بھارت ساختہ ممبئی حملوں کا ناٹک: نقاب الٹتا ہے
27 فروری 2018 (19:36)

بھارت کی جانب سے پاکستان کی خارجی و داخلی سرحدوں پر ترکتازیوں کے عمل میں گزشتہ11 برسوں میں انتہائی شدت آئی ہے ۔ ایک تواتر اور تسلسل کے ساتھ بھارتی افواج پاکستان کے مختلف بین الاقوامی بارڈرز اور لائن آف کنٹرول پر اندھا دھند جارحانہ فائرنگ اور بمبنگ کے عمل کو جاری رکھی ہوئی ہیں۔ اندر خانہ بھارتی حکمران مستقبل قریب یا بعید میں پاکستان کے خلاف ایک بڑی جارحانہ جنگ کی ریہرسل کر رہے ہیں۔ بھارت پاکستان کی داخلی سرحدوں میں اپنی ایجنسیوں کے ذریعے مختلف ریشہ دوانیاں کر رہا ہے ۔ اس امر کے واضح ثبوت اور شواہد مل چکے ہیں کہ بلوچستان، کراچی، اندرون سندھ، جنوبی پنجاب ، سوات اور فاٹا کے علاقوں میں بھارتی ایجنسی را کے ایجنٹ مختلف بہروپوں میں پاکستان کی قومی سلامتی اور داخلی خود مختاری کےلئے ایک بڑا خطرہ بنے ہوئے ہیں۔یہ ایک کھلا راز ہے کہ بھارتی مداخلت کاروں کو امریکا، برطانیہ، اسرائیل ، روس، افغانستان اور دیگر پاکستان مخالف ممالک کی مالی و اسلحی معاونت حاصل ہے ۔یہ ستم ظریفی بھی نوٹ کرنا چاہیے کہ بھارتی مذاکرات کار جب بھی اسلام آباد پہنچتے ہیں تو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے” تیقن“ سے پر لہجے میں امید افزاءباتیں بھی کرتے ہیں۔ ان کی گفتگو سے تو یہ ظاہر ہوتا ہے کہ بھارت سرکار کو اس امر کا ادراک ہو چکا ہے کہ پاکستان کے ساتھ بگاڑ ، تناﺅ، مخاصمت اور کشیدگی کاماحول اس کے حق میں نہیں۔جہاں تک دونوں ممالک کے عوام کا تعلق ہے تو ان کا بنیادی مسئلہ افلاس، ناداری، غربت اور بیروزگاری سے نجات حاصل کرناہے۔ ان کی اولین ترجیح اور بنیادی مطالبہ روٹی، کپڑے اور مکان کا حصول ہے لیکن بھارت پر رول اوور کرنے والی اسٹیبلشمنٹ کے” عقاب“ اپنے عوام کی اس اولین تر جیح اور بنیادی مطالبے کوپر کاہ اتنی اہمیت بھی نہےں دیتے اور انہےں مہا بھارت اور اکھنڈ بھارت کے پر فریب ایجنڈے کی تکمیل کیلئے بھارتی سرحد یں مالدیپ اور کراچی تک پھیلانے کے خواب دکھاتے رہتے ہےں۔ مخاصمت اور مزاحمت کے ماحول کی وجہ سے دونوں ممالک کے ارباب حکومت خطے کے ایک سو70 کروڑ سے زائد عوام کے بنیادی مسائل کے حل کیلئے لائق رشک اقدامات نہیں کر سکے۔ جہاں تک بھارت کے عوام کا تعلق ہے تو ان کا بنیادی مسئلہ افلاس، ناداری، غربت اور بیروزگاری سے نجات حاصل کرناہے۔

یاد رہے کہ 17 جنوری 2016ءکو بھارتی وزیر اعظم مودی کی ہدایت پر بجٹ پر بحث کے لئے راجستھان آئے بھارتی وزیر دفاع منوہر پاریکر نے پٹھان کوٹ دہشت گردانہ حملے پر بحث کرتے ہوئے کہا تھاکہ ’ ہمارے برداشت کرنے کی صلاحیت ختم ہو گئی ہے ، پٹھانکوٹ پر حملے کے نتائج دنیا دیکھے گی، اب وقت اور مقام کا تعین ہم کریں گے لیکن نتائج میں ایک سال کا وقت لگے گا،ہم ضرور ایسا کریں گے جس سے اس طرح کا درد اب ہمیں نہ جھیلنا پڑے،پاکستانی ٹیم کو پٹھان کوٹ ایئربیس داخل نہیں ہونے دینگے،پرندوں سے جاسوسی کرنے کی پرانی تاریخ رہی ہے اور اب ڈرون سے بھی یہ کام ہوتا ہے ،لیکن اس کے روک تھام کے بارے میں فوج مکمل طور پر محتاط ہے ‘۔جے پور میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے اس نے دھمکی دی کہ ’ پاکستان نے ممبئی حملوں ، پٹھان کوٹ ایئر بیس حملوں کے منصوبہ سازوں کے خلاف ایکشن نہیں لیا ایک سال میں دنیا نتائج دیکھے گی‘۔

واضح رہے کہ اس سے قبل بھارتی وزیر دفاع منوہر پاریکر نے نئی دہلی میں 9جنوری 2016ءکو ایکسیمینار میںپٹھانکوٹ حملہ پر اپنے رد عمل میں کہا تھا کہ ’جنہوں نے ہمیں نقصان پہنچایا ،وہ بھی اس کی تکلیف محسوس کریں گے، وقت اور جگہ کا انتخاب ہم کریں گے، دشمن کو حملے کی تکلیف کااحساس ہونے تک،ہمارے ملک کو تکلیف کا احساس رہے گا‘۔ یاد رہے کہ 2 جنوری کو بھارتی ریاست پٹھانکوٹ کے ہوائی اڈے پر 6 دہشت گردوں نے حملہ کیا تھا ،جس میں 7 بھارتی فوجی اہلکار ہلاک اور 20 زخمی ہوگئے تھے۔حملہ میں مارے جانے والے دہشت گردوں کے قبضہ سے ہتھیار بھی بر آمد ہوئے تھے۔ بھارت نے حملہ کا الزام پاکستان پر عائد کیا تھا۔یہ حملہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے لاہور کے اچانک دورے کے ایک ہفتہ بعد ہوا۔اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بھارت میں ایسے غیر ریاستی عناصر موجود ہیں جو پاک بھارت دو طرفہ جامع مذاکرات کا آغاز ہوتا نہیں دیکھنا چاہتے۔ یہ امر بھی پیش نظر رہے کہ بھارتی صوبہ پنجاب میں سکھ حریت پسند قیام خالصتان کے لیے سرگرم عمل ہیں۔ وہ اس صوبہ کے مختلف شہروں میں تھانوں ، سرکاری دفاتر اور تنصیبات کو نشانہ بنا چکے ہیں۔ اس تحریک کے رہنما واضح الفاظ میں کہہ رہے ہیں کہ ہم آپریشن بلیو سٹار کا بدلہ لیں گے۔ خالصتان تحریک کے علاوہ بھارت کے طول و عرض میں ڈیڑھ درجن سے زائد مسلح حریت پسند تحریکیں بھارتی ریاستی مشینری کے خلاف جدوجہد کر رہی ہیں اور پنجاب سے لے کر مغربی بنگال تک ان تحریکوں کے قائدین اور کارکنوں کے باہمی رابطے انتہائی مربوط ہیں۔ بھارتی حکام کی تضاد بیانی اور خود تردیدی کا عالم یہ تھا کہ ان کا وزیر دفاع پاکستان کو دھمکیاں دے رہا تھا کہ پٹھانکوٹ حملے کے نتائج اسے بھگتنا پڑیں گے اور دوسری طرف ترجمان بھارتی وزیر خارجہ پاکستان کی تحقیقاتی ٹیم کی پٹھانکوٹ آمد کا خیر مقدم کر رہا تھا۔

جون 2017 ء میں شایع ہونے والی ایک تحقیقی و تجزیاتی کتاب جسے ایک معروف جرمن مصنف ایلس ڈیوڈسن نے لکھا ہے ، اس کا نام "The Betrayal Of India" ہے ۔ اس کتاب نے ممبئی حملوں کے ڈھول کا پول کھول کر رکھ دیا ہے ۔ ایک تجزیہ کار کے مطابق”یہ کتاب 905صفحات پر مشتمل ہے اور ہر صفحہ ثبوتوں کے ساتھ بھارت کے اصل یعنی مکروہ چہرے کا عکاس ہے .... اس کتاب میں ڈیوڈسن نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ26 نومبر 2008ءکے ممبئی حملے بھارت کاسکرپٹڈ اور من گھڑت ڈرامہ تھا جسے بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ اور اسرائیلی خفیہ ایجنسی ’موساد‘ نے مل کر رچایا .... مصنف نے اس سارے واقعے سے جڑے اہم کردار’ ڈیوڈہیڈلے ‘کو اصل واقعے سے توجہ ہٹانے والے کردار سے تشبیہہ دی ہے .... ڈیوڈسن کی اس کتاب کے پہلے تین سوصفحات کے مطابق ممبئی حملوں سے متعلق کیس کے ثبوت اور گواہان ہی دراصل اس واقعے کے من گھڑت اور ڈرامہ ہونے کا ثبوت ہیں ، بھارت کے بڑے بڑے اداروں بشمول مرکزی حکومت، پارلیمان، بیوروکریسی ، فوج ، ممبئی پولیس ، خفیہ ایجنسی ’را‘ ، عدلیہ اور میڈیا نے جان بوجھ کر ممبئی حملوں کے واقعات میں سچ کو مسلسل دبانے کی کوشش کی ، پاکستان مخالف بیان دینے والے ہنری کسنجر اور امریکی وزیر خارجہ کونڈولیزا رائس کے متعلق بھی چونکا دینے والے انکشافات کئے گئے ہیں.... مصنف لکھتا ہے کہ ”یہ دونوں شخصیات بھارت کے اس ڈرامے کے سکرپٹ سے آگاہ تھیں اور ڈرامہ بھی ایسا کہ گواہوں کے بیانات ،شناخت پریڈ ،موقع سے دستیاب شواہد یہاں تک کہ عام لوگوں کے تاثرات تک حددرجہ بے ربط اور بے سروپا ہیں کہ کوئی بھی شخص حقیقت تک پہنچ سکتا ہے “ ۔ کتاب کے پہلے تین سو صفحات میں ڈیوڈسن نے کہیں پر اپنی رائے کا اظہار نہیں کیا بلکہ ننانوے فیصد موادثبوتوں اور حقائق پر مبنی ہے ....ایلیاز ڈیوڈسن نے تہلکہ خیز تحقیقی کام کر ڈالا۔ ایک اور محقق کے مطابق ”یہ کتاب پاکستان کے اس مو¿قف کو تقویت بخشتی ہے کہ ممبئی حملوں کا سارا معاملہ مشکوک ہے اور اس میں بھارت کے خود ملوث ہونے کے امکانات ہیں،کتاب کے مندرجات سے ممبئی حملے بھارت کی اپنی منصوبہ بندی اور اسرائیل اور امریکہ کے ساتھ اس کے گٹھ جوڑ کا راز عیاں ہو جاتا ہے “۔جرمن مصنف کے مطابق بھارت اور اسرائیلی حکومتوں نے نریمان ہاو¿س سے متعلق جعلی شواہد تیار کئے اور بیانات گھڑے، دہشت گردوں کے سہولت کار جو فون استعمال کر رہے تھے وہ امریکہ کا نمبر ہے ، فوجی کمانڈوز نے کیا کارروائیاں کیں؟ بھارتی حکام نے آج تک کسی کو آگاہ نہیں کیا، اجمل قصاب کے مطابق اسے حملے سے 20 دن پہلے گرفتار کیا گیا، بعد میں اس نے بیان بدل لیا، بھارتی حکومت نے دعویٰ کیا کہ اجمل قصاب پورے تاج ہوٹل کو ا±ڑانا چاہتا تھا مگر اجمل قصاب سے ملنے والے 8 کلوگرام کے 4 بم اس کام کیلئے ناکافی تھے، 26 نومبر کے حملے کی تحقیقات سے پانچ چیزیں ثابت ہوتی ہیں(1) بھارتی حکومت اور اداروں نے واقعے سے متعلق حقائق چھپائے(2) بھارتی عدالتیں بھی سچائی تلاش اور انصاف فراہم کرنے میں ناکام رہیں(3) کرکرے اور دیگر افسران کو قتل کرکے ہندو انتہاپسند حلقوں کو ایندھن فراہم کیا گیا(4) ممبئی حملے سے نہ صرف بھارت بلکہ امریکہ اور اسرائیل کے تاجروں، سیاستدانوں اور عسکری حلقوں نے فوائد سمیٹے(5) ممبئی حملے سے پاکستانی حکومت یا پاک فوج کو کسی بھی قسم کا کوئی فائدہ نہیں ہوا۔


ای پیپر