امریکی CIA اور انتخابات میں مداخلت کا الزام
27 فروری 2019 2019-02-27

سرد جنگ کے دوران اگر دنیا بھر کے انتخابات میں مداخلت کا امریکی جواز کمیونزم، سوشلزم اور سوویت یونین کے اثرو رسوخ کو روکنا اور ایسی جماعتوں کو بر سر اقتدار آنے سے روکنا تھا جو سوویت یونین کے قریب سمجھی جاتی تھیں اور اس کی حامی تھیں ۔ مگر سرد جنگ کے خاتمے اور سوویت یونین کے الزام کے بعد امریکی مداخلت کا جواز اور انتخابات کے نتائج پر اثر انداز ہونے کی کوششوں کو ’’ دہشت گردی ‘‘ اور ’’ اسلامی انتہا پسندی‘‘ کے پھیلاؤ کو روکنے کا نام دیا گیا۔ سرد جنگ کے عہد میں عوام کو ڈرایا جاتا تھا کہ وہ کمیونٹوں ، سوشلسٹوں اور بائیں بازو کے نظریات اور پروگرام رکھنے والی جماعتوں کو ووٹ دے کر اقتدار میں نہ لائیں ورنہ امداد بند ہو جائے گی۔ تجارت رک جائے گی اور عالمی مالیاتی اداروں کے قرض نہیں ملیں گے۔

سامراجی طاقتوں کو ہر عہد میں ایک زریدہ یا ندیدہ دشمن کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ اپنے سامراجی مقاصد اور مفادات کے حصول اور تحفظ کے لیے اس دشمن کو جواز بنا کر مداخلت کی جا سکے۔

لیون کی تحقیق کے مطابق جس ملک کے انتخابات میں امریکہ نے سب سے زیادہ اور مسلسل مداخلت کی وہ اٹلی ہے۔ اٹلی کے انتخابات میں امریکی مداخلت کا سلسلہ 1948 کے انتخابات سے شروع ہوا۔ امریکہ کو خدشہ تھا کہ کمیونسٹ پارٹی کا امیدوار یہ انتخاب جیت سکتا ہے اس لیے اسے ہرانے اور کرسچین ڈیمو کریٹک امیدوار کو جتوانے کے لیے سرمائے، منظم پروپیگنڈے اور انتخابی مہم میں مدد فراہم کی گئی۔ لیون کے مطابق سرد جنگ کے دوران اٹلی کے ہر انتخابات میں مداخلت کی گئی اور نتائج پر اثر انداز ہوا گیا۔ 1948 ء کے انتخابات میں کرسچین ڈیمو کریٹس کی ہر ممکن مدد کی گئی۔ انتخابی مہم کے اخراجات کے لیے رقم فراہم کی گئی۔ انتخابی ماہرین کو بھجوایا گیا تاکہ وہ انتخابی مہم کو منظم کرنے میں مدد دے سکیں۔ اس کے علاوہ انتخابی مہم کے دوران عوام کو ڈرایا گیا کہ اگر کمیونسٹ جیت گئے تو امریکی امداد بند ہو جائے گی اور معاشی طور پر اٹلی کو بہت نقصان پہنچے گا۔ امریکی مداخلت اور مدد نے کمیونسٹ پارٹی کو ہرانے میں اہم کردار ادا کیا۔ ورنہ غالب امکان یہی وجہ تھا کہ کمیونسٹ پارٹی یہ انتخابات جیت جاتی۔ 1948 ء کے بعد کے 7 انتخابات میں یہ سلسلہ جاری رہا۔

اسی طرح دیگر ممالک میں بھی بائیں بازو کی جماعتوں اور سوشلسٹ لیڈروں کو بر سر اقتدار آنے سے روکنے کے لیے لاطینی امریکہ، افریقہ اور ایشیاء کے مختلف ممالک کے انتخابات میں مداخلت کی گئی۔ کئی ممالک میں بائیں بازو کی جماعتوں کی کامیابی کے امکان کے پیش نظر جمہوریت کا بوریا بستر ہی گول کر دیا گیا اور آمریتوں کو مسلط کیا گیا۔

لاطینی امریکہ کے ملک نگارا گوا کے انتخابات میں بھی بار بار مداخلت کی گئی اور اپنی مرضی کی حکومت قائم کرنے کے لیے اقدامات اٹھائے گئے۔ 1990 ء کے انتخابات میں بائیں بازو کے سینڈ ینسیتاز ( sandinistas ) کو ہرانے کے لیے بد عنوانی کی خبریں عالمی اور مقامی میڈیا میں نشر کی گئیں۔ ایسی معلومات اخبارات کو فراہم کی گئیں جن کے نتیجے میں بائیں بازو کے امیدوار کو نقصان پہنچا بورڈینیل اور ٹیگا حزب مخالف کے دائیں بازو کے امیدوار وٹیلٹا چامواد سے انتخاب ہار گئے۔

اسی طرح 1990 ء میں ہی چیکو سلواکیہ ( جو کہ اب چیک ریپبلک اور سلواکیہ میں تقسیم ہو چکا ہے ) میں بھی امریکہ نے دائیں بازو کی جماعت اور اس کے لیڈر ہیول کو انتخابات جیتنے کے لیے انتخابی مہم کو منظم کرنے کے لیے سرمایہ اور تربیت فراہم کی ۔ یہ چپکو سلواکیہ کے پہلے انتخابات تھے جس میں ایک سے زائد جماعتوں نے حصہ لیا۔ امریکہ کا مقصد یہ تھا کہ کمیونسٹ پارٹی کو شکست ہوتا کہ دنیا کو یہ بتایا جا سکے کہ سوشلزم اور کمیونزم مر چکا اور عوام نے اسے دفن کر دیا۔ اس الیکشن کے بعد ہونے والے انتخابات میں بھی امریکی مداخلت کا سلسلہ جاری رہا۔

1986 ء میں ہیٹی میں بھی امریکہ نے انتخابات میں مداخلت کی۔ ان انتخابات سے قبل امریکہ نواز آمر کلاڈ جین جو کہ ’’ بے بی ڈاکٹر‘‘ کے نام سے مشہور تھے ان کی حکومت کا خاتمہ ہوا تھا اور غالباً امکان یہ تھا کہ لبدیشن تھیوری کو ماننے والے کیلتھلک پادری جین آریسٹائیڈ (Aristide) کامیاب ہو جائیں گے جو کہ امریکہ کو قابل قبول نہیں تھا۔ CIA نے مختلف امیدواروں کی مدد کی تاکہ آریسٹائیڈ کو ہرا دیا جا سکے۔ 1996 ء کے روس کے انتخابات میں امریکہ نے بورس یلسن کی مدد کی تاکہ وہ انتخاب جیت سکیں۔ اس وقت روس کے معاشی حالات بہت خراب تھے اور اسے پیسوں کی اشد ضرورت تھی۔ اس صورت حال میں امریکی صدر بل کلنٹن نے نج کاری، تجارت کو کھولنے اور نیو لبرل مارکیٹ ریفارم کی شرائط پر روس کو 10.2 بلین ڈالر دس اشاریہ 2 ارب ڈالر) آئی ایم ایف سے حاصل کرنے میں مدد دی۔ امریکہ کی خواہش تھی کہ صدر بورس یلسن دوبارہ صدر منتخب ہو جائیں تاکہ روس میں سرمایہ داری نظام کی بحالی کا عمل جاری رہے اور اس میں کوئی رخنہ یار کاوٹ نہ آئے۔

اس قرض کی بدولت صدر یلسن سرکاری ملازمین اور پنشنرز کو تنخوا ہیں اور پنشن ادا کرنے میں کامیاب ہو سکے۔ اس پیسوں سے یلسن نے انتخابات سے پہلے چند فلاحی پرو گراموں کابھی آغاز کیا تاکہ وہ غریب ووٹروں میں اپنی حمایت میں اضافہ کر سکیں۔

1990 ء کی دہائی میں امریکہ نے اسرائیل میں ایسے امیدواروں کی حمایت اور مدد کی جو کہ فلسطین کے ساتھ امن مذاکرات کے حامی تھے۔ 1996 ء میں امریکہ نے شمعون پیرز کی حمایت کی۔ امریکہ کی خواہش تھی کہ بنجن نیتن یاہو منتخب نہ ہوں تاکہ امن مذاکرات جاری رہیں۔ 1999 ء میں ایہود باراک کو جتوانے کے لیے امریکی ماہرین کو اسرائیل بھیجا گیا۔

یو گوسلادیہ کے 2000 ء کے انتخابات میں ملا سووچک کو ہرانے کے لیے امریکہ نے سیاسی جماعتوں کو کروڑوں ڈالر فراہم کیے۔ انتخابی مہم میں مدد فراہم کی گئی اور آزاد میڈیا کو بھاری رقوم دی گئیں تاکہ ملا وچک کے خلاف موثر پروپیگنڈا مہم چلائی جا سکے۔

حزب اختلاف کے حامی میڈیا کو پروپیگنڈہ مہم کے لیے جدید ترین آلات فراہم کیے گئے۔ حزب مخالف کو امیدوار کو سٹونیکا کی کامیابی میں میڈیا پروپیگنڈہ نے اہم کردار ادا کیا اور سربین قوم پرست لیڈر ملا سووچک کو شکست ہوئی۔

اس کے علاوہ انڈونیشیا چلی، ونیز ویلا ، برازیل ، ایل سلوا ڈور، میکسیکو اور دیگر ممالک کے انتخابات میں اپنے پسندیدہ امیدوار کو جتوانے یا پھر نا پسندیدہ امیدوار کو ہرانے کے لیے مداخلت کی گئی۔

اس دوران الجزائر میں ہونے والے انتخابات میں اسلامک سالویشن فرنٹ کی کامیابی کے بعد اسے اقتدار منتقل کرنے سے روکنے میں امریکہ نے اہم کردار ادا کیا تھا ۔ جس کے بعد الجزائر میں طویل عرصے تک خانہ جنگی جاری رہی۔ جس میں ہزاروں افراد ہلاک ہوئے۔ امریکہ یہ نہیں چاہتا تھا کہ اسلامک سالویشن فرنٹ اقتدار میں آئے اس لیے اس کے خلاف فوجی کارروائی کا آغاز ہوا۔

اسی طرح افریقہ کے کئی ممالک کے انتخابات میں مداخلت کی گئی تاکہ اپنی من پسند جماعت اور امیدوار کو بر سر اقتدار لایا جا سکے۔ افریقہ تو سامراجی طاقتوں کے مفادات کا ایسا نشانہ بنا کہ اسے تاریک بر اعظم قرار دے دیا گیا ۔ خانہ جنگیاں ، جھگڑے، فوجی تنازعات ، قحط، نسلی فسادات، ظالم و جابر فوجی اور سول آمر اور معاشی تباہی افریقہ کی پہچان بن گئی۔ افریقہ کے بر بادی کی کہانی پھر کبھی سہی۔


ای پیپر