بھارتی فضائیہ کی در اندازی اور اس کے اثرات
27 فروری 2019 2019-02-27

بھارتی طیاروں کی پاکستانی حدود میں در اندازی کے احمقانہ فیصلے سے نریندر مودی حالات کو انتہائی نازک موڑ پر لے آئے ہیں۔ بھارت کی اس طفلانہ حرکت سے عالمی برادری بھی تشویش کا شکار ہو گئی ہے کہ بھارت میں ایک بہت غیر ذمہ دار وزیرِ اعظم ہے جسے معاملے کی نذاکت کا احساس نہیں ہے۔ بھارتی طیاروں کی طرف سے کنٹرول لائن کی خلاف ورزی غیر اعلانہ جنگ کی ابتداء ہے۔ نریندر مودی نے یہ حرکت کر کے ایک دہشت گرد ہونے کا ثبوت دیا ہے، جس سے دنیا کا امن تباہ ہو سکتا ہے۔ عالمی برادری کو چاہئے کہ بر صغیر کے امن کو تباہ کرنے کی کوشش کی مذموم حرکت پر مودی کو بین الاقوامی کٹہرے میں کھڑا کرے جو بھارت کے فہمیدہ، امن پسند اور سنجیدہ حلقوں کے دلائل کو خاطر میں نہیں لا رہے ہیں۔ بھارت ہوشمندی اور دور اندیشی کھو چکا ہے اس پر جنگی جنون سوار ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ خطے کی تباہی کی کوششوں کو اگر عالمی برادری نے اب بھی نہ روکا تو پھر اس کا دوش پاکستان کو نہیں دیا جانا چاہئے۔ آج ہم دہشت گردی کی بات کرتے ہیں کیا پاکستان سمیت دنیا کے تمام ممالک دہشت گردی کا شکار نہیں ہیں۔ امریکہ سمیت تمام ممالک میں کوئی نہ کوئی دہشت گردی کا واقعہ رونما ہو رہا ہے بلکہ پاکستان اس سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والا ملک ہے۔ بھارت اب دہشت گردی کا شکار ہوا ہے جب کہ پاکستان کئی سالوں سے دہشت گردوں کا ہدف بنا ہوا ہے۔ ایک وقت ایسا تھا کہ ایسے واقعات کا پاکستان میں رونما ہونا ایک معمول تھا۔ جن میں پاکستان کے 70ہزار سے زیادہ افراد لقمۂ اجل بن گئے اور پاکستان کی معیشت کی زبوں حالی کی بنیادی وجہ بھی یہی دہشت گردانہ واقعات ہیں۔

بھارت نے آج دوبارہ در اندازی کی جس کا جواب پاکستان نے اس کے طیارے گرا کر دے دیا ۔پاکستان پر حملے کی خوشیاں مناتے ہوئے بھارت بھول گیا تھاکہ جب پاکستان جواب دے گا جس کا عندیہ افواجِ پاکستان نے پہلے ہی دے دیا تھا تو پھر کیا ہو گا؟ بھارت اس کا جواب دے گا تو حالات کیا رخ اختیار کر سکتے ہیں؟ دنیا کا امن تباہ نہیں ہو جائے گا ایسے شخص کو تو خود بھارتی عوام کو سبق سکھانا چاہئے جو بغیر کسی تحقیق کے ایک ایسے واقعہ کو پاکستان پر تھوپ کر دنیا کے امن کو نشانہ بنا رہا ہے جس سے پاکستان کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ بھارت نے شائد کنٹرول لائن کی خلاف ورزی اس خوش فہمی میں کی ہے کہ ہمیشہ کی طرح پاکستان اس بار بھی شائد کوئی ردِ عمل نہیں دے گا چپ چاپ برداشت کر لے گا۔ نریندر مودی کا الیکشن سٹنٹ بن جائے گا۔ اب ملک میں صورتحال مختلف ہے سول ملٹری قیادت ایک پیج پر ہیں جنہوں نے فیصلہ کر لیا ہے کہ جواب ضرور دیں گے۔ بے شک دشمن ناکام ہوا ہے ہم نے اسے بھگا دیا ہے۔ لیکن مودی نے سب کچھ داؤ پر لگا دیا ہے۔وقت آ گیا ہے کہ بھارت کے سر سے جنگ کا جنون اتارا جائے اور ان کے دماغ سے خطے کا سب سے طاقتور ملک ہونے کا بھوت اتارنے کا وقت آ گیا ہے۔

بھارت پاکستان پر الزام لگاتے ہوئے اپنی ان حرکات پر غور نہیں کرتا جو اس نے کشمیریوں سے روا رکھی ہوئی ہیں۔ سری نگر میں بھارتی فوج کے ہاتھوں شہید ہونے والے لاکھوں افراد کی قبریں محض مٹی کا ڈھیر نہیں ہیں بلکہ ظلم و بربریت کی یاد تازہ رکھنے والے یادگاری نشان ہیں۔ ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں کی فوجیوں کے ہاتھوں جبری عصمت دری کی سینہ بہ سینہ پھیلتی داستانیں ان کے جوان خون کو اور زیادہ آتش فشاں بناتی اور اس بے عزتی اور توہین کے احساس سے پیدا شدہ اضطراب کی چنگاریاں انہیں نفرتوں کے طوفان سے آشنا کراتی رہی ہیں اور اب ایک ایسا شعلہ جوالا بن کر اٹھیں ہیں کہ نہتوں کے مقابلے میں عسکری غرور خاک میں مل گیا ہے۔ بھارتی حکمران اس حقیقت کو فراموش کر بیٹھے تھے کہ جبر و استبداد سے کچھ وقت کے لئے دبایا تو جا سکتا ہے اپنانیا نہیں جا سکتا۔ کشمیر میں ظلم و ستم سے بھارت کے لئے اپنائیت نہیں پیدا ہو گی بلکہ نفرت کے مزید شعلے ہی بڑھکیں گے۔ یہی وہ لوگ ہیں جو بھارتی افواج سے اپنا بدلہ لے رہے ہیں، بہر حال اب آزادی ہی کشمیریوں کا مقدر ہے۔ بھارتی حکمران پاکستان پر الزامات لگا کر جنگ کو بھڑکاوا دینے کے بجائے جتنا جلد اس حقیقت کو سمجھ لیں گے ان کے لئے اتنا ہی بہتر ہے۔ لیکن بھارت یہ بات کیوں سمجھے گا مودی کے ہاتھ مسلمانوں کے خون سے رنگین ہیں اسے اقتدار میں لانے کا مقصد بدلتے حالات کے تناظر میں پاکستان کو مسلسل دباؤ میں رکھنا ہے۔

ہندوستان کا پاکستان سے معاندانہ رویہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں، بھارت نے ہمیشہ پاکستان کے مفادات کو نقصان پہنچانے میں پہل کی ۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے کرداد کے بارے میں بھی اس کا منفی پروپیگنڈا جاری رہا ہے۔ مزاکرات کی میز پر آنے کو تیار نہیں۔ پاکستان کے خلاف وہ آبی جارحیت کا مرتکب ہو رہا ہے۔ اس خطے میں اسلحہ کی دوڑ اس نے شروع کر رکھی ہے۔ ایٹمی تجربات میں بھی اس نے ہی پہل کی تھی۔ حتیٰ کہ بھارت پاکستان کو کمزور کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتا۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کے 22کروڑ عوام اس وقت بھارت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کر رہے ہیں۔ کوئی ایک پاکستانی بھی قومی و ملی فرض سے غافل نہیں۔ اس تناظر میں پورے ملک سے حوصلہ افزاء بیانات سامنے آ رہے ہیں ملکی سالمیت کے حوالے سے پوری قوم فوج کے شانہ بشانہ ہے۔ بھارتی حکمران اس خطے کو ایٹمی جنگ کی طرف دھکیلنے کی کوششوں میں مصروف ہیں کہ جہاں عوام غذائی قلت کا شکار ہیں، جہاں کم وزن اور کمزور بچوں کی شرح سب سے زیادہ ہے۔ پیدائش کے دوران مرنے والے بچوں کی مجموعی تعداد میں سے نصف کا تعلق اس خطے سے ہے۔ دورانِ زچگی سہولیات کا انتہائی فقدان ہے۔ یونیسکو کی ایک رپورٹ کے مطابق جنوبی ایشیا میں سکول جانے والے بچوں کی تعداد دنیا میں سب سے کم ہے۔ جنگی جنون میں مبتلاء بھارتی لیڈر برِ صغیر پاک و ہند پر رحم کریں۔ جنگیں کبھی کسی مسئلے کا حل نہیں رہی ہیں اور بالخصوص دو ایٹمی طاقتوں کے درمیان جنگ دائمی تباہی و بربادی کا پیش خیمہ اور خود کشی کے مترادف ہو گی۔ بھارت کو تصادم سے ہٹ کر ترقی کے دیگر میدانوں میں دشمنی کے اس معرکے کو سر کرنے کی کوشش کرنی چاہئے جیسا کہ دیگر با حکمت ترقی یافتہ اقوام نے کیا۔


ای پیپر