مظاہرہ کیا اور پاکستان کو بلواسطہ ان الزامات کا طعنہ دے دیا جن کا اعادہ اکثر و بیشتر بھارت کی سیاسی اور عسکری قیادت کرتی رہتی ہے ۔ بھارت بھوشن لکھتے ہیں کہ پاکستان بھی نئی دہلی کے لیے عداوت کو ختم کرے، جموں اور کشمیر میں سرحد پار دہشت گردی کی حوصلہ شکنی کرے اور جہاد کی سرپرستی بند کرے۔ لیکن بھارت بھوشن نے بھارت کو یہ تجویز نہیں دی کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالی اور معصوم کشمیری شہریوں پر ظالمانہ تشدد بند کرے اور کشمیروں کو حق رائے دہی دے۔پاکستان میں اے پی ایس پشاور جیسے بے شمار واقعات ہوئے ہیں جن میں بھارت کے ملوث ہونے کے ٹھوس ثبوت ملے ہیں لیکن بھارت بھوشن کی تان ٹوٹی ہے تو جہاد پر اور ان کی ’’دیدہ بینا‘‘ میں کھٹکی ہے تو کشمیر میں تحریکِ آزادی کی پاکستان کی جانب سے کی جانے والی اخلاقی حمایت۔ کاش کہ پاکستان کے خلاف جنگی جنون میں مبتلا بھارتیوں کو اقبالؔ کی زبان میں کوئی سمجھا سکے کہ:

رہے نہ ایبک و غوری کے معرکے باقی

ہمیشہ تازہ و شیریں ہے نغمۂ خسرو


ای پیپر