شناختی کارڈ رکھنے والوں پر بڑی پابندی عائد کر دی گئی
27 فروری 2018 (23:18)

اسلام آباد:ڈی جی نادرا نے عدالت کو بتایا کہ ہم نے شناختی دستاویزات میں عدالتی اجازت کے بغیر مذہب تبدیل کرنے پر پابندی لگادی۔ جی ہاں اسلام آباد ہا ئیکورٹ نے ختم نبو ت ﷺ کیس کی سماعت پرڈی جی نادرا عثمان مبین نے ایسی لوگوں کی فہرست بھی عدالت میں جمع کر وا دی جن میں اسلام چھوڑ کر قادیانی مذہب اختیار کیا ۔ نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) نے شناختی دستاویزات میں عدالت کی اجازت کے بغیر مذہب تبدیل کرنے پر پابندی لگادی۔

ڈی جی نادرا نے عدالت کو بتایا کہ ہم نے شناختی دستاویزات میں عدالتی اجازت کے بغیر مذہب تبدیل کرنے پر پابندی لگادی۔ نادرا رپورٹ کے مطابق چھ ہزار ایک افراد نے شناختی کارڈ میں مذہب کی تبدیلی کے بعد پاسپورٹ حاصل کئے، 1300 سے زائد افراد نے 60 برس کی عمر کے بعد شناختی کارڈ تبدیل کروایا۔عدالت نے پوچھا کہ کیا اٹھارہ سے 30 سال کی عمر والے افراد کینیڈا جاتے ہیں؟۔ ڈی جی نادرا نے کہا کہ یہ تو ایف آئی اے والے ہی بتا سکتے ہیں۔ عدالت نے ڈی جی ایف آئی اے کو حکم دیا کہ آئندہ سماعت پر ان مذہب تبدیل کرنے والے افراد کی ٹریول ہسٹری (سفری تفصیلات) پیش کریں۔

جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے ڈی جی نادرا سے کہا کہ اگر کوئی 18 سال عمر میں مسلمان اور 60 سال کے بعد قادیانی شناختی کارڈ لے تو اس کا کیا ہونا چاہئے، آپ شناختی کارڈ میں مذہب کی تبدیلی کے لئے مدت صرف دو یا تین ماہ رکھیں، نادرا کے رولز میں بھی مذہب کی تبدیلی کے دورانیے کا واضح ذکر ہونا چاہئے، جب تک فلٹرز نہیں لگائیں گے تب تک یہ معاملہ چلتا رہے گا۔عدالت نے ڈی جی نادرا سے استفسار کیا کہ کیا آپ کے پاس شناختی کارڈ میں مذہب کی تبدیلی کا دورانیہ مقرر نہیں؟۔ ڈی جی نادرا نے جواب دیا کہ اگر ہمارے آفس سے کوئی غلطی ہوئی ہو تو اس کا میکنزم ہے لیکن کوئی خود تبدیلی کرانا چاہے تو نہیں ہے۔


ای پیپر